Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

محرم الحرام کے فضائل|توحید احمد خان رضوی

```html محرم الحرام کے فضائل
عنوان: محرم الحرام کے فضائل
تحریر: توحید احمد خان رضوی
پیش کش: جامعہ تحسینیہ ضیاء العلوم، بریلی شریف
منجانب: تحسینی فاؤنڈیشن، بریلی شریف

```

ارشادِ باری تعالیٰ ہے: “بے شک مہینوں کی گنتی اللہ کے نزدیک بارہ مہینے ہیں اللہ کی کتاب میں جب سے اس نے آسمان اور زمین بنائے ان میں سے چار حرمت والے ہیں۔” ان چار حرمت والوں میں سے ایک ماہِ محرم الحرام بھی ہے جو اسلامی سال کا پہلا مہینہ ہے۔ اسلامی سال کا پہلا ماہ اور آخری ماہ دونوں ہمیں ایثار اور قربانی کا درس دیتے ہیں۔ ذی الحجہ میں جہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی پیش کر کے ہمیں یہ پیغام دیا کہ حکمِ پروردگار کو بجا لانے میں عزیز بیٹے کی قربانی کرنا پڑے تو اس سے بھی گریز نہیں کرنا چاہیے، وہیں اسلامی سال کے پہلے مہینے کی دسویں تاریخ کو نواسۂ رسول، جگر گوشۂ بتول حضرت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنی اور اپنے اہلِ بیت کی قربانی پیش کر کے ہمیں یہ درس دیا کہ کبھی بھی باطل کے آگے سرنگوں مت ہونا، حق کی سربلندی کے لیے قربانیاں دینے سے پیچھے مت ہٹنا۔

یوم عاشورہ

محرم الحرام بہت ہی عظمتوں والا مہینہ ہے، یہ مہینہ اپنے دامن میں بہت سے واقعات سمیٹے ہوئے ہے۔ اسی ماہ کی دسویں تاریخ کو یوم عاشورہ کے نام سے جانا جاتا ہے، اس دن میں خداوند قدوس کی بہت سی قدرتوں اور نشانیوں کا ظہور ہوا۔ اسی دن حضرت آدم علیہ السلام کی توبہ قبول ہوئی، اسی دن حضرت ادریس علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر اٹھائے گئے، اسی دن حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی طوفانِ نوح میں سلامتی کے ساتھ جودی پہاڑ پر پہنچی، اسی دن حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ولادت ہوئی، اسی دن حضرت یونس علیہ السلام مچھلی کے پیٹ سے صحیح سلامت باہر آئے، اسی دن حضرت ایوب علیہ السلام کی تکلیف دور کی گئی، اسی دن حضرت یوسف علیہ السلام کنویں سے نکالے گئے، اسی دن حضرت یعقوب علیہ السلام کی اپنے بیٹے حضرت یوسف علیہ السلام سے ملاقات ہوئی، اسی دن حضرت سلیمان علیہ السلام کو جن و انس پر حکومت عطا ہوئی، اسی دن حضرت موسیٰ علیہ السلام کو فرعون سے نجات حاصل ہوئی اور فرعون اپنے لشکر سمیت دریا میں غرق ہو گیا، اسی دن عرش و کرسی، لوح و قلم، چاند و سورج، زمین و آسمان، جنت اور ستارے بنائے گئے، اسی دن آسمان سے زمین پر سب سے پہلے بارش ہوئی، اسی دن قیامت آئے گی، اسی دن نواسۂ رسول حضرت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ اور آپ کے رفقائے کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے کربلا کے میدان میں تین دن بھوکے پیاسے رہ کر اسلام کی بقاء اور تحفظ کے لیے جامِ شہادت نوش فرمایا۔ [غنیۃ الطالبین]

یوم عاشورہ کی فضیلتوں میں سے ایک فضیلت یہ ہے کہ اس دن اپنے اہل و عیال پر فراخی کرنے سے سال بھر تک رزق میں برکت رہتی ہے جیسا کہ الترغیب والترہیب میں ایک روایت نقل ہے کہ جس نے عاشورہ کے دن اپنے گھر والوں اور اہل و عیال پر وسعت کی، اللہ تعالیٰ اس کے سارے سال میں وسعت اور برکت عطا فرماتا ہے۔ [الترغیب والترہیب، ج: 2]

عاشورہ کا روزہ

حدیث: حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے مروی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ تشریف لائے تو آپ نے یہود کو عاشورہ کے دن روزہ رکھتے دیکھ کر پوچھا کہ تم اس دن روزہ کیوں رکھتے ہو؟ انہوں نے کہا یہ ایسا دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کو فرعون اور اس کی قوم پر غلبہ عطا فرمایا تھا لہٰذا ہم تعظیماً اس دن کا روزہ رکھتے ہیں، اس پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہم موسیٰ علیہ السلام سے تمہاری نسبت زیادہ قریب ہیں، چنانچہ آپ نے بھی اس دن کا روزہ رکھنے کا حکم دیا۔

شب عاشورہ

شب عاشورہ میں عبادت کی بہت فضیلت وارد ہے۔ حضرت مولیٰ علی مشکل کشا رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے عاشورہ کی شب (نو محرم الحرام کا دن گزرنے کے بعد آنے والی رات) کو عبادت کی تو اللہ تعالیٰ جب تک چاہے گا اس کو زندہ رکھے گا۔ [غنیۃ الطالبین]

حضرت سیدنا غوث اعظم دستگیر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ جو شخص شب عاشورہ میں رات بھر عبادت میں مشغول رہے اور صبح کو روزہ رکھے تو اس کو اس طرح موت آئے گی کہ اس کو مرنے کا احساس بھی نہ ہوگا۔ [غنیۃ الطالبین، ص: 427]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!