| عنوان: | مذہب اسلام میں فرقوں کا ظہور |
|---|---|
| تحریر: | طارق انور مصباحی |
| پیش کش: | مفتیہ ام ہانی امجدی |
| منجانب: | امجدی گلوبل اکیڈمی |
خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے عہد میں بہت سے لوگوں نے زکوۃ کا انکار کر دیا۔ ان منکرین زکوۃ کو مرتدین کہا جاتا ہے۔ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ نے مرتدین سے جہاد فرمایا۔ منافقین کے بعد مرتدین اور منکرین زکوۃ کی فرقہ بندیوں نے اہل اسلام کو مصیبتوں میں مبتلا کر دیا۔ خلیفہ سوم حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ کے اخیر زمانہ میں یمن کا ایک یہودی عبداللہ بن سبا (م 34ھ) بظاہر مسلمان بن کر مسلمانوں کے درمیان فتنہ پردازی میں مشغول ہوا، اور اسی کی فتنہ سامانیوں کے سبب حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ کی شہادت کا واقعہ پیش آیا۔ حضرت علی مرتضی اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہما کے مابین اختلاف میں بھی ابن سبا کا اہم کردار تھا۔ یہودی قوم آمد اسلام سے قبل ہی سے اسلام اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے عداوت میں مبتلا تھی۔ آج تک یہود کسی نہ کسی شکل میں اسلام و مسلمین کی بربادی و تباہی کے لیے سازشوں میں مصروف ہے۔
روافض کا وجود
عبداللہ بن سبا کے پھیلائے ہوئے افکار و نظریات کے اثرات بد کے سبب حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے عہد میں روافض کا وجود ہوا۔ عبداللہ بن سبا یہودی نے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی الوہیت کا نظریہ قائم کر دیا تھا۔ حضرت علی مرتضی رضی اللہ تعالی عنہ نے اس کے معتقدین کو آگ میں جلا دیا۔ رفتہ رفتہ روافض (شیعہ فرقہ) مختلف گروہ میں تقسیم ہو گئے۔ یہ لوگ عہد علوی سے آج تک موجود ہیں۔ ایک طویل مدت سے ملک ایران میں شیعوں کی اکثریت ہے۔
خوارج کا آغاز
-
خلیفہ چہارم حضرت علی مرتضی رضی اللہ تعالی عنہ کے عہد میں سال 37ھ میں خوارج کا فتنہ شروع ہوا۔ شیث بن ربعی تمیمی، خوارج کا امیر العساکر اور عبداللہ بن الکواء یشکری، امیر الصلاۃ مقرر ہوا۔ [تاریخ الامم والملوک للطبری، ج: 6، ص: 50 - 35]
-
حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے ان خارجیوں سے جنگ فرمائی۔ [صحیح بخاری، ج: 2، ص: 1024]
-
رفتہ رفتہ خوارج کا نام و نشان مٹ گیا، لیکن خوارج سے متعلق حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا کہ خوارج ہوں گے، پھر ختم ہوں گے، پھر ختم ہوں گے، یہاں تک کہ ان کا آخری حصہ دجال کے ساتھ نکلے گا۔ [سنن النسائی، ج: 2، ص: 156]
-
اب تک خوارج مختلف شکلوں میں رونما ہو چکے ہیں۔ ممکن ہے کہ “وہابیت”، خوارج کی آخری شکل ہو، کیونکہ نجد سے ظاہر ہونے والے فتنوں کا خصوصی ذکر احادیث نبویہ میں وارد ہوا۔ سلفیان عرب رب تعالی کو جسم و جسمانیات سے متصف، عرش پر بیٹھا ہوا تسلیم کرتے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ لوگ دجال کو خدا مان سکتے ہیں۔ واللہ تعالی اعلم بالصواب۔
معتزلہ
دوسری صدی ہجری کے آغاز میں معتزلہ کا وجود ہوا۔ خلافت عباسیہ کے زمانہ میں معتزلہ نے بعض عباسی خلفا کو اپنا ہم عقیدہ بنا لیا اور علمائے اہل سنت و جماعت پر بڑا ظلم ڈھایا۔ علامہ سعد الدین تفتازانی شافعی (722ھ - 792ھ) نے تحریر فرمایا کہ حضرت امام حسن بصری رضی اللہ تعالی عنہ (21ھ - 110ھ) کا شاگرد، واصل بن عطا (80ھ - 131ھ) بعض اسلامی عقائد میں اپنے استاد حضرت حسن بصری کی مخالفت کر کے ان سے جدا ہو گیا۔ واصل بن عطا کے متبعین کا نام “معتزلہ” رکھا گیا۔ [شرح العقائد النسفیہ، ص: 26، جامعہ اشرفیہ مبارکپور]
خوارج کا وجود بہ عہد
چوتھی صدی ہجری میں بعض گمراہ حنابلہ نے خارجیت کی راہ اختیار کی۔ ان میں ایک معروف فرد، قاضی ابو یعلی (م 458ھ) تھا۔ احناف و موالک، شوافع و حنابلہ کی اجتماعی جدوجہد اور کاوش و جانفشانی سے یہ فتنہ بھی ملک عدم کو پہنچا۔ ساتویں صدی ہجری میں وہابیوں کے جد اعلی ابن تیمیہ حرانی (661ھ - 728ھ) نے خارجیت کو سر نو زندہ کر دیا۔ ابن تیمیہ کے بعض تلامذہ اس کے ہم خیال ہو گئے مثلاً ابن عبد الہادی (705ھ - 744ھ)، ابن قیم جوزیہ (691ھ - 751ھ)، ابن کثیر دمشقی (700ھ - 774ھ) وغیرہ۔ ابن تیمیہ کا فتنہ بھی رفتہ رفتہ ختم ہو گیا، پھر ایک طویل مدت تک جمود طاری رہا، تا آنکہ ابن عبد الوہاب نجدی کا ظہور ہوا۔
وہابی فرقہ
بارہویں صدی ہجری میں محمد بن عبد الوہاب نجدی (1115ھ - 1206ھ) نے خارجیت کی تشکیل جدید کی۔ ابن تیمیہ حرانی، ابن قیم جوزیہ (691ھ - 751ھ) و ابن حزم اندلسی (384ھ - 456ھ) کی تصانیف سے خوب استفادہ کیا۔ اس طرح وہابیت، ماقبل کے گمراہ افکار و نظریات کا معجون مرکب بن گئی۔ نجدی نے نجد میں سال 1143ھ میں وہابی مذہب کا اعلان کیا۔ پہلی جنگ عظیم (1914ء تا 1918ء) میں وہابیوں و دیگر عرب حکمرانوں کی غداری کی وجہ سے سلطنت عثمانیہ کو شکست ہوئی، اور عرب میں سعودی حکومت یعنی وہابی حکومت کا قیام ہوا۔
وہابیت ہندوستان میں
اپنے وجود کے 97 سال بعد یعنی 1230ھ میں وہابیت ہند میں داخل ہوئی۔ ہند میں تحریک وہابیت کا داعی اول اسماعیل دہلوی (1193ھ - 1246ھ / 1779ء - 1831ء) ہوا۔ اسماعیل دہلوی کے متبعین میں سے بعض مقلد اور بعض غیر مقلد ہوئے۔ مقلد وہابی کو دیوبندی کہا جاتا ہے۔ “تبلیغی جماعت”، دیوبندیت کی تبلیغ کرنے والی جماعت ہے۔ غیر مقلدین کو اہل حدیث اور سلفی کہا جاتا ہے۔ اسماعیل دہلوی کی فتنہ پروری اور انگریزوں کی سازش کے سبب ہندوستان میں مذہبی افراتفری کا دور شروع ہوا۔ دیوبندی، اہل حدیث، اہل قرآن، مودودی، نیچری وغیر ہا فرقوں نے جنم لیا، اور روز بروز فتنوں کا سلسلہ دراز ہوتا چلا جا رہا ہے۔
تہتر فرقے
حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا کہ امت مسلمہ تہتر فرقوں میں منقسم ہو جائے گی۔ بہت سے فرقے ظہور پذیر ہو چکے ہیں، اور جو باقی ہیں، وہ رفتہ رفتہ ظاہر ہوتے جا رہے ہیں۔ اہل اسلام کو اپنا ایمان محفوظ رکھنا مشکل ہو چکا ہے۔ ہر فرقہ اپنی حقانیت پر قرآن وحدیث سے دلیل پیش کرتا ہے۔ عام مسلمانوں کو حق و باطل میں فرق کرنا مشکل ہو چکا ہے۔ ہر کوئی قرآن و حدیث کے مطالب سمجھنے کی اہلیت کہاں رکھتا ہے۔ اسے جو بتایا جاتا ہے، اسی کو حق سمجھ بیٹھتا ہے۔ ایسی صورت حال میں یہ ضروری ہے کہ مذہب حق کی علامتوں اور نشانیوں سے قوم کو آگاہ کیا جائے، تاکہ حق و باطل کو سمجھنا آسان ہو سکے۔ اس رسالہ میں پانچ نشانیوں سے قوم کو آشنا کیا جا رہا ہے۔ جن کو ایمان اور آخرت کی فکر ہے، وہ پڑھ کر غور و فکر کریں، اور منزل مقصود کا تعین کر لیں۔
وَمَا تَوْفِيقِي إِلَّا بِاللَّهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيمِ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ وَآلِهِ الْعَظِيمِ
