| عنوان: | قانون اہانت رسول عہد جدید میں |
|---|---|
| تحریر: | طارق انور مصباحی |
| پیش کش: | ذکیہ صدیقی |
| منجانب: | مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد |
پاکستان وہ پہلا ملک ہے جہاں کے پارلیمنٹ میں اہانتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مجرم کے لیے سب سے پہلے سزائے موت کا قانون بلا بحث و مباحثہ کے پاس ہوا۔ پھر دوبارہ پاکستانی پارلیمنٹ میں اسی قانون کی تائید و توثیق کی گئی۔ تاریخِ حقائق کی روشنی میں اس کا پس منظر و پیش منظر کچھ اس طرح ہے۔
٧ مئی ١٩٨٦ء کی شام کو اسلام آباد پاکستان کے ایک ہوٹل میں ایک عظیم سیمینار منعقد ہوا تھا۔ جس میں اربابِ علم و فضل اہل سیاست و حکومت شریک تھے۔ اسی سیمینار میں پاکستان میں حقوقِ انسانی کمیشن کی چیئر پرسن عاصمہ جہانگیر ایڈووکیٹ نے شریعت بل کے خلاف تقریر کرتے ہوئے حضرت حبیب محتشم صلی اللہ علیہ وسلم کی شانِ اقدس میں کچھ بے ادبانہ جملے استعمال کیے۔ اسی گستاخی پر “راولپنڈی بار ایسوسی ایشن” کے اراکین میں سے مسٹر عباد الرحمن ایڈووکیٹ نے سخت احتجاج کیا۔ جب اس بے ادبی کی خبر اگلے روز اخبارات میں شائع ہوئی تو سارا پاکستان اٹھ کھڑا ہوا، اور توہینِ رسالت کے لیے قانون سازی کا مطالبہ ہونے لگا۔ [روزنامہ جنگ لاہور، ٢٦ جون ١٩٨٦ء]
عاصمہ جہانگیر کی گستاخی پر سب سے پہلے نیشنل اسمبلی (پاکستانی پارلیمنٹ) میں ایم این اے محترمہ نثار فاطمہ نے احتجاج کیا اور حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا کہ حکومت عاصمہ جہانگیر کی گستاخی سے متعلق فوراً ایکشن لے، لیکن اس وقت تک پاکستانی دستور میں اہانتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق کوئی قانون نہیں تھا، اس لیے حکومت کی جانب سے کوئی مضبوط کارروائی نہ ہو سکی، اس کے بعد محترمہ نثار فاطمہ نے پاکستانی پارلیمنٹ میں ایک بل پیش کیا، جس میں توہینِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اسلامی سزا، سزائے موت تجویز کی گئی، نیشنل اسمبلی کی بھاری اکثریت نے اس بل کو منظور کیا۔ اس طرح پاکستانی تعزیرات میں دفعہ 295/C کا اضافہ ہوا، جس میں صراحت کی گئی کہ اگر کوئی شخص زبانی یا تحریری الفاظ کے ذریعہ یا واضح انداز میں یا بذریعہ بہتان طرازی یا بذریعہ طعن آمیز اشارہ و کنایہ براہ راست یا بالواسطہ طور پر حضرت حبیب معظم صلی اللہ علیہ وسلم کی بے ادبی کرتا ہے تو وہ سزائے موت کا مستوجب ہوگا۔ یا اسے تاحیات قید کی سزا دی جائے گی، اور اس سے جرمانہ بھی لیا جا سکے گا۔
اس قانون میں دو سزائیں تجویز کی گئی تھیں، سزائے موت یا عمر قید کی سزا، حالانکہ محترمہ نثار فاطمہ کی طرف سے صرف سزائے موت تجویز کی گئی تھی، اور ارکان پارلیمنٹ نے اسی کی منظوری دی تھی، مگر وزارتِ قانون کی طرف سے اس بل میں یہ ترمیم کی گئی کہ گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سزا سزائے موت یا عمر قید ہوگی۔ چونکہ اہانتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر عمر قید کی سزا اسلامی قانون کے خلاف تھی اس لیے سپریم کورٹ کے سینیئر ایڈووکیٹ محمد اسماعیل قریشی نے اس قانون کو وفاقی شرعی عدالت میں چیلنج کر دیا کہ توہین رسول کی سزا بطور حد سزائے موت ہے، اور حد کی سزا میں حکومت ہی نہیں بلکہ ساری دنیا کو بھی ذرہ برابر کمی بیشی کا اختیار نہیں۔ اور یہ ناقابل معافی جرم ہے۔ اس مقدمہ کی باقاعدہ سماعت نومبر ١٩٨٩ء سے شروع ہوئی۔ وفاقی شرعی عدالت نے اس مقدمہ کی سماعت کے لیے پانچ ججوں پر مشتمل ایک مکمل بینچ تشکیل دیا، اس بینچ کے ارکان یہ ہیں:
-
جسٹس گل محمد خاں (چیف جسٹس)
-
جسٹس عبد الکریم خاں کندی
-
جسٹس عبادت یار خاں
-
جسٹس عبد الرزاق اے تھیم
-
جسٹس فدا محمد خاں
اس بینچ نے ایک طویل عرصے تک اس مقدمے کی سماعت کی، اور متعدد اسکالروں، تمام مسالک کے مذہبی رہنماؤں اور اس موضوع پر مہارت رکھنے والے قانون دانوں کو بھی طلب کیا، تاکہ تمام لوگ اس موضوع پر اپنی رائے پیش کر کے عدالت کی معاونت کریں۔ ججوں کے اس بینچ کے سامنے علامہ سعید احمد کاظمی، مفتی غلام سرور قادری جیسی متعدد علمی شخصیات نے بھی حصہ لیا۔
٣٠ اکتوبر ١٩٩٠ء کو وفاقی شرعی عدالت نے اس مقدمہ کا متفقہ فیصلہ سنایا کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین و بے حرمتی یا ان کے اسم مبارک کی توہین و بے ادبی کے جرم میں متبادل سزا “تاحیات قید” اسلام کی واضح نصوص و احکام کے منافی ہے۔ عدالت نے مزید کہا کہ دفعہ 295/C میں “تاحیات قید” کا لفظ توہینِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے شریعت اسلامیہ کے خلاف ہے، اس لیے صدر پاکستان کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ ٣٠ اپریل ١٩٩١ء تک اس قانون کی اصلاح کریں اور اس دفعہ سے “تاحیات” کے الفاظ ختم کریں۔ اور یہ کہ اگر تاریخِ مقررہ تک ایسا نہ کیا گیا تو پھر یہ الفاظ خود بخود کالعدم تصور کیے جائیں گے، اور صرف سزائے موت ملک کا قانون بن جائے گا۔ چنانچہ مقررہ تاریخ تک یہ کام نہ ہو سکا، اور نتیجہ یہ ہوا کہ وفاقی شرعی عدالت کے فیصلہ کے مطابق یہ الفاظ خود بخود کالعدم ہو گئے۔ اور وفاقی شرعی عدالت نے توہینِ رسول کی سزا یعنی سزائے موت کو قرآن و سنت سے مأخوذ اور صحیح قرار دیا۔ [PLD-1991-FSC-10]
خیال رہے کہ پاکستان کے دستور کی دفعہ D-203 کے تحت صرف وفاقی شرعی عدالت اس امر کی مجاز ہے کہ وہ کسی قانون کے اسلامی یا غیر اسلامی ہونے کا فیصلہ کرے۔ دفعہ D-203 میں لکھا گیا ہے کہ: “عدالت از خود نوٹس پر یا پاکستان کے کسی شہری کی پیٹیشن پر یا وفاقی حکومت یا کسی صوبائی حکومت کی پیٹیشن پر یہ اختیار رکھتی ہے کہ وہ قرآن و سنت کے اصولوں کی روشنی میں کسی بھی قانون یا اس کے کسی شق کے بارے میں اسلام کے مطابق یا اسلام کے متصادم ہونے کا فیصلہ کر سکے۔”
پاکستان میں پارلیمانی طریقہ کار اور قانون سازی کی روایات کے مطابق پارلیمنٹ کی طرف سے وضع کردہ قانون توہین رسالت کئی دہائیوں سے نافذ العمل ہے، اور آئینی عدالت کے معیار پر پورا اتر چکا ہے۔ وفاقی شرعی عدالت کے فیصلہ میں کہا گیا ہے کہ گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے موت کی سزا کے علاوہ کسی بھی قسم کی متبادل سزا اسلامی تعلیمات کے متصادم ہوگی۔ اور دستور پاکستان کی دفعہ D-203 کی ذیلی شق 2 کی شق B کے تحت یہ فیصلہ فوری طور پر نافذ العمل ہو چکا ہے۔ ٢ جون ١٩٩٢ء کو پاکستانی پارلیمنٹ یعنی نیشنل اسمبلی نے ایک قرار داد متفقہ طور پر منظور کی جس میں حکومت سے کہا گیا کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین پر صرف اور صرف سزائے موت ہی دی جانی چاہیے۔ پاکستانی سینیٹ نے بھی اسے قبول کیا اور ٨ جولائی ١٩٩٢ء کو سینیٹ میں ترمیمی قانون متفقہ طور پر منظور کیا گیا، جس میں توہینِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کے جرم کے لیے صرف موت کی سزا دینے کا حکم دیا گیا، اس طرح پاکستانی پارلیمنٹ میں توہینِ رسول بل دو بار منظور کیا گیا۔ اور مجرم کے لیے موت کی سزا قرار پائی۔
اسلام کے خلاف تمام مذاہب عالم متحد و متفق ہیں۔ اسی کی تعبیر “الْكُفْرُ مِلَّةٌ وَاحِدَةٌ” سے کی گئی ہے۔ فارسی کا شعر اسی مفہوم کی واضح تعبیر کرتا ہے۔ جو ہم مسلمانوں کو ہمیشہ ذہن نشین رکھنا چاہیے:
کافر ہر فرد و فرقہ دشمنِ ما را
مرتد و مشرک، یہود و گبر و ترسا
٣٠ ستمبر ٢٠٠٥ء کو ڈنمارک کے اخبار جے لینڈ پوسٹن (JYLLANDS POSTEN) نے حضرت حبیب معظم صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق توہین آمیز کارٹون شائع کیے۔ اس کی دیکھا دیکھی دیگر یورپی ممالک نے بھی خاکے شائع کیے۔ دیکھتے ہی دیکھتے سارا عالم اسلام اس کے خلاف اٹھ کھڑا ہوا۔ دنیا کے بے شمار شہروں میں احتجاج اور مظاہرے ہوئے۔ بہت سے مسلم ممالک نے ڈنمارک سے اپنے سفیر واپس بلا لیے۔ اور وہاں کی مصنوعات کا بائیکاٹ کیا۔ اب ٣٠ نومبر ٢٠١٥ء کو لکھنؤ کے کملیش تیواری نے ہندوستان میں حبیب معظم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان مقدس میں ایسی توہین کی ہے کہ چودہ صدیوں میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ ہندوستان کے اکثر و بیشتر شہروں میں بھاری بھرکم مظاہرے ہوئے اور حکومت کو میمورنڈم پیش کیا گیا کہ مجرم کو سخت سزا دی جائے۔ لازم ہے کہ ہندوستانی مسلمان سر سے کفن باندھ کر اٹھ کھڑے ہوں۔ اور زبردست قانونی دفاع (LEGAL DEFENSE) کریں۔ حکومت ہند سے مطالبہ کیا جائے کہ پارلیمنٹ سے ایسا قانون پاس کیا جائے کہ جو بھی کسی مذہب کے بانی (FOUNDER) یا رہنمائے اول کے اخلاق و کردار سے متعلق اتنا سخت اور صریح بہتان لگائے اس کے لیے پھانسی کی سزا متعین کی جائے، مختلف جرائم پر ہندوستان میں پھانسی کی سزا موجود ہے۔

