Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

طلاق کے احکام و مسائل (قسط سوم)|پیر محمد تبسم بشیر اویسی

طلاق کے احکام و مسائل (قسط سوم)
عنوان: طلاق کے احکام و مسائل (قسط سوم)
تحریر: پیر محمد تبسم بشیر اویسی
پیش کش: شہربانو نعیم قادریہ

الفاظ کے اعتبار سے طلاق کی اقسام:

مسئلہ: الفاظِ طلاق کے اعتبار سے طلاق کی دو قسمیں ہیں: (۱) صریح (۲) کنایہ۔

۱۔ صریح: صریح وہ ہے جس سے طلاق مراد ہونا بالکل ظاہر ہو اور اکثر طلاق میں اسی کا استعمال ہو۔ اگرچہ وہ کسی بھی زبان کا لفظ ہو، جیسے اردو میں یہ لفظ کہ ’’میں نے تجھے چھوڑا‘‘، صریح ہے۔ اس سے ایک طلاق ہو جائے گی، خواہ دل میں طلاق کی نیت ہو یا نہ ہو۔
۲۔ کنایہ: وہ الفاظ جن سے طلاق مراد ہونا صراحتاً ظاہر نہ ہو، اور طلاق کے علاوہ دیگر معنوں میں بھی ان کا استعمال ہوتا ہو۔ (عامہ کتب)

مسئلہ: جو الفاظ طلاق کے لیے وضع کیے گئے ہیں، جب انہیں طلاق میں استعمال کیا جائے گا تو اس سے "طلاقِ رجعی" واقع ہوگی۔ اور جو الفاظ طلاق کے لیے وضع نہیں کیے گئے بلکہ ان کا استعمال اشارۃً و کنایۃً طلاق کی طرف ہے، تو ایسے الفاظ کے استعمال سے "طلاقِ بائن" پڑتی ہے، بشرطیکہ نیت طلاق کی ہو یا حالت بتاتی ہو کہ طلاق مراد ہے (مثلاً پیشتر طلاق کا ذکر تھا یا شدید غصے کی حالت میں کہا گیا)۔ (عامہ کتب)

حکم اور نتیجے کے اعتبار سے طلاق کی اقسام:

مسئلہ: طلاق (باعتبارِ حکم و نتیجہ) تین قسم کی ہے:

۱۔ رجعی: وہ جس سے عورت فی الحال نکاح سے نہیں نکلتی۔ عدت کے اندر اگر شوہر رجعت (رجوع) کر لے تو وہ بدستور اس کی زوجہ رہے گی۔ ہاں! عدت گزر جائے اور رجعت نہ کرے تو اس وقت نکاح سے نکلے گی۔ پھر بھی اگر چاہیں تو باہمی رضامندی سے دوبارہ نکاح کر سکتے ہیں۔
۲۔ بائن: وہ جس سے عورت فی الفور نکاح سے نکل جاتی ہے۔ ہاں! باہمی رضامندی سے دوبارہ نکاح کر سکتے ہیں، خواہ عدت کے اندر یا عدت کے بعد۔
۳۔ مغلظہ: وہ کہ عورت فوراً نکاح سے نکل بھی گئی اور کبھی ان دونوں کا آپس میں نکاح نہیں ہو سکتا جب تک کہ حلالہ نہ ہو۔ یہ تین طلاقوں سے واقع ہوتا ہے، خواہ ایک ساتھ دی ہوں یا برسوں کے فاصلے سے، رجعی دی ہوں یا بائن، یا بعض رجعی اور بعض بائن ہوں۔

طلاق کے سینکڑوں الفاظ ہیں؛ بعض سے رجعی پڑتی ہے، بعض سے بائن اور بعض سے مغلظہ۔ (فتاویٰ رضویہ)

چند اہم اور متفرق فقہی مسائل:

حمل کی حالت میں طلاق: عورت کا حاملہ ہونا، طلاق واقع ہونے سے نہیں روکتا۔ حالتِ حمل میں طلاق جائز و حلال ہے، اگرچہ ایامِ حمل میں شوہر اس سے ہم بستری بھی کر چکا ہو۔ اب اگر طلاقِ بائن تھی، یا طلاقِ رجعی تھی اور بچہ پیدا ہونے تک نہ زبانی رجعت کی اور نہ زوجہ کو ہاتھ لگایا، تو ولادت کے بعد عورت نکاح سے نکل گئی، اب اسے اختیار ہے جس سے چاہے نکاح کرے۔ اور اگر طلاقِ رجعی تھی اور ولادت سے قبل شوہر نے رجعت کر لی تو عورت بدستور اس کے نکاح میں ہے، دوسری جگہ نکاح نہیں کر سکتی۔ (فتاویٰ رضویہ)

تین طلاقیں: عورت سے کہا "طلاق طلاق طلاق"۔ نہ یہ کہا کہ دی، نہ یہ کہا کہ تجھ کو یا اس عورت کو؛ مگر قرائن سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ اس نے اپنی ہی عورت کو طلاق دی ہے، یا وہ خود اقرار کرتا ہے کہ میں نے اپنی عورت کو طلاق دی ہے، تو تین طلاقیں پڑ گئیں۔ بغیر حلالہ کے وہ اس کے نکاح میں نہیں آسکتی۔ (فتاویٰ رضویہ)

طلاق کا جھوٹا دعویٰ: عورت کو طلاق نہیں دی ہے مگر لوگوں سے کہتا ہے کہ "میں طلاق دے آیا" تو طلاق ہو جائے گی۔ یوں ہی ایک طلاق دی ہے اور لوگوں سے کہتا ہے "تین دی ہیں" تو فیصلہ یہی ہوگا کہ تین دی ہیں، اگرچہ بعد میں کہے کہ میں نے جھوٹ کہا تھا۔ (بہارِ شریعت)

تین طلاق کے بعد زنا کا حکم: جب طلاقیں تین پہنچ جائیں تو وہ عورت اس شوہر کے لیے بغیر حلالہ کسی طرح حلال نہیں ہو سکتی۔ اگر شوہر اس کے باوجود اس سے ہم بستری کرے تو وہ صحبت "زنا" ہوگی۔ اور اگر اُسے مسئلہ معلوم ہے تو یہ زانی شرعاً سزائے زنا کا مستحق ہوگا۔ پیدا ہونے والی اولاد ولد الزنا کہلائے گی اور ترکۂ پدری (باپ کی وراثت) سے محروم ہوگی۔ (فتاویٰ رضویہ)

شوہر کا طلاق سے انکار: شوہر نے عورت کو تین طلاقیں دے دیں یا بائن طلاق دی مگر اب انکار کرتا ہے، اور عورت کے پاس گواہ نہیں ہیں، تو جس طرح ممکن ہو عورت اس سے پیچھا چھڑائے۔ مہر معاف کر کے یا اپنا مال اس کو دے کر اس سے علیحدہ ہو جائے۔ غرض جس طرح بھی ممکن ہو اُس سے کنارہ کشی کرے، اور اگر کسی طرح وہ نہ چھوڑے تو عورت مجبور ہے مگر ہر وقت اسی فکر میں رہے کہ جس طرح ممکن ہو رہائی حاصل کر لے اور اس کی پوری کوشش کرے کہ وہ صحبت نہ کرنے پائے۔ عورت جب ان باتوں پر عمل کرے گی تو عنداللہ معذور ہے اور شوہر بہرحال گناہ گار ہے۔ (درمختار، فتاویٰ رضویہ)

طلاق کے بعد رجعت کا مسنون طریقہ:

رجعت کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ کسی لفظ سے رجعت کرے اور رجعت پر دو عادل شخصوں کو گواہ بنائے اور عورت کو بھی خبر کر دے کہ وہ عدت کے بعد کسی اور سے نکاح نہ کرے۔ اور اگر فعل سے رجعت کی مثلاً اس سے وطی کی یا شہوت کے ساتھ بوسہ لیا تو رجعت ہو گئی، مگر ایسا کرنا مکروہ ہے۔ اسے چاہیے کہ پھر گواہوں کے سامنے رجعت کے الفاظ کہے۔

رجعت کے الفاظ: "میں نے تجھ سے رجعت کی"، "تجھ کو واپس اپنے نکاح میں لیا"، "روک لیا" یا "اپنی زوجہ سے رجعت کی"۔ یہ سب صریح الفاظ ہیں، ان میں بغیر نیت کے بھی رجعت ہو جائے گی۔ اور اگر عورت سے کہا کہ "تو میرے نزدیک ویسی ہی ہے جیسے تھی" یا "تو میری عورت ہے"، تو اگر بہ نیتِ رجعت یہ الفاظ کہے تو رجعت ہو گئی ورنہ نہیں۔ نکاح کے الفاظ سے بھی رجعت ہو جاتی ہے۔ (عالمگیری وغیرہ)

حلالہ کی شرعی حیثیت اور احکام:

حلالہ کا طریقہ: حلالہ کی صورت یہ ہے کہ اگر عورت مدخولہ ہے (یعنی پہلا شوہر اس سے ہم بستری کر چکا ہے) تو طلاق کی عدت پوری ہونے کے بعد عورت کسی اور شخص سے نکاحِ صحیح کرے اور یہ شوہرِ ثانی (دوسرا شوہر) اس سے وطی (ہم بستری) بھی کرلے۔ اب اس شوہرِ ثانی کے طلاق دینے یا اس کی موت کے بعد، عدت پوری ہونے پر شوہرِ اول سے دوبارہ نکاح ہو سکتا ہے۔ اور اگر عورت مدخولہ نہیں ہے تو پہلے شوہر کے طلاق دینے کے بعد فوراً دوسرے سے نکاح کر سکتی ہے کیونکہ اس کے لیے عدت نہیں۔ (عامہ کتب)

مشروط حلالہ: اگر عقدِ نکاح یعنی ایجاب و قبول میں یہ شرط لگائی گئی کہ "یہ صحبت کے بعد عورت کو طلاق دے دے گا"، تو حدیث شریف میں اس فعل پر لعنت آئی ہے اور یہ نکاح مکروہِ تحریمی ہے۔ زوجِ اول، زوجِ ثانی اور عورت تینوں گناہگار ہوں گے۔ اگرچہ عورت اس نکاح سے بھی شوہرِ اول کے لیے حلال ہو جائے گی، لیکن شرط باطل ہے اور شوہرِ ثانی طلاق دینے پر مجبور نہیں۔ ہاں! اگر عقد میں شرط نہ ہو، اگرچہ دل میں نیت ہو تو کوئی کراہت نہیں، بلکہ اگر نیت خیر (عورت کا گھر بسانے کی) ہو تو ثواب ہے۔ (درمختار وغیرہ)

احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں تین طلاق کا نفاذ:

اللہ تعالیٰ کی توفیق سے قرآن و سنت کے مطابق مسائلِ طلاق ذکر کر دیے گئے ہیں۔ طلاق ایک انتہائی حساس مسئلہ ہے، اس میں احتیاط کی سخت ضرورت ہے۔ موجودہ دور میں یونین کونسلز میں تین طلاقوں کے بعد بھی صلح کروا دی جاتی ہے جو سراسر غلط اور خلافِ شریعت ہے۔ اسلامی نظریاتی کونسل کو چاہیے کہ اس قانون کو اسلامی سانچے میں ڈھالے، وگرنہ معاشرہ مزید بگاڑ کی طرف رواں دواں رہے گا، کیونکہ اکٹھی دی گئی تین طلاقیں تین ہی گردانی جائیں گی، جیسا کہ احادیثِ پاک میں صراحت موجود ہے:

حضرت سہل بن سعد الساعدی رضی اللہ عنہ بزرگ صحابی ہیں۔ ایک دوسرے صحابی حضرت عامر العجلانی رضی اللہ عنہ کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ ان کا اپنی بیوی سے جھگڑا ہوا، تا آنکہ دربارِ نبوی ﷺ میں حاضر ہو کر فریقین کو لعان کرنے کا حکم ہوا۔ اسی قصے میں ہے:

فَطَلَّقَهَا ثَلَاثًا قَبْلَ أَنْ يَأْمُرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: فَكَانَتْ سُنَّةَ الْمُتَلَاعِنَيْنِ.

ترجمہ: تو عامر رضی اللہ عنہ نے حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے حکم دینے سے پہلے اپنی بیوی کو (وہیں ایک مجلس میں) تینوں طلاقیں دے دیں۔ ابنِ شہاب زہری کہتے ہیں: تو یہی لعان کرنے والوں کے لیے سنت مقرر ہو گئی۔ (صحیح البخاری)

ابو داؤد کی روایت میں یہ الفاظ آئے ہیں: "فَأَنْفَذَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"۔ یعنی رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان تین طلاقوں کو نافذ فرمایا۔

حضرت ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ایک شخص نے اپنی بیوی کو تینوں طلاقیں دے ڈالیں۔ مطلقہ نے دوسرے شخص سے نکاح کر لیا، تو اس (دوسرے شوہر) نے اسے قبل از مقاربت (ہم بستری سے پہلے) طلاق دے دی۔ تو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ کیا یہ عورت پہلے خاوند کے لیے حلال ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: "نہیں! جب تک کہ دوسرا خاوند اس سے مقاربت کر کے لطف اندوز نہ ہو۔" (صحیح البخاری)

(ختم شد)

(محرر: علامہ پیر محمد تبسم بشیر اویسی)

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!