Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

اعلیٰ حضرت محدث بریلوی کی محدثانہ بصیرت (قسط: دوم) | غلام جیلانی مرکزی

اعلی حضرت محدث بریلوی کی محدثانہ بصیرت (قسط: دوم)
عنوان: اعلی حضرت محدث بریلوی کی محدثانہ بصیرت (قسط: دوم)
تحریر: غلام جیلانی مرکزی
پیش کش: ام حبیبہ واسطی
منجانب: مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد

(4) آپ سے سوال ہوا کہ جمعہ کے دن اذانِ ثانی کہاں ہو؟ امام احمد رضا محدث بریلوی نے جواب دیا کہ اذان مطلقاً اندرونِ مسجد مکروہ ہے۔ لہٰذا اذانِ اول ہو یا ثانی، بیرونِ مسجد ہی ہوگی۔ اس کے ثبوت میں ایک کتاب ”شمائم العنبر في آداب النداء أمام المنبر“ نامی عربی زبان میں تحریر فرما گئے، جس میں 45 احادیثِ مبارکہ ذکر فرما کر ہمیشہ کے لیے سائل کی تشنگی بجھا دی ہے۔ (یہ رسالہ 22 جلدوں والے فتاویٰ رضویہ میں چھٹی جلد میں اور 30 جلدوں والے میں 28 ویں جلد میں موجود ہے)۔

افسوس ہے ان لوگوں پر جو آپ کے اس رسالے کو پڑھ کر یا اس جواب کے حصول کے بعد بھی ہٹ دھرمی پہ تلے ہیں اور اندرونِ مسجد اذانِ ثانی دلوا رہے ہیں، اللہ تعالیٰ حق قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

(5) شریعتِ اسلامیہ میں غیر اللہ کے لیے سجدہ تعظیمی ناجائز ہے، خود حدیثِ مبارکہ سے اس کی ممانعت ثابت و واضح ہے۔ اس موضوع پر جب خامہ رضویہ احادیث ذکر کرتے ہوئے جوش پر آتا ہے تو پوری اربعین تیار ہو جاتی ہے جس کا نام ”اَلزُّبْدَةُ الزَّكِيَّة لِتَحْرِيمِ سُجُودِ التَّحِيَّة“ ہے۔

اس کے علاوہ مختلف مقامات پر داڑھی کی ضرورت و اہمیت پر 56 احادیث، والدین کے حقوق پر 91 احادیث اور تصویر کے ناجائز ہونے پر 27 احادیث بطور دلیل ذکر فرمائیں۔ بایں طور آپ نے چہل حدیث کا ایک ذخیرہ عوام اہلِ سنت کو عطا فرما دیا جس کی اہمیت و فضیلت اپنی جگہ مسلم ہے (بہت سے محدثین، علماء، ائمہ نے چہل حدیث لکھ کر اپنے آپ کو فیضیاب کیا ہے)۔

اربعینات کے علاوہ دیکھا جائے تو محدث بریلوی نے مختلف فتاویٰ میں اپنی تائید میں بعض اوقات درجنوں احادیث ذکر فرمائی ہیں جو کہ ذخیرہ احادیث پر آپ کی علمی مہارت کا روشن ثبوت ہے۔ یہ چند مثالیں تو حفظِ حدیث پر تھیں، علمِ اصولِ حدیث پر آپ نے جو کارہائے نمایاں انجام دیے ہیں وہ بھی آبِ زر سے لکھنے کے لائق ہیں۔ طوالت کے خوف سے میں فقط کتاب "الْهَادِ الْكَافِ فِي حُكْمِ الضِّعَافِ" کا ذکر کرتا ہوں جو کہ مرکز الدراسات الاسلامیہ جامعۃ الرضا بریلی شریف میں درجہ فضیلت کے نصاب میں شامل ہے (الحمد للہ اس ناچیز راقم کو زمانہ طالب علمی میں ہی اس کتاب کو پڑھنے کا شرف حاصل ہے)۔ یہ وہ کتاب ہے جس کی تعریف کرنے میں عالمِ اسلام کی عظیم یونیورسٹی جامعہ ازہر مصر کے استادِ حدیث کے ساتھ دیگر اساتذہ بھی شامل ہیں۔

اس کتاب میں آپ نے اصولِ حدیث کے گوہرِ نایاب بکھیر کر یہ ثابت فرمایا ہے کہ کسی حدیث کے بارے میں محدثین کرام کا ”لا یصح“ کہنا اس حدیث کو ضعیف نہیں کرتا، کیونکہ یہ عبارت صحیح کے علاوہ حسن لذاتہ، حسن لغیرہ اور ضعیف کی دونوں قسموں کو شامل ہے۔ لہٰذا حدیث کے متعلق صحت کی نفی سے حدیث کے حسن یا خفیف ضعیف کی نفی کو مستلزم نہیں۔ اسی طرح مصطلح الحدیث کے قضایا کے متعلق شرح و بسط کے ساتھ کلام کرتے ہوئے اپنے موقف کی تائید میں ائمہ علمِ حدیث کے کلام کو بھی پیش فرمایا ہے۔ اس پوری کتاب میں ایسی گفتگو ہے جو آپ کو صرف اسی کتاب میں ملے گی، جس کی طرف محدث بریلوی نے بھی ”خذ ھذا“ سے اشارہ فرمایا ہے۔ علمِ حدیث اور اصولِ علمِ حدیث پر آپ کے کارناموں کو دیکھتے ہوئے مولانا عبد المجتبیٰ رضوی بھی اپنے آپ کو نہ روک سکے اور ان کو تحریر کرنا پڑا:

”میں پورے وثوق و اعتماد کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ اس دور کے بڑے بڑے محدثین اور اربابِ علم و فن بھی اگر انصاف و دیانت کے ساتھ ان تحقیقاتِ عالیہ اور اس وسعتِ مطالعہ کو دیکھ پائیں تو اپنا سارا دعوائے فضل و کمال بھول کر محدثِ اکبر امام احمد رضا بریلوی قدس سرہ کے تلمذ و شاگردی کو اپنی عین سعادت سمجھیں۔“ (تذکرہ مشائخ قادریہ رضویہ، صفحہ 412)

مفتی ازہار احمد امجدی فاضل جامعہ ازہر مصر کی تحریر سے اپنی تحریر مکمل کرتا ہوں۔ انہوں نے اعلیٰ حضرت کی حدیث دانی اور اصولِ حدیث پر ان کی نگاہ کا تحقیقی جائزہ پیش کیا ہے، جس کے آخر میں آپ لکھتے ہیں کہ: ”راقم الحروف کی اتنی گفتگو سے روزِ روشن کی طرح واضح ہو گیا کہ اصولِ حدیث میں اعلیٰ حضرت محدث بریلوی رحمہ اللہ یگانہ روزگار تھے، علمِ حدیث میں آپ کو مہارتِ تامہ حاصل تھی۔ اعلیٰ حضرت محدث بریلوی رحمہ اللہ کے متعلق مذکورہ بالا اقوال علمائے فن کے ہیں، آپ کی تحقیقی افکار و نظریات اور کتبِ فنِ علمِ حدیث کے باوجود بھی اگر کوئی شخص اعلیٰ حضرت محدث بریلوی علیہ الرحمۃ کی حدیث دانی اور آپ کی علمِ حدیث میں مہارت کا انکار کرے یا شک و شبہ کی گنجائش رکھے؟ تو اس میں ہمارے ممدوحِ مکرم کا کوئی قصور نہیں؛ بلکہ اس شخص کے دل و دماغ اور آنکھ کا قصور ہے جو اپنے تعصب و تعنت یا جہالت کی وجہ سے حق بجانب چڑھتے ہوئے سورج کو سلامی پیش کرنے اور اس کی بلندی کا اعتراف کرنے سے قاصر یا گریز کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔“

دیدہ کور کو کیا آئے نظر کیا دیکھے! عالمِ اسلام کا یہ آفتابِ درخشندہ مورخہ 25 صفر المظفر 1340ھ مطابق 1921ء بوقتِ نمازِ جمعہ ہمیشہ کے لیے غروب ہو گیا۔ مزارِ پاک محلہ سوداگران بریلی شریف میں ہے۔ ہر سال 25 صفر کو آپ کا عرس شریف منایا جاتا ہے۔

احمد رضا کا تازہ گلستاں ہے آج بھی
خورشیدِ علم ان کا درخشاں ہے آج بھی
سب ان سے جلنے والوں کے گل ہو گئے چراغ
احمد رضا کی شمع فروزاں ہے آج بھی

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!