Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

کیا واقعی میں اسلام میں عورتوں کو مارنے کا حکم دیا گیا ہے؟|محمد اسماعیل ازہری

```html کیا واقعی میں اسلام میں عورتوں کو مارنے کا حکم دیا گیا ہے؟
عنوان: کیا واقعی میں اسلام میں عورتوں کو مارنے کا حکم دیا گیا ہے؟
تحریر: محمد اسماعیل ازہری
پیش کش: شفا اسماعیل
منجانب: امام ماتریدی انسٹی ٹیوٹ، مالیگاؤں

```

ایک مشہور ملحد ہے جو آج کل امریکہ میں رہتا ہے، اس کو ایک مرتبہ میں نے کہتے سنا کہ میں اس کتاب کو خدا کی کتاب نہیں مان سکتا جس میں اس نے اپنی ہی ایک مخلوق کو مارنے کا حکم دیا ہے؟ اس کا اشارہ خواتین کی طرف تھا، جو اپنے آپ میں ان کی توہین ہے!

دراصل مستشرقین و ملحدین کی یہ عادت بہت پرانی ہے کہ وہ سیاق و سباق کو چھوڑ کر، آیات و احادیث کو توڑ مروڑ کر پیش کرتے ہیں اور پھر بددیانتی کا مظاہرہ کچھ یوں کرتے ہیں کہ ان آیات و احادیث کو اپنی منشا و مرضی کے مطابق مفہوم دینے کی کوشش کرتے ہیں، تاکہ ان کے سینے کی وہ آگ ٹھنڈی ہو سکے جو برسوں سے اسلام کے خلاف جل رہی ہے! ان کو لگتا ہے کہ اسلام نے مردوں کو عورتوں کو مارنے اور پیٹنے کی مکمل اتھارٹی دی ہے، جب بھی جس بھی وقت وہ چاہیں انہیں مار سکتے ہیں، وہ اس کے لیے مکمل آزاد ہیں!

یہ بات صحیح ہے کہ قرآن و حدیث میں بعض جگہ عورتوں کے لیے لفظ “ضرب” کا استعمال ہوا ہے، جس کا لغت میں معنی “مارنا” ہوتا ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ قرآن و حدیث میں اگر کوئی لفظ ذکر ہوا ہے تو اسلام میں وہ پسندیدہ ہی ہوگا، بلکہ قرآن میں ذکر تو خنزیر و شراب اور شیطان کا بھی ہوا ہے، تو کیا اس سے کوئی بھی عقلمند یہ معنی نکال سکتا ہے کہ اسلام میں خنزیر و شراب اور شیطان پسندیدہ ہیں؟ لہٰذا اسلام کے نزدیک کسی بھی چیز کے پسندیدہ ہونے کا معیار قرآن و حدیث میں صرف اس کا مذکور ہونا نہیں ہے، بلکہ معیار یہ ہے کہ کس موقع پر اور کس محل میں اس کا ذکر ہوا ہے؟ اس کا سیاق و سباق کیا کہتا ہے؟ بغیر اسے جانے کلامِ خدا و رسول ہی کیا آپ کسی بھی کلام کو جج (Judge) نہیں کر سکتے کہ وہ غلط ہے یا صحیح؟ اس لیے آئیے سیاق و سباق کی روشنی میں دیکھتے ہیں کہ ان آیات و احادیث کا صحیح مطلب کیا ہے جن میں یہ الفاظ وارد ہوئے ہیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

وَاللّٰتِيْ تَخَافُوْنَ نُشُوْزَهُنَّ فَعِظُوْهُنَّ وَاهْجُرُوْهُنَّ فِي الْمَضَاجِعِ وَاضْرِبُوْهُنَّ فَإِنْ أَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوْا عَلَيْهِنَّ سَبِيْلًا [سورۃ النساء: 34]

ترجمہ: “اور جن عورتوں کی نافرمانی کا تمہیں اندیشہ ہو تو انہیں سمجھاؤ اور ان سے الگ سوؤ اور اُنہیں مارو پھر اگر وہ تمہارے حکم میں آجائیں تو اُن پر زیادتی کی کوئی راہ نہ چاہو۔”

اس آیت مبارکہ میں مذکور اگر ہم صرف دو لفظوں کا مطلب سمجھ لیں تو اسی سے یہ سارے بے بنیاد اعتراضات خود بخود رفع ہو جاتے ہیں، ان میں سے ایک ہے “نشوز” یعنی “نافرمانی” اور دوسرا ہے “ضرب” یعنی “مارنا”۔ غلط فہمی یہاں سے پیدا ہوتی ہے کہ آج کل نافرمانی کا مفہوم بعض بد خلق و بد تہذیب مردوں کے عمل سے نکالا جاتا ہے، کہ وہ ذرا ذرا سی بات پر اپنی بیویوں پر ہاتھ اٹھانے لگتے ہیں، اور اسے نافرمانی کے زمرے میں شمار کرتے ہیں، کھانے میں نمک کم یا زیادہ ہو گیا، چاول کچے رہ گئے، یا پھر پکاتے وقت روٹی اور پریس کرتے وقت کپڑا جل گیا، یا گھر سے نکلتے وقت تاخیر ہو گئی، تو ایسے موقعوں پر بعض ناسمجھ مرد اپنی بیویوں کو بے دریغ مارتے ہیں، اور بسا اوقات ان معمولی سی باتوں پر طلاق بھی ہو جاتی ہے!

“نشوز” کا مطلب یہ نہیں ہے جس کو جواز بنا کر ایسے لوگ حد سے آگے بڑھ جاتے ہیں اور مارنے میں حد پار کر دیتے ہیں، بلکہ اگر آیت کے سیاق و سباق کو دیکھیں تو اس میں نیک بیوی کی یہ صفات ذکر کی گئی ہیں کہ وہ شرم گاہ کی حفاظت کرتی ہیں اور اپنے شوہر کا ادب کرتی ہیں۔

فَالصّٰلِحٰتُ قٰنِتٰتٌ حٰفِظٰتٌ لِّلْغَيْبِ بِمَا حَفِظَ اللّٰهُ [سورۃ النساء: 34]

ترجمہ: “تو نیک بخت عورتیں ادب والیاں ہیں خاوند کے پیچھے حفاظت رکھتی ہیں جس طرح اللہ نے حفاظت کا حکم دیا۔” جس سے صاف پتا چلتا ہے کہ نشوز سے مراد یہ ہے کہ ایک خاتون نفس کے بہکاوے میں آ کر اپنے شوہر کے گھر سے جانے کے بعد اپنی شرم گاہ کی حفاظت نہیں کر رہی ہے، یا پھر اپنے شوہر کی طرف سے ہزاروں نعمتیں پانے کے بعد بھی اس کی ناشکری کر رہی ہے، اس کے بنیادی حقوق ادا نہیں کر رہی ہے، تو اب ایسی صورت میں کیا اسلام جو کہ ایک کامل شریعت ہے، جس میں ہر موڑ پر انسانی زندگی کے لیے مکمل رہنمائی ہے، جس میں ہر لمحہ پریوار کی جڑوں کو مضبوط سے مضبوط تر بنانے کی بات کی گئی ہے، کیوں کہ ایک معاشرے کی بھلائی ایک پریوار کی بھلائی پر موقوف ہے، اگر پریوار ہی بکھر گیا تو پھر معاشرے کو بکھرنے سے کوئی نہیں روک سکتا؛ کیا ایسی کامل شریعت ایسے نازک موڑ پر انسان کو بغیر رہنمائی کے چھوڑ دے گی؟ اور خاموش تماشائی بنی ایک پریوار کو ٹوٹتا ہوا دیکھتی رہے گی؟ اسلام نے ایسے موقعے پر اس پریوار کو ٹوٹنے سے بچانے کے لیے انسان کی رہنمائی کی ہے، کہ خدانخواستہ اگر زندگی اس موڑ پر آ جائے کہ اس کی محبوب بیوی اس طرح کی برائیوں اور نافرمانیوں میں مبتلا ہو جائے تو ایسے موقع پر اس انسان کے لیے تین مرحلے بتائے گئے ہیں کہ پہلے تم اسے سمجھاؤ، “فَعِظُوْهُنَّ”! اگر سمجھانے سے بات بن جائے تو اب اس سے آگے نہیں بڑھنا ہے اور پھر بھی اگر وہ نہیں مانتی تو اب اس کے لیے دوسرا مرحلہ بتایا گیا ہے کہ اپنا بستر الگ کر لو، اس سے بات چیت بند کر دو، اس کو نظر انداز کرو “وَاهْجُرُوْهُنَّ”۔ اگر وہ حساس اور محبت کرنے والی ہوگی تو اپنے شوہر کی یہ ناراضگی وہ سہہ نہ سکے گی اور اس کی نافرمانی سے باز آ جائے گی۔ لیکن سوئے قسمت اگر کسی کا پالا کسی ایسی بیوی سے پڑ گیا جسے اپنے شوہر کی اتنی زیادہ ناراضگی سے بھی فرق نہیں پڑتا، تو پریوار کو ٹوٹنے سے بچانے کے لیے شوہر کو یہ اجازت دی گئی ہے کہ وہ اسے عار دلانے کے لیے مار سکتا ہے، تاکہ بیوی کو یہ احساس ہو سکے کہ وہ شوہر جو کل تک مجھ پر جان چھڑکتا تھا آج نوبت یہاں تک آ گئی ہے کہ وہ مجھے مار رہا ہے۔

لیکن یہاں پر یہ غلط فہمی بھی دور ہو جانی چاہیے کہ مارنے سے مراد وہ مارنا نہیں ہے جو آج کل جاہل اور بدتہذیب لوگوں میں عام ہو گیا ہے کہ غصہ آ جائے تو اسے اتنا مارنا کہ لہولہان کر دینا، اسے ڈنڈے سے پیٹنا، اس کے ہاتھ پیر توڑ دینا، اس کے چہرے پر مارنا! یہ سب چیزیں اسلام میں سخت حرام ہیں۔ بلکہ اس سے مراد اس طرح ضرب لگانا ہے کہ اس کے کسی عضو کو چوٹ نہ پہنچے، اسے کوئی زخم نہ لگے اور کوئی جسمانی تکلیف نہ پہنچے۔ اس سلسلے میں حجۃ الوداع کے موقع پر فرمائی گئی نبی انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث پاک ایک منصف دل کی رفاقت میں سماعت کیجیے پھر خود ہی فیصلہ کیجیے کہ آج کے کچھ نام نہاد مسلمانوں کے عمل میں اور نبی انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات میں کس قدر دوری ہے۔ ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے:

أَلَا وَاسْتَوْصُوْا بِالنِّسَاءِ خَيْرًا فَإِنَّمَا هُنَّ عَوَانٌ عِنْدَكُمْ لَيْسَ تَمْلِكُوْنَ مِنْهُنَّ شَيْئًا غَيْرَ ذٰلِكَ إِلَّا أَنْ يَأْتِيْنَ بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ فَإِنْ فَعَلْنَ فَاهْجُرُوْهُنَّ فِي الْمَضَاجِعِ وَاضْرِبُوْهُنَّ ضَرْبًا غَيْرَ مُبَرِّحٍ فَإِنْ أَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوْا عَلَيْهِنَّ سَبِيْلًا أَلَا إِنَّ لَكُمْ عَلَى نِسَائِكُمْ حَقًّا وَلِنِسَائِكُمْ عَلَيْكُمْ حَقًّا

ترجمہ: “عورتوں کے ساتھ حسنِ سلوک کرنے کی میری وصیت قبول کرو، اس لیے کہ عورتیں تمہاری ماتحت ہیں، لہٰذا تم ان سے اس (جماع) کے علاوہ کسی اور چیز کے مالک نہیں ہو، الا یہ کہ وہ کھلی بدکاری کریں، اگر وہ ایسا کریں تو ان کو خواب گاہ سے جدا کر دو، ان کو ضرب لگاؤ، لیکن سخت مار نہ مارو، اگر وہ تمہاری بات مان لیں تو پھر ان پر زیادتی کے لیے کوئی بہانہ نہ ڈھونڈو، تمہارا عورتوں پر حق ہے، اور ان کا حق تم پر ہے۔۔۔” [سنن ابن ماجه، رقم الحديث: 1851]

اس حدیث پاک سے صاف پتا چلتا ہے کہ مقصد انہیں زخمی کرنا یا چوٹ پہنچانا نہیں ہے، بلکہ احساس دلانا ہے۔ اس کی تائید حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی اس روایت سے بھی ہوتی ہے جو مذکورہ آیت کریمہ کی تفسیر میں آپ سے مروی ہے، جس سے صاف پتا چلتا ہے کہ یہ ضرب کتنی ہوگی اور کیسی ہوگی، چنانچہ حضرت عطا رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ایک مرتبہ دریافت کیا کہ “ضَرْبًا غَيْرَ مُبَرِّحٍ” یعنی “ضرب لگاؤ، لیکن سخت مار نہ مارو” سے کیا مراد ہے؟ تو آپ نے فرمایا کہ مسواک یا اس جیسی (کسی ہلکی) چیز سے ضرب لگانا۔ [تفسیر طبری]

اور پھر آخر میں مرد کو یہ سخت تاکید بھی کی جا رہی ہے کہ اگر وہ اس نافرمانی سے باز آ جائے تو اب ہرگز ہرگز اس پر کسی طرح کی کوئی زیادتی نہ کرنا!

فَإِنْ أَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوْا عَلَيْهِنَّ سَبِيْلًا [سورۃ النساء: 34]

ترجمہ: “پھر اگر وہ تمہارے حکم میں آجائیں تو اُن پر زیادتی کی کوئی راہ نہ چاہو۔”

اب اگر اس موقعے پر بھی آ کر کسی بیوی کو اپنے شوہر کی ناراضگی کا احساس نہیں ہوتا اور وہ شوہر کی نافرمانی اور اس کے حقوق کی عدم ادائیگی پر مصر رہتی ہے اور اختلاف کی یہ چنگاری بڑھتی بڑھتی اس قدر بڑھ جاتی ہے کہ اب اگر اس پر قابو نہ پایا گیا تو عنقریب یہ پورے پریوار کو خاکستر کر دے گی تو ایک دوسری آیت میں ایسے موقعے کے لیے قرآن نے پریوار کو بکھرنے سے بچانے کے لیے ایک آخری حل بتایا ہے، کہ جب دونوں میں اتفاق ناممکن سا ہو گیا ہو تو اب دونوں فیملیز سے ایک ایک انصاف پسند صاحبِ رائے کو بلایا جائے جو ان دونوں کو سمجھائے اور انہیں ایک بار پھر محبت و الفت کے ساتھ زندگی گزارنے پر راضی کریں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَابْعَثُوْا حَكَمًا مِّنْ أَهْلِهٖ وَحَكَمًا مِّنْ أَهْلِهَا إِنْ يُرِيْدَا إِصْلَاحًا يُوَفِّقِ اللّٰهُ بَيْنَهُمَا إِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِيْمًا خَبِيْرًا [سورۃ النساء: 35]

ترجمہ: “اور اگر تم کو میاں بیوی کے جھگڑے کا خوف ہو تو ایک منصف، مرد کے گھر والوں کی طرف سے بھیجو اور ایک منصف، عورت کے گھر والوں کی طرف سے (بھیجو) یہ دونوں اگر صلح کرانا چاہیں گے تو اللہ ان کے درمیان اتفاق پیدا کر دے گا۔ بیشک اللہ خوب جاننے والا، خبردار ہے۔”

اور اگر اس پر بھی وہ لوگ راضی نہیں ہوئے اور دونوں میں اختلاف کی خلیج اس قدر بڑھ چکی ہے جس کو بھر پانا دونوں کے لیے مشکل ہوتا جا رہا ہے، تو دونوں کی زندگی میں استقرار لانے کے لیے مرد کو طلاق کا حق دیا اور عورت کو خلع کا! اور طلاق میں بھی اس نکتے کو مدِ نظر رکھا گیا کہ ممکن ہے آج نہیں تو کل دونوں کو کچھ سمجھ آئے اور وہ اپنے فیصلے سے رجوع کر کے دوبارہ ایک ساتھ زندگی گزارنا چاہیں، اس لیے یہ حکم دیا گیا کہ تین الگ الگ پیریڈز میں جب بلیڈنگ بند ہو جائے اور اس کے ناپاکی کے دن گزر جائیں اس وقت ایک ایک کر کے طلاق دی جائے، ایک بار میں تین طلاق نہ دی جائیں، تاکہ اس دوران اگر ان میں اتفاق ہو جاتا ہے تو ان کے لیے واپسی کی ساری راہیں بند نہ ہوں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

يٰأَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوْهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ [سورۃ الطلاق: 1]

ترجمہ: “اے نبی! جب تم لوگ عورتوں کو طلاق دو تو ان کی عدت کے وقت پر انہیں طلاق دو۔” اور دوسری طرف خلع اور فسخ کو بھی طلاقِ بائن کی منزل میں رکھا جس کے بعد اگر وہ دونوں دوبارہ ایک دوسرے کے ساتھ زندگی گزارنا چاہیں تو صرف دوبارہ نکاح کے ذریعے رجوع کر سکتے ہیں!

پریوار کو بچانے کے لیے اسلام نے یہ جو تمام اقدامات بتائے ہیں، ایک مرتبہ رک کر ذرا ان پر غور کیجیے اور دوسری طرف دنیا کے دوسرے مذاہب اور نظام کو دیکھیے پھر خود ہی دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیے: کیا ایسا خوبصورت نظام اور اس طرح کی عظیم تدبیر کا عشرِ عشیر بھی کہیں دیکھنے کو ملتا ہے؟ کیا یہ اس بات کا ثبوت نہیں ہے کہ اسلام ایک مکمل دین ہے اور ایک کامل شریعت ہے اور ایک عالمی مذہب بننے کی اپنے اندر تمام تر خوبیاں رکھتا ہے!

سوال کیا گیا تھا کہ اسلام میں عورتوں کو مارنے کا حکم کیوں دیا گیا؟ آپ نے اس کی پوری تفصیل ملاحظہ کر لی کہ اولاً تو یہ مارنا مطلقاً نہیں ہے، ایک مخصوص حالت میں ہے اور اس پر بھی مارنے کا وہ مشہور مفہوم مراد نہیں ہے جو آج بعض غیر مہذب لوگوں میں رائج ہو گیا ہے! ان تمام تفصیلات کے بعد بھی ایک اور قابلِ لحاظ بات یہاں پر باقی رہ جاتی ہے کہ ایک طرف تو بحالتِ مجبوری ایک استثنائی حالت میں مرد کو ایک مخصوص معنی میں مارنے کی اجازت دی گئی ہے اور دوسری طرف اس اجازت کو بھی مقید کر دیا گیا کہ اگر نصیحت کرنے اور پھر بستر علیحدہ کرنے کے باوجود کسی کی بیوی نافرمانی سے باز نہیں آتی اور وہ اس حالت میں بھی صبر کر لیتا ہے تیسرے مرحلے تک نہیں پہنچتا تو وہ بہترین مرد ہے، اس کی تائید ابو داؤد کی اِس روایت سے ہوتی ہے جس کی روایت اصول حدیث کے اعتبار سے صحیح ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: “لَا تَضْرِبُوْا إِمَاءَ اللّٰهِ” (اللہ کی بندیوں کو مت مارا کرو)۔ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: عورتیں اپنے شوہروں کے سر چڑھنے لگی ہیں۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو مارنے کی رخصت دے دی۔ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں کے پاس عورتیں بہت زیادہ آنے لگیں جو اپنے شوہروں کی شکایت کرتی تھیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے گھر والوں کے پاس عورتیں بہت زیادہ آئی ہیں جو اپنے شوہروں کی شکایت کرتی ہیں۔ ایسے لوگ کوئی اچھے آدمی نہیں ہیں۔” [سنن أبي داود، رقم الحديث: 2146]

اس حدیث پاک میں مذکور آخری الفاظ میں غور کیجیے کہ “ایسے لوگ اچھے آدمی نہیں ہیں۔” جس کی صاف دلالت اس بات پر ہے کہ جو لوگ صبر کر لیتے ہیں اور اپنی بیویوں پر ہاتھ نہیں اٹھاتے وہ اچھے لوگ ہیں۔ دیکھیے ایک طرف تو “وَاضْرِبُوْهُنَّ” کے ذریعے مردوں کو مارنے کی اجازت دی گئی اور دوسری طرف “لَيْسَ أُولٰئِكَ بِخِيَارِكُمْ” “ایسے لوگ کوئی اچھے آدمی نہیں ہیں” کے ذریعے ان کے ہاتھوں کو قید کر دیا گیا۔ بالکل ایسے ہی جیسے “فَانْكِحُوْا مَا طَابَ لَكُمْ مِّنَ النِّسَاءِ مَثْنٰى وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ” کے ذریعے ایک طرف اسے چار شادیوں کی اجازت دی گئی اور دوسری طرف “عدل” کی قید لگا کر ان کے ہاتھوں کو مقید کر دیا گیا۔ تاکہ توازن برقرار رہے اور معاشرہ افراط و تفریط کا شکار نہ ہو جائے، نہ وہ اتنا آزاد ہو جائے کہ اس زمین پر جو چاہے کرتا پھرے، اور نہ اس پر اس طرح کی قید لگائی جائے کہ وہ تنگی محسوس کرے اور فرسٹریشن کا مریض بن جائے!

أَفَحُكْمَ الْجَاهِلِيَّةِ يَبْغُوْنَ وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللّٰهِ حُكْمًا لِّقَوْمٍ يُوْقِنُوْنَ [سورۃ المائدة: 50]

ترجمہ: “تو کیا جاہلیت کا حکم چاہتے ہیں اور اللہ سے بہتر کس کا حکم یقین والوں کے لیے۔”

ظلم ظلم ہوتا ہے چاہے وہ ایک مسلم معاشرے میں ہو یا پھر دوسرے معاشروں میں، لیکن پھر بھی جن کا اپنا دامن ظلم و بربریت و انسانیت سوزی سے داغ دار ہو وہ دوسروں کے دامن پر چھینٹے نہیں اچھالا کرتے، لیکن یہاں پر تو ہم دیکھ رہے ہیں کہ جن کا ماضی و حال عورت پر ظلم و زیادتی کی داستان سے بھرا پڑا ہے، اور جن معاشروں میں عورت صرف ایک جاذب نظر گوشت کا لوتھڑا بن کر رہ گئی ہے، یا جن معاشروں میں عورت کی حیثیت ایک مادی پرزے سے زیادہ کچھ بھی نہیں ہے، وہ آج اسلام پر یہ اعتراض کرتے نہیں تھک رہے کہ اسلام نے عورت پر ظلم کیا ہے!

خانگی تشدد (Intimate Partner Violence - IPV) کے متعلق ایک امریکی سرکاری ادارے CDC (Centers for Disease Control and Prevention) کی رپورٹ کے مطابق: امریکہ میں ہر پانچ قتل کے واقعات میں سے ایک میں قاتل شریکِ حیات ہوتا ہے۔ خواتین کے معاملے میں یہ شرح اور زیادہ ہے۔ امریکہ میں جتنی عورتیں قتل کی جاتی ہیں، اُن میں سے آدھی سے زیادہ اپنے شوہر یا سابق شوہر کے ہاتھوں ماری جاتی ہیں۔ صحت پر بھی اس کے اثرات مرتب ہوتے ہیں: عورتوں (یا مردوں) پر تشدد کے نتیجے میں صرف جسمانی چوٹیں ہی نہیں ہوتیں، بلکہ طویل مدتی بیماریاں بھی پیدا ہوتی ہیں، مثلاً: دل کی بیماریاں، ہڈیوں اور پٹھوں کے درد، نظامِ ہاضمہ (Digestive system) کی خرابیاں، تولیدی نظام (Reproductive system) کے مسائل، اعصابی نظام (Nervous system) پر اثرات، یہ بیماریاں اکثر مزمن (chronic) یعنی دیرپا ہو جاتی ہیں۔ [About Intimate Partner Violence | Intimate Partner Violence Prevention | CDC]

ایک طرف اس معاشرے کے اعداد و شمار ہیں جس کے بارے میں لوگوں کا یہ دعویٰ ہے کہ وہ حقوق نسواں کا سب سے بڑا علم بردار اور محافظ ہے! لیکن یہ کیسا محافظ ہے جہاں پر ایک رپورٹ کے مطابق ہر 15 سیکنڈ پر ایک عورت پر تشدد ہو رہا ہے، ہر سال 18 سال سے زائد عمر کی امریکی خواتین کے خلاف تقریباً 53 لاکھ واقعاتِ تشدد ہوتے ہیں۔ (Every year nearly 5.3 million incidents of IPV occur among U.S. women aged 18 and older.) [Domestic Violence/Intimate Partner Violence Facts | Emory School of Medicine]

وہیں دوسری طرف نبی انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جو جگہ جگہ پر عورتوں کے ساتھ حسنِ سلوک کرنے کی تاکید فرما رہے ہیں: کہیں پر فرما رہے ہیں، میں تمہیں وصیت کر کے جاتا ہوں کہ عورتوں کے ساتھ بھلائی کا معاملہ کرنا۔۔۔ [سنن ابن ماجه، رقم الحديث: 1851] کہیں پر فرما رہے ہیں کہ عورتوں پر (ظلم کرنے میں) اللہ سے ڈرو، انہیں تم نے اللہ کی امانت یعنی عہد اٹھا کر حاصل کیا ہے۔۔۔ انہیں اگر مارنے کی نوبت بھی آ جائے تو وہ مار بہت شدید نہ ہو۔ [سنن أبي داود، رقم الحديث: 1905] کہیں پر فرما رہے ہیں کہ جب تم میں سے کوئی مارے تو چہرے پر نہ مارے۔ [سنن أبي داود، رقم الحديث: 4493] کہیں پر فرما رہے ہیں کہ عورت کو پسلی سے پیدا کیا گیا ہے اگر اس کو سیدھا کرنے کی کوشش کرو گے (یعنی اس پر زیادہ زور دو گے) تو وہ ٹوٹ جائے گی۔۔۔ [مسند أحمد، رقم الحديث: 20093] کہیں پر فرما رہے ہیں تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنی بیویوں کے لیے سب سے بہتر ہو اور میں اپنی بیویوں کے لیے سب سے بہتر ہوں۔ [جامع الترمذي، رقم الحديث: 3895] کہیں پر قرآن کہہ رہا ہے:

وَعَاشِرُوْهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ [سورۃ النساء: 19]

ترجمہ: “اور ان کے ساتھ اچھے طریقے سے گزر بسر کرو۔”

اس کے علاوہ یہ کہ قرآن کو خود صاحبِ قرآن صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ کون سمجھ سکتا ہے؟ اگر یوں ہی مطلقاً عورتوں کو مارنے کا عمومی حکم ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ضرور یہ کام کرتے لیکن آپ نے اپنی پوری زندگی کبھی بھی کسی عورت پر ہاتھ نہیں اٹھایا۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے جو کہ خود آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ ہیں کہ “رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے نہ کبھی کسی خادم کو مارا اور نہ ہی کبھی کسی خاتون کو مارا۔” [صحيح مسلم، رقم الحديث: 2328]

اب آپ خود ہی فیصلہ کیجیے ایسے نبی انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم کو عورتوں پر ظلم کرنے والا اور ایسے مذہب کو عورتوں کی توہین کرنے والا کہنا کیا تاریخ کا سب سے بڑا ظلم اور انصاف کی سب سے گھناؤنی توہین نہیں ہے!؟

خلاصہ

ان سب باتوں کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر عورت نافرمانی پر اتر آئے تو مرد کو مطلقاً مارنے کی اجازت نہیں دی گئی ہے، بلکہ پہلے اسے نصیحت کرے، پھر اپنا بستر الگ کر لے، اور اگر پھر بھی نہیں مانتی تو اسے مارے، لیکن مارنا بھی صرف اسے احساس دلانے کے لیے ہو مسواک وغیرہ سے، اس سے اسے زخمی کر دینا اور ہاتھ پیر توڑ دینا مقصود نہیں ہے۔ اور ایک طرف اسے مارنے کی اجازت دی گئی اور دوسری طرف یہ بھی تعلیم دی گئی کہ اگر اس حالت میں بھی کوئی اپنی بیوی کی جفاؤں پر صبر کر لے اور اس پر ہاتھ نہ اٹھائے تو وہ سب سے بہترین مرد ہے!

اب یہ تو ہو گیا ہماری طرف سے جواب، لیکن ملحدین پر اس بات کا جواب قرض رہے گا، جو ہر دوسری بات پر امریکہ کی اچھائیوں کی مثالیں دیتے ہیں کہ وہاں پر آخر اس قدر آج عورتوں کو رسوا کیوں کیا جا رہا ہے؟ اور آج خواتین اتنی بڑی تعداد میں وہاں پر ظلم و زیادتی کا شکار کیوں ہیں؟

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!