| عنوان: | قاضی اسلام اور حدود قضا |
|---|---|
| تحریر: | علامہ ضیاء المصطفیٰ قادری امجدی المعروف حضور محدثِ کبیر |
| پیش کش: | قافیہ نوری بنت محمد ظہیر رضوی |
| منجانب: | امجدی گلوبل اکیڈمی |
باسمه تعالى وبحمده والصلوة على نبيه
محب گرامی قدر مولانا شمشاد احمد صاحب زید حبکم
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
ماہ اکتوبر ۲۰۰۳ء سے میں مسلسل سفر میں ہوں اور ایک جگہ چند دنوں تک ٹھہرنے کا موقع بھی میسر نہیں ہے کہ اسی دوران بذریعہ فیکس آپ کا استفتا ”دربارۂ ثبوت ہلال“ حضرت تاج الشریعہ علامہ اختر رضا صاحب قادری ازہری مدظلہ العالی کے مدلل جواب کے ساتھ وصول ہوا۔ حضرت موصوف کا جواب بہت پسند آیا، میں بے کم و کاست اس کی تصدیق کرتا ہوں۔ البتہ یہ ضروری سمجھتا ہوں کہ قدرے توضیح اور ازالۂ شبہات بھی ہو جائے۔ سفر میں ہر بات کا حوالہ کتابوں سے مہیا کرنا مشکل ہے، لیکن اکثر کا ثبوت حضرت علامہ ازہری صاحب مدظلہ العالی کے فتویٰ میں موجود ہے۔
اللهم هداية الحق والصواب: فقہ کی کتابوں میں کئی ایسے صریح جزئیات موجود ہیں کہ پورے ملک کا قاضی مقرر ہو سکتا ہے۔ ”قاضی القضاۃ“ اور پورے ملک کے قاضی کے لفظ سے بعض فضلا کو یہ وہم ہوا کہ ایسے قاضی کا حکم اور اعلان کسی دوسرے طریقِ موجب کو اختیار کیے بغیر بھی پورے ملک کو محیط ہوگا، حالاں کہ فقہائے کرام نے نہ کہیں اس امر کی تصریح فرمائی اور نہ ہی کسی جزئیہ سے یہ امر مستفاد ہوتا ہے، بلکہ تصریحاتِ مشائخ اس کے برخلاف ہیں۔
چنانچہ عالمگیری میں ہے:
”ذكر في كتاب الأقضية أن كتب الخليفة إلى قضاته إذا كان الكتاب في الحكم بشهادة شاهدين شهدا عنده بمنزلة كتاب القاضي إلى القاضي لا يقبل إلا بالشرائط التي ذكرناها، وأما كتاب أنه ولى فلانا أو عزل فلانا فيقبل عنه بدون تلك الشرائط ويعمل المكتوب إليه إذا وقع في قلبه أنه حق ويمضي عليه وهو نظير كتاب سائر الرعايا بشيء من المعاملات فإنه يقبل بدون الشرائط ويعمل به المكتوب إليه إذا وقع في قلبه أنه حق فكذا ههنا“ [هندية، ج: ۳، ص: ۳۹۶]
یعنی خلیفہ نے اپنے قاضیوں کو خط لکھا تو اگر یہ خط کسی ایسے فیصلہ سے متعلق ہے جو گواہوں کی گواہی سے اس نے کیا تو وہ خط كتاب القاضي إلى القاضي کے زمرہ میں آئے گا اور كتاب القاضي إلى القاضي کی مذکورہ شرطوں کے بغیر قبول ہی نہ کیا جائے گا۔ لیکن خلیفہ کا وہ خط (جو انتظامِ مملکت سے متعلق ہے) کہ اس نے فلاں کو والی بنایا، فلاں کو معزول کیا تو وہ ان شرائط کے بغیر بھی قبول کیا جائے گا اور مکتوب الیہ کا دل اگر اس خط کے صحیح ہونے پر مطمئن ہو تو وہ اس پر عمل کرے اور اسے نافذ کرے۔
مذکورہ بالا جزئیہ میں جو قاعدہ بیان ہوا، اس سے چند امور روشن ہوئے:
- خلیفۃ المسلمین جو پورے ملک کا حاکم و قاضی ہو، اس کا مکتوب دربارۂ فصلِ مقدمات دوسرے شہر میں پہنچے تو اس کی حیثیت كتاب القاضي کی ہے، اس کا یہ مکتوب دوسرے شہر میں شرائطِ كتاب القاضي إلى القاضي کے تحقق کے بغیر ہرگز لائقِ قبول نہ ہوگا۔
- معاملات و انتظامِ مملکت سے متعلق بھی خلیفہ کا خط اسی صورت میں مقبول و قابلِ دلیل ہوگا جب کہ قاضی مطمئن ہو کہ یہ خط خلیفہ ہی کا ہے، یعنی قاضی کو ظنِ عرفی حاصل ہو جائے کہ یہ مکتوب خلیفہ ہی کا ہے تو اسے قبول کرے اور نافذ بھی کرے۔
- قاضی القضاۃ اور خلیفہ پر لازم ہے کہ فصلِ مقدمات، حکم بالشہادات یا شہادات کو دیگر بلادِ ملک میں نافذ کرنے کے لیے انھیں بلاد کے قاضیوں کو واسطہ بنائیں اور اس کے لیے طرقِ موجبہ ہی کا سہارا لیں۔
- قاضی القضاۃ کی طرف سے اگر شہادات یا حکم بالشہادات کسی دوسرے شہر کے قاضی کے پاس پہنچیں تو ان میں اس قاضی کا ظنِ عرفی ہرگز معتبر نہیں، بلکہ وہ ظنِ شرعی لازم ہے جو شہادات جیسے امور پر موقوف ہے۔
اعلیٰ حضرت جو پورے غیر منقسم ہندوستان کے قاضی تھے اور سلطانِ اسلام کے حکم میں تھے، انھوں نے خود اپنے پرچۂ اعلانِ ثبوتِ ہلال کے بارے میں تحریر فرمایا کہ:
”بعض لوگوں نے (اعلانِ ہلال کے مکتوب کو) پیلی بھیت کے لیے چاہا (جو بریلی سے صرف پچاس کلومیٹر کے فاصلہ پر ہے) تو انھیں جواب دیا گیا کہ جب تک دو شاہدِ عادل لے کر نہ جائیں پرچہ کافی نہ ہوگا اور بلادِ بعیدہ کو کیوں کر بھیجے جاتے۔“ [فتاویٰ رضویہ، ج: ۴، ص: ۵۳۲]
اس کا صاف معنی ہے کہ قاضی القضاۃ یا قاضی جمیع امصار کا اعلان صرف اسی شہر و حوالیِ شہر میں معتبر ہے جہاں اس نے فیصلہ کیا ہے، دیگر بلاد میں اس کا کوئی اعلان معتبر نہ ہوگا، بلکہ اس کو موثر بنانے کے لیے کوئی دوسرا طریقِ موجب اختیار کرنا پڑے گا۔
مطالعۂ کتبِ فقہ سے یہ امر ظاہر ہے کہ قاضی القضاۃ و قاضی جمیع بلاد کا عہدہ آج کی ایجاد نہیں ہے، بلکہ قدیم سے یہ عہدہ رائج ہے۔ اسی طرح رویتِ ہلال کا اعلان بھی فقہائے سابقین میں رائج تھا، اس کے باوجود فقہائے عظام نے قاضی کے اعلان کو مصر و حوالیِ مصر ہی تک کیوں محدود رکھا؟ ان حضرات نے یہ تقسیم کیوں نہ فرمائی کہ قاضیِ بلدِ خاص کا اعلان مصر و حوالیِ مصر تک محدود رہے گا اور قاضی القضاۃ یا قاضی امصار کا اعلان پورے ملک میں نافذ و واجب العمل ہوگا۔ اس تفصیل سے فقہا کا گریز سکوتِ محلِ بیان میں ہے جو بیانِ حکمِ عدم ہے اور تفصیل کی تغلیط ہے۔ نیز كتاب القاضي إلى القاضي کو طریقِ موجبہ میں شمار کرتے وقت فقہائے کرام نے قاضی بلاد اور قاضی بلدِ خاص کا فرق کیوں نہ کیا؟ اگر قاضی جمیع بلاد کے مکاتیبِ اعلان پورے ملک میں معتبر ہوتے تو فقہائے کرام اس کا افادہ ضرور فرماتے، اس کے خلاف عالمگیری کا مذکورہ بالا جزئیہ وارد نہ ہوتا یا ان فقہا میں سے کوئی اس کا رد ضرور فرماتے۔
- ماہنامہ: سہ ماہی امجدیہ، جنوری تا مارچ ٢٠٢٤ء
- صفحہ نمبر: ٢٣
- قسط: اول (جاری ....)

