Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

اجتماعی شادیوں کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے|مفتی خالد ایوب مصباحی شیرانی

اجتماعی شادیوں کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے
عنوان: اجتماعی شادیوں کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے
تحریر: مفتی خالد ایوب مصباحی شیرانی
پیش کش: مسکان فاطمہ قادریہ
منجانب: مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد

اجتماعی شادیوں کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے

اسلامی نقطہ نظر سے شادیاں جتنی سادہ ہونی چاہیے تھیں، ہمارے غیر اسلامی معاشرے اور زندگی کے تکلفات نے ان کو اتنا ہی رنگین، بے فیض، فضولیات آمیز اور نت نئی خرافات کا حامل بنا دیا ہے۔ اور رفتہ رفتہ نوبت بایں جا رسید کہ آج کے دور میں کسی غریب انسان کے لیے عزت کے ساتھ اپنی بچیوں کے ہاتھ پیلے کر دینا زندگی کا بہت بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ شادی کو پاکیزہ سنت سے زیادہ معاشرتی رسم بنانے میں اہم کردار نئے اور فکری طور پر مفلوج امیروں کا رہا ہے جو اپنی ناموری کے لیے نہ غریبوں کے مستقبل کی فکر کرتے ہیں اور نہ اسلامی فکر کو ملحوظ رکھتے ہیں۔ اس معاشرتی خرابی نے اب تک جانے کتنوں کو آہیں رلایا ہے اور کتنوں کی آہیں لے کر اپنی زندگیاں برباد کی ہیں۔ ملک کے اس کونے سے اس کونے تک بلا امتیاز یہ ہندوانہ رسم، رسم مسلم بن چکی ہے اور اپنی پیدائش سے اب تک مسلسل مسلمانوں کی عزت و حرمت، دولت و ثروت اور اسلامی تہذیب و ثقافت کی قاتل بنی ہوئی ہے۔ کہتے ہیں جب ظلم حد سے سوا ہوتا ہے تو اس کی کوکھ سے اس کا مداوا بھی پیدا ہوتا ہے۔ بہت خوش آئند بات ہے کہ پچھلے کچھ سالوں سے بہت سے علاقوں میں اجتماعی شادیوں کا مزاج پروان چڑھا ہے۔

یہ بھلا کام تھک ہار کے ہوا ہو، یا شعوری طور پر انجام پا گیا ہو یا پھر کسی کی نقالی میں ہوا ہو، یہ بہر حال مستحسن اور قابل تقلید ہے۔ اس سے جہاں خاموش اتحاد و یگانگت کی فضا ہموار ہوتی ہے، وہیں ایک شادی کے بہانے فضول خرچیوں پر بند باندھنے کا موقع ملتا ہے۔ خیال رہے شادی زندگی کا اتنا بڑا ہاتھی بن چکا ہے کہ اسلامی ماحول بپا کرنے سے اس سلسلے میں خاصے مال کی بچت کی جاسکتی ہے جیسے تھوڑے ڈیکوریشن پر اکتفا کر لیا جائے، یا کئی دنوں کے لمبے ڈیکوریشن کی بجائے لائٹنگ اور ویڈیوگرافی وغیرہ پر صرف ہونے والی خاطر خواہ رقوم پر کنٹرول کر لیا جائے تو خاصی بچت ہو جاتی ہے، یعنی یہاں جھٹکوں میں لاکھوں کی بچت کی جاسکتی ہے۔

مانا کہ یہ بچا بچایا بجٹ کسی اسلامی مفاد میں خرچ نہ ہو لیکن یہ بھی کیا کم ہے کہ مسلمان کا مال معصوم حرام کاموں میں صرف ہونے سے بچ جائے اور کم سے کم اس کی آئندہ زندگی کا حصہ بن جائے۔ اجتماعی شادیوں کا دوسرا بڑا مفاد یہ ہے کہ اس سے اجتماعیت کا تصور ابھرتا ہے اور اس کے لازمی نتیجے میں شعوری یا غیر شعوری طور پر مسلم قیادت بھی نمایاں طور پر ابھر کر سامنے آتی ہے اور اس کے ساتھ اس خوش گوار موقع پر اس قیادت کو تسلیم کرنے کا جذبہ بھی پیدا ہوتا ہے۔ یہ تمام خوبیاں وہ ہیں جو آج ہر محاذ پر امت مسلمہ کی بنیادی ضروریات میں سے ہیں۔

بارہا اجتماعی شادیوں کے ذریعہ جہیز جیسی لعنت پر بھی قدغن لگ جاتا ہے جبکہ اس کے ساتھ شادی میں در آئی بہت ساری غیر اسلامی رسموں پر بھی خاموش پابندی عائد ہو جاتی ہے۔ یعنی کہا جا سکتا ہے اجتماعی شادیاں ہماری ضرورت بھی ہیں، ہماری اصلاح بھی، ہماری طاقت بھی ہیں اور ہماری عظمت بھی اور شادی کے سلسلے میں ہمارے اصل تہذیبی ورثے کی آئینہ دار بھی۔

ضرورت ہے کہ مذہب اور ملت کے سر برآوردہ افراد ہر دو سطح پر اس بدعت حسنہ کو فروغ بھی دیں اور اس کی حوصلہ افزائی بھی کریں۔ ممکن ہے یہ پاکیزہ چلن امت مسلمہ کے لیے من جانب اللہ عظیم تحفہ ثابت ہو۔ [ماہنامہ پیغام شریعت دہلی: مئی، جون ۲۰۱۹ء]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!