امین ملت ایک انجمن| محمد احمد مصباحی

امین ملت ایک انجمن
عنوان: امین ملت ایک انجمن
تحریر: محمد احمد مصباحی
پیش کش: ناظمین فاطمہ ردولی
منجانب: مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد

بِاسْمِهِ وَحَمْدِهِ تَعَالَى وَتَقَدَّسَ.

وابستگانِ خانقاہِ برکات کا یہ اقدام قابلِ تحسین ہے کہ انھوں نے امینِ ملت کی سجادگی کے ۲۵ سال پورے ہونے اور یونیورسٹی سے ان کی سبکدوشی پر ایک یادگار کتاب شائع کرنے کا منصوبہ بنایا۔ امینِ ملت کے ۲۵ سالہ دورِ سجادگی میں بہت سی ترقیاں ہوئیں اور بہت سے کارہائے نمایاں انجام پذیر ہوئے، سب کی تفصیل وہی لوگ کر سکتے ہیں جو قریب رہ کر کاموں کا مشاہدہ کرتے ہیں اور انھیں محفوظ رکھتے ہیں، میں یہاں چند اشارات پر اکتفا کروں گا۔

  1. احسن العلما علیہ الرحمہ کے دور میں عرسِ قاسمی کا اجلاس درگاہ شریف کے اندر سامنے کے صحن میں مکمل ہو جاتا تھا۔ ان کے وصال کے بعد اچانک تنگی ہوئی تو اجلاس درگاہ شریف کے باہر کشادہ صحن میں لایا گیا۔ چند سال بعد یہ جگہ بھی تنگ ہو گئی تو ایک وسیع و عریض زمین خرید کر اسے اجلاس کے لیے مخصوص کیا گیا۔ اب یہ میدان بھی عموماً تیسرے روز، قل کے وقت ایسا بھر جاتا ہے کہ مزید آنے والوں کی گنجائش نہیں معلوم ہوتی۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس ۲۵ سال میں خانقاہِ برکاتیہ کی کشش اور عوام و خواص میں اس کی شہرت کہاں سے کہاں پہنچی۔ یقیناً اس میں جہاں بزرگوں کی روحانیت کارفرما ہے وہیں امینِ ملت کی مقبولیت اور ان کے حسنِ انتظام کو بھی دخل ہے۔

  2. زائرین کی کثرت کے ساتھ قیام گاہوں کی قلت کا مسئلہ بھی سامنے آیا۔ پہلے قرب و جوار کے اکثر لوگ آخری دن قل سے پہلے آتے اور شام تک واپس ہو جاتے، دور و نزدیک کے قلیل افراد ایک دو رات قیام کرتے تو ان کے لیے اہل خانقاہ کے خام مکانات اور کمرے کافی ہوتے۔ بعد میں دور سے آنے والے اور ایک دن سے تین دن تک قیام کرنے والے زائرین کی کثرت ہوئی تو قیام گاہوں کی تعمیر ناگزیر ہوئی۔ بہت سی عمارتیں بنیں اور اب بھی سلسلہ جاری ہے، زائرین کو بہت سی سہولتیں حاصل ہوئیں اور مزید کی کوشش جاری ہے۔ عمارتوں کی تفصیل شاید ایک مستقل مضمون کی طالب ہے۔

  3. اب عرس کی تقریبات پر نظر ڈالیں تو ان میں مقصدیت اور افادیت صاف دکھائی دے گی، کوشش یہ ہوتی ہے کہ نعتیں اور مناقب معیاری ہوں، تقریروں سے عوام کے عقائد و اعمال کی اصلاح ہو، وہ جائیں تو کوئی درس اور کوئی پیغام لے کر جائیں، جمعہ کی شام سے اتوار کی دوپہر تک برابر مختلف نشستیں ہوتی رہتی ہیں جن سے سامعین کو مستفید ہونے کا موقع فراہم کیا جاتا ہے۔ کثیر ہجوم کے باوجود نماز و جماعت کی پابندی کا اہتمام ہوتا ہے۔ خانقاہ کے قریب کی مسجدیں نمازیوں سے بھر جاتی ہیں اس لیے جلسہ گاہ میں بھی پنج وقتہ جماعت کا انتظام ہوتا ہے۔ انہی مصروفیات کے ہجوم میں اربابِ علم و دانش کی کوئی مشاورتی نشست بھی ہوتی ہے جس میں ملکی، قومی اور جماعتی مسائل پر تبادلۂ خیالات ہوتا ہے اور طے شدہ تجاویز کو حسبِ وسعت عمل میں لانے کی کوشش ہوتی ہے۔ کئی سال تک فکر و تدبیر کانفرنس کا انعقاد اس سلسلے کی ایک یادگار کڑی ہے۔ ان سرگرمیوں سے یہ درس ملتا ہے کہ روایتی مراسم سے آگے بڑھ کر عرس کو قوم و ملت کے لیے زیادہ مفید و کارآمد بنایا جا سکتا ہے اور یہ سالانہ تقریب بہت نتیجہ خیز ہو سکتی ہے۔

  4. اسی ۲۵ سالہ دور میں خانقاہِ برکاتیہ سے یہ نعرہ بلند ہوا “آدھی روٹی کھائیے بچوں کو پڑھائیے”۔ تعلیم مسلمانوں کی دینی، علمی، سماجی اور ملکی پسماندگی کا مؤثر علاج ہے، اس لیے اس طرف پوری توجہ دی گئی۔ بارہا تلقین کی گئی اور اب بھی جاری ہے کہ جو لوگ تعلیم یافتہ ہیں وہ کچھ غریبوں اور ناداروں کے بچوں کو بغرضِ تعلیم دینے کے لیے خود وقت نکالیں، جو لوگ خوشحال اور مالدار ہیں وہ کچھ یتیموں اور محتاجوں کے تعلیمی اخراجات اٹھا کر انھیں جہالت اور پسماندگی سے بچائیں۔ جہاں تک مجھے علم ہے بہت سے بے سہارا بچوں کی کفالت خود خانقاہ کے ذریعہ ہوتی ہے اور کچھ اہل خیر کو بھی اس کارِ خیر سے وابستہ کیا گیا ہے۔ کچھ ہونہار طلبہ کو ان کی نمایاں کامیابی پر انعامات دے کر ان کی حوصلہ افزائی بھی کی جاتی ہے۔ فروغِ تعلیم کا باب پوری قوم سے توجہ کا طالب ہے، اس راہ میں جتنی ہی کوشش ہو ان شاء اللہ بہتر ثمرات مرتب ہوں گے۔ وَاللَّهُ الْمُوَفِّقُ۔

  5. فروغِ تعلیم ہی کا ایک اہم اور مثالی نشان جامعہ البرکات علی گڑھ ہے، جس میں ٹھوس عصری تعلیم کے ساتھ مضبوط دینی تربیت کا انتظام ہے۔ یہ جہاں اسکولوں اور کالجوں کی قطار میں اپنا ایک امتیازی مقام رکھتا ہے وہیں مدارسِ دینیہ کو بھی بہت کچھ درس دیتا ہے۔ چند برسوں سے اس کے تحت ایک ایسا شعبہ بھی قائم کیا گیا ہے جس میں مدارسِ دینیہ کے فارغین کو دو سالہ نصاب کے تحت تعلیم دی جاتی ہے اور یہ کوشش ہوتی ہے کہ وہ زیادہ میدانوں میں کام کے لائق بن جائیں۔ اس ادارے کے تصور اور اس کی تاسیس و تعمیر سے لے کر اب تک اس پر امینِ ملت کی خاص توجہ اور محنت کارفرما ہے۔

  6. ضلع ایٹہ اور اس سے متصل کئی اضلاع میں دینی عربی تعلیم کا کوئی قابلِ ذکر ادارہ نہ تھا، اس لیے اس دیار کے جو بچے دینی تعلیم کے شائق ہوتے وہ مختلف دشواریوں کے باعث محروم رہ جاتے، جب کہ علمِ دین مسلمانوں کی زندگی کا لازمی عنصر ہے جس کے بغیر ان کی عبادات اور معاملات کی صحت کی ضمانت نہیں۔ اس ضرورت کا احساس کرتے ہوئے چند سال پہلے امینِ ملت کی سرپرستی میں خود مارہرہ شریف کی سرزمین پر جامعہ احسن البرکات کا قیام عمل میں آیا۔ حسین منزل میں کچھ تعمیر و انتظام کے اضافے کے بعد فوری طور پر وہیں تعلیم شروع کر دی گئی پھر ایک دوسری دو منزلہ ذرا وسیع عمارت تیار ہوئی تو تعلیم اور قیام گاہیں وہاں منتقل ہو گئیں، مستقل تعلیم گاہ کی چار منزلہ عمارت جلسہ گاہ کی شمالی جانب قریب تکمیل ہے۔ اس سے قریب قیام گاہوں کی بھی تعمیر کا منصوبہ ہے۔ جہاں تک مجھے یاد آتا ہے اعدادیہ، اولیٰ، ثانیہ کے درجات سے تعلیم کا آغاز ہوا تھا اور صرف تین مدرسین تھے، اب سالِ رواں سے درجہ سابعہ کا آغاز ہو چکا ہے اور سالِ آیندہ درجہ تکمیل یعنی فضیلت کی باری ہے، اسی حساب سے مدرسین کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ یہاں عمدہ اور پختہ تعلیم کے ساتھ بہتر تربیت پر خاص توجہ دی جاتی ہے اور طعام و قیام کا مفت انتظام بھی عام مدارس سے بہت عمدہ و بالا ہے۔ یہ ادارہ مارہرہ شریف میں ہے اس لیے مارہرہ پبلک اسکول کی طرح اس کی بیش تر نگرانی کا سہرا رفیقِ ملت حضرت نجیب حیدر میاں کے سر ہے۔ اندازہ ہے کہ مستقبل قریب میں جامعہ احسن البرکات معاصر مدارس کی صفِ اول میں شمار ہو گا۔

  7. امینِ ملت کا ایک اہم کارنامہ “مجلسِ برکات” کا قیام بھی ہے، جس سے واقف تو سبھی اہل علم ہیں مگر اس کا تذکرہ دیکھنے میں کم آتا ہے، میں نے ہی اپنے کئی مضامین میں اس کا ذکر کیا ہے۔ شاید لوگ اسے ایک چھوٹا کام سمجھ کر نظر انداز کر جاتے ہیں۔ ذرا اس دور کا تصور کیجیے جب ہمارے پاس اپنے مدارس کی درسی کتابوں کی اشاعت کا کوئی انتظام نہ تھا، ہماری اپنی کتابوں پر غیروں کی طباعت کی مہر لگی ہوتی، ہمارے بہت سے مصنفین، شارحین اور محشین کے نام غائب کر کے لوگ اپنی کتابیں بنا کر شائع کرتے اور ہمیں طعنہ دیتے کہ ہم اگر کتابیں چھاپ کر تمھیں نہ دیں تو تمھارے پاس پڑھنے پڑھانے کو کچھ نہیں (یہ دور کوئی دس بیس سال نہیں بلکہ ستر سے زیادہ سالوں پر محیط ہے)۔ اس طعن کا عملی جواب صرف اور صرف یہ تھا کہ ہم خود کفیل ہوں اور اپنی درسی کتابیں خود شائع کریں، لیکن یہ کوئی آسان کام نہ تھا، اس کے لیے نہ تنہا علم کافی تھا، نہ تنہا دولت کافی تھی، دونوں کا اجتماع، اس کے بعد ہمت اور محنت و سرگرمی کی ضرورت تھی۔ اس ہفت خوان کو امینِ ملت اور ان کے عزیز رفقا نے سر کیا۔ آج مجلسِ برکات اپنے مستقل وجود کے ساتھ قائم ہے اور ہم یہ دعویٰ کر سکتے ہیں کہ درسیات کے میدان میں اہل سنت اپنے حریفوں کے دستِ نگر نہ رہے۔ تفصیل کسی اور مقام پر ملاحظہ کر لیں گے۔ مجھے صرف یہ کہنا ہے کہ جماعت کے لیے یہ ایک عظیم احسان ہے جسے نظر انداز کرنا تو درکنار، کبھی فراموش بھی نہ کرنا چاہیے۔

  8. عرسِ قاسمی میں یہ منظر بھی دیکھنے میں آتا ہے کہ جو لوگ نمایاں دینی و علمی خدمات انجام دے رہے ہیں ان کی پذیرائی اور ہمت افزائی ہوتی ہے۔ بحر العلوم مفتی عبد المنان علیہ الرحمہ کو چھ جلدوں میں فتاویٰ بحر العلوم کی اشاعت کے بعد چاندی سے تولا گیا۔ بہت لوگوں کو ایوارڈ دیے گئے، بعض حضرات کو اعترافِ خدمات اور اعزاز و تکریم کی سندیں دی گئیں، قرأت کے مقابلوں میں اول آنے والے طلبہ کو عمرہ کے اخراجات دیے گئے۔ یہ اقدام اسی وقت ہو سکتا ہے جب یہ احساس ہو کہ افراد کی خدمات سے جماعت کو سربلندی اور سرخروئی حاصل ہوتی ہے اور جماعت کی سربلندی خود ہماری سربلندی ہے۔ بے حسی، ناقدری، نفرت، بغض و کینہ اور حسد کے ماحول میں ایسی پیش قدمی کبھی نہیں ہو سکتی۔

  9. اپنے زیر انتظام اداروں کے لیے تگ و دو کے ساتھ دوسرے اداروں کی سرپرستی اور حسبِ موقع ان کی معاونت کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ مریدین کو بھی ہدایت کی جاتی ہے کہ اپنے فعال اداروں کا خیال رکھیں اور حسبِ مقدور ان کا تعاون کرتے رہیں۔ جب کہ عام طور سے یہ ہوتا ہے کہ اگر خود کوئی ادارہ چلا رہے ہیں تو دوسروں سے صاف کہہ دیتے ہیں کہ بھائی! ہمارے لیے اپنے ادارہ ہی کا انتظام مشکل ہے، دوسری طرف ہم کیسے توجہ دے سکتے ہیں؟

  10. بہت سے پیروں کے یہاں یہ ہوتا ہے کہ اگر کوئی صاحبِ ثروت شخص داخلِ سلسلہ ہو گیا اور داد و دہش شروع کر دی تو اس کی ایسی ناز برداری ہوتی ہے کہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ مرید نہیں، مراد ہے، تابع نہیں متبوع ہے، محکوم نہیں حاکم ہے۔ الحمد للہ اس دورِ انحطاط میں بھی خانقاہِ برکاتیہ نے اپنا وقار محفوظ رکھا ہے۔ یہاں مرید، مرید ہی رہتا ہے مراد نہیں بنتا۔

  11. خانقاہِ برکاتیہ کا ہمیشہ سے یہ شیوہ رہا ہے کہ یہاں سے مذہبِ اہل سنت کی ترویج اور اہل باطل کی تردید ہوتی رہی ہے۔ اپنے رشتے ناطے والوں سے قطع تعلق گوارا ہے مگر مذہب و مسلک سے انحراف کبھی گوارا نہ ہوا۔ اس باب کی پوری تاریخ کتابوں میں مذکور ہے۔ الحمد للہ آج بھی اس روش میں کوئی فرق نہ آیا۔

  12. علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں امینِ ملت کی سرگرمیاں اور ان کے اثرات و نتائج کیا تھے یہ کسی باخبر صاحبِ قلم کے مضمون میں ملاحظہ کریں۔

  13. یہ تذکرہ بے محل نہ ہو گا کہ امینِ ملت کے برادرانِ گرامی شرفِ ملت سید محمد اشرف میاں، سید محمد افضل میاں، رفیقِ ملت سید نجیب حیدر میاں پوری طرح ان کی موافقت اور معاونت کے لیے کمر بستہ رہتے ہیں۔ ہر اہم کام کے لیے فکری و دماغی محنت، پھر اس کی تکمیل کے لیے مناسب تگ و دو یہ حضرات خود کرتے ہیں، اس لیے سارے کام بہت حسن و خوبی سے انجام پذیر ہوتے ہیں اور کسی کو حرف گیری کا موقع شاید ہی کہیں ملتا ہو۔ ایسے تعلیم یافتہ اور مقتدر حضرات کی مشاورت اور معاونت بہت بڑی نعمت ہے۔ اس کے لیے بڑے بھائی کی طرف سے شفقت، محبت، قدر دانی، دل جوئی اور چھوٹے بھائیوں کی جانب سے مرتبہ شناسی، ہمدردی اور اطاعت و محبت کا اجتماع ضروری ہے۔ رب قدیر اس الفت و محبت کو آسیبِ روزگار سے بچائے اور ملت کو ان کے ثمرات و برکات سے ہمیشہ مستفید بنائے۔ آمین۔

میرے ان اشارات سے کم از کم اتنا واضح ہو جاتا ہے کہ امینِ ملت ایک فردِ فرید ہونے کے ساتھ ایک انجمن، ایک ادارہ اور ایک جامعہ ہیں جس سے بہت سی انجمنیں آباد اور بہت سے افراد اور ادارے محوِ پرواز ہیں۔ مولیٰ تعالیٰ ان کا سایہ عاطفت سلامت رکھے۔ مجھے احساس ہے کہ کچھ باتیں رہ گئیں اور بہت سی باتیں بڑے اختصار سے درج ہوئیں مگر امید ہے کہ دیگر مضامین سے میری خامیوں کی تلافی ہو جائے گی۔ ان شاء اللہ تعالیٰ۔

وَهُوَ الْمُسْتَعَانُ، وَعَلَيْهِ التُّكْلَانُ.

تحریر: محمد احمد مصباحی

جدید تر اس سے پرانی
Advertisement
Advertisement
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!