Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
لباب
مستند مضامین و مقالات
لباب کی مستند علمی و تحقیقی تحریریں اب موبائل ایپ میں دستیاب ہیں۔
پلے اسٹور سے انسٹال کریں

معاشرے سے دینی رجحان ختم ہونے کی وجہ | مولانا محمد اشرف رضا قادری

معاشرے سے دینی رجحان ختم ہونے کی وجہ
عنوان: معاشرے سے دینی رجحان ختم ہونے کی وجہ
تحریر: مولانا محمد اشرف رضا قادری
پیش کش: محمد شہید حسین عطاری
منجانب: مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان عطار نیپال گنج، نیپال

مغربیت کے اثرات اور ہماری غفلت

جب سے مغربیت اور فیشن پرستی کی مسموم ہوا چلی ہے، معاشرے سے دینی رجحان ختم ہوتا جا رہا ہے۔ الحاد و بے دینی، فحاشی اور عریانیت کے فروغ میں سوشل میڈیا نے بڑا افسوسناک کردار ادا کیا ہے۔ اور اس کے تدارک کے لیے جو مناسب اور حکمت بھرے اقدامات ہونے چاہیے تھے، وہ ہم سے بروقت نہیں ہو پائے، جس کے نتیجے میں ہمارا معاشرہ مغرب زدہ اور دین و مذہب سے دور ہوتا چلا گیا اور دینی رحجان ختم ہونے لگا۔

غرض کہ مادیت کی ہوا نے دین و روحانیت کی عمارتیں منہدم کر دیں اور ایسے نازک وقت میں ان کی تعمیرِ نو کے بجائے ہم صرف شکوہ و شکایت کا دفتر لے کر بیٹھ گئے اور ایک دوسرے کو ذمہ دار ٹھہرانے لگے۔

برائیوں کو مٹانے کی ذمہ داری

برائیوں کے خلاف جہاد بقدرِ استطاعت ہر ایک کے لیے ضروری ہے۔ صرف علما و مشائخ ہی اس کے ذمہ دار نہیں ہیں، ہاں! وارثینِ انبیاء ہونے کے ناطے ان کی ذمہ داریاں دوسروں سے کچھ زیادہ ہیں۔ حدیثِ پاک میں ہے:

"مَنْ رَأَى مِنْكُمْ مُنْكَرًا فَلْيُغَيْرُهُ بِيَدِهِ فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِع فَبِلِسَانِهِ فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِهِ وَذَالِكَ أَضْعَفُ الْإِيمَانِ"
ترجمہ: "تم میں سے جو برائی دیکھے تو اسے اپنے ہاتھ سے مٹا دے اور اگر اس کی طاقت نہیں رکھتا ہو تو اپنی زبان سے اس برائی کو ختم کرے، اگر اس کی بھی قوت و استطاعت نہیں رکھتا ہو تو اپنے دل سے اس برائی کو برا جانے اور یہ ایمان کا سب سے کمزور درجہ ہے۔" [صحیح مسلم، کتاب الایمان، باب بیان کون النھی عن المنکر من الایمان الخ، الحدیث: 177، ص 188]

اس حدیثِ پاک میں علما و مشائخ کی قید نہیں ہے بلکہ مطلق برائیوں کو مٹانے اور برائیوں کے خلاف آواز بلند کرنے کی تعلیم دی گئی ہے۔ حدیثِ پاک "ألا كلكم راع وكلكم مسئول عن رعيته" کا بھی یہی مفہوم و مصداق ہے۔

مسلمانوں کے تین طبقات اور ان کی ذمہ داریاں

یہاں یہ بات بھی سمجھنے اور ذہن میں رکھنے کی ہے کہ باعتبارِ قوت و ضعف مسلمانوں کی تین قسمیں ہیں:

  1. اقویٰ (بااختیار حکام و سلاطین): جو اپنی قوت و اختیار سے "منکر" یعنی برائی کو مٹا سکتے ہیں، تو ان پر فرض ہے کہ وہ برائیوں کو اپنے ہاتھوں سے مٹا دیں۔

  2. قوی و اوسط (علما، مشائخ و سرکردہ افراد): جو برائی کو اپنے ہاتھ سے تو نہیں مٹا سکتے مگر زبان سے برائیوں کے خلاف صدائے احتجاج بلند کر سکتے ہیں، تو ان پر ضروری ہے کہ زبان سے مناسب طریقے پر برائی کے خلاف جہاد کریں۔

  3. اضعف (عام مسلمان): یہ وہ لوگ ہیں جو ہاتھ سے برائی کو مٹانا تو درکنار زبان سے بھی منع نہیں کر سکتے، تو ان پر فرض ہے کہ دل سے برائی کو برا جانیں۔

علما، مشائخ اور عوام کا عملی کردار

حالات دن بدن سنگین اور بد سے بدتر ہوتے چلے جا رہے ہیں، لوگ دین سے دور ہو رہے ہیں اور معاشرے سے دینی رجحان ختم ہوتا جا رہا ہے۔ ایسے میں علما و مشائخ سمیت سماج کے ہر باشعور فرد کی ذمہ داری ہے کہ وہ برائیوں کے خلاف جہاد کریں، لوگوں کو صراطِ مستقیم پر گامزن کریں۔ عوام، علما اور مشائخ کی صحبت و قربت اختیار کریں اور علما و مشائخ بھی اپنے حجروں سے باہر تشریف لائیں، معاشرے کا جائزہ لیں کہ قوم کدھر جا رہی ہے۔ اس پر غور و فکر کریں اور اس کو راہِ راست پر لانے کی سعیِ بلیغ فرمائیں۔

وقت نکال کر ہفتے میں ایک دن یا دو دن گاؤں اور دیہات کا سفر کریں، لوگوں سے ملاقات کریں، ان کو دین کی باتیں بتائیں اور دین و مذہب سے قریب کریں۔ تعلیم اور بالخصوص دینی تعلیم کی ضرورت و اہمیت سے عوام کو واقف کرائیں۔

غریب بچوں کی تعلیمی کفالت

ممکن ہو سکے تو قوم کے ایک دو غریب بچوں کو اپنے ذمے لے لیں اور والدین کو اس بات کا یقین دلائیں کہ ان کے بچوں کی تعلیم و تربیت کے سارے اخراجات یا نصف اخراجات ہم برداشت کریں گے۔ بعد ازاں قوم کے مخیر حضرات سے مل کر ان غریب بچوں کی تعلیمی کفالت کا انتظام کروائیں۔ بچوں اور نوجوانوں کی اسلامی تعلیم و تربیت پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

آج لاکھوں غریب اور یتیم بچے محض والدین کی غربت و افلاس اور ہماری بے توجہی کے سبب زیورِ تعلیم و تربیت سے آراستہ نہیں ہو پا رہے ہیں۔ غرض کہ مسلم معاشرے میں دینی ماحول اور مذہبی فضا ہموار کرنے کے مختلف طریقے اور ان گنت راستے ہیں، بس ان راستوں پر چلنے اور ان طریقوں کو اپنانے کی ضرورت ہے۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!