| عنوان: | اعلی حضرت کرامات و حالات (قسط: چہارم) |
|---|---|
| تحریر: | طارق انور مصباحی |
| پیش کش: | محمد توصیف رضا عطار |
اعلیٰ حضرت کا حسب و نسب
ملک العلماء حضرت علامہ سید ظفر الدین بہاری نے تحریر فرمایا: “اعلیٰ حضرت کا اسمِ مبارک عبدالمصطفٰے احمد رضا خان بن حضرت مولانا محمد نقی علی خان بن حضرت مولانا رضا علی خان بن حضرت مولانا حافظ محمد کاظم علی خان بن حضرت مولانا شاہ محمد اعظم خان بن حضرت محمد سعادت یار خان بن حضرت محمد سعید اللہ خان رحمۃ اللہ علیہم اجمعین۔ حضور کے آباؤ اجداد قندھار کے مؤقر قبیلہ بڑھیچ کے پٹھان تھے۔
شاہانِ مغلیہ کے عہد میں وہ لاہور آئے اور معزز عہدوں پر ممتاز ہوئے۔ لاہور کا شیش محل انہیں کی جاگیر تھا، پھر وہاں سے دہلی آئے اور معزز عہدوں پر فائز رہے۔ چنانچہ حضرت محمد سعید اللہ خان صاحب شش ہزاری عہدے پر فائز تھے اور شجاعت جنگ انہیں خطاب عطا ہوا تھا۔ ان کے صاحبزادے سعادت یار خان صاحب من جانبِ سلطنت ایک مہم سر کرنے کے لیے بریلی روہیل کھنڈ بھیجے گئے۔ کامیابی پر ان کو بریلی کا صوبہ بنانے کے لیے فرمانِ شاہی آیا، لیکن وہ ایسے وقت آیا کہ وہ بسترِ مرگ پر تھے۔ ان کے تین صاحبزادے تھے۔ اعظم خان، معظم خان، مکرم خان جو بڑے بڑے مناصبِ جلیلہ پر ممتاز تھے، جو ایک ہزار ماہوار سے کم نہ تھا۔ اعظم خان صاحب بریلی تشریف فرما ہوئے اور مقبل الی اللہ ہو کر زہدِ خالص و ترکِ دنیا اختیار فرمایا۔ شاہزادہ کا تکیہ جو محلہ معماراں بریلی میں ہے۔ آج بھی انہیں کی نسبت سے مشہور ہے۔ انہوں نے وہیں قیام فرما لیا تھا اور وہیں ان کا مزار ہے”۔ [حیاتِ اعلیٰ حضرت: جلد اول: ص 47]
ایں خانہ ہمہ آفتاب است
یہ علماء و امراء کا خانوادہ ہے۔ امام اہل سنت قدس سرہ العزیز کے آباؤ اجداد بھی عالم تھے اور ان کے فرزندان و احفاد و اسباط میں بھی بہت سے جلیل القدر علماء ہوئے ۔ مجددِ موصوف کے صاحبزادگان حجۃ الاسلام حضرت علامہ حامد رضا خاں و مفتیِ اعظم ہند حضرت مفتی مصطفیٰ رضا خاں اپنے عہد میں مرجعِ خلائق تھے۔
اسی طرح مجددِ ممدوح کے احفاد میں سے تاج الشریعہ علامہ اختر رضا خاں ازہری علم و فضل اور زہد و ورع میں فائق الاقران تھے۔ ان کے علم و فضل کا شہرہ اور دینی خدمات کا غلغلہ چودہویں صدی ہجری میں بھی ہر چہار جانب تھا اور ان کی قبولیت و شہرت قابلِ دید تھی۔ جہاں کہیں جلوہ افروز ہو جاتے، تاحدِ نگاہ پروانوں کا ایک طویل و عریض مجمع لگ جاتا۔ دنیا بھر میں آپ کے مریدین کی تعداد لاکھوں کی تعداد میں ہے۔
ایں سلسلہ از طلائے ناب است
ایں خانہ تمام آفتاب است
امام اہل سنت اور عشقِ نبوی
اعلیٰ حضرت امام اہل سنت قدس سرہ العزیز نے بہت سے علوم و فنون پر ایک ہزار سے زائد کتابیں اور فتاویٰ تحریر فرمائے۔ ماضیِ قریب میں نہ ان کی طرح کوئی فقیہ پیدا ہوا، نہ اتنا عظیم المرتبت کوئی محدث، لیکن ان کا عشقِ رسول ان کے علم و فضل پر غالب تھا۔
در حقیقت عشقِ مصطفوی اور محبتِ نبوی ہی دنیا و آخرت کی تمام کامرانیوں کا واحد اور مجرب سرچشمہ ہے۔ امام موصوف حد درجہ عقل مند تھے کہ خود کو درِ بارِ رسالت سے منسلک کر لیے۔ آپ کا مادی پیکر تو ہند میں رہا کرتا، لیکن ان کی روح ہمہ دم دربارِ مصطفوی کی جاروب کشی میں منہمک رہتی۔ ان کا قلب تصورِ حبیبِ کبریا علیہ التحية والثناء میں مستغرق رہتا۔
آپ تعظیمِ مصطفیٰ و عشقِ محمدی کے پیکرِ مجسم تھے۔ جب سال ۱۳۲۴ھ میں حجِ دوم کے لیے حاضر ہوئے تو خاص دیدارِ نبوی کی تمنا لے کر حاضرِ دربارِ اقدس ہوئے۔۔ ایک شب روضہ مبارکہ کے مواجہہ اقدس میں درود شریف پڑھتے گزر گئی، پر مقصود میں باریابی نہ ہوسکی۔
دوسرے روز افسردگی کے عالم میں ایک منظوم فریاد نامہ (وہ سوئے لالہ زار پھرتے ہیں: الخ) دربارِ عالی میں عرض کر کے شوقِ دیدار میں مؤدب و منتظر قلب و نظر فرشِ راہ کیے رہے، تا آں کہ نصیبہ نے یاوری کی، چشمِ سر سے حضور اقدس تاجدارِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت سے سرفراز ہوئے۔ [حیاتِ اعلیٰ حضرت: جلد اول: ص 105]
اسی عہد میں مدینہ منورہ میں حسام الحرمین کی تصدیقات کا سلسلہ جاری تھا۔ زیارتِ سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے احکامِ حسام الحرمین پر مہرِ تصدیق ثبت فرما دیا، یہ ہے حفظِ ناموسِ رسول کا انوکھا انعام:
فَانْظُرْ مَاذَا تَرَىٰ

