Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

خانقاہ اور درسگاہ میں برتری کی جنگ (قسط اول)|ڈاکٹر محمد امجد رضا امجد

خانقاہ اور درسگاہ میں برتری کی جنگ (قسط اول)
عنوان: خانقاہ اور درسگاہ میں برتری کی جنگ (قسط اول)
تحریر: ڈاکٹر محمد امجد رضا امجد
پیش کش: قافیہ نوری بنت محمد ظہیر رضوی
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی

امتِ مسلمہ ابھی کئی فتنوں سے دوچار ہے اور المیہ یہ ہے کہ کہیں بھی ان کا کوئی قائد و کمانڈر نہیں، جن کے اندر صلاحیت ہے وہ مجبور و محصور ہیں اور جو صلاحیتوں سے عاری ہیں وہ قائدانہ نمائش کے لیے آمادۂ آزار و پیکار۔ عالمی سطح پر مسلمانوں کی جو صورتِ حال ہے اس سے صاف واضح ہے کہ وہ یہود و نصاریٰ کی زد میں ہیں اور صیہونیت کا منحوس سایہ انہیں روز بروز اپنے شکنجہ میں کستا جا رہا ہے۔ خطۂ عرب میں صدام حسین کی حیات تک امن و امان اور اسلامی شوکت و سطوت کا جو قابلِ فخر منظر تھا وہ ان کی شہادت کے بعد اوراقِ پارینہ بن چکا ہے۔ اب وہاں موت آسان ہے اور زندگی مشکل۔ سسکیاں سستی ہیں اور مسکراہٹ مہنگی۔ ہر طرف تحیر زدہ آنکھیں ہیں اور احساس سے محروم متنفس لاشوں کا پرہیب منظر۔ مسجدوں میں بلاسٹ، مزارات و مقابر پہ بمباری، شادی ہالوں میں خودکش حملے، قافلے پہ یلغار، گھروں میں دہشت کا ماحول اور باہر خوف و ہراس کا پہرا۔ کیا اسی کا نام زندگی ہے؟ یہ زندگی تو اس موت سے زیادہ گراں بار ہے جو گھر کے پُر سکون ماحول میں صرف ایک بار آتی ہے، مگر یہ زندگی بڑی بوجھل ہے جو ماں باپ، بیٹے، بھائی، بہن کی بے گور و کفن لاشیں، بکھرے ہوئے اعضا اور ملبہ کے نیچے دبے ہوئے شہیدوں کو بار بار دیکھ کر جینی نہیں، مر مر کر جھیلنی پڑتی ہے۔

اپنے ملک کے حالات بھی عالمی صورتِ حال سے الگ نہیں، وہاں صیہونیت کا شکنجہ ہے تو یہاں شیطانین کا پھندہ، جس کی گرہ مسلمانوں پہ روز بروز تنگ ہوتی جا رہی ہے۔ جان، مال، عزت و آبرو اور اسلام و شعائرِ اسلام ہر چیز فسطائی قوتوں کے نشانہ پر ہے اور مسلمانوں کا مستقبل تاریکیوں میں کہیں گم۔ جا بجا اذاں پر پابندی، قبرستان پر قبضہ، مسجدوں پر بھگوا جھنڈا لہرانے کی کوشش، ہانڈیوں کی تلاشی، اقتصادی طور پر مسلمانوں کو کمزور کر دینے کا منظم پلان، چمڑے کی قیمتوں کو بے معنی بنا کر مدارسِ اسلامیہ کو بند کرا دینے کی سازش، طلاقِ ثلاثہ کو مسلم عورتوں کا حق بتا کر مسلم پرسنل لا میں مداخلت کا ناپاک منصوبہ اور ڈرامائی انداز میں فتح ثابت کر کے اپنے ناپاک عزائم کو رو بہ عمل لانے کا اعلان۔ یہ ہندوستانی مسلمانوں کو درپیش مسائل کی ایک جھلک ہے، مگر اس ہنگامۂ حشر کے باوجود نہ ملکی سطح پر ہم منظم ہو سکے اور نہ صوبائی سطح پر۔ نہ ہماری انفرادی سوچ میں تبدیلی آئی اور نہ اجتماعی فکر میں۔ نہ ملکی سطح پر ہم کسی کو اپنا قائد مان سکے اور نہ صوبائی طور پر۔ فسطائی طاقت سینکڑوں اختلافات رکھنے کے باوجود تمام برادرانہ عصبیت اور اونچ نیچ کی تفریق بھول کر ”ہندتو“ کے نام پر ایک ہو گئی، مگر ہم اللہ والے ”وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ“ کی تعویذ لڑکا کر بھی ایک نہیں ہو سکے۔ آج تک ہمارا نعرۂ دلخراش یہی ہے کہ ہمارا پیر بڑا ہے اور ہماری خانقاہ بڑی، ہماری نسل محترم ہے اور ہمارا ادارہ ممتاز۔ اب ہم مریدانِ نفسِ ستم زاد کو کون سمجھائے کہ پیر وہی اچھا ہے جو متبعِ سنت ہو اور حق کا نقیب، خانقاہ وہی بڑی ہے جس کی سوچ آفاقی ہو اور کارنامہ شریعت کے ساتھ طریقت کا بھی علمبردار، نسل وہی محترم ہے جسے شرافتِ نسل کا احساس ہو اور دل رضائے الٰہی کا طالب، ادارہ وہی ممتاز ہے جو اپنے منشور کا پاسدار ہو اور نسلِ نو کا مستقبل ساز۔ اگر یہ چیزیں نہیں ہیں تو امتیازیت و انفرادیت کا دعویٰ پنڈارِ نفس کے ڈھنڈورچی کے سوا اور کیا ہے۔

یہ وہ دور ہے کہ ہمیں احتسابِ نفس کے ساتھ امت کی پیشوائی کا فریضہ انجام دینا ہے، اپنے مذہب اور مذہبی شعائر کے تحفظ کے لیے بکھری ہوئی قوتوں کو مجتمع کرنا ہے اور موجودہ نسل کے اندر دینی حمیت اور غیرتِ اسلامی کا جذبہ بیدار کرنا ہے تاکہ ان کے اندر حالات کی سنگینی کا مقابلہ کرنے کی سکت پیدا ہو، مگر اس فریضے کی ادائیگی کے بجائے ہم علمی افلاس، نفسِ آخرت کش اور جوشِ تعصب میں وہ کام کرتے جا رہے ہیں جس سے درسگاہ و خانقاہ کی عظمت پامال اور ہماری حیثیت عرفی مجروح ہو رہی ہے۔ نوجوان نسل ان حالات میں ہم سے امیدیں باندھے بیٹھی ہے مگر ہم ہیں کہ اپنی برتری کی جنگ میں ان کا مستقبل تاریک کرتے جا رہے ہیں۔

یہ جائے ماتم نہیں تو اور کیا ہے کہ جہاں دعویدارانِ اسلام کا ہر فرقہ داخلی اختلافات کا شکار ہے، اہلِ سنت و جماعت کے افراد بھی جو علم سے علاقہ، تصوف پہ یقین، خانقاہوں سے ربط، اور اسلاف سے محبت کی شناخت رکھتے ہیں، ایک دوسرے کی پگڑیاں اچھالنے میں مصروف ہیں۔ خانقاہ سے لے کر درسگاہ تک یہ زہر اس طرح سرایت کر چکا ہے کہ اب اندرونِ خانہ سے تلامذہ و مریدین تک اس کے اثرات پہنچ گئے ہیں اور سوشل میڈیا ان کی آپسی چپقلش کی گرم بازاری کا شکار ہو رہا ہے۔ خانقاہوں میں جنگ، علماء میں حسد، طلبہ میں تنافر، مریدین میں تنازع اور مریدین میں نعرۂ مبارزت، یہ ہے ہماری دینداری کا منظر نامہ اور یہ ہے 'كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ' کے حاملین کی سوچ کا محور۔

آج آمرانہ ذہنیت کی وبا عام ہے، ہر شخص دوسرے کو زیر کرنے کے درپے ہے اور اپنی طبیعت کے مطابق فیصلہ لینے پر آمادہ و مصر۔ فیصلہ اگر حسبِ خواہ ہوا تو سر آنکھوں پہ ورنہ سات پشتوں کا کھنگال دینا بھی دینی خدمت۔ اس معاملہ میں دو نظیریں بہت تازہ ہیں جس سے ابھی ہندوستان کا جنوبی و شمالی علاقہ جھلس رہا ہے، جن میں سے ایک کا تعلق جناب سید سبطین حیدر صاحب سے ہے تو دوسرے کا جناب مولانا سنبل رضا صاحب سے۔ ان دونوں صاحبان نے اپنی طبیعت و عصبیت کو جس طرح شریعت کا لبادہ اڑھایا ہے وہ مقامِ حیرت نہیں قابلِ افسوس ہے۔ جناب سبطین حیدر صاحب نے خانقاہِ برکاتیہ کے صاحبِ سجادہ امینِ ملت حضور سید شاہ امین میاں صاحب قبلہ مدظلہ کے خلاف حضور تاج الشریعہ دام ظلہ سے فتویٰ لینا چاہا مگر تاج الشریعہ نے شرعی تقاضے کے تحت ان کے خلاف اور سبطین میاں کی طبیعت کے مطابق فتویٰ نہیں دیا اس لیے سبطین میاں تاج الشریعہ کے دشمن ہو گئے اور آج تک اسی نا کردہ جرم کی پاداش میں جناب سبطین میاں ان کی مخالفت پر آمادہ ہیں، ان کی مخالفت میں کتنی اسلامی غیرت و حمیت اور رضائے الٰہی و اخلاص کا جذبہ کار فرما ہے، دینی جذبہ رکھنے والے حضرات بخوبی سمجھ سکتے ہیں۔ اس جوشِ تعصب میں وہ یہاں تک پہنچ گئے کہ اپنے طاہر و مطہر خانوادہ کے بزرگوں کے بھی احوال و اقوال کے مخالف ہو گئے، حتیٰ کہ حدیثِ افتراقِ امت کا بھی انہوں نے انکار کر دیا جسے علماء و فقہاء ہی نہیں مشائخِ عظام بھی اپنی کتابوں میں لکھتے اور اسے صحیح بتاتے آئے ہیں۔ اب انکارِ حدیث کے بعد بھی دعویدارانِ تصوف ان کا احتساب کرنے کے بجائے انہیں صرف اس لیے اپنی پلکوں بٹھائیں کہ یہ ’تاج الشریعہ‘ کے مخالف ہیں تو خدا کے یہاں ان کا یہ عمل انہیں کتنا محبوب و مکرم بنانے والا ہے وہ خود ہی غور فرما لیں۔

جناب مولانا سنبل رضا صاحب جس خانقاہ کے فرد ہیں وہ خانقاہِ رضویہ بریلی شریف ہی کی شاخ ہے، اور مرکز سے شاخ کا تعلق جیسا ہونا چاہیے ویسا یہاں کا معاملہ رہا بھی ہے ”فتاویٰ رضویہ عام کریں گے دین کا ہم کام کریں گے“ ان کا نعرہ ہی تھا، مگر ادھر جناب مولانا سنبل رضا صاحب نے حضرت محدثِ کبیر اور اپنے مابین جاری تنازع میں جب تاج الشریعہ کے یہاں دائر مقدمہ کا فیصلہ اپنے حق میں نہیں پایا تو وہ حضور تاج الشریعہ کے مخالف ہو گئے اور ایسی حرکتوں پر اتر آئے جسے نہ شرافت کہا جا سکتا ہے اور نہ دینی حمیت۔ نفرتوں کی اسی صحرانوردی میں وہ فتاویٰ تاج الشریعہ کی ایک ایسی عبارت تک پہنچ گئے جس میں سجدۂ تعظیمی کے جواز سے متعلق حضرت محبوب الٰہی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور دیگر فقہاء کے حوالے سے صرف اتنا ہے کہ

"اور حضرت محبوب الٰہی اور ان بعض فقہاء پر طعن جائز نہیں بلکہ ان کے ساتھ حسنِ ظن اور ان کا احترام لازم ہے اور حسنِ ظن یہ ہے کہ ان حضرات سے اس مسئلہ میں خطا ایسا ہو گیا۔"

اس تین جملے میں تین تاکید استعمال کی گئی ہے (1) طعن جائز نہیں (2) حسنِ ظن اور احترام لازم (3) خطا ایسا ہو گیا۔ مگر اس کے باوجود جناب سنبل رضا صاحب نے "حضرت محبوب الٰہی اور خطا" کو جوڑ کر وہ معنی پیدا کر دیا کہ شیطان بھی سو بار سر کھجائے۔ اور "کوا کان لے گیا" کا محاورہ ثابت کرتے ہوئے ہفت روزہ "خطیبِ دکن" نے بھی وہ کارنامہ انجام دیا کہ اسلام مخالف میڈیا بھی شرم سے پانی پانی ہو جائے۔ کل جب جماعت میں توڑ پھوڑ مچانے والے خوشتر نورانی صاحب نے اپنے رسالہ جامِ نور میں لکھا تھا کہ:

انیسویں صدی کے نصف اخیر کے بعد علم و فن اور شریعت و طریقت کے ان روحانی مراکز (خانقاہوں) کو گرہن لگ گیا اور جانشینانِ مسندِ روحانیت میں علم و فن اور تزکیۂ نفوس کی جگہ طریقت کی راہ میں مطلوبہ اخلاقی بحران، خدمتِ خلق خدا و دین کے جذبے سے محرومی، زر طلبی، جاہ و حشم، خود پسندی و خود نمائی اور ظاہری رعونت نے لے لی۔ عیش پسندی نے ان کے دلوں اپنی دیرینہ روایت کو اس طرح مٹا دیا ہے کہ یہ غیر ضروری رسم و رواج آج ان کی اعلیٰ ترجیحات میں شامل ہو گئے ہیں۔ مگر عقیدت مندوں کی اس دنیا میں ان کی ’جرأتِ عصیاں‘ پر کوئی قدغن لگانے والا نہیں اور وہ علمائے ربانین جو اہلِ سنت کو خراباتِ دوراں سے گریز کی تعلیم دیتے ہیں اور گمراہی سے انہیں روکتے ہیں وہ اس مسند نشینوں کی توہین و تنقیص کا نشانہ بنتے ہیں۔ [قلم کی جسارت، ص 152]

تو بہت سارے افراد نے اسے غلو و گستاخی سے تعبیر کیا تھا مگر آج ایک سیدھی سچی بات کو غلط معنی و مفہوم پہنانا کہ جس طرح بے علمی و حقائق ناشناسی کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے اس سے کون کہہ سکتا ہے مدیر جامِ نور نے یہ بات غلط کہی تھی۔ اس سے قبل کہ خطیبِ دکن میں شائع عہدِ جدید کے صوفیہ کے اظہارِ خیالات پہ نظر ڈالی جائے پہلے لفظ "خطا" پر بھی ایک نظر ڈالیں تاکہ تاج الشریعہ کے حوالہ سے اقتباسات میں مستعمل "محترم القابات" کی تلخی سے قارئین آشنا ہو سکیں۔

لغت میں "خطا"، بھول چوک اور صواب کی ضد کے معنی میں ہے اور قریب قریب اسی معنی میں "لغزش، نسیان، زلت" بھی ہے اور ان تمام الفاظ کا استعمال بزرگوں نے دوسرے بزرگوں کے لیے کیا ہے بلکہ انبیائے کرام کے بارے میں بھی لفظ "زلت" کا استعمال ہے چنانچہ حضرت سید اکبر حسینی علیہ الرحمہ والرضوان نے "نبی سے گناہ سرزد ہو سکتا ہے کہ نہیں" کے جواب میں اپنی کتاب "کتاب العقائد" میں لکھا ہے:

وحی کے بعد نبی سے قصدِ معصیت سرزد نہیں ہو سکتی، اگر وحی کے بعد ایسا ہو تو وہ بطریقِ زلت ہوتا ہے۔ ان کا قصد و ارادہ تو مشروع ہوتا ہے لیکن غیر ارادی لغزش معصیت بن جاتی ہے۔ [کتاب العقائد، ص 79]

ملفوظاتِ خواجہ بندہ نواز گیسو دراز رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو "جوامع الکلم" کے نام سے ہے اس کے صفحہ 184 پر ایک سرخی لگائی گئی ہے جس کا عنوان ہے "امام حسن علیہ السلام سے ایک لغزش"

حضرت امام ربانی کے "مکتوباتِ امام ربانی"، دفتر اول حصہ پنجم: ص 707 میں ہے:

سالک کا کشف الہام و وحی سے ثابت شدہ احکام سے مخالفت کی صورت میں خطا اور غلط ہے تو اپنے قول کو علما کے قول پر مقدم رکھنا حقیقت میں نازل شدہ احکامِ قطعیہ پر مقدم رکھنے کے مترادف ہے اور یہ عین ضلالت اور محض خسارہ ہے۔ [مکتوباتِ امام ربانی، ج 1، ص 707]

اب خاص اس عمل میں مولانا سنبل رضا صاحب حضرت شیرِ بیشۂ اہلِ سنت کا طریقۂ عمل دیکھیں وہ ایک مسئلہ میں حضرت ملا علی قاری کے بارے میں لکھتے ہیں

[ماہنامہ: الرضا انٹرنیشنل پٹنہ مارچ اپریل 2017، ص 4]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!