Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

حضرت امام مسروق ابن عبدالرحمن ہمدانی رضی اللہ تعالی عنہ|زین العابدین اشرفی

حضرت امام مسروق ابن عبدالرحمن ہمدانی رضی اللہ تعالی عنہ
عنوان: حضرت امام مسروق ابن عبدالرحمن ہمدانی رضی اللہ تعالی عنہ
تحریر: زین العابدین اشرفی
پیش کش: آمنہ امن رضویہ بنت شیخ حبیب احمد قادری
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی

نام مسروق بن اجدع ہے۔ انہیں مسروق اس لیے کہا جاتا ہے کہ جب یہ چھوٹے تھے تو ان کو کسی نے چرا لیا تھا۔

کنیت ابو عائشہ، ابو یمانیہ، ابو امیہ، ابو ہشام، ابو یزید ہے۔

لقب علامہ ذہبی نے انہیں الامام القدوۃ اور العلم جیسے القاب سے یاد کیا۔ [سیر اعلام النبلاء: 5/ 24، دارالحدیث، القاہرۃ، 2006ء]

والد گرامی کا نام اجدع تھا، لیکن شعبی کہتے ہیں کہ جب مسروق حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی بارگاہ میں پہنچے تو انہوں نے کہا: تو کون ہے؟ مسروق نے کہا: مسروق بن اجدع۔ حضرت عمر فاروق نے فرمایا: اجدع تو شیطان ہے اور تم تو مسروق بن عبدالرحمن ہو، اس کے بعد حضرت مسروق اپنے والد کا نام عبدالرحمن بتانے لگے۔ [مصنف ابن ابی شیبہ: 5/ 262، مکتبۃ الرشد، ریاض، 1409ھ]

ایک دوسری روایت یہ ہے کہ اجدع خود حضرت عمر فاروق کی بارگاہِ عالیہ میں آئے اور وہ شاعر بھی تھے، حضرت عمر نے پوچھا: تم کون ہو؟ انہوں نے عرض کی: اجدع۔ حضرت عمر فاروق نے فرمایا: اجدع شیطان ہے اور تم عبدالرحمن ہو۔ [الطبقات: 6/ 138، 139، دارالکتب العلمیۃ، بیروت، 1990ء]

ان دونوں روایتوں سے پتہ چلتا ہے کہ مسروق کے والد کا نام اجدع تھا جسے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اسلام لانے کے بعد عبدالرحمن میں تبدیل فرما دیا۔

سلسلہ نسب: مسروق بن عبدالرحمن [اجدع] بن مالک بن امیہ بن عبداللہ بن مر بن سلمان یا سلامان بن معمر بن حارث بن سعد بن عبداللہ بن وادعہ بن عمرو بن عامر بن ناشح بن رافع بن مالک بن جشم بن جاشد بن جشم بن خیوان بن نوف بن ہمدان۔ [تہذیب الکمال: 27/ 451، مؤسسۃ الرسالۃ، بیروت، 1980ء]

آپ کے سلسلہ نسب میں زیادہ اختلاف واقع نہیں ہوا ہے، تقریباً سارے تذکرہ نگاروں نے ایک ہی نسب نامہ بیان کیا ہے، البتہ کہیں کہیں حروف کے تقدم و تاخر میں اختلاف ہے، مثلاً الطبقات میں سلمان کی جگہ سلیمان ہے اور ابن حبان کی الثقات میں وادعہ کی جگہ وداعہ ہے۔ [الثقات لابن حبان: 5/ 456، دائرۃ المعارف العثمانیۃ، حیدرآباد دکن، الہند، 1973ء]

خاندانی پس منظر: آپ کا تعلق یمن کے مشہور خاندان ہمدان سے تھا، آپ اصلاً یمنی اور ہجرۃً کوفی تھے۔ امام ابو داؤد نے کہا: مسروق کے والد یمن کے مشہور شہسوار تھے، مزید کہا کہ مسروق حضرت عمر بن معدی کرب جو مشہور بہادر، عظیم گھوڑا سوار اور فارس العرب تھے، ان کے بھانجے تھے اور ان کے والد حضرت اجدع بھی مسلمان تھے۔ [تہذیب الکمال: 27/ 451، مؤسسۃ الرسالۃ، بیروت، 1980ء]

ولادت: کسی مؤرخ نے اس بات کی صراحت نہیں کی ہے کہ آپ کی ولادت کب ہوئی، لیکن ان کی تاریخ ولادت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ان کی وفات بقول فضل بن عمرو وغیرہ ترسٹھ سال کی عمر میں ہوئی۔ [مختصر تاریخ دمشق: 24/ 252، دار الفکر للطباعۃ والتوزیع والنشر، دمشق، 1984ء]

اور ان کی تاریخ وفات بقولِ جمہور 63 ہجری ہے۔ [الاصابۃ: 6/ 230، دار الکتب العلمیۃ، بیروت، 1415ھ]

اس لحاظ سے بڑی آسانی کے ساتھ یہ کہا جا سکتا ہے کہ ان کی ولادت 1 ہجری میں ہوئی ہے اور اگر بقولِ بعض تاریخ وفات 62 ہجری مان لی جائے تو ان کی تاریخ ولادت ہجرتِ نبوی کے ایک سال قبل ہوئی ہوگی اور اگر بقولِ حربی وفات کے وقت ان کی عمر 78 سال تھی [اکمال تہذیب الکمال: 11/ 155] تو اس لحاظ سے ان کی ولادت بعثتِ نبوی کے دو سال قبل ہوئی ہوگی۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔

قبول اسلام: اس بارے میں کوئی صراحت نہیں ملتی کہ حضرت مسروق نے کس سن میں اسلام قبول کیا، ہاں البتہ اس بات کی صراحت موجود ہے کہ آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ پایا ہے اور آپ کی حیاتِ ظاہری میں اسلام قبول کیا ہے، تاہم ملاقات ثابت نہیں ہے۔ علامہ ذہبی نے لکھا ہے: وَفِی الْمُخَضْرَمِینَ الَّذِینَ أَسْلَمُوا فِی حَیَاۃِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ آپ کا شمار ان مخضرمین میں ہے جنہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ طیبہ میں اسلام قبول کیا۔ [سیر اعلام النبلاء: 5/ 24] علامہ ابن حجر الاصابہ میں لکھتے ہیں کہ وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے وصالِ مبارک کے بعد یمن سے آئے تھے۔ [الاصابۃ: 6/ 230]

صحابہ سے اکتساب فیض: مسروق نے متعدد صحابہ و صحابیات رضی اللہ عنہم سے علم حاصل کیا ہے، مثلاً حضرت ابوبکر، حضرت عمر، حضرت عثمان، حضرت علی، حضرت عبداللہ بن مسعود، حضرت معاذ، حضرت ابی بن کعب، حضرت زید بن ثابت، حضرت عبداللہ بن عمرو، حضرت مغیرہ بن شعبہ، حضرت عبداللہ بن عمر، حضرت معقل بن سنان، حضرت خباب بن ارت، حضرت عائشہ، حضرت سبیعہ اسلمیہ، حضرت ام سلمہ اور اپنی ماں حضرت ام رومان، اس کے علاوہ تابعین میں حضرت عبید بن عمیر لیثی سے بھی علمی پیاس بجھائی ہے۔ [تاریخ اسلام: 2/ 712، دار الغرب الاسلامی، 2003ء، تہذیب الاسماء واللغات: 2/ 88، دار الکتب العلمیۃ، بیروت، تہذیب الکمال: 27/ 451]

تلامذہ: انس بن سیرین، ایوب بن ہانی، حبال بن رفیدہ، ابو وائل شفیق بن سلمہ، عامر شعبی، عبداللہ بن مرہ خارفی، عبدالرحمن بن عبداللہ بن مسعود، عبید بن نضلہ، عمارہ بن عمیر، قاسم بن عبدالرحمن بن عبداللہ بن مسعود، محمد بن منتشر، مکحول شامی، یحییٰ بن جزار، ابو الاحوص، ابو الشعثاء محاربی، سعید بن جبیر، ابو الضحیٰ، ابراہیم نخعی، یحییٰ بن وثاب، ابو اسحاق سبیعی، عبداللہ بن مرہ وغیرہم جیسے اربابِ علم و معرفت نے آپ کی بارگاہ میں زانوئے تلمذ طے کیا ہے۔ [تاریخ اسلام: 2/ 712، تہذیب الاسماء واللغات: 2/ 88، تہذیب الکمال: 27/ 451]

اسلامی معرکوں میں شرکت: حضرت مسروق نے اسلام لانے کے بعد چند معرکوں میں حصہ بھی لیا ہے۔ جنگِ قادسیہ میں اپنے تین بھائیوں کے ساتھ شریک رہے، تینوں بھائی اسی جنگ میں شہید ہوئے، لیکن مسروق زخمی ہوئے، ہاتھ شل ہوا اور سر میں چوٹ آئی، ایک قول کے مطابق جنگِ صفین میں بھی شریک رہے لیکن جنگ کرنے سے اجتناب کیا، جنگِ نہروان میں حضرت علی کے ساتھ خوارج کا مقابلہ بھی کیا اور ایک ضعیف قول کی بنیاد پر جنگِ حروریہ میں بھی حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے ساتھ رہے۔ [تاریخ اسلام: 2/ 712، الطبقات: 6/ 140، سیر اعلام النبلاء: 5/ 26]

وفات: آپ کا وصال ظالم و جابر امیر عبید اللہ بن زیاد کے دورِ حکومت میں کوفہ کی سرزمین پر ہوا۔ آپ کی تاریخ وفات کے متعلق عام طور پر دو قول ملتے ہیں۔ ایک یہ کہ آپ کی وفات 62 ہجری میں ہوئی، لیکن زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ آپ کا وصال 63 ہجری میں ہوا۔ علامہ ابن حجر عسقلانی، ابو نعیم کے حوالے سے لکھتے ہیں: ابو نعیم نے کہا ان کی وفات 62 ہجری میں ہوئی، لیکن دوسرے علماء نے 63 ہجری بتائی ہے اور یہی قولِ جمہور ہے۔ [الاصابۃ: 6/ 229، 230]

مدفن: شعبی کہتے ہیں کہ ابن زیاد نے حضرت مسروق کو ان کی وفات سے تقریباً ایک سال یا دو سال قبل سلسلہ (یہ مقام واسط میں واقع ایک علاقہ ہے) بھیجا، لہذا وہ وہاں گئے اور اسی جگہ ان کا وصال ہوا۔ ابو شہاب حناط نے کہا کہ آپ کو مقامِ واسط کے سلسلہ نامی علاقہ میں دفن کیا گیا۔ امام احمد بن حنبل نے فرمایا: قبیلہ نبط سے تعلق رکھنے والی ایک مشرکہ عورت جو ان کے لیے نمک لاتی تھی، اس کا بیان یہ ہے کہ جب جب پانی کا قحط پڑتا، ہم حضرت مسروق کی قبر مبارک کے پاس آتے اور ان کی قبر مقامِ سلسلہ میں تھی، پھر ہم پانی طلب کرتے تو ہمیں پانی دیا جاتا، مزید کہا کہ پھر ہم ان کی قبر پر شراب چھڑکتے، ایک دن وہ ہمارے خواب میں آئے اور کہا: اگر تم لوگ کچھ کرنا ہی چاہتے ہو تو خوشبو چھڑکا کرو۔ [تاریخ اسلام: 2/ 712، الطبقات: 6/ 145]

فضل و کمال: کتبِ تاریخ و سیر کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ حضرت مسروق بن عبدالرحمن رضی اللہ عنہ کو اللہ رب العزت نے گوناگوں خوبیوں سے نوازا تھا، آپ عابد و شب زندہ دار تھے یہاں تک کہ کثرتِ عبادت کی وجہ سے پاؤں سوج جاتے تھے، خلوت نشینی آپ کا خاص ذوق، زہد و قناعت آپ کا شعار، توکل علی اللہ طرۂ امتیاز، خدمتِ خلق آپ کا وصفِ عالی، اخلاص و للہیت خدائے یکتا کا خاص عطیہ، عدل و انصاف آپ کا حقِ تراث اور خوفِ الہی و خشیتِ ربانی آپ کی زندگی کا جزوِ لایَنفک تھا۔ آپ فرمایا کرتے تھے کہ آدمی کے عالم ہونے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ اللہ رب العزت سے ڈرے اور جاہل ہونے کے لیے یہی چیز کافی ہے کہ وہ اپنے عمل سے خوش ہو جائے۔ آپ اللہ رب العزت کی بارگاہِ عالیہ میں ہمہ وقت توبہ و استغفار کرنے والے بندۂ کامل اور تصوف کی حقیقت تک پہنچے ہوئے ولیِ بافیض بلکہ ولی تراش تھے۔ آپ فرمایا کرتے تھے کہ مردِ حقیقی وہی ہے جو اپنی مجلسِ تنہائی میں اپنے گناہ یاد کرے اور اللہ رب العزت سے توبہ و استغفار کرے۔

جلالت علمی اور ائمۂ اعلام کی شہادتیں: آپ علم و فضل کے امام اور فقہ و فتاویٰ میں مرجعِ خلائق تھے، شریعت کے رمز شناس، قرآن و حدیث کی عقدہ کشائی کرنے والے مفسر و محدث، درجۂ اجتہاد پر فائز مجتہد اور اپنے زمانے کے یکتائے روزگار فقیہ تھے۔ طلبِ علم آپ کی جبلتِ حسنہ تھی، علم و دانائی اور تفقہ فی الدین آپ کی برتری و عظمت اور شوکت و سطوت تھی۔ آپ نے اکابر صحابہ اور بڑے بڑے اساطینِ فضل و کمال سے علم حاصل کیا ہے۔ طلبِ علم کا عالم یہ تھا کہ کبھی کبھی محض ایک ہی آیت کے لیے کئی کئی شہر کا سفر کیا کرتے تھے۔

شعبی کہتے ہیں: مسروق بصرہ میں ایک آدمی کے پاس کسی آیت کی بابت پوچھنے کے لیے آئے، لیکن آدمی کے پاس اس کے متعلق کوئی جانکاری نہ تھی، اس نے کسی شامی کے بارے میں بتایا، مسروق ہمارے یہاں آنے کے بعد اس شامی آدمی کے پاس بھی گئے۔ [حلیۃ اولیاء: 2/ 95، دار الکتب العلمیۃ، بیروت، 1409ھ]

حضرت مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم فرماتے ہیں: اے کوفیو! تم ہمدانی (مسروق بن اجدع) اور سلمانی (عبیدہ بن عمرو) کی نظیر لانے سے عاجز ہو۔ [طبقات الفقہاء: 1/ 79، دار الرائد العربی، 1970ء]

ابن سعد نے انہیں کوفہ کے طبقۂ اولیٰ کے محدثین و فقہاء میں شمار کیا ہے۔ [الطبقات: 6/ 137]

علامہ ذہبی لکھتے ہیں: روئے زمین پر میں کسی ایسے شخص کو نہیں جانتا جو مسروق سے زیادہ علم کا حریص ہو۔ [تاریخ اسلام: 5/ 235]

شعبی کہتے ہیں: میں نے ان سے بڑھ کر علم کا متلاشی نہیں پایا، وہ فقہ و فتاویٰ میں شریح سے بھی آگے تھے۔ [العبر فی خبر من غبر: 1/ 50، دار الکتب العلمیۃ، بیروت]

اور یہ بھی کہا کہ شریح مسروق سے مشورہ لیتے تھے، لیکن مسروق کو شریح کے مشورے کی حاجت نہ تھی۔ [الطبقات: 6/ 144، تاریخ اسلام: 2/ 712]

مرہ کہتے ہیں: کسی ہمدانی عورت نے مسروق جیسا کوئی بچہ نہیں جنا۔ [الطبقات: 6/ 141]

علی بن مدینی کہتے ہیں: میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے شاگردوں میں سے کسی کو مسروق پر ترجیح نہیں دے سکتا۔ [سیر اعلام النبلاء: 4/ 67]

شعبی کہتے ہیں: مسروق منصبِ قضا پر بھی فائز تھے۔ عاصم بن عبدالرحمن کہتے ہیں: کبھی قضا پر اجرت نہیں لیتے تھے۔ شعبی نے کہا: وہ کہتے تھے کہ میرے نزدیک حق و درست فیصلہ کرنا اللہ رب العزت کی راہ میں ایک سال تک جہاد کرنے سے بہتر ہے۔ [الطبقات: 6/ 144]

محمد بن منتشر نے بھی کہا: مسروق قضا پر اجرت نہیں لیتے تھے اور اس آیتِ کریمہ کی تلاوت فرماتے تھے: اللہ رب العزت نے مومنین سے ان کی جانوں اور مالوں کو جنت کے عوض خرید لیا ہے۔ [حلیۃ الاولیاء: 2/ 96، دار الکتب العلمیۃ، بیروت، 1409ھ]

علامہ نووی شافعی لکھتے ہیں: ان کی علمی جلالت، ثقاہت اور فضیلت و امامت پر اہل علم کا اتفاق ہے۔ [تہذیب الاسماء واللغات: 2/ 88]

یحییٰ بن معین کہتے ہیں: مسروق ایسے ثقہ ہیں کہ ان کی نظیر نہ پوچھو۔ [تہذیب الکمال: 27/ 455]

تفقہ اور اجتہاد: آپ کوفہ جیسے چمنستانِ علم و معرفت میں رہے، جسے 17 ہجری میں امیر المومنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے آباد فرمایا، جہاں بڑے بڑے صحابہ نے علم کی روشنی بکھیری، حضرت عبداللہ بن مسعود نے جس شہر کو علم و فقہ کی دولتِ لازوال عطا فرمائی حتیٰ کہ اس نو آباد شہر میں چار ہزار علماء، فقہاء اور محدثین پیدا ہو گئے، جسے دیکھ کر باب مدینۃ العلم حضرت مولائے کائنات بھی پکار اٹھے کہ اللہ تعالیٰ ابن مسعود پر رحم فرمائے، انہوں نے اس شہر کو علم و آگہی سے بھر دیا ہے، جس خطۂ پرانوار کی بابت عجلی نے کہا کہ 1500 صحابہ نے قیام فرمایا جن میں 80 اصحابِ بدری تھے، جہاں بعض صحابہ بھی تابعین سے مسائل دریافت کیا کرتے تھے۔ حضرت مسروق نے اتنے عظیم شہر اور مرکزِ علم و روحانیت میں اپنی علمی تشنگی بجھائی اور علم کی شمعِ فروزاں سے روشنی حاصل کی، بطورِ خاص حضرت عبداللہ بن مسعود اور حضرت عائشہ صدیقہ سے علمِ فقہ کی خیرات لی اور فقہ و فتاویٰ میں مرجعِ انام ہو گئے حتیٰ کہ قاضیِ وقت حضرت شریح بھی آپ سے مشورہ لینے کے خواہاں رہتے تھے۔ آپ کی فقاہت، بالغ نظری، دقیق الخیالی اور علمی بلندی کا عالم یہ ہے کہ فقہ کے اکثر و بیشتر ابواب میں خواہ وہ طہارت، جنابت، صلاۃ، زکوۃ، روزہ، حج، وراثت، قضا ہو یا جنایات، دیات، عقوبات، بینات، بیع، ربا، اجارہ، ایمان، نکاح، طلاق، خیار، عدت، رضاعت، وصیت اور فرائض ہوں، ان سب میں آپ کی مرویات موجود ہیں، جو آپ کی فقیہانہ بصیرت پر شاہدِ عدل ہیں۔ ہم ذیل میں اپنی بات کی تائید و توثیق کے لیے ان کی کچھ مرویات ذکر کرتے ہیں۔

حضرت مسروق، عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بغیر طہارت اور مجھ پر درود کے کوئی بھی نماز قبول نہیں ہے۔ [سنن الدارمی: 2/ 170، مؤسسۃ الرسالۃ، بیروت، 2004ء]

حضرت مسروق، حضرت عائشہ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غسلِ جنابت فرماتے، پھر میرے غسل کرنے سے پہلے گرمی حاصل کرتے۔ [سنن ابن ماجہ: 1/ 192، دار احیاء الکتب العربیۃ]

حضرت مسروق، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں، وہ فرماتی ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز میں آدمی کے پلٹنے کے متعلق پوچھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ ایک جھپٹ ہے، جسے شیطان بندے کی نماز سے جھپٹتا ہے۔ [صحیح بخاری: 4/ 159، دار طوق النجاۃ، 1422ھ، سنن ابی داؤد: 1/ 239، المکتبۃ العصریۃ، صیدا، بیروت]

مسروق، حضرت معاذ بن جبل سے راوی ہیں، انہوں نے کہا کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جانبِ یمن بھیجا اور ہر چالیس گائے میں سے ایک مسنہ (تیسرے سال میں داخل ہونے والی) اور ہر تیس میں سے ایک تبیع یا تبیعہ (دوسرے سال میں داخل ہونے والی) لینے کا حکم دیا۔ [سنن ابن ماجہ: 1/ 576]

مسروق، حضرت عائشہ سے راوی ہیں، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں بوسہ لیتے اور مس کرتے تھے، حالانکہ وہ تم میں سب سے زیادہ خواہشات پر قابو رکھنے والے تھے۔ [صحیح مسلم: 2/ 777، دار احیاء التراث العربی، بیروت]

مسروق، حضرت عائشہ سے راوی ہیں، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بحالتِ احرام ہوتے اور میں درمیانِ سر خوشبو کی چمک دیکھتی۔ [صحیح مسلم: 2/ 848]

مسروق، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے راوی ہیں، انہوں نے جدہ مع ابنہا کے متعلق فرمایا: یقیناً یہ پہلی جدہ ہیں جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بیٹے کے ساتھ سدس (چھٹا حصہ) دیا، حالانکہ ان کا بیٹے زندہ تھا۔ [ترمذی: 3/ 492، دار الغرب الاسلامی، بیروت، 1998ء]

مسروق، حضرت عبداللہ سے راوی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگوں کے مابین فیصلہ کرنے والا ہر قاضی بروزِ قیامت آئے گا، فرشتہ اسے پیچھے سے پکڑے ہوگا، پھر وہ آسمان کی جانب دیکھے گا تو اللہ رب العزت فرمائے گا کہ اسے جہنم میں ڈال دو تو فرشتہ اسے چالیس سال کی ہلاکت میں ڈال دے گا۔ [سنن ابن ماجہ: 2/ 775]

مسروق، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے راوی ہیں، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان کو گالی دینا فسق اور اسے قتل کرنا کفر ہے۔ [المعجم الکبیر: 10/ 157، مکتبہ ابن تیمیہ، قاہرہ]

حضرت مسروق، حضرت عبداللہ سے راوی ہیں، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے، آپ نے فرمایا: جس انسان کو بھی ناحق قتل کیا جائے اس کا ذمہ آدم علیہ السلام کے پہلے بیٹے پر ہوگا۔ [صحیح بخاری: 3/ 9]

مسروق حضرت عبداللہ سے راوی ہیں، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کلمہ شہادت کی گواہی دینے والے مسلمان مرد کا خون محض تین ہی چیزوں سے حلال ہوتا ہے (1) اس نے کسی کو ناحق قتل کیا ہو (2) شادی شدہ ہوتے ہوئے زنا کیا ہو (3) دین کو چھوڑ کر جماعت سے الگ ہو گیا ہو۔ [صحیح بخاری: 5/ 9]

مسروق، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے راوی ہیں، انہوں نے کہا: میرے پاس نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، حالانکہ ایک آدمی میرے پاس موجود تھا، آپ نے فرمایا: اے عائشہ! یہ کون ہے؟ میں نے عرض کی: میرا رضائی بھائی، فرمایا: اے عائشہ! تحقیق کرلو کہ تمہارے بھائی کون ہیں؟ کیونکہ رضاعت بھوک (بھوک مٹانے والے دودھ) کی بنیاد پر ثابت ہوتی ہے۔ [صحیح بخاری: 3/ 170، باب الشہادۃ علی الانساب]

مسروق، حضرت عائشہ سے راوی ہیں، انہوں نے کہا: جب سورہ بقرہ کی آخری آیتیں نازل ہوئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور لوگوں کے سامنے ان آیات کی تلاوت فرمائی، پھر شراب کی تجارت کرنے سے منع فرما دیا۔ [صحیح مسلم: 3/ 1206]

مسروق، حضرت عبداللہ سے روایت کرتے ہیں، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ نے فرمایا: ربا کے تہتر دروازے ہیں۔ [سنن ابن ماجہ: 1/ 653]

مسروق، حضرت خباب سے راوی ہیں، انہوں نے کہا: میں ایک غلام آدمی تھا، لہذا میں نے عاص بن وائل کے لیے کام کیا تو ان کے یہاں میرا کچھ روپیہ رہ گیا، پھر میں اسے لینے کے لیے آیا، اس نے کہا: بخدا! جب تک تو محمد عربی (صلی اللہ علیہ وسلم) کو نہیں جھٹلائے گا میں تجھے نہیں دوں گا، خباب نے کہا: میں ایسا ہرگز نہیں کروں گا، حتیٰ کہ تو مر جائے اور تجھے اٹھایا جائے پھر بھی میں ایسا نہیں کروں گا، اس نے کہا: میں مرنے کے بعد اٹھایا جاؤں گا؟ خباب نے کہا: ہاں، اس نے کہا: جب وہاں میرے لیے مال و اولاد ہوں گے پھر میں تجھے تیرا مال دے دوں گا۔ الخ [صحیح بخاری: 3/ 92]

مسروق، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے راوی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے جھوٹی قسم کھائی تاکہ وہ کسی مسلمان آدمی کا مال لے، وہ اللہ رب العزت سے اس حال میں ملاقات کرے گا کہ اللہ تعالیٰ اس سے ناراض ہوگا۔ [المعجم الکبیر: 10/ 157]

مسروق، حضرت عبداللہ سے اس شخص کے متعلق روایت کرتے ہیں، جس نے کسی عورت سے شادی کی پھر مر گیا، نہ اس کے ساتھ دخول کیا اور نہ ہی اس کا مہر مقرر کیا، عبداللہ فرماتے ہیں: اس کے لیے مکمل مہر ہوگا، اس پر عدت ہوگی اور اس کے لیے وراثت بھی جاری ہوگی۔ [سنن ابی داؤد: 2/ 237]

مسروق کہتے ہیں کہ حضرت عائشہ نے فرمایا: ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اختیار دیا، لہذا ہم نے اللہ اور اس کے رسول کو چنا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس اختیار کو ہمارے حق میں کوئی طلاق شمار نہیں کیا۔ [صحیح بخاری: 7/ 43]

مسروق اور عمرو بن عتبہ نے سبیعہ بنتِ حارث کے پاس ان کے معاملے کی دریافت کے لیے خط لکھا، حضرت سبیعہ نے ان دونوں کے پاس لکھا کہ انہیں شوہر کی وفات کے پچیس دن کے بعد ولادت ہوئی پھر وہ شادی کے لیے تیار ہو گئیں، ابو سنابل بن بعکک کا وہاں سے گزر ہوا، انہوں نے کہا تو نے جلدی کر دی، آخری والی یعنی چار مہینے دس دن والی عدت گزار لو۔ سبیعہ کہتی ہیں: پھر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور عرض کیا کہ میرے لیے دعا فرمائیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کس معاملے میں؟ تو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو معاملے سے باخبر کیا، آپ نے فرمایا: اگر کوئی مرد ملے تو شادی کر لو۔ [سنن ابن ماجہ: 1/ 653]

مسروق، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی دینار، کوئی درہم، کوئی اونٹ، کوئی بکری نہیں چھوڑی اور نہ ہی کسی چیز کی وصیت فرمائی۔ [سنن ابی داؤد: 3/ 112]

مسروق نے کہا کہ عبداللہ بن مسعود حقیقی بہنوں سے کہا کرتے تھے کہ حقیقی بھائی، بہن اور علاقی بہنوں کا ثلثان (دو تہائی حصہ) ہے باقی سارا مال مذکر کے لیے ہے، مؤنث کے لیے نہیں، جب مسروق مدینہ آئے اور اس بارے میں زید بن ثابت کا فرمان سنا تو انہیں اچھا لگا، پھر مسروق کے بعض ساتھیوں نے کہا: کیا آپ عبداللہ بن مسعود کے قول کو چھوڑ دیں گے؟ مسروق نے کہا: جب میں مدینہ گیا تو میں نے زید بن ثابت کو علمائے راسخین میں پایا۔ [سنن سعید بن منصور: 1/ 56، الدار السلفیۃ، الہند، 1982ء]

یہ چند فقہی مرویات بطورِ تائید و نمونہ رقم کی گئی ہیں، جن سے ہر اہل علم پر یہ بات آفتابِ نیم روز کی مانند روشن و عیاں ہو گئی ہوگی کہ مسروق کی علمی گہرائی اور فقیہانہ بصیرت کس قدر بلند و بالا ہے۔ اور اگر آپ تحقیق کریں گے تو معلوم ہوگا کہ حضرت مسروق سے صحاحِ ستہ کے علاوہ بھی کتبِ حدیث میں بہت ساری روایتیں موجود ہیں، جو ان کی علمی اور فقہی عظمت و شوکت کی آئینہ دار ہیں۔

اللہ رب العزت نے حضرت مسروق کو مقامِ اجتہاد سے بھی سرفراز فرمایا تھا، جس کے نتیجے میں ان کی جانب سے کچھ ایسے تفردات معرضِ وجود میں آئے ہیں، جن میں وہ جمہورِ امت سے بہت دور اور الگ نظر آتے ہیں۔ اب ذیل میں حضرت مسروق بن عبدالرحمن رضی اللہ عنہ کے وہی اقوال نقل کیے جا رہے ہیں۔

حضرت مسروق نصف النہار میں بھی نماز پڑھا کرتے تھے، پوچھا گیا: اس وقت نماز پڑھنا تو مکروہ ہے؟ مسروق نے کہا: کیوں? لوگوں نے عرض کی کہ اس وقت جہنم کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، مسروق نے کہا: تب تو نماز کے ذریعہ اللہ رب العزت کی پناہ مانگنا جہنم کے دروازوں کے کھلنے کے وقت زیادہ اچھا ہے۔ [عمدۃ القاری: 5/ 83، dar احیاء التراث العربی، بیروت]

جب کسی مرد نے اپنی بیوی سے أَنْتِ عَلَیَّ حَرَامٌ یا ہَذَا عَلَیَّ حَرَامٌ جیسے الفاظ کہے تو ایسی صورت میں علامہ بدر الدین عینی حنفی نے قاضی عیاض کے حوالے سے کل چودہ مذاہب بیان کیے ہیں، جن میں کسی نے طلاقِ رجعی کی بات کہی، کسی نے طلاقِ مغلظہ کی بات کہی اور کسی نے کفارہ کی بات کہی ہے، لیکن حضرت مسروق فرماتے ہیں کہ جب کوئی مرد اپنے اوپر کھانا اور پانی حرام کر دیتا ہے تو ایسی صورت میں کچھ واجب نہیں ہوتا، اسی طرح ایسا جملہ کہنے سے بھی کچھ واقع نہیں ہوگا اور یہ کلام لغو ہو جائے گا۔ [عمدۃ القاری: 19/ 248]

ربیبہ کی ماں کی جانب دیکھنے کے سلسلے میں امام مالک فرماتے ہیں: جب مرد اس کے بال یا سینے یا کسی دوسرے حسن کی طرف شہوت کے ساتھ دیکھے گا تو مرد پر ماں اور بیٹی دونوں حرام ہو جائیں گی۔ اہل کوفہ کہتے ہیں: اگر کسی نے عورت کے فرج کو شہوت کے ساتھ دیکھا تو یہ شہوت کے ساتھ چھونے کے مانند ہے، لہذا حرمت ثابت ہوگی۔ ابن ابی لیلیٰ کہتے ہیں: محض چھونے سے حرمت ثابت ہو جائے گی۔ لیکن حضرت مسروق فرماتے ہیں کہ محض دیکھنے ہی سے حرمت ثابت ہو جائے گی۔ [عمدۃ القاری: 20/ 104]

قاضی کے قضا پر اجرت لینے کے سلسلے میں جمہور کہتے ہیں کہ اجرت لینا جائز ہے، لیکن حضرت مسروق اسے مکروہ بتاتے ہیں۔ [عمدۃ القاری: 24/ 242]

یہ حضرت مسروق کے چند تفردات ہیں، جن سے ان کی اجتہادی شان اور جلالتِ علمی کا پتہ چلتا ہے۔ آپ معیارِ علم کی کس بلندی پر فائز تھے، اس کا اندازہ اس سے بھی ہوتا ہے کہ عامر شعبی، ابو اسحاق سبیعی، شفیق بن سلمہ، مکحول شامی، ابراہیم نخعی، ابو الاحوص اور ابو الشعثاء محاربی جیسے صاحبانِ فضل و کمال آپ کی درس گاہ کے فیض یافتہ اور خوشہ چیں تھے جن کی جلالتِ علمی، عظمت و برتری اور تفقہ فی الدین پر عمائدینِ امت کا اتفاق ہے۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!