Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ خصائص و کمالات | محمد تحسین رضا نوری

سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ خصائص و کمالات
عنوان: سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ خصائص و کمالات
تحریر: محمد تحسین رضا نوری
پیش کش: ناصرین فاطمہ رضویہ
منجانب: مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَيْهِ وَسَلِّمْ

جس طرح جملہ انبیائے کرام علیہم الصلاۃ و السلام میں جو فضیلت و بزرگی ہمارے پیارے نبی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل ہے اسی طرح یارِ غار و مزار، جانشینِ محبوب رب العالمین، رفیقِ حوضِ کوثر، حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ جملہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سب سے افضل و اعلیٰ ہیں، آپ رضی اللہ عنہ سب سے پہلے اسلام لائے، آپ نے حلقہ اسلام میں داخل ہونے کے بعد اپنی پوری زندگی حضور علیہ الصلاۃ و السلام کی غلامی میں گزار دی، اپنی جان، مال، اولاد سب کچھ حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان کر دیا، اسی وجہ سے آپ کو افضل البشر بعد الانبیاء کا شرف حاصل ہے، آپ سب سے پہلے خلیفۃ المسلمین ہیں، آپ نے اپنے دورِ خلافت میں اپنی خداداد فہم اور عقل و دانائی سے امورِ خلافت میں چار چاند لگا دیے، اور فتنہ ارتداد، مانعینِ زکوٰۃ اور مدعیانِ نبوت جیسے بے شمار فتنوں کا سر کچل کر رکھ دیا۔ آپ رضی اللہ عنہ کا نام عبداللہ اور والد کا نام قحافہ ہے، آپ عرب کے ایک مشہور قبیلہ سے تعلق رکھتے ہیں، آپ حضور علیہ الصلاۃ و السلام کی ظاہری حیات میں بھی آپ کے ساتھ سائے کی طرح رہے اور بعدِ وصال بھی آپ کے پہلوئے اقدس میں آرام فرما رہے ہیں، اور بروزِ قیامت بھی ان شاء اللہ العزیز حضور علیہ الصلاۃ و السلام کے دستِ اقدس میں اپنا ہاتھ لیے سنہری جالیوں سے باہر تشریف لائیں گے۔

فضائل حضرت صدیق اکبر احادیث کی روشنی میں

حضرت سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضور علیہ الصلوۃ و السلام اور آپ کے ساتھ حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق اعظم اور حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہم احد پہاڑ پر چڑھے تو احد پہاڑ ہلنے لگا، تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: “اے احد! ٹھہر جا، اس وقت تیرے اوپر ایک نبی، ایک صدیق اور دو شہید ہیں۔” [بخاری]

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: “جبریل میرے پاس آئے اور میرا ہاتھ پکڑ کر جنت کا وہ دروازہ دکھایا جس سے میری امت جنت میں داخل ہوگی۔” حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یارسول اللہ! میری یہ خواہش ہے کہ میں بھی اس وقت آپ کے ساتھ ہوتا، تاکہ میں بھی اس دروازے کو دیکھ لیتا۔ رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “ابوبکر! میری امت میں سب سے پہلے جنت میں داخل ہونے والے شخص تم ہی ہو گے۔” [ابوداؤد]

حضرت سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ: حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے آگے چلتے ہوئے دیکھا تو ارشاد فرمایا: “کیا تم اس کے آگے چل رہے ہو جو تم سے بہتر ہے؟ کیا تم نہیں جانتے کہ نبیوں اور رسولوں کے بعد ابوبکر سے افضل کسی شخص پر نہ تو سورج طلوع ہوا اور نہ ہی غروب ہوا؟” [فضائل الخلفاء]

اسی طرح بخاری شریف کی حدیث ہے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ یوں ارشاد فرمایا: “جس شخص کی صحبت اور مال نے مجھے سب لوگوں سے زیادہ فائدہ پہنچایا وہ ابوبکر ہے اور اگر میں اپنی امت میں سے کسی کو خلیل بناتا تو ابوبکر کو بناتا لیکن اسلامی اخوت قائم ہے۔” [بخاری]

ایک اور حدیث ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: “مجھ پر جس کسی کا احسان تھا میں نے اس کا بدلہ چکا دیا ہے، مگر ابوبکر کے مجھ پر وہ احسانات ہیں جن کا بدلہ اللہ پاک انہیں روزِ قیامت عطا فرمائے گا۔” [ترمذی]

اقوال صحابہ و تابعین

حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم ارشاد فرماتے ہیں کہ: “حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے افضل حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما ہیں، کسی مومن بندے کے دل میں میری محبت اور ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کا بغض جمع نہیں ہو سکتا۔” [تاریخ الخلفاء]

حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے صاحب زادے حضرت محمد بن حنفیہ (جن کی والدہ سیدہ فاطمۃ الزہرا کے علاوہ ایک خاتون تھیں) نے ایک مرتبہ حضرت علی سے پوچھا کہ: “حضور علیہ الصلاۃ و السلام کے بعد سب سے افضل اور سب سے بہتر شخص کون ہے؟” آپ نے فرمایا: “ابوبکر۔” پھر انہوں نے سوال کیا کہ ان کے بعد کون؟ تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: “عمر۔” اس کے بعد پوچھا کہ ان کے بعد تو آپ ہی سب سے افضل ہیں نہ؟ تو آپ نے عاجزانہ طور پر ارشاد فرمایا کہ: “میں تو ایک عام مسلمان ہوں۔” [بخاری]

حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ: “ایک مرتبہ میں حضور علیہ الصلاۃ و السلام کے ہمراہ تھا، کہ صدیق اکبر اور عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہما بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوئے، تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ‘یہ دونوں انبیا و مرسلین کے علاوہ، اولین و آخرین میں سے ادھیڑ عمر جنتیوں کے سردار ہیں، اے علی! تم انہیں نہ بتانا۔’” [ترمذی]

کسی نے حضرت امام زین العابدین رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ: حضرت صدیق اکبر اور فاروق اعظم رضی اللہ عنہما کو حضور علیہ الصلاۃ و السلام کی بارگاہ میں کیا مقام حاصل تھا؟ تو آپ رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: “آج جاکر دیکھ لو، جیسے آج ان کے پہلو میں آرام فرما ہیں اور انہیں بے مثال قرب حاصل ہے اسی طرح حضور کی ظاہری حیات میں بھی انہیں قرب حاصل تھا۔” [مسند احمد]

ایک شخص نے حضرت امام زین العابدین رضی اللہ عنہ سے آکر سوال کیا: ابوبکر کے بارے میں مجھے کچھ بتائیے۔ آپ نے فرمایا: “جناب صدیق کے بارے میں پوچھ رہے ہو؟” تو اس شخص نے عرض کی کہ آپ بھی انہیں صدیق کہتے ہیں؟ تو آپ نے فرمایا: “تیری ماں تجھے روئے، انہیں صدیق صرف میں نہیں کہتا، بلکہ مجھ سے افضل شخصیات نے انہیں صدیق کہا، خود حضور علیہ الصلوۃ و السلام نے انہیں صدیق کے لقب سے سرفراز فرمایا، مہاجرین و انصار نے انہیں صدیق کہا، جو انہیں صدیق نہیں کہتا خدا کرے کہ ان کی کوئی بات سچی نہ ہو۔” پھر فرمایا: “جا! اور جناب صدیق اکبر اور فاروق اعظم سے محبت کر اور ان کا غلام بن کے رہ، اور اگر اس پر کوئی گرفت ہوئی تو میں اس کا ذمہ دار ہوں۔” [فضائل الصحابہ]

افضلیت صدیق اکبر

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: “اہل سنت و جماعت نصرہم اللہ تعالیٰ کا اجماع ہے کہ مرسلین، ملائکہ و رسل، انبیاء بشر صلوات اللہ و تسلیماتہ علیہم کے بعد حضرات خلفائے اربعہ رضوان اللہ علیہم اجمعین تمام مخلوقاتِ الٰہی سے افضل ہیں، تمام امم اولین و آخرین میں سے کوئی شخص ان کی بزرگی و عظمت، عزت و جاہت، قبول و کرامت، قرب و ولایت کو نہیں پہنچ سکتا، پھر ان میں باہم ترتیب یوں ہے کہ سب سے افضل، صدیق اکبر، پھر فاروق اعظم، پھر عثمان غنی، پھر مولیٰ علی رضی اللہ عنہم۔ اس مذہبِ مہذب پر آیاتِ قرآنِ عظیم و احادیثِ کثیرہ حضور پر نور نبی کریم علیہ الصلاۃ و التسلیم و ارشاداتِ جلیلہ واضحہ امیر المومنین مولیٰ علی مرتضیٰ و دیگر ائمہ اہلِ بیتِ طہارت و اجماعِ صحابہ کرام و تابعینِ عظام و تصریحاتِ اولیائے امت و علمائے امت رضی اللہ عنہم اجمعین سے وہ دلائلِ باہرہ و حججِ قاہرہ ہیں جن کا استیعاب نہیں ہو سکتا۔” [فتاوی رضویہ شریف، ج: 28]

اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: “صدیق اکبر رضی اللہ عنہ روزِ الست (یعنی میثاق کے دن) سے روزِ ولادت اور روزِ ولادت سے روزِ وفات اور روزِ وفات سے ابد الآباد (یعنی ہمیشہ ہمیشہ) تک سردارِ مسلمین ہیں۔” [ملفوظات اعلیٰ حضرت]

ارشادات سیدنا صدیق اکبر

حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا کہ: “اللہ پاک نے جو تمہیں نکاح کا حکم فرمایا، تم اس کی اطاعت کرو اس نے جو غنی کرنے کا وعدہ کیا ہے پورا فرمائے گا۔ اللہ پاک نے فرمایا: اگر وہ فقیر ہوں گے تو اللہ پاک انہیں اپنے فضل سے غنی کر دے گا۔” [تفسیر ابن ابی حاتم]

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: “نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پاک پڑھنا گناہوں کو اس قدر جلد مٹاتا ہے کہ پانی بھی آگ کو اتنی جلدی نہیں بجھاتا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر سلام بھیجنا غلاموں کو آزاد کرنے سے افضل ہے۔” [تاریخ بغداد]

“اے لوگو! جھوٹ سے بچو، کیوں کہ جھوٹ ایمان کے مخالف ہے۔” [مسند امام احمد]

“جس سے ہو سکے وہ روئے، اور جس سے رونا نہ آئے وہ رونے جیسی صورت ہی بنالے۔” [احیاء العلوم]

“کسی مسلمان کو ہرگز حقیر مت سمجھو کیوں کہ ادنیٰ مسلمان بھی اللہ پاک کے نزدیک بڑے مرتبہ والا ہوتا ہے۔” [الزواجر]

“ہم نے عزت کو تقویٰ میں، مال داری کو یقین میں اور بزرگی کو عاجزی میں پایا۔” [احیاء العلوم]

حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ ایک پرندہ کو دیکھا تو ارشاد فرمایا: “اے پرندے! کاش میں تیری طرح ہوتا اور مجھے انسان نہ بنایا جاتا۔” [شعب الایمان]

“میں جب سے مسلمان ہوا ہوں کبھی پیٹ بھر کر نہیں کھایا تاکہ عبادت کی حلاوت نصیب ہو، اور جب سے اسلام قبول کیا ہے اللہ پاک کی ملاقات کے شوق کے سبب کبھی سیر ہو کر نہیں پیا۔” [مختصر منہاج العابدین]

صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نماز کے وقت ارشاد فرمایا کرتے: “لوگو! اٹھو، اپنے رب کی جس آگ کو تم نے بھڑکایا ہے اسے (نماز کے ذریعہ) بجھاؤ۔” [مکاشفۃ القلوب ملخص: اقوال صدیق اکبر]

ربِ کریم ہم سب کو سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے خصوصی فیضان سے مالا مال فرمائے، اور آپ کے وسیلے سے دلی جائز تمنائیں، آرزوئیں، خواہشیں پوری فرمائے، حضور علیہ الصلاۃ و التسلیم سے بے پناہ عشق و محبت کرنے کی توفیق عطا فرمائے، اور جلد از جلد خانہ کعبہ اور مدینہ منورہ کی باادب حاضری نصیب فرمائے، آمین یا رب العالمین بجاہ شفیع المذنبین صلی اللہ علیہ و آلہ و صحبہ اجمعین۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!