Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
لباب
مستند مضامین و مقالات
لباب کی مستند علمی و تحقیقی تحریریں اب موبائل ایپ میں دستیاب ہیں۔
پلے اسٹور سے انسٹال کریں

برطانوی اسکولوں میں صبح کی دُعائیں اور مسلمانوں کی غفلت (قسط: دوم)|علامہ قمر الزماں خاں اعظمی

برطانوی اسکولوں میں صبح کی دُعائیں اور مسلمانوں کی غفلت (قسط: دوم)
عنوان: برطانوی اسکولوں میں صبح کی دُعائیں اور مسلمانوں کی غفلت (قسط: دوم)
تحریر: خطیب اعظم علامہ قمر الزماں خان اعظمی
پیش کش: نوری کرن
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی

کرسمس قریب ہے۔ پوری عیسائی دُنیا کرسمس کی تیاریوں میں مصروف ہے، بازار سجائے جا رہے ہیں، گھروں میں کرسمس کے مصنوعی درختوں پر تہنیتی خطوط سجائے جا رہے ہیں، ریڈیو، ٹیلی ویژن اور اخبارات میں کرسمس کی سیل سے متعلق اشتہارات کی بھر مار ہے۔ گرجا گھروں کو سال بھر میں صرف ایک مرتبہ آنے والوں کے لیے آراستہ کیا جا رہا ہے، بچے اپنے والدین، اعزہ اور دوستوں کے درمیان کرسمس کے تحائف کے تبادلے کا اہتمام کر رہے ہیں۔ نونہالانِ مسیحیت ایک فرضی کرسمس فادر کا خواب دیکھ رہے ہیں کہ وہ کرسمس کی شب میں گھر کی غلیظ، گرد آلود اور دھوئیں سے اٹی ہوئی چمنی کے ذریعے گھر میں داخل ہوگا اور ان کے تکیوں کے نیچے تحائف رکھ کر چلا جائے گا (جو خود ان کے والدین رات کو رکھ دیتے ہیں)۔ سٹی ہال کی عمارت پر پلاسٹک کا بنا ہوا کرسمس فادر تحائف کی گٹھڑی پیٹھ پر لادے ہوئے چڑھ رہا ہے جو شب میں چمنیوں کے ذریعے بچوں کی خواب گاہوں میں داخل ہوگا۔ اِس طرح ان کو یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ دراصل پوری دُنیا میں مذہب کی عمارت اسی طرح کی فرضی بنیادوں پر استوار کی گئی ہے۔

دُنیا بھر کا مسیحی معاشرہ اور خاص طور پر یورپ اپنی سال بھر کی محفوظ کمائی کرسمس پر بے دریغ خرچ کر رہا ہے۔ سب سے زیادہ بھیڑ شراب کی دکانوں پر ہوتی ہے، جو کرسمس کے موقع پر عبادت گزارانِ مسیحیت کے لیے سب سے عمدہ تحفہ ہے۔ کرسمس کے موقع پر ٹیلی ویژن پر بھوتوں، چڑیلوں اور ڈراکیولا وغیرہ کے فرضی افسانوں پر مشتمل فلمیں دکھائی جائیں گی جن میں کچھ غیر مرئی خبیث قوتیں انسانوں کو پریشان کرتی ہیں اور پھر صلیب کو دیکھتے ہی رفو چکر ہو جاتی ہیں۔ ممکن ہے عہد نامۂ قدیم پر مشتمل وہ فلم بھی دکھائی جائے جو بارہا دکھائی جا چکی ہے یا ’’سلیمان اور ملکۂ سبا‘‘ نامی فلم پھر ٹی وی پر پیش کی جائے جس میں حضرت سلیمان علیہ السلام کی کردار کشی کی گئی ہے اور ان کو ایک ذہین، مدبر مگر جنسی اعتبار سے غیر محتاط بادشاہ کی حیثیت سے پیش کیا گیا ہے۔

کرسمس کی شب میں ولادتِ مسیح کے منظر کو اصنام اور تصاویر کے ذریعے پیش کیا جائے گا جس میں ایک دوشیزہ مریم بنی ہوگی، سامنے گھاس پھوس پر ایک عُریاں بچہ رکھا ہوگا، جس کو یہ مسیح مصلوب اور خدا کا نام دیتے ہیں۔ قریب ہی چرواہے بکریاں چرا رہے ہوں گے، یہی چرواہے پیدائشِ مسیح کی سب سے پہلے مبارک باد پیش کرنے والے ہیں۔ گھاس پھوس پر ایک عُریاں بچے کو دیکھ کر اس فرضی خدا کی بے چارگی کس قدر نمایاں ہے، مگر آج کے متمدن دور میں اوہام و خرافات کے پجاری جب اس فرضی تصویر کے سامنے سر خمیدہ ہو کر نجات، کامیابی اور فلاحِ دارین طلب کرتے نظر آتے ہیں تو عقلِ انسانی ماتم کناں نظر آتی ہے اور اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ اگر اللہ عقلِ سلیم نہ دے تو دانشِ حاضران کو اوہام و خرافات کی ظلمتوں سے نکال نہیں سکتی۔

کرسمس کے دنوں میں مغربی ممالک بالخصوص برطانیہ کی حکومت کو ایک عجیب طرح کے دردِ سر سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔ کرسمس کے ’’شرابیوں‘‘ سے بے گناہ انسانوں کی جانوں کو محفوظ رکھنے کے لیے "Do not Drink and Drive" (شراب پی کر گاڑی مت چلاؤ) کی تحریک چلانی پڑتی ہے، اور پھر بھی کرسمس کے مدہوش جب ہوش میں آتے ہیں تو اُن کی نگاہ اخبارات کی اُن سُرخیوں پر ضرور پڑتی ہے جن میں ان کی ’’میلادِ مسیح‘‘ کے نام پر مے کشی کے نتیجے میں متعدد خاندان برباد اور کتنی ہی جانیں ضائع ہو چکی ہوتی ہیں۔ اسی شب میں مریم عذرا علیہا السلام کی پاکیزگی کی قسم کھانے والے کتنی عورتوں کے گوہرِ عصمت لوٹ چکے ہوتے ہیں۔

موجودہ مسیحی دُنیا اور بالخصوص یورپ میں میلادِ مسیح کو جس طرح منایا جاتا ہے اس سے نہ صرف یہ کہ مذہب کا تقدس پامال ہوتا ہے، بلکہ انسانی دلوں میں مذہب کی محبت کے بجائے بغاوت جنم لیتی ہے اور ملحدین کا یہ مفروضہ صحیح معلوم ہونے لگتا ہے کہ مذہب اُن اندھیروں کا نام ہے جہاں روشنی کی کوئی کرن داخل نہیں ہو سکتی۔ المیہ یہ ہے کہ کرسمس کے ان ہنگاموں سے یورپ میں بسنے والے لاکھوں مسلمان بچے بھی متاثر ہوتے ہیں اور ان کے ذہنوں میں بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا وہی باطل تصور قائم ہو جاتا ہے جو عیسائی دینا چاہتے ہیں۔

ان حالات میں مسلمانوں کی یہ ذمے داری ہے کہ وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت مریم علیہا السلام کے حقیقی چہرے دُنیا کے سامنے پیش کریں۔ ایسے پروگرام ترتیب دیں جن میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پاک اور مقدس زندگی، ان کے پیغمبرانہ معجزات، ان کی مسیحائی اور شفا ارزانی، ان کا گہوارے میں کلام فرمانا، حیاتِ مسیح اور رفع الی السماء کا تذکرہ اور دُنیا میں دوبارہ جلوہ گری کی باتیں ہوں۔ ان کی مزعومہ الوہیت، تثلیث اور دیگر مخرفات کی تردید کی جائے، تاکہ ایک طرف تو انسانی ذہنوں میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی عظمت اُجاگر ہو اور دوسری طرف توحیدِ باری تعالیٰ کا زندہ اور عظیم عقیدہ دلوں میں راسخ ہو سکے اور اس طرح ہم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی اس خواہش کا احترام کریں جس کا ذکر انہوں نے اپنے آخری خطبے میں فرمایا تھا: ’’دُنیا نے اپنے نبی کے پہچاننے میں غلطی کی ہے مگر جب وہ فارقلیطِ اعظم جلوہ گر ہوگا تو میرا حقیقی جمال ظاہر فرمائے گا۔‘‘ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حقیقی جمال کو قرآن نے ظاہر اور روشن فرمایا اور اب ہماری ذمے داری ہے کہ اس جمالِ جہاں آرا کو مسیحی اور غیر مسیحی دُنیا کے سامنے پیش کریں۔

پیغمبرِ آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری کی بشارت دیتے ہوئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے وضاحت کے ساتھ فرمایا تھا:

إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ مُصَدِّقًا لِمَا بَيْنَ يَدَيَّ مِنَ التَّوْرَاةِ وَمُبَشِّرًا بِرَسُولٍ يَأْتِي مِنْ بَعْدِي اسْمُهُ أَحْمَدُ ۝ [سورہ الصف: 6]

“میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں، اپنے سے پہلی کتاب توریت کی تصدیق کرتا ہوا اور اُن رسول کی بشارت سُناتا ہوا جو میرے بعد تشریف لائیں گے اُن کا نام احمد ہے۔ (صلی اللہ علیہ وسلم)” [مقالاتِ خطیبِ اعظم، ص: 76 تا 78]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!