| عنوان: | مولانا قمر الزماں اعظمی |
|---|---|
| تحریر: | محمد احمد مصباحی |
| پیش کش: | ناظمین فاطمہ ردولی |
| منجانب: | مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد |
مُبَسْمِلًا وَحَامِدًا وَمُصَلِّيًا.
جہاں تک مجھے یاد آتا ہے مولانا قمر الزماں اعظمی کے نام اور شکل و صورت سے میں اُس وقت آشنا ہوا جب حافظِ ملت قدس سرہ نے دار العلوم اشرفیہ مصباح العلوم سے انھیں دستارِ فضیلت دی۔ غالباً یہ ۱۰ شعبان ۱۳۸۴ھ کی تاریخ تھی اور میں اس وقت مدرسہ ضیاء العلوم خیرآباد، ضلع علی گڑھ میں ابتدائی عربی کا طالب علم تھا۔
پھر جب میں نے اشرفیہ میں داخلہ لیا تو مبارک پور اور قرب و جوار میں ان کی تقریریں سننے کا بارہا اتفاق ہوا۔ پوسٹروں میں اُن کے نام کے ساتھ “الجامعۃ الاسلامیہ روناہی، ضلع فیض آباد” درج ہوتا۔ اس ذریعہ سے روناہی اور الجامعۃ الاسلامیہ سے آشنائی ہوئی، ورنہ ہمارے دیار میں نہ قصبہ روناہی معروف و مشہور تھا نہ الجامعۃ الاسلامیہ۔ البتہ مولانا کی تقریروں کا شہرہ ان کی فراغت کے بعد دس سال کے اندر اندر ملک کے دور دراز اطراف و اکناف میں ہو چکا تھا۔ ان کی تقریریں مدارس کے طلبہ و علما کے ساتھ یونیورسٹیوں اور کالجوں کے طلبہ و اساتذہ میں بھی مقبول تھیں۔
اس دور کے اکابر؛ مثلاً سرکارِ مفتیِ اعظم قدس سرہ، برہانِ ملت مولانا سید شاہ برہان الحق جبل پوری، سید العلماء مولانا سید شاہ آلِ مصطفیٰ مارہروی صدر سنی جمعیۃ العلماء ممبئی، حافظِ ملت مولانا شاہ عبد العزیز محدث مراد آبادی شیخ الحدیث دار العلوم اشرفیہ مبارک پور، مجاہدِ ملت مولانا شاہ حبیب الرحمن قادری رئیسِ اعظم اڑیسہ علیہم الرحمۃ والرضوان، اور اواسط؛ مثلاً شارحِ بخاری مفتی محمد شریف الحق امجدی، بلبلِ ہند مفتی رجب علی نانپاروی، پیرِ طریقت مولانا سید شاہ عبد الحق اعظمی مصباحی، فیض العارفین مولانا غلام آسی بلیاوی، رئیسِ القلم علامہ ارشد القادری مصباحی، سحبانِ الہند مولانا ابوالوفا فصیحی غازی پوری، مولانا سید مظفر حسین کچھوچھوی، خطیبِ مشرق علامہ مشتاق احمد نظامی علیہم الرحمہ، پھر اُن کے بعد کے بے شمار علما اور اصاغر بھی مولانا قمر الزماں اعظمی کی علمی و ایمان افروز تقریروں کے قدر داں اور اُن کی نیک طبعی، سلامت روی، حمیتِ دینی، بصیرتِ علمی اور قومی و جماعتی دردمندی وغیرہ کمالات و محاسن سے متاثر تھے۔
جسے ان بزرگوں سے سندِ قبول حاصل ہو چکی ہو اس کے لیے میرے ستائشی جملے کچھ زیادہ وزن نہیں رکھتے، حالاں کہ میں خود ان کے متعدد اوصاف و خدمات سے بہت متاثر ہوں۔ خالص پور، مبارک پور، جمشید پور، محمد آباد گوہنہ وغیرہ مقامات پر بہت سی تفصیلی ملاقاتیں اور باتیں بھی رہی ہیں۔ بہت قریب سے میں نے انھیں دیکھا، جانا، پرکھا اور سمجھا ہے۔ ورلڈ اسلامک مشن برطانیہ کے لیے جوائنٹ سکریٹری پھر جنرل سکریٹری کی حیثیت سے ان کا انتخاب بھی یاد ہے۔ اپنے مخلصانہ جذبات و خدمات، مذہبی و قومی سربلندی کے جوش و ولولہ، کردار و اخلاق کی بلندی و پاکیزگی، علمی گہرائی اور وسعتِ نظر وغیرہ متعدد فضائل و محاسن کے اعتبار سے وہ نہ صرف اپنے ہم عصروں بلکہ بہت سے پیش روؤں سے بھی مجھے فائق اور ممتاز نظر آتے ہیں، مگر ان سب کی تفصیل کے لیے فرصت درکار ہے اور وہی میرے لیے عنقا ہے، مولیٰ تعالیٰ مجھے عفو و کرم سے نوازے۔
میں اس فکر میں ہوں کہ کچھ محنتی اور بالغ نظر اہل قلم پوری احتیاط کے ساتھ مولانا کے حالات و خدمات قیدِ تحریر میں لائیں اور سلیقے سے مرتب کر کے پیش کریں تاکہ مناسب اور باوقار تعارف بھی ہو سکے اور نئی نسل اس سے اثر پذیر بھی ہو۔ وَمَا تَوْفِيقِي إِلَّا بِاللَّهِ.
یہ خبر باعثِ مسرت ہے کہ رضا اکیڈمی علامہ قمر الزماں مصباحی کی خدمات کے اعزازی اجلاس اور ایوارڈ کا اہتمام کر رہی ہے، اور ان کی خدمات سے متعلق تاثرات اور مضامین کا ایک مجموعہ بھی شائع کرنا چاہتی ہے۔ اس باب میں رضا اکیڈمی کا سابقہ ریکارڈ بھی بہت شاندار اور ممتاز ہے۔ خدا کا شکر ہے کہ جماعت میں ایسے افراد بھی موجود ہیں جو اسلام و سنیت کی مخلصانہ خدمات انجام دینے والوں کے قدر داں، معتقد اور متعرف بھی ہیں اور ان کی ہمت افزائی کے لیے آمادہ و تیار بھی، ساتھ ہی ان کے امتیازی مقام سے دوسروں کو متعارف کرانے کے لیے سرگرم بھی، تاکہ ان کے تابندہ نقوش کی ضیا عام سے عام تر ہو سکے۔ زَادَهُمُ اللَّهُ خَيْرًا وَإِحْسَانًا وَكَثَّرَ أَمْثَالَهُمْ فِينَا.
ربیع الآخر ۱۴۳۲ھ / مارچ ۲۰۱۱ء
محمد احمد مصباحی
صدر المدرسین الجامعۃ الاشرفیہ، مبارک پور، اعظم گڑھ، یوپی
