| عنوان: | اسلام کا چودہ سو سالہ سفر (قسط: اول) |
|---|---|
| تحریر: | طارق انور مصباحی |
| پیش کش: | مفتیہ ام ہانی امجدی |
| منجانب: | امجدی گلوبل اکیڈمی |
سال 40ء میں حضور اقدس خاتم الانبیاء والمرسلین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم مکہ معظمہ میں جلوہ گر ہوئے۔ چالیس سال بعد اللہ تعالیٰ کی جانب سے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو اعلان نبوت کا پیغام آیا۔ اب اعلان نبوت کے بعد بار الٰہی میں قابلِ قبول مذہب صرف اور صرف دینِ اسلام ہے۔ یہودی اور عیسائی مذاہب اگرچہ قدیم آسمانی مذاہب میں سے ہیں، لیکن اب اسلام کی آمد اور حضورِ اقدس سرورِ دو جہاں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے اعلانِ نبوت کے بعد وہ تمام مذاہب منسوخ ہو گئے۔ ان آسمانی مذاہب کی آخری مدت مذہبِ اسلام کی آمد تک تھی۔
اب جو دینِ اسلام پر ہے، وہی صراطِ مستقیم پر ہے۔ جو اس دینِ مذہبِ اسلام سے منحرف ہے، وہ صراطِ مستقیم پر نہیں۔ اس کے لیے آخرت میں نجات نہیں۔ اخروی نجات کے لیے مذہبِ اسلام سے وابستہ ہونا ضروری ہے، اور دینِ اسلام کے تمام عقائد کو قبول کرنا ضروری ہے۔ ایسا نہیں کہ بعض عقائد کو قبول کریں اور بعض کا انکار کریں، اور مومن ہونے کا بھی دعویٰ کریں۔
إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللَّهِ الْإِسْلَامُ [سورۃ آل عمران: 19]
ترجمہ: بے شک اللہ کے یہاں اسلام ہی دین ہے۔ (کنز الایمان)
وَمَنْ يَبْتَغِ غَيْرَ الْإِسْلَامِ دِينًا فَلَنْ يُقْبَلَ مِنْهُ وَهُوَ فِي الْآخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِينَ [سورۃ آل عمران: 85]
ترجمہ: اور جو اسلام کے سوا کوئی دین چاہے، وہ ہرگز اس سے قبول نہ کیا جائے گا، اور وہ آخرت میں زیاں کاروں میں سے ہے۔ (کنز الایمان)
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ادْخُلُوا فِي السِّلْمِ كَافَّةً وَلَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُبِينٌ [سورۃ البقرة: 208]
ترجمہ: اے ایمان والو! اسلام میں پورے داخل ہو جاؤ، اور شیطان کے قدموں پر نہ چلو۔ بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔ (کنز الایمان)
منافقین
جب تک حضورِ اقدس شفیعِ محشر صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم مکہ معظمہ میں جلوہ افروز رہے، جب تک تمام اہل اسلام خالص مومن تھے۔ جب اعلانِ اسلام کے تیرہ سال بعد آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم مدینہ منورہ ہجرت فرما ہوئے تو مدینہ منورہ میں مسلمانوں کی دو جماعت ہو گئیں۔
-
ایک جماعت خالص مومنین کی یعنی حضراتِ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین۔
-
دوسری جماعت عبد اللہ بن ابی بن سلول کی تھی، جنہیں منافقین کہا جاتا تھا۔
منافقین کی ذریت آج بھی مختلف شکلوں میں باقی ہے، اور وہ اسلام اور مسلمانوں کے لیے تباہ کن جراثیم کی مانند ہیں۔ جب منافقین حضورِ اقدس خاتمِ پیغمبران صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی صحبت میں رہ کر بھی حقیقی ایمان سے شرفیاب نہ ہو سکے تو ان کے وارثین و تابعین، علمائے کرام کی دعوت و تبلیغ سے کیسے راہِ حق کی جانب آ سکتے ہیں؟ پس اے مسلمانو! اپنے ایمان و عمل کی حفاظت کرو، تمہارے ایمان و عمل کے بارے میں تم سے سوال ہوگا، نہ کہ دوسروں سے۔
