| عنوان: | مفتی احمد یار خاں نعیمی (قسط: اول) |
|---|---|
| تحریر: | محمد توفیق احسن برکاتی مصباحی |
| پیش کش: | نوری کرن |
| منجانب: | امجدی گلوبل اکیڈمی |
مفتی احمد یار خاں نعیمی (قسط: اول)
(1324ھ / 1906ء ۔ 1391ھ / 1971ء)
حضرت علامہ مفتی احمد یار خاں علیہ الرحمہ برصغیر ہند و پاک کی ان مقتدر شخصیتوں میں سے ہیں جن کے دم سے علم و عمل کی بہاریں قائم ہیں اور اپنے پیچھے جنہوں نے عظیم تصنیفی سرمایہ چھوڑا۔ ہمارے نزدیک سب سے زیادہ قابلِ قدر اُن کا وہ خلوصِ عمل اور جذبۂ دل ہے جس نے دین کی خاطر انہیں زندگی بھر متحرک و فعال رکھا۔
وہ تنہا تھے، مگر ان کی گوناگوں خوبیوں اور عظیم کارناموں کے پیشِ نظر بلا جھجک کہا جا سکتا ہے کہ وہ اپنی ذات میں ایک انجمن، ایک فعال اکیڈمی اور ایک زندہ تنظیم کی حیثیت رکھتے تھے۔
ولادت و نسبت
وہ ماہِ شوال 1324ھ / 1906ء میں بمقام اوجھانی ضلع بدایوں (یو پی) پیدا ہوئے۔ اوجھانی ریلوے اسٹیشن بدایوں شہر سے تیرہ کلومیٹر دوری پر واقع ہے۔ اُن کا خاندان یوسف زئی پٹھان قبیلے سے تعلق رکھتا ہے جس کے کچھ افراد غالباً مغل دور میں افغانستان سے ہندوستان آئے تھے۔
اُن کے والدِ گرامی ملا محمد یار خاں بن منور خاں بستی کے معزز شخص تھے۔ دینداری اور نماز و جماعت کی انتہائی پابندی ان کا نشانِ زندگی رہا۔ اپنے گھر ہی پر فارسی کی ابتدائی تعلیم کا مکتب قائم رکھا تھا جس میں بستی کے بچے تعلیم پاتے تھے۔ بہت سے ہندو بھی ان کے شاگرد تھے۔
تعلیم
-
مفتی صاحب نے بھی قرآن مجید، دینیات، فارسی اور درسِ نظامی کی ابتدائی تعلیم اپنے والد ہی سے پائی۔
-
(تقریباً 1335ھ / 1916ء) گیارہ برس کی عمر میں اوجھانی سے نکل کر بدایوں شہر کے مدرسہ شمس العلوم میں داخل ہوئے، وہاں تین سال (1335ھ / 1916ء تا 1338ھ / 1919ء) پڑھتے رہے۔ اُس وقت وہاں علامہ قدیر بخش بدایونی مدرس تھے۔ اسی دوران ایک بار امام احمد رضا قادری بریلوی قدس سرہ کی زیارت کے لیے بریلی شریف حاضری دی، فرماتے ہیں: “میری عمر اُس وقت کوئی دس بارہ کے لگ بھگ ہوگی، اور میں بدایوں میں تھا۔ اُن دنوں 27 رجب قریب تھی، اور اعلیٰ حضرت کے ہاں تقریبِ معراج کی تیاریاں زوروں پر تھیں، آپ اس تقریب کے لیے بڑا اہتمام فرماتے۔ اس مصروفیت کے باعث ہمیں صرف ایک مجلس میں حاضری نصیب ہو سکی جس میں اعلیٰ حضرت کی زیارت کا شرف حاصل ہوا۔” (1)
-
بدایوں کے بعد حضرت مفتی صاحب نے ریاست مینڈھو میں والیانِ ریاست کے قائم کردہ ایک دارالعلوم میں تعلیم حاصل کی۔ مفتی صاحب کے دورِ طالب علمی میں یہ مدرسہ دیوبندی مسلک کا حامل تھا۔ اور اس کے اثرات مفتی صاحب پر بھی مرتب ہوئے تھے۔ مینڈھو ہی کے دورِ طالب علمی سے متعلق خود فرماتے ہیں: “دیوبندی اساتذہ کے پاس ایک عرصہ تک پڑھنے سے میں یہ سمجھنے لگا تھا کہ علمی تحقیق کا کمال تو بس اسی گروہ میں پایا جاتا ہے لیکن جب صدر الافاضل مولانا نعیم الدین صاحب مراد آبادی قدس سرہ سے ملاقات ہوئی، اور انھوں نے مجھے اعلیٰ حضرت کا ایک رسالہ “عَطَایَا الْقَدِیْر فِیْ حُکْمِ التَّصْوِیْر” مطالعہ کے لیے دیا تو میری حیرت کی انتہا نہ رہی۔ جب میں نے مذکورہ رسالے کا مطالعہ کیا تو میں اس کے لکھنے والے کے تبحرِ علمی اور دقتِ نظر کے کمال کا گرویدہ ہو گیا۔ سچ یہ ہے کہ اس رسالے نے میری ذہنی اور اعتقادی دنیا میں انقلاب برپا کر دیا۔” (2)
مینڈھو میں مفتی صاحب کی طالب علمی کا زمانہ قریباً چار برس رہا۔ مفتی صاحب کے والد عقیدةً متصلب سنی تھے، انھیں اس مدرسہ میں اُن کا رہنا پسند نہ ہوا۔ ان دنوں مفتی صاحب کے ایک چچازاد بھائی کی مراد آباد میں ملازمت تھی۔ ایک بار وہ گھر آئے تو مفتی صاحب پر زور ڈالا کہ آپ میرے ساتھ مراد آباد چل کر صدر الافاضل مولانا نعیم الدین صاحب قبلہ سے ملاقات کریں۔ مفتی صاحب ملاقات کے لیے حاضر ہوئے۔
-
صدر الافاضل نے مفتی صاحب سے امتحانی سوالات کیے، اور ان کے صحیح جوابات سے خوش ہوئے۔ پھر مفتی صاحب جامعہ نعیمیہ میں داخل ہو گئے۔ انھیں صدر الافاضل خود درس دیتے۔ مگر صدر الافاضل کی مصروفیات گوناگوں تھیں، جس سے مفتی صاحب کے اسباق کا ناغہ ہونے لگا۔ اسی لیے ایک بار وہ مراد آباد سے چل کھڑے ہوئے۔ صدر الافاضل کو معلوم ہوا تو انھیں واپس بلوایا اور علامہ مشتاق احمد کانپوری کو بلا کر استاذ رکھا۔ موصوف معقولات اور ریاضیات کی تعلیم کے ماہر تھے۔ (5)
تھوڑے عرصے کے بعد علامہ موصوف میرٹھ تشریف لے گئے تو مفتی صاحب صدر الافاضل کی اجازت سے ان کے ساتھ وہیں منتقل ہو گئے، ان کا یہ آخری تعلیمی دور تین برس رہا ہو گا۔ بیس برس کی عمر میں میرٹھ ہی سے سندِ فراغت حاصل کی، حضرت صدر الافاضل نے دستارِ فضیلت باندھی۔ مفتی صاحب کے چچازاد بھائی جناب عزیز خاں مرحوم نے ایک فارسی قطعۂ تاریخ میں ان کا سالِ فراغت فَازَ فَوْزًا عَظِیْمًا مستخرج کیا تھا۔
طرزِ تعلم
مفتی صاحب کا طرزِ تحصیل وہی تھا جو ایک سچے خواستگارِ علم کا ہونا چاہیے۔ آنے والے ہر سبق کا شب میں بڑی محنت و جاں فشانی سے مطالعہ کرتے۔ ایسا بھی ہوتا کہ چراغ کے لیے مدرسہ سے ملا ہوا تیل نصف شب تک ختم ہو جاتا تو وہ گلی میں لگی ہوئی بتی کی روشنی میں جا کر کتاب دیکھتے۔ ایک بار رات کو طلبہ کے شور و غل کے سبب مطالعہ نہ کر سکے، صبح کو سبق سمجھ میں نہ آیا تو مضطرب ہو گئے۔ استاذِ گرامی کو معلوم ہوا تو ان کی قیام گاہ الگ کر دی، اور سبق میں باوضو شرکت کرنے کی ہدایت فرمائی۔ مفتی صاحب نے ہمیشہ اس کی پابندی کی۔
سبق پڑھنے کے بعد تکرارِ سبق کی بھی پابندی کرتے۔ اور اس طرح کہ استاذ کی پوری تقریر رفقائے درس کو سنا دیتے۔ مزید اعتراضات و جوابات بھی پیش کرتے۔ کہیں شبہ ہوتا تو استاذ کی مجلس میں حاضر ہو کر رفعِ شکوک کر لیتے۔ اگر ان کی بیان کردہ بات غلط ثابت ہوتی تو ساتھیوں میں اس کا برملا اعتراف کرتے۔ اس سلسلے میں خود فرمایا کرتے: “میں جب تک اپنی غلطی کا اعتراف نہیں کر لیتا میرے ذہن میں ایک ہیجانی کیفیت برپا رہتی ہے۔” [مقالات مصباحی، ص: 352]
