| عنوان: | سلطانِ کونین مصطفیٰ کا ورود مسعود (قسط: سوم) |
|---|---|
| تحریر: | صدر الافاضل مفتی محمد نعیم الدین مرادآبادی علیہ الرحمہ |
| پیش کش: | محمد احسان مصطفیٰ |
| منجانب: | جامعۃ المدینہ فیضان عطار، ناگپور |
محفلِ میلادِ مبارک
سپاس گزاری انسان کی بہترین صفت ہے اور یہ شکرِ الٰہی بجا لانا عین سعادت اور اس پر حضرتِ کریم کارساز کی طرف سے مزید رحمت کا وعدہ ہے:
لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ [سورۃ ابراہیم: 7]
اور انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی تشریف آوری یقیناً عظیم ترین نعمتِ الٰہیہ ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَإِذْ قَالَ مُوسَىٰ لِقَوْمِهِ يَا قَوْمِ اذْكُرُوا نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ جَعَلَ فِيكُمْ أَنْبِيَاءَ [سورۃ المائدة: 20]
اور جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے فرمایا: اے میری قوم! اللہ کا احسان اپنے اوپر یاد کرو کہ تم میں پیغمبر کیے۔
اور حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثتِ مبارکہ ان سب سے بالاتر نعمت ہے کہ پروردگارِ عالم نے اپنے بندوں پر اس کی منت رکھی:
لَقَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رَسُولًا مِنْ أَنْفُسِهِمْ [سورۃ آل عمران: 164]
بیشک اللہ کا بڑا احسان ہوا مسلمانوں پر کہ ان میں انہی میں سے ایک رسول بھیجا۔
اور نعمت کی تحدیث اور اس کا ذکر مامور بہ ہے، اس کا حکم ہے:
وَأَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ [سورۃ الضحى: 11]
اور اپنے رب کی نعمتوں کا خوب چرچا کرو۔
تو محفلِ مبارک میلاد شریف تحدیثِ نعمتِ الٰہی اور موجبِ برکت و رحمت ثابت ہوئی اور اس کے استحباب پر قرآنِ پاک کی آیاتِ مذکورہ دال ہیں۔ وقتِ ذکرِ ولادت قیام کرنا بیشک مستحب ہے، کیونکہ یہ حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم ہے اور آپ کی تعظیم شرع میں مطلوب ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: “تُعَزِّرُوهُ وَتُوقِّرُوهُ”۔ ائمۂ دین اس مجلس کو منعقد کرتے چلے آئے ہیں۔ سیرتِ حلبیہ میں ہے کہ حضرت امام سبکی کے یہاں مجمعِ کثیر علمائے عصر کا تھا، ایک نعت خواں نے یہ اشعار پڑھے:
قَلِيلٌ الْمَدْحِ فِي الْمُصْطَفَى الْخَطُّ بِالذَّهَبِ
عَلَى وَرَقٍ مِنْ خَطِّ أَحْسَنَ مَنْ كَتَبَ
وَانْتَهَضَ الْأَشْرَافُ عِنْدَ سِمَاعِهِ
قِيَامًا صُفُوفًا أَوْ جُثِيًّا عَلَى الرُّكَبِ
یہ سن کر امام سبکی نے قیام کیا اور تمام مجلس ان کے ساتھ کھڑی ہو گئی۔ امام ابو شامہ، استاذ امام نووی نے فرمایا کہ ہمارے زمانہ میں کیا خوب بدعتِ حسنہ ہے جو سالانہ حضور کے میلادِ مبارک کے دن محفلِ میلاد قائم کر کے، صدقات دے کر، نیکیاں کر کے زینت و سرور کے اظہار کے ساتھ کی جاتی ہے، اس میں فقراء پر احسان کرنے کے ساتھ ساتھ مجلس کرنے والے کے دل میں حضور کی محبت و توقیر کا ہونا بھی ظاہر ہوتا ہے اور یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضور کو پیدا کر کے جو بندوں پر احسان فرمایا اس کا یہ شخص شکر گزار ہے۔ امام سخاوی نے فرمایا کہ مولود شریف کی محفلیں قرونِ ثلاثہ کے بعد پیدا ہوئیں اور اس وقت سے ہر شہر و دیار اور تمام اقطار میں مسلمانوں کا معمول رہیں کہ اس روز مسلمان مجلسیں منعقد کر کے طرح طرح کے تصدقات کرتے ہیں، مولود شریف پڑھواتے ہیں اور اس کی برکت سے فضلِ عظیم پاتے ہیں۔ ابنِ جوزی نے کہا کہ مولود شریف کی خاصیت یہ ہے کہ اس کی برکت سے سال بھر امن رہتی ہے اور مرادیں حاصل ہوتی ہیں۔ بادشاہوں میں سب سے پہلے یہ مجلس ملک مظفر ابو سعید صاحبِ اربل نے منعقد کی اور اسی کے لیے حافظ ابن دحیہ نے ایک کتاب “التنویر فی مولد البشیر النذیر” تالیف فرمائی جس پر بادشاہ نے ہزار دینار انعام دیے، یہ بادشاہ ربیع الاول میں میلاد شریف کی ایک عظیم الشان محفل منعقد کرتا تھا، خود عالم تھا، عادل تھا۔ صاحبِ اخلاقِ حسنہ اور نہایت بزرگ شخص تھا۔ مدتِ دراز تک بادشاہ رہا۔ سبط ابن جوزی نے مرآۃ الزمان میں کہا ہے کہ مجھے شاہِ اربل کی محفل میں شریک ہونے والوں سے معلوم ہوا ہے کہ انہوں نے اربل محفل کی مہمانی کے لیے جو سامان کیا تھا اس کا اندازہ اس سے ہوتا ہے کہ پانچ چیزیں: پانچ ہزار راس بکری، دَس ہزار مرغ، ایک لاکھ زبدیہ، تیس ہزار طباقِ حلوہ ہوتا تھا اور مولود شریف میں اکابر علماء و صوفیہ حاضر ہوتے تھے۔ انہیں خلعتیں دی جاتی تھیں اور اس مجلس پر تین لاکھ دینار خرچ کیے جاتے تھے۔
حافظ ابن حجر محدث نے محفلِ مولودِ مبارک کے لیے حدیثِ صحیحین سے اصلِ ثابت کا استخراج کیا، وہ حدیث یہ ہے جو بخاری و مسلم میں مروی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ شریف تشریف لائے، آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ یہود دسویں محرم کو روزہ رکھتے ہیں۔ وجہ دریافت کی تو یہودیوں نے کہا کہ اس دن میں اللہ تعالیٰ نے فرعون کو غرق کیا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کو نجات دی، ہم اس کے شکر میں روزہ رکھتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ انبیاء پر جو نعمتیں ہوئیں ان کی یادگار قائم کرنا اور ان پر شکرِ الٰہی بجا لانے کا خوگر ہونا اور ان ایام میں حسنات و خیرات کرنا اس حدیث سے ثابت ہے۔ چنانچہ یہودیوں کے جواب میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی اس نعمت پر شکر ادا کرنے کے تم سے زیادہ ہم مستحق ہیں۔ دوشنبہ کے روز ولادتِ مبارکہ کی خبر سن کر ابو لہب کافر نے اپنی لونڈی ثوبیہ کو آزاد کر دیا کیونکہ اس نے حضور کی ولادت کی بشارت سنائی تھی۔ اتنی خوشی کرنے پر ابو لہب کو باوجود اس کے کفر کے یہ جزا دی گئی کہ دوشنبہ کے روز اس کے عذاب میں تخفیف کر دی جاتی ہے اور جن انگلیوں کے اشارے سے اس نے خبر لانے والی لونڈی کو آزاد کیا تھا، ان انگلیوں کے ذریعے اس کو پانی پینے کے لیے مل جاتا ہے، اگرچہ وہ جہنمی ہے۔ تو جو مسلمان حسنِ عقیدت کے ساتھ حضور کی ولادت کی خوشی منائیں ان کو بارگاہِ الٰہی سے کیا کچھ نہ ملے گا۔ اسی وجہ سے تمام عالم میں میلاد شریف کی محفلیں منعقد ہوتی ہیں اور مسلمان خوشیاں مناتے ہیں اور برکتیں حاصل کرتے ہیں لیکن وہابیوں کو اس سے بہت صدمہ ہوتا ہے اور وہ ناٹکوں اور تھیٹروں کو بھی اتنا برا نہیں جانتے جتنا میلادِ مبارک کی محافلِ متبرکہ کو برا سمجھتے ہیں۔
ولادتِ شریف کے وقت بھی شیاطین کے تخت الٹ گئے تھے اور حضور سیدِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی رونق افروزی کا وقت ان کی تباہی و بربادی کا وقت تھا، آج بھی اگر بے دینوں کے دل اس ذکرِ پاک سے رنجیدہ ہوں تو کچھ تعجب نہیں۔ [مقالات نعیمی، ص: 44]

