| عنوان: | شارح بخاری کی جلالت علمی سے میری روشناسی (قسط: دوم) |
|---|---|
| پیش کش: | زینب ظفر |
شنیدہ کے بود مانند دیدہ
اس کے بعد میرے رفیقِ درس مولانا مبین الہدیٰ نورانی گیاوی نے مجھے مفتی صاحب کی کتاب “اشک رواں” عنایت کی۔ یہ میری پیدائش سے چھ سال پہلے ربیع الاول 1365ھ کی تصنیف ہے جو بیت الانوار گیا سے شائع ہوئی۔ اس کا موضوع “کانگریس اور مسلم لیگ کی سیاست” ہے۔ اس موضوع پر حافظِ ملت علیہ الرحمہ کی کتاب “الارشاد” میں پڑھ چکا تھا۔ یہ اشک رواں سے نو دس ماہ بعد شائع ہوئی مگر والد صاحب نے غالباً حافظِ ملت سے اس کے دو نسخے حاصل کر رکھے تھے، اس دور میں انہیں بھی لیگ اور کانگریس کے قضیے سے خاصی دلچسپی تھی۔ کتاب کا خلاصہ یہ ہے کہ لیگ اور کانگریس کوئی بھی اس قابل نہیں کہ پوری ہمنوائی کی جائے۔ سلامتی اسی میں ہے کہ دونوں سے جدا رہ کر شریعت کی پابندی کی جائے۔ یہ بات اشک رواں میں بہت شرح و بسط، دلائل و براہین اور پورے جوش و شباب کے ساتھ بیان کی گئی ہے۔ اس کی تصنیف کے وقت حضرت مفتی صاحب کی عمر تقریباً 23 سال تھی مگر علمی و فکری پختگی کتاب سے عیاں ہے۔ مذاہب سے آشنائی، تاریخ سے باخبری، استنباط و استدلال کا تجربہ، رد و نقد کی مہارت، قلم کی روانی اور جوشِ خطابت کا رنگ بھی اس تحریر میں جلوہ نما ہے، نوجوان فاضلوں میں یہ ساری چیزیں یکجا شاید ہی نظر آتی ہیں۔ اس سے میں نے اندازہ کیا کہ مفتی صاحب اپنے دورِ طالب علمی ہی میں کافی وسیع النظر ہو چکے تھے اور فراغت کے چند سال بعد اور زیادہ کمال پیدا ہو گیا۔
“اشک رواں” کا سیاسی موضوع میرے لیے فکر انگیز تو بنا مگر زیادہ دلچسپی کا باعث نہ ہوا اس لیے کہ تیر کمان سے نکل چکا تھا، دونوں پارٹیاں اپنا اپنا مطلوب بڑی حد تک حاصل کر چکی تھیں اور جس تیسری راہ کے لیے دعوت دی گئی اس پر عمل اور اس کی تیاری کا زمانہ برسوں پہلے ہونا چاہیے تھا پھر کہیں علمائے حق کی قیادت میں صحیح ڈھنگ سے آزادی حاصل ہوتی اور زمامِ اقتدار لائق ہاتھوں میں پہنچتی۔ مگر شاطرانِ فرنگ و یہود کی چالوں میں سے ایک چال یہ بھی ہے کہ انہوں نے علمائے دین کو میدانِ سیاست و حکومت سے بے دخل کرنے اور زمینِ فرنگ کے تربیت یافتہ و دین و علم میں خام کار افراد کو بساطِ سیاست کے مہروں کی شکل میں استعمال کرنے کا منصوبہ تو پہلے تیار کیا اور پچاس سال نہ گزرے ہوں گے کہ اس کے اثرات نمایاں ہونے لگے اور دوسری جنگِ آزادی تک اس منصوبے کا عملی روپ بالکل منظرِ عام پر آگیا۔
میری دلچسپی کی چیز “اشک رواں” کی دینی و علمی بحثیں تھیں۔ ان میں بعض چیزیں میرے لیے بالکل نئی تھیں، مثلاً: یہ تو میں نے سن رکھا تھا کہ کچھ لوگ رام اور کرشن وغیرہ کو نبی مانتے ہیں، جن کو رطب و یابس سب کچھ پڑھ ڈالنے کی عادت تھی اس لیے یہ بھی کہیں نظر سے گزر چکا تھا لیکن اس عقیدے کی بنیادیں کیا ہیں اور ان کے جوابات کیا ہیں، تفصیل سے اس کو کہیں نہ دیکھا تھا۔ اس کتاب میں مسلم لیگ کی حمایت میں پرورش پانے والے فرقوں کے ذیل میں قادیانی، رافضی، وہابی، دیوبندی اور نیچری کا تعارف کراتے ہوئے ایک ایسے طبقے کی بھی نشاندہی کی گئی ہے جو رام اور کرشن وغیرہ کو نبی مانتا ہے۔ پھر اس میں اس طبقے کا استدلال اور اس کا جواب اشک رواں میں تفصیلاً مرقوم ہے۔ یہ حصہ میرے علم میں خاص اضافے کا سبب بنا، اور ایک باطل نظریے کا شافی بخش تعاقب دیکھ کر ایک کیف آمیز مسرت حاصل ہوئی۔ مفتی صاحب لکھتے ہیں:
“کرشن، رام چندر، گوتم بدھ وغیرہم کو نبی اور رسول یا مذہبی رہنما ثابت کرنے کے لیے جو انتہائی کلام کیا جاتا ہے یا کیا جا سکتا ہے وہ یہ ہے کہ مولیٰ عزوجل نے ارشاد فرمایا ہے:
إِنْ مِنْ أُمَّةٍ إِلَّا خَلَا فِيهَا نَذِيرٌ [سورۃ فاطر: 24]
کوئی نہ رہا یا نہیں جس میں کوئی ڈرانے والا نہ گزرا ہو۔ دوسری جگہ ارشاد ہے:
وَلِكُلِّ أُمَّةٍ رَسُولٌ [سورۃ یونس: 47]
ہر امت کے لیے کوئی رسول ہے۔ جب ہر امت اور گروہ میں ہادی اور رسول آئے تو ہندوستان کے لیے بھی ضرور کوئی آیا ہوگا۔ اب وہ کون ہے؟ نہ تو قرآن نے بتایا کہ وہ فلاں ہے اور نہ حدیث نے خبر دی کہ وہ فلاں ہے۔ نہ کسی اور معتبر ذریعے سے پتہ چلتا ہے کہ وہ کون ہے؟ اس لیے ہم کہتے ہیں کہ ہو نہ ہو وہ شری کرشن جی مہاراج ہوں۔ ہو سکتا ہے کہ گوتم بدھ ہوں”۔
اس کے بعد اس استدلال کا بھرپور رد فرمایا جس کا خلاصہ درج ذیل ہے:
-
آیاتِ کریمہ کے اندر ہر امت اور قوم میں ہادی و رسول آنا مذکور ہے۔ ہر ملک یا شہر اور قصبہ میں آنا مذکور نہیں اس لیے ہر ملک میں آنا کوئی ضروری نہیں۔ ہو سکتا ہے کہ اہلِ ہند جس قوم سے تعلق رکھتے ہیں اس میں نبی آ چکے ہوں مگر خاص سرزمینِ ہند میں نہ آئے ہوں۔
-
بالفرض کسی سرزمین میں نبی آئے تو ضروری نہیں کہ ان کا نام بھی ہمیں معلوم ہو؟ قرآن کریم میں ایسے رسولوں کا بھی تذکرہ ہے جن کو قرآن میں بیان کر دیا گیا اور ایسے رسولوں کا بھی جن کا اسماء کے ساتھ بیان نہیں ہوا۔
وَرُسُلًا قَدْ قَصَصْنَاهُمْ عَلَيْكَ مِنْ قَبْلُ وَرُسُلًا لَمْ نَقْصُصْهُمْ عَلَيْكَ [سورۃ النساء: 164]
حدیث میں ایک لاکھ چوبیس ہزار یا دو لاکھ چوبیس ہزار انبیاء علیہم السلام کا آنا مذکور ہے مگر کون ہے جو ان کے نام بتا سکے؟
-
کسی کو نبی ثابت کرنے کے لیے ایسی نصِ قطعی کی ضرورت ہے جس میں کوئی شبہ نہ ہو۔ اور نبی نہ ہونے کے ثبوت میں یہی دلیل کافی ہے کہ اس کے نبی ہونے پر کوئی دلیلِ قطعی قائم نہیں۔ محض ہو سکتا ہے کہ یہ ہو یا شاید کہ وہ ہو، اندھے کی لاٹھی سے نبی کا اثبات نہیں ہو سکتا ہے جبکہ کتبِ عقائد میں اس پر دلائلِ قاہرہ قائم ہیں۔
-
نبی کے لیے ضروری ہے کہ اخلاق و کردار کے لحاظ سے بلند اور ہر قسم کے گناہِ صغیرہ و کبیرہ سے پاک ہو، خصوصاً ایسے گناہوں سے جو باعثِ نفرت ہیں مثلاً: جھوٹ، چوری، زنا کاری۔ امام فخر الدین رازی نے یہاں تک تصریح فرمائی ہے کہ زنا سے نبی کے ماں باپ کا بھی بری ہونا ضروری ہے چہ جائے کہ خود نبی۔ اس معیار پر مذکورہ افراد کو دیکھیے تو ان کے اخلاق و کردار جو ان کی کتابوں میں مذکور ہیں کسی صالح انسان کے بھی لائق نہیں، کسی نبی میں کیا ہوں گے۔ اگر یہ کہیے کہ ان کتابوں کا کوئی اعتبار نہیں تو ہم کہتے ہیں کہ ان افراد کے دنیا میں وجود کا بھی کوئی اعتبار نہیں، نبی ہونا تو بہت دور کی بات ہے، الغرض جن کتابوں سے ان کے وجود کا علم ہوتا ہے انہی سے ان کے ایسے کردار کا بھی علم ہوتا ہے جو شانِ نبوت کے بالکل منافی ہے۔ پھر ان کی نبوت کا ظن و گمان چہ معنی؟
-
ہمارا عقیدہ ہے کہ ہر قوم کے لیے ہادی اور رسول آئے۔ لیکن اس کے یہ معنی نہیں کہ ہر قوم یا ہر ملک و شہر کے لیے ہر دور میں کوئی نبی ضرور رہے ہوں۔ سیدنا عیسیٰ اور ہمارے نبی علیہما السلام کے درمیان تقریباً پانچ سو برس کا زمانہ ایسا گزرا ہے کہ اس میں کوئی نبی نہ آیا۔ ہمارا دوسرا عقیدہ یہ ہے کہ ہمارے نبی کی رسالت ہر ملک اور ہر قوم کے لیے عام ہے، بالفرض کسی قوم یا ملک میں پہلے نبی نہ آئے ہوں تو بھی ہمارے نبی کی بعثتِ عامہ سے ہر قوم کے لیے ہادی و نذیر یا رسول و نبی آنے کی بات پوری ہو جاتی ہے۔ اب ہمیں کوئی ضرورت نہیں کہ آیتِ کریمہ کا مصداق ایسے انسانوں کو بتائیں جن کے وجود ہی کا ہماری شریعت میں کہیں پتہ نہیں۔ اور جن ذرائع سے ان کے وجود کا علم ہوتا ہے ٹھیک انہی ذرائع سے اس کا بھی یقین ہوتا ہے کہ یہ اپنے اعتقاد و عمل کے لحاظ سے شانِ نبوت سے بہت دور ہیں۔
اس کے بعد کردار و عمل سے آگے ان کے کفری اعتقاد کا ذکر کرتے ہوئے بحث ختم کر دی گئی ہے۔
نیچریوں کے بیان کے تحت سرسید کی وہ عبارت بھی مذکور ہے جس میں بہشت کا مذاق اڑایا گیا ہے، پھر اسی رنگ میں اس کا جواب بھی دیا گیا ہے جو خاص مفتی صاحب کے قلم کا حصہ ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ نقد و نظر، استدلال و استنباط، اور رد و قبول کا جوہر مفتی صاحب کے اندر شروع ہی سے ودیعت تھا جو تجربہ اور امتدادِ زمانہ کے صیقل سے اور زیادہ آبدار و تابناک ہوتا گیا۔ یہ حضرت مفتی صاحب کے وفورِ علم اور نتیجۂ قلم سے میرا دوسرا تعارف تھا۔
1968ء میں جب میں ہدایہ اخیرین، ترمذی شریف، مدارک شریف وغیرہ پڑھ رہا تھا، سیوان کانفرنس منعقد ہوئی جو بعد میں ادارۂ شرعیہ کے قیام کی تمہید بنی۔ اس میں شرکت کے لیے میرے رفقائے درس میں سے مولانا فضلِ حق غازی پوری اشرفیہ سے گئے۔ واپسی میں وہاں سے “اشرف السیر” ساتھ لائے۔ اس کے ٹائٹل کی زیارت تو گھوسی میں سرکار مجاہدِ ملت کی تقریر کے دوران ہو چکی تھی مگر مندرجات دیکھنے کی نوبت نہ آئی۔ رفیقِ موصوف کتاب لائے تو ان سے پہلے میں نے اس کا مطالعہ شروع کر دیا اور ختم کرنے کے بعد ہی واپسی کی۔ اس کے ٹائٹل پر نصفِ اول جلدِ اول مرقوم ہے اس میں بڑا حصہ مقدمہ اور کتبِ سیر کے تعارف پر مشتمل ہے پھر سیرت کا آغاز ہوتا ہے اور اسلاف و آباء و اجداد و امہاتِ رسولِ اکرم پر یہ نصف جلدِ اول اختتام پذیر ہوتا ہے۔ سوئے اتفاق کہ اس وقت کتاب پیشِ نظر نہیں لیکن پہلے پہل میں اس کے جن مندرجات سے زیادہ متاثر ہوا وہ اجمالاً عرض کر سکتا ہوں۔
مقدمے میں سیرۃ النبی کی خامیوں کا تذکرہ اور امام واقدی پر جرح کا تفصیلی رد کیا گیا ہے جو دار المصنفین کی سیرت نگاری پر سر دھننے والوں کے لیے تازیانۂ عبرت ہے۔ میں اس مقدمے سے بہت متاثر ہوا۔ اور بعد میں “تنقید معجزات کا علمی محاسبہ” لکھتے وقت اس سے استفادہ بھی کیا اور امام واقدی کے سلسلے میں خطیب بغدادی کی تاریخ، تہذیب التہذیب، تقریب التہذیب وغیرہ کی طرف خود مراجعت کرتے ہوئے کچھ اضافہ بھی کیا۔
دوسرا مبحث تاریخِ ولادتِ اقدس کا ہے۔ جناب شبلی نعمانی نے اس بارے میں ایک نئے ہیئت داں محمود فلکی کی تحریر سے مرعوب ہو کر “كُلُّ جَدِيْدٍ لَذِيْدٌ” سے محظوظ ہو کر بالکل نیا قول یہ اپنایا ہے کہ سرکار کی ولادت 9 ربیع الاول کو ہوئی۔ مفتی صاحب نے اس کا تعاقب کرتے ہوئے یہ ثابت کیا ہے کہ یہ رائے تاریخِ ولادت سے متعلق روایات میں سے کسی روایت سے مطابقت نہیں رکھتی اور اہلِ فن کے تقویمی اخراج سے بھی میل نہیں کھاتی۔ پھر تقویمی اخراج پر بنا اسی وقت درست ہوتی جب زمانۂ جاہلیت میں ماہ و سال کا دور سیرِ قمر کے مطابق ہوتا۔ قرآن سے ثابت ہے کہ مشرکین مہینے بڑھا لیا کرتے تھے یہاں تک کہ سرکار نے حجۃ الوداع کے موقع پر اعلان فرمایا: “آج زمانہ گھوم پھر کر اپنی اس حالت پر آگیا ہے جس پر تخلیقِ زمین و آسمان کے وقت تھا”۔ اس لیے اہلِ سیر نے ہیئت و تقویم سے صرفِ نظر کرتے ہوئے اعتماد اس پر کیا جو روایت مشہور و ثابت ہے یعنی بارہویں ربیع الاول، اور اسی پر اہلِ مدینہ و اہلِ اسلام کا عمل ہے جو بجائے خود حجت ہے۔
مجھے اس بات سے بے حد خوشی ہوئی کہ مستشرقین کے اعتراضات سے مرعوب ہو کر اپنے روایتی و تاریخی اثاثے کو ساقط و بے اعتبار قرار دینے اور معذرت خواہی کا انداز اختیار کرنے کی بجائے مخالفین کی آنکھوں میں آنکھیں ملا کر بات کرنے کی جرأت “اشرف السیر” میں کارفرما ہے۔ جو ایک مسلم سیرت نگار اور دینی عالم کے شایانِ شان ہے۔ یہ تھا حضرت مفتی صاحب کے وفورِ علم، زورِ قلم، جرأت، نقد و نظر اور وسعتِ فکر و فن سے میرا تیسرا تعارف، جو بحمدہٖ تعالیٰ میرے زمانۂ طالبِ علمی ہی میں مکمل ہو گیا۔ اس کے بعد جب میں مدرسہ فیضیہ نظامیہ باہا ہاٹ ضلع بھاگلپور میں مدرس تھا، مفتی صاحب کا ایک فتویٰ روزے میں انجکشن سے متعلق پڑھا۔ یہ میرے رفیقِ درس مولانا عبد المبین نعمانی کے استفتاء کے جواب میں لکھا گیا ہے، برادرِ موصوف نے المیزان کچھوچھہ شریف کے ایک شمارے میں شائع کرایا۔ پھر پاسبان میں بھی چھپا۔ اب یہ فتویٰ برادرِ گرامی مولانا مبین الرحمن مصباحی کی تعارفی کتاب “شارحِ بخاری” میں بھی شائع ہو گیا ہے اور مجموعۂ مقالات میں بھی شامل ہو کر منظرِ عام پر آنے والا ہے۔ انجکشن کے ذریعے اگر دوا یا غذا جسم میں پہنچائی جائے تو روزہ ٹوٹے گا یا نہیں؟ یہ ایک نیا سوال تھا جس کا جواب مفتی صاحب نے نفی میں دیا ہے اور کتبِ فقہ سے اخذ کرتے ہوئے اس کے دلائل فراہم کیے ہیں۔ حضرت کی شانِ افتاء سے یہ میرا پہلا تعارف تھا جس سے میں بہت متاثر ہوا۔
کبھی تقریر سننے کا اتفاق نہیں ہوا تھا، میری فراغت کے تیسرے سال مفتی صاحب دار العلوم اشرفیہ کے جلسۂ دستارِ فضیلت میں مدعو ہوئے اور دو روزہ اجلاس میں دونوں دن تقریر فرمائی، پہلے دن “علمِ غیب” کے موضوع پر تقریر کی جو میں نے دیر سے پہنچنے کے باعث درمیان سے سنی اور دوسرے دن “رحمتِ عالم” کے عنوان پر تقریر کی جو میں نے شروع سے آخر تک بغور سنی، یہاں تک کہ اس کے مضامین ذہن نشین ہوگئے اور کسی یادداشت میں درج بھی کر لیے۔ یہ تھا حضرت کے حسنِ خطابت سے میرا پہلا تعارف۔
تقریر میں چند خاص باتیں میں نے محسوس کیں:
-
عالمانہ وقار۔
-
اعتقادی اور علمی لحاظ سے پختگی۔
-
جملوں اور مضامین کی صحت و ندرت۔
-
مضمون علمی اور مشکل ہونے کے باوجود بہت آسان انداز میں ایسا بیان کہ عوام کو بھی بخوبی سمجھ میں آئے۔
-
ترتیب میں ایسی عمدگی کہ پورا خطاب ذہن نشین رہے اور چاہیں تو اسی ترتیب کے ساتھ سامعین دوسروں کو سمجھا سکیں۔
-
ایسا دلچسپ اور مؤثر خطاب کہ اکتاہٹ نہ ہو۔
-
سطحی و غیر تحقیقی باتوں سے مکمل اجتناب۔
تقریریں کئی طرح کی ہوتی ہیں:
-
ادق اور علمی جن کو اہلِ علم ہی سمجھ سکیں۔
-
سطحی اور دلچسپ جن کو عوام تو پسند کریں مگر اہلِ علم حقارت سے دیکھیں۔
-
غیر تحقیقی باتوں کی کثرت، علمی و تاریخی لحاظ سے غلط، روایات میں اپنی جانب سے بے جا اضافے، الفاظ کے، جملوں کے، مضامین کے، غلط سیاق و سباق کے، جو نہ یہ جو نہ وہ، درمیاں میں اس کی چاشنی اور زور کہ عوام وجد میں آجائیں۔ ایسی تقریروں سے ان خطبا کے کشکول بھرے ہوتے ہیں جنہیں رضائے خدا اور رسول سے زیادہ خوشنودیِ عوام عزیز ہوتی ہے اور ثوابِ آخرت سے زیادہ حطامِ دنیا جمع کرنے کی فکر لگی رہتی ہے۔
-
روایت و درایت اور علم و تحقیق کی رو سے صحیح معلومات کی جامع اور زبان و بیان کے لحاظ سے دلچسپ اور عام فہم جس سے عوام و خواص دونوں نفع اندوز ہوں۔
قسمِ اول کا دائرۂ نفع محدود ہے، قسمِ دوم و سوم کی کثرت ہے۔ ایسی تقریریں اور ایسے خطبا ہر دور میں عوام کے دل و دماغ پر چھائے رہے گرچہ صحیح معنی میں خطاب اور خطابت وہی ہے جو چوتھی قسم کے معیار پر کامل ہو۔ بفضلہٖ تعالیٰ حضرت مفتی صاحب کی تقریر اسی قسم سے تعلق رکھتی ہے، اور نہایت جامع، مفید اور بصیرت افروز ہوتی ہے۔
وہ اعتقادیات پر ایسے ٹھوس دلائل کے ساتھ خطاب فرماتے ہیں کہ بدمذہب کا ایمان درست ہو جائے اور صحیح الاعتقاد شخص راسخ الاعتقاد اور اپنے دین کا مبلغ بن جائے، عملیات پر بھی ایسی مؤثر باتیں پیش کرتے ہیں کہ انسان انہیں اپنا کر صالح و اطاعت شعار ہو جائے۔ علمی تقریبات اور مجمعِ علماء میں بھی ایسا مختصر اور نکات و معارف سے بھرپور خطاب فرماتے ہیں جو ان کے لیے فکر و بصیرت کے نئے دریچے کھول دے اور علم و آگہی کے نئے گوشے روشن کر دے۔
ذَٰلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ [سورۃ الجمعة: 4]
اس کے بعد حضرت کی کتاب “تحقیقات” پہلی بار بنام “التحقیقات لدفع التلبیسات” کی اشاعت ہوئی اس کے مطالعے سے مشرف ہوا، اس میں شہادتِ رسول کی بحث نے بہت متاثر کیا، پھر “اسلام اور جہاد کا سفر” منظرِ عام پر آئی، یہ ایک نئے موضوع پر بڑی ہی بصیرت افروز، معلومات افزا، شبہات شکن کتاب تھی جس نے صرف مجھے ہی نہیں، تمام علمی حلقوں کو متاثر کیا۔
یہ میرے تعارف کے ابتدائی نقوش تھے، بعد میں جب حضرت مبارک پور تشریف لائے اور میں جلال پور سے محمد آباد گوہنہ آیا تو مبارک پور بکثرت حاضری ہوتی اور علمی باتیں بھی ہوتیں۔ اسی دوران نزہۃ القاری کا کام شروع ہوا، ابتدا تو صرف ترجمے کا ارادہ تھا اور اسی نیت پر کافی تحقیق کے ساتھ ترجمے کا کام ہو رہا تھا، مولانا تابش اختر صاحب اور مولانا افتخار احمد صاحب بھی موجود رہتے تھے۔ اس کاوش کو دیکھ کر میں نے یہ عرض کیا کہ احادیث کا صرف ترجمہ عوام کے لیے باعثِ تشویش ہو سکتا ہے جیسا کہ غیر مقلدین اور دیوبندیوں کے ترجمے پڑھنے کے بعد حنفی عوام جب بہت سی باتیں اپنے مسلک کے خلاف پاتے ہیں تو انہیں تشویش لاحق ہوتی ہے۔ جتنی محنت ترجمے کے لیے صرف ہو رہی ہے اس میں تھوڑا اضافہ کر لیا جائے تو ایک مختصر شرح بھی ہو جائے گی اور لوگوں کے لیے اطمینان بخش ہوگی، بحمدہٖ تعالیٰ حضرت نے یہ رائے قبول فرمائی اور نو جلدوں میں “نزہۃ القاری” کے نام سے شرح مکمل ہو گئی جس پر اہلِ علم کا خراجِ تحسین اس مجموعے میں زیبِ نظر ہوگا۔ بلا شبہ یہ زبردست اور عظیم خدمت ہے جس پر سبھی اہلِ علم کو ممنون و شکر گزار ہونا چاہیے۔ رب تعالیٰ ہمیں بھی دینی و علمی خدمات سے نوازے اور حضرت کے نقشِ قدم پر چلنے والے بکثرت افراد پیدا فرمائے، آمین۔
