| عنوان: | شارح بخاری کی جلالت علمی سے میری روشناسی (قسط: اول) |
|---|---|
| پیش کش: | زینب ظفر |
حضرت شارح بخاری (مفتی محمد شریف الحق امجدی) کو میں اس وقت سے جانتا ہوں جب میری عمر چھ سات برس کی تھی۔ والد صاحب کا معمول یہ تھا کہ عید کے دوسرے دن گھوسی جاتے اور اپنے رشتہ داروں سے ملاقات کے ساتھ وہاں کے مقتدر علماء سے بھی ملتے۔ صدر الشریعہ علیہ الرحمہ جب تک باحیات تھے ان کے یہاں پابندی سے حاضر ہوتے۔ میں نے جب ہوش سنبھالا تو ان کے ساتھ میں بھی گھوسی جانے لگا۔ اس زمانے میں صدر الشریعہ تو نہ تھے مگر دیگر جن علماء سے والد صاحب ملتے ان میں علامہ عبد المصطفیٰ اعظمی اور حضرت مفتی صاحب قبلہ سر فہرست تھے۔ اس سے میرے ذہن میں یہ بات راسخ ہوگئی کہ یہ حضرات یہاں کے بڑے علماء میں ہیں۔
علمی باتیں کرنے اور سمجھنے کی صلاحیت ہی نہ تھی کہ ان حضرات کی مجلسوں سے اپنے طور پر کوئی رائے قائم کرتا۔ انتہائی تعارف ایک عرصے تک باقی رہا۔ مفتی صاحب کو خود پڑھنے اور سمجھنے کا اتفاق اس وقت ہوا جب میں مدرسہ ضیاء العلوم خیرآباد کے بعد دار العلوم اشرفیہ مبارک پور میں ہدایہ اول، مشکوٰۃ شریف وغیرہ کی جماعت میں داخل ہوا، اور کسی کے ذریعے پاسبان الٰہ آباد کا حسین نمبر “کربلا کا مسافر” دستیاب ہوگیا۔ پڑھنے کی عادت پرائمری ہی کے دور سے تھی۔ یہ نمبر ملا تو پورا پڑھ گیا۔ در اصل یہ نمبر محمود عباسی امروہوی کی کتاب “خلافتِ معاویہ و یزید” کے رد میں شائع ہوا۔ اس کے مندرجات کو سامنے رکھ کر علامہ مشتاق احمد نظامی نے چند سوالات قائم کیے اور ملک بھر کے اربابِ فکر و قلم سے جوابات حاصل کر کے شائع کیے۔ سوالات کچھ اس طرح تھے:
-
حضرت علی کی خلافت صحیح ہے یا نہیں؟
-
انھوں نے حضرت عثمان کا قصاص کیوں نہیں لیا؟
-
یزید فاسق و فاجر تھا یا زاہد و متدین؟
-
اس کی خلافت درست تھی یا نہیں؟
-
حضرت امام عالی مقام رضی اللہ تعالیٰ عنہ حق پر تھے یا خطا پر؟
-
وہ شہید فی سبیل اللہ ہیں یا نہیں؟
اس پر ملک کے طول و عرض سے کثیر علماء کرام نے اپنے جوابات رقم فرمائے۔ بعض بہت اجمالی تھے بعض ذرا تفصیلی، اکثر مضامین میں مسلکِ اہل سنت کی کتابوں سے ان کے واضح جوابات پر اکتفا کیا گیا ہے مگر چند مضامین میں محمود عباسی کے خیالات کا تنقیدی جائزہ بھی لیا گیا ہے۔ ان میں دو تین مضامین نے مجھے زیادہ متاثر کیا۔ ان دو تین میں سر فہرست حضرت مفتی صاحب کا مضمون ہے۔
مجھے محسوس ہوا کہ مفتی صاحب نے جواب لکھنے سے پہلے خود محمود عباسی کی کتاب پوری پڑھی اور اس کی بنیادی غلطیوں پر گرفت کر کے ایسا بھرپور رد فرمایا کہ شکوک و شبہات کے سارے بادل چھٹ جائیں اور حق کا آفتاب عالم تاب ہو کر جلوہ گر ہو جائے۔ بے جا نہ ہوگا اگر میں اس مضمون پر مکمل تبصرہ کروں تاکہ میرا قدرے تعارف اور بے پناہ تاثر کی بات پوری ہو جائے۔
مفتی صاحب نے پہلے محمود عباسی کے تمسکات کا خلاصہ درج ذیل عبارت میں نقل کیا، اس کا حاصل نکالا پھر رد کی جانب اشہبِ قلم موڑا:
“یہ بیعت چونکہ باغیوں اور قاتلوں کی تائید بلکہ اصرار سے منعقد ہوئی تھی۔ اور یہ خلافت ہی عثمان ذوالنورین جیسے محبوب اور خلیفہِ راشد کو ظلماً اور ناحق قتل کر کے سبائی گروہ کے اثر سے قائم کی گئی تھی۔ نیز قاتلین سے قصاص جو شرعاً واجب تھا نہیں لیا گیا اور نہ قصاص لیے جانے کا کوئی امکان باقی تھا۔ اکابر صحابہ نے بیعت کرنے سے انکار کیا، اس لیے بیعتِ خلافت مکمل نہ ہوسکی۔”
اس دعوے کا تجزیہ کرتے ہوئے دکھایا کہ حضرت مرتضیٰ کی خلافت نامکمل ہونے کے ثبوت میں تین باتیں پیش کی گئی ہیں: (1) اس خلافت کا سبائیوں کے زیرِ اثر قیام۔ (2) قاتلانِ عثمان سے عدمِ قصاص۔ (3) اکابر صحابہ کا بیعت سے انکار۔ پھر پہلی اور تیسری بات کے رد میں علامہ ابن حجر کی الصَّوَاعِقُ الْمُحْرِقَةُ، امام جلال الدین سیوطی کی تَارِيخُ الْخُلَفَاءِ بحوالہ طَبَقَاتُ ابْنِ سَعْدٍ اور محب الدین طبری کی الرِّيَاضُ النَّضْرَةُ فِي مَنَاقِبِ الْعَشَرَةِ کی عبارتوں سے یہ ثابت کیا گیا ہے کہ حضرت مرتضیٰ کی خلافت سبائیوں کے زیرِ اثر قائم نہ ہوئی بلکہ اربابِ حل و عقد اور اکابر صحابہ کے اتفاق ہی سے قائم ہوئی جن میں عشرہِ مبشرہ میں سے حضرت طلحہ و زبیر اور اصحابِ بدر بھی شامل ہیں۔
دوسری بات بہت جذباتی ہے اور ناصبی طبقہ نے اپنی کتابوں میں اسے بہت رنگ دے کر بیان کیا ہے۔ میری نظر سے بھی یہ اعتراض بارہا گزر چکا تھا جو خاصا شک انگیز ہے۔ اس کے جواب میں حضرت مفتی صاحب نے بہت صاف اور دو ٹوک بات کہی ہے جو ہر شبہ و شک کو جڑ و بن سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے کافی ہے اور جسے پہلی بار پڑھ کر میں خوشی کے سمندر میں ڈوب گیا اور صاحبِ مضمون کی ناقدانہ بصیرت اور قضا و افتا کی مہارت کو داد دیے بغیر نہ رہ سکا۔ وہ فرماتے ہیں:
“قانونِ اسلام کی روشنی میں قصاص کے لیے ضروری ہے کہ:”
-
مقتول کے ورثہ خلیفہ یا قاضی کے یہاں مقدمہ دائر کریں۔
-
قاتل کی نشان دہی کریں۔
-
اس کے قاتل ہونے پر شرعی شہادت پیش کریں یا قاتل خود اقرار کرے۔
“پھر کہیں حاکم پر قصاص لینا واجب ہوتا ہے۔ سیدنا عثمان کے ورثہ نے نہ مقدمہ دائر کیا، نہ قاتل کو نامزد کیا، نہ گواہ پیش کیے اور نہ شرعی شہادت کی نوبت آئی۔ ان سب کے بغیر حضرت علی قصاص لیتے تو کس سے لیتے، کس بنیاد پر لیتے اور کیسے لیتے؟ ورثہ کے مطالبہ و تعین کے بغیر حاکم کو کسی پر دست اندازی کا حق ہی کہاں ہے؟ اگر اس قسم کا کوئی دعویٰ بارگاہِ خلافت میں دائر ہوا تھا تو امروہوی صاحب اس کا ثبوت لائیں۔ حد تو یہ ہے کہ حضرت طلحہ و حضرت زبیر نیز خود حضرت معاویہ نے لشکر کشی ضرور کی مگر اس قسم کا کوئی دعویٰ بارگاہِ خلافت میں دائر نہیں کیا۔”
آگے فرماتے ہیں:
“امروہوی صاحب کے سامنے انگریزی قانون ہے جس کے تحت قتل کے بعد پولیس فرضی لوگوں کو پکڑتی ہے، شبہ میں گرفتار کرتی ہے، زد و کوب کرتی ہے۔ پھر کسی پر مقدمہ چلاتی ہے۔ اگر تیر نشانے پر بیٹھ گیا اور فرضی گواہ وکیل کی جرح و قدح سے سلامت رہ گئے تو قاتل کو پھانسی ہوگئی ورنہ بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ اصل قاتل گھوم پھر کر مزے اڑاتا ہے اور کوئی بے گناہ شخص تختہِ دار پر ہوتا ہے۔ اسلام کا قانون ایسا ظالمانہ نہیں۔ نہ حضرت علی سے اس کی امید کہ وہ اسلامی قانون چھوڑ کر کسی دوسرے قانون پر عمل کریں، نہ ہی ان سے یہ توقع کہ دعویٰ دائر ہو، ثبوت بہم پہنچے پھر بھی قصاص نہ لیں۔ قصاص حد ہے، ثبوت کے بعد حد جاری نہ کرنا شدید ترین ظلم اور بہت بڑا فسق ہے، اس کے ارتکاب کی نسبت مولائے مومنین دامادِ سید المرسلین کی طرف کرنا ابن تیمیہ جیسے بے باک اور اس کے اندھے مقلدین کا کام ہو سکتا ہے، کسی سنی صحیح العقیدہ کا ہرگز نہیں ہو سکتا۔”
اس کے بعد ثابت فرمایا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت حق تھی اور وہ حضرت طلحہ و زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے مقابلے میں درستی پر تھے۔ پھر متعدد احادیثِ کریمہ سے اس کی تصریحات پیش کی ہیں اور امام نووی شارح صَحِيحُ مُسْلِمٍ کی فیصلہ کن عبارت پر یہ بحث ختم کر دی ہے۔ یہاں تک پاسبان کے پہلے دو سوالوں کا جواب مکمل ہو جاتا ہے۔
اس کے بعد یزید کے فسق و تدین کا سوال سامنے آتا ہے۔ اس بارے میں محمود عباسی کا جائزہ لیتے ہوئے مفتی صاحب نے بتایا ہے کہ:
-
امروہوی صاحب نے اپنی ساری تحقیقات کی بنیاد اس پر قائم کی ہے کہ ابن تیمیہ اور ابن خلدون کے علاوہ سارے مورخین روایت پرست تھے۔ انھیں جو کچھ ملا، بلا تحقیق و جستجو اندھا دھند نقل کردیا۔
-
امام ابن جریر طبری جیسے جلیل القدر مسلم الثبوت امام کو شیعہ کہہ کر ناقابل اعتبار قرار دیا ہے جب کہ علامہ ذہبی نے ابن جریر پر الزام کا جواب دیتے ہوئے لکھا ہے کہ یہ جھوٹی بدگمانی ہے، ابن جریر اسلام کے معتمد اماموں میں سے ایک امام اکبر ہیں۔ رہا ابن خلدون تو وہ خارجیوں کا بھائی معتزلی تھا۔ مولانا عبد الحی فرنگی محلی کے مجموعہ فتاویٰ میں عبد الرحمٰن حضرمی معروف بہ ابن خلدون کے معتزلی ہونے کی صراحت موجود ہے۔ [مجموعۃ الفتاویٰ، ج: 1، ص: 42]
طبری جیسے امامِ وقت کو شیعہ بنا کر نامقبول اور ایک معتزلی کو موثق و ثقہ بنا کر مقبول و معتمد دکھانا اس بات کی روشن دلیل ہے کہ امروہوی صاحب کے نزدیک جو ان کی افتادِ طبع کے موافق ہے وہ محقق، مدقق، صحیح العقیدہ، معتمد سب کچھ ہے اور جو خلافِ طبع ہے وہ کچھ بھی نہیں۔ اسی کا نام تحقیق اور ریسرچ ہے جس کا ڈھنڈورا پیٹا جارہا ہے۔
اس تجزیے سے محمود عباسی کی امانت و دیانت کا راز اچھی طرح منکشف ہو جاتا ہے اور واضح ہو جاتا ہے کہ جس غلط بات پر یہ لوگ اپنا اعتقاد جما لیتے ہیں اسے سچ دکھانے کے لیے کیسی کیسی حیرت انگیز خیانتوں کا ارتکاب کرتے چلے جاتے ہیں۔ مفتی صاحب اس انداز پر ریمارک کرتے ہوئے ایک جگہ بڑا دلچسپ اور دھواں دھار طنز کرتے ہیں۔ وہ رقم طراز ہیں:
“امروہوی صاحب یزید کی محبت میں اس درجہ خود رفتہ ہیں کہ انھیں احادیثِ صحیحہ اور کبار صحابہ و تابعین کے ارشادات تک نظر نہیں آتے۔ آپ نے تحریر کیا ہے کہ ‘یزید کے معاصرین میں صرف عبد اللہ بن زبیر اسے برا بھلا کہتے تھے مگر چونکہ وہ خود آنکھ سے دیکھتے نہیں تھے اس لیے ان کی بات لائقِ اعتبار نہیں۔’ لیکن اس کے برخلاف امروہوی صاحب تیرہ سو برس کے بعد یزید کے فضل و کمال کو اس طرح بیان کرتے ہیں گویا آپ یزید کے ہم نوالہ و ہم پیالہ تھے۔”
خود مشاہدہ نہ کرنے کی وجہ سے اگر عبد اللہ بن زبیر جیسے عظیم صحابی کا بیان ہم عصر ہونے کے باوجود ناقابل اعتبار ہے تو تیرہ سو برس بعد پیدا ہونے والے کا قول اسی بنیاد پر ناقابل اعتبار کیوں نہیں؟ اور اگر تیرہ سو برس پر پھیلے ہوئے وسائط کے باوجود من مانی تحقیق و تفتیش کی بنیاد پر ایک معمولی درجے والے فنکار کا بیان معتبر ہے تو بغیر کسی زمانی فاصلے کے ایک جلیل القدر معاصر صحابی کی قابل اعتماد تحقیق و تفتیش اور یقین و اذعان پر مبنی بیان کیوں قابل اعتبار نہیں؟ یہ ایسی گرفت ہے جس سے آج کے نام نہاد محققین کے لیے گلو خلاصی ممکن نہیں۔
محمود عباسی کے معیارِ تحقیق و اعتبار کا پردہ چاک کرنے کے بعد یزید کی حیثیت واضح فرمائی ہے۔ پہلے یزید کی مذمت پر مشتمل احادیثِ کریمہ کبار صحابہ کرام کے ارشادات کے ساتھ پیش فرمائی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ سرکار صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے ہی بتا دیا تھا کہ میری امت کی بربادی یزید و مروان جیسے نوخیزوں کے ہاتھوں ہوگی۔ بعض احادیث میں نامِ یزید کی صراحت کے ساتھ مذکور ہے کہ یہ اموی شخص امرِ امت میں سب سے پہلا “رخنہ انداز” ہوگا۔ سب سے پہلا “سنت کا بدلنے” والا ہوگا۔ رسول صلی اللہ علیہ وسلم جسے “مبدلِ سنت” بتائیں اسے “متبعِ سنت” کہنا نہایت ناروا جسارت ہے۔ پھر یہ تحریر فرمایا ہے کہ خود اموی خلیفہِ راشد حضرت عمر بن عبد العزیز کے سامنے ایک شخص نے یزید کو “امیر المومنین” کے لقب کے ساتھ ذکر کیا تو انھوں نے اسے تیس کوڑے لگوائے۔ یزید کے ہم عصر حضرت عبد اللہ بن حنظلہ غسیلِ ملائکہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں: “ہم یزید کے خلاف اس وقت صف آرا ہوئے جب ہمیں اندیشہ ہوا کہ کہیں (ہماری سستی اور غفلت کی وجہ سے) ہم پر آسمان سے پتھر نہ برسائے جائیں۔ وہ ایسا شخص تھا جو امہاتِ اولاد اور بیٹیوں بہنوں سے نکاح کرتا، شراب پیتا، نمازیں ترک کرتا۔”
اس کے بعد متعدد روایات سے یزید کا فسق و فجور، واقعہِ حرّہ کے مظالم، یزید کی موت کے بعد اس کے بیٹے معاویہ کا یزید کی برملا مذمت پر مشتمل خطبہ، حضرت حسن بصری کا بیان، امام احمد بن حنبل، علامہ ابن جوزی، سعد الدین تفتازانی کے اقوال ذکر کیے ہیں۔ پھر فرماتے ہیں:
“اگرچہ علمائے محتاطین نے کفرِ یزید کے معاملے میں سکوت فرمایا ہے کہ کفر کے لیے جس درجے کا ثبوت درکار ہے وہ حاصل نہیں لیکن جس بدنصیب کے بارے میں اتنے جلیل القدر ائمہ اور علماء کفر کا فتویٰ دیں اسے لائق فائق زاہد وہی کہے گا جو دینی امور سے غافل و ذاہل ہوگا۔”
پھر حدیثِ پاک:
أَوَّلُ جَيْشٍ مِنْ أُمَّتِي يَغْزُونَ مَدِينَةَ قَيْصَرَ مَغْفُورٌ لَهُمْ
سے یزید کی مغفرت پر استدلال کی خباثتیں ذکر کی ہیں اور شارحینِ حدیث کے جوابات رقم فرمائے ہیں۔ پھر ایک مستقل مضمون میں اس استدلال کا جائزہ لیتے ہوئے اس کے تار و پود بکھیر کر رکھ دیے ہیں، یہ بحث اصل مضمون میں دیکھنے کے لائق ہے اور علمی و تاریخی ہر لحاظ سے قابلِ داد ہے۔ آخر میں لکھتے ہیں:
“خلاصہِ کلام یہ ہے کہ یزید کے بارے میں امت کا اتفاق ہے کہ وہ فاسق و فاجر تھا، امام احمد بن حنبل اور ابن جوزی وغیرہ اسے کافر بھی کہتے ہیں اس پر (نامزد کرکے) لعنت کو بھی جائز فرماتے ہیں۔ یہ بالکل غلط ہے کہ وہ زاہد و عابد تھا۔ تمام تاریخ چھان ڈالیے اس کے زہد و تقویٰ کا ایک واقعہ بھی نہیں ملے گا۔ اگر تھا تو امروہوی صاحب نے اسے نقل کیوں نہیں کیا۔”
اس کے بعد خود محمود عباسی کی بیان کردہ ایک روایت سے ثابت فرمایا ہے کہ وہ زاہد نہ تھا۔ یہاں پاسبان کے تیسرے سوال کا جواب مکمل ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد چوتھے سوال کی طرف رخ فرمایا ہے اور ثابت کیا ہے کہ اپنے برملا فسق و فجور کے باعث وہ خلافت کا اہل تھا نہ اس کی خلافت درست تھی، اسی لیے صحابہ کرام نے اس پر نکیر کی۔ منکر کو بدلنا قول سے بھی ہوتا ہے فعل سے بھی۔ افضل فعل سے بدلنا ہے، صحابہ نے قولاً انکار فرمایا ہے، امام عالی مقام نے فعل سے اس کی مخالفت کی، نواسہِ رسول کے شایانِ شان یہی تھا کہ جو طریقہ افضل ہے اسی پر ان کا عمل ہو۔
اس کے بعد یہ ثابت فرمایا ہے کہ یزید کے مقابلے میں امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ حق پر تھے۔ اور وہ ظلماً شہید کیے گئے۔ اس بارے میں احادیثِ کریمہ اور اَلتَّمْهِيدُ فِي بَيَانِ التَّوْحِيدِ لِأَبِي الشَّكُورِ السَّالِمِيّ کی عبارتیں پیش کر کے فیصلہ رقم کیا ہے۔ اسی پر بس نہیں، آگے ان دلائل کا جائزہ لیا ہے جن سے امام عالی مقام کے خاطی ہونے کا ثبوت پیش کیا گیا ہے۔ یہ بحث بھی خاصی طویل ہے اس لیے وہیں دیکھی جائے۔ آخر میں یہ دکھایا ہے کہ امروہوی صاحب نے اپنے قیاساتِ فاسدہ کو درایت کا نام دے کر ان کے ذریعہ شہادتِ کربلا کے بہت سے مسلمہ جزئیات کا انکار کیا ہے۔ اس سلسلے میں بطور نمونہ ایک جزئیے اور اس کے انکار کے سلسلے میں امروہوی صاحب کی درایت یا قیاس کا بڑا دلچسپ تعاقب کیا ہے جو بہت قابلِ دید ہے:
“امام عالی مقام مکہ معظمہ سے آٹھ ذی الحجہ کو نہیں بلکہ دس ذی الحجہ کو چلے ہیں اور راستے میں تین منزلیں ہیں۔ لہٰذا امام دس محرم کو کربلا میں جلوہ فرما ہوئے؟ اسی دن شہید ہوگئے نہ تین دن کربلا میں قیام رہا نہ تین دن تک پانی بند رہا۔”
اس دعوے کی بنیاد کسی حدیث یا تاریخی کتاب پر نہیں بلکہ اس کے پیچھے یہ قیاس کار فرما ہے جو عوام کے لیے خاصا مغالطہ انگیز اور جذباتی ہے۔ وہ یہ کہ “کیا یہ ممکن تھا کہ امام حج کو چھوڑ کر کوفہ چل دیتے؟ ایسی کیا جلدی تھی؟ یعنی دسویں تاریخ کو حج ہوتا ہے اس لیے ان پر فرض تھا کہ پہلے حج ادا کریں پھر کہیں سفر کریں۔ حج سے فراغت دس ذی الحجہ کو ممکن نہیں اس لیے آٹھ کو روانگی بھی ممکن نہیں۔ اور اس سلسلے کی ساری روایات محض غلط اور افسانہ ہیں۔” اس قیاس کی پردہ دری کرتے ہوئے مفتی صاحب رقم طراز ہیں:
“آپ نے یہاں کتنی ہوشیاری سے کام لیا ہے۔ حضرت امام حجِ فرض ادا فرما چکے تھے۔ حجِ فرض ان کے ذمہ نہیں تھا۔ یہ حج ادا فرماتے تو نفل ہوتا۔ دوسری طرف کوفیوں نے یزیدی استبداد کے ازالے کے لیے ہر ممکن مدد کا یقین دلایا تھا، ایسی صورت میں ازالہِ منکر فرض تھا۔ مُنْيَةُ الْمُصَلِّي پڑھنے والا بھی جانتا ہے کہ نفل پر فرض کی ادائیگی مقدم ہے۔ اگر حضرت امام نے اس اہم فرض کی ادائیگی کے لیے ایک نفل ترک کر دیا تو اس میں کیا گناہ لازم آیا؟”
آگے یہ بھی دکھایا ہے کہ اس قیاسِ فاسد کے برخلاف خود بیانِ امروہوی کی روشنی میں قیاس کا تقاضا یہ ہے کہ پانی بند ہو کیونکہ امروہوی صاحب یہ بھی کہتے ہیں کہ “ابن سعد لڑنا نہیں چاہتا تھا لیکن یزید کی بیعت لینا اس کا مقصدِ نظر تھا۔” ایسی صورت میں قیاس یہ چاہتا ہے کہ پانی بند کر دیا جائے تاکہ امام تنگی سے جاں بلب ہو کر چھوٹے چھوٹے بچوں کو تڑپتے بلکتے دیکھ کر عزیمت چھوڑ کر رخصت پر عمل فرمالیں۔
اس کے آگے جو تعاقب ہے وہ اور زیادہ دلچسپ ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ اس قیاسِ فاسد کا تقاضا تو یہ ہے کہ امام دسویں محرم کو بھی کربلا نہ پہنچے اس لیے کہنا یہ چاہیے کہ نہ دسویں کو شہادت اور کربلا کا پورا قصہ ہی محض ایک افسانہ ہے۔ نہ امام اس تاریخ کو کربلا پہنچے، نہ شہادت ہوئی، نہ وہ سارے واقعات پیش آئے جن سے تاریخ و سیر کی کتابیں بھری ہیں۔ درایت ہو تو ایسی ہو، صرف پانی بند کرنے کا انکار کیا تو کون سا بڑا تیر مار لیا۔ پورا کمال تو جب تھا کہ جس درایت سے پانی بند ہونے کا انکار کیا اسی سے یہ بھی ثابت کر دیتے کہ پورا واقعہِ کربلا ہی محض افسانہ ہے جس کی حیثیت بوستانِ خیال سے زیادہ نہیں۔ شارحِ بخاری لکھتے ہیں:
“اسی طرح آپ نے بڑی طولانی بحث کے بعد یہ ثابت کیا ہے کہ ‘مکے سے کربلا’ تک تین منزلیں ہیں اور دو منزلہ سفر کسی طرح ممکن نہیں، لہٰذا ایک ایک دن میں ایک ایک منزل کے حساب سے تین دن میں تین منزلیں طے کر کے دسویں محرم کو کربلا پہنچے۔”
واقعہ یہ ہے کہ عقل پر محبت یا بغض کا پردہ پڑ جانے کا کوئی علاج نہیں۔ پہلی منزل بستانِ عامر چوبیس میل ہے۔ دسویں ذی الحجہ کو حج کے مراسم ادا کر کے کوئی شخص کسی طرح چوبیس میل طے نہیں کر سکتا۔ امروہوی صاحب کو کیا خبر کہ دسویں ذی الحجہ کو کیا کیا مراسم ہیں۔ دسویں ذی الحجہ کو آفتاب نکلنے سے کچھ پہلے مزدلفہ سے چل کر منیٰ آنا ہے۔ جمرۃ العقبہ پر کنکری مارنا ہے۔ قربانی کرنا ہے۔ حجامت بنوانی ہے۔ پھر مکہ معظمہ جا کر طوافِ زیارت اور صفا مروہ کی سعی کرنی ہے۔ کیا کسی عقل مند آدمی کی سمجھ میں یہ بات آسکتی ہے کہ ایک دن میں مزدلفہ سے چل کر منیٰ آئے، وہاں کے مراسم ادا کر کے پھر مکہ معظمہ گئے، وہاں کے مراسم ادا کرنے کے بعد اتنا وقت بچا کہ حسینی قافلہ چوبیس میل کی مسافت طے کر کے بستانِ عامر پہنچ گیا۔ یقیناً ایسا ممکن نہیں، لہٰذا امروہوی صاحب کی تحقیق کی بنا پر یہ لازم آئے گا کہ امام گیارہ کو مکے سے چلے اور گیارہ کو کربلا جلوہ فرما ہوئے پھر دس کو شہادت کس طرح ہوئی؟
دوسرے یہ کہ 11/12 ذی الحجہ کو کنکریاں مارنا حج کے واجبات سے ہے۔ حج اگرچہ نفل ہو، 11/12 کی رمی واجب ہے۔ امام عالی مقام اگر حج نہ کرتے تو صرف ترکِ نفل لازم آتا۔ اور حج شروع کر کے 11/12 کی رمی چھوڑنے میں ترکِ واجب لازم آئے گا۔ یہ کہاں کی عقل مندی ہوگی کہ ترکِ نفل سے بچنے کے لیے ترکِ واجب کے وبال میں پڑوں؟ لہٰذا آپ کی جغرافیائی ریسرچ کی بنا پر لازم آئے گا کہ امام تیرہویں ذی الحجہ کو مکہ سے روانہ ہوں اور تیرہویں محرم کو کربلا پہنچیں۔”
اس مضبوط گرفت کو پڑھنے کے بعد میں فرطِ مسرت سے جھوم اٹھا۔ اور خدا کا شکر ادا کیا کہ ایک سے ایک نابغۂ تزویر کار انسانی فکر و عقل کو شکار کرنے والے اہلِ باطل اگر موجود ہیں تو ان کے مقابلے کا طلسمِ ہوش ربا توڑنے والے اہلِ حق بھی موجود ہیں۔ یہ تھا حضرت مفتی صاحب کی علمی جلالت سے میرا پہلا تعارف۔
یہ مقالہ کئی لحاظ سے قابلِ تحسین اور باعثِ تاثر بنا۔ اس سے احادیث و روایات پر وسعتِ نظر، تاریخ سے ماہرانہ آشنائی، رجال سے واقفیت، فقہ و افتا کی مہارت، نقد و نظر اور رد و مناظرہ کا کمال، زبان و بیان کی چاشنی، تحریر کا حسن، مخلص الفاظ، پیچیدہ تراکیب سے دوری، معانی کی ثروت اور تعقید سے سلامتی وغیرہ سب کچھ عیاں ہے۔
اس مقالے کو پڑھنے کے بعد مجھے اندازہ ہوا کہ وہ مفتی صاحب جن سے والد صاحب پابندی سے اور احترام کے ساتھ ملتے اور وہ بھی والد صاحب کے ساتھ سادگی اور اعزاز سے پیش آتے، ان کا علمی مرتبہ کیا ہے۔ میں ہی نہیں بلکہ سحبان الہند مولانا ابو الوفا فصیحی غازی پوری بھی اسی مضمون کے ذریعہ مفتی صاحب کی جلالتِ علمی سے آشنا ہوئے اور اس کے بعد ملاقات پر بہت اعزاز و تحسین سے پیش آئے۔ اپنے رفقاء علامہ نظامی و علامہ ارشد القادری وغیرہ کے ذریعہ اور دیگر اہلِ علم سے سن کر اجمالاً وہ بھی مفتی صاحب کو ایک جید عالم سمجھتے تھے مگر مشاہدہ و تجربہ کا لطف اور عین الیقین کی حلاوت کچھ اور ہی چیز ہے۔
(جاری ہے...)
