| عنوان: | تہتر فرقوں میں سواد اعظم کون؟ |
|---|---|
| تحریر: | طارق انور مصباحی |
| پیش کش: | مفتیہ ام ہانی امجدی |
| منجانب: | امجدی گلوبل اکیڈمی |
اسلام کے تہتر فرقوں میں وہی جماعت صراط مستقیم پر ہے، جو سواد اعظم ہے، یعنی اہل اسلام (کلمہ گویان اسلام) کی سب سے بڑی جماعت ہے، اور فرقہ ناجیہ کی چند اہم نشانیوں میں سے ایک اہم نشانی اس کا سواد اعظم ہونا ہے۔ حدیث نبوی علی صاحبہ التحیۃ والثناء میں وارد ہونے والے لفظ “السواد الاعظم” کی مختلف تشریحات متقدمین کی تحریروں میں موجود ہیں۔
چونکہ ہر جماعت اپنے موقف پر قرآن و حدیث پیش کرتی ہے، اس لیے عوام الناس شش و پنج میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ ایک عام مسلمان صحیح یا غلط میں کچھ امتیاز نہیں کر پاتا۔ آخر کار جس کی بات اسے پسند آ جاتی ہے، وہ اس کے ساتھ ہو جاتا ہے، لہذا اس رسالہ میں مذہب حق کی وہ علامتیں رقم کی گئی ہیں، جو عام مسلمانوں کی سمجھ میں آ سکیں، اور ان علامتوں کی روشنی میں عوام الناس حق و باطل کا فیصلہ کر سکیں، اور اپنے لیے مذہب حق کا انتخاب ارشادات نبویہ کی روشنی میں کر سکیں۔ دنیا میں آنے کا مقصد آخرت کی تیاری ہے، پس فکر آخرت لازم ہے۔
موت کے بعد ہر ایک کو اپنے ایمان و عمل کا حساب دینا ہے، اور جو کچھ بھی کرنا ہے، وہ دنیا ہی میں ہو سکتا ہے۔ دنیا “دار العمل” (عمل کی جگہ) ہے، اور آخرت “دار الجزاء” (بدلہ کی جگہ) ہے۔ ایمان کے بارے میں قبر ہی میں سوالات ہوتے ہیں۔ اگر صحیح جواب نہ دے سکا تو عذاب قبر جھیلنا ہوگا۔ منکر و نکیر قبر میں آکر مندرجہ ذیل تین سوال کرتے ہیں:
-
مَنْ رَبُّكَ؟ (تیرا رب کون ہے؟)
-
مَا دِينُكَ؟ (تیرا دین کیا ہے؟)
-
مَا كُنْتَ تَقُولُ فِي شَأْنِ هَذَا الرَّجُلِ؟ (تم ان شخص کے بارے میں کیا کہا کرتے تھے؟)
ایمان کا حساب قبر ہی میں ہوتا ہے، جبکہ عمل کا حساب میدان حشر میں ہوگا، اس لیے ایمان کی درستگی کی فکر اولین مرحلہ میں ہونی چاہیے، پھر زندگی کے تمام اعمال کو بھی اسلامی تعلیمات کے مطابق بجا لانا چاہیے۔
کثرت تعداد معیار حقانیت
مذہب اہل سنت و جماعت ہر عہد میں کثیر التعداد رہا۔ تمام باطل فرقوں کی مجموعی تعداد بھی اہل سنت و جماعت کے برابر نہ ہو سکی، پھر انفرادی طور پر کسی ایک باطل فرقہ کی تعداد اہل سنت و جماعت کے برابر کیونکر ہو سکتی ہے؟ عہد حاضر میں پیدا شدہ مغالطہ قلت توجہ کا نتیجہ ہے۔ مابعد صفحات میں ان مغالطوں کے جوابات بھی مرقوم ہیں۔
-
محدث عبد الغنی بن ابو سعید بن صفی عمری مجددی دہلوی (1235ھ - 1296ھ) نے “انجاز الحاجۃ حاشیۃ علی سنن ابن ماجۃ” میں لکھا:
فَعَلَيْكُمْ بِالسَّوَادِ الْأَعْظَمِ أَيْ جُمْلَةِ النَّاسِ وَمُعْظَمِهِمُ الَّذِينَ يَجْتَمِعُونَ عَلَى طَاعَةِ السُّلْطَانِ وَسُلُوكِ النَّهْجِ الْمُسْتَقِيمِ كَذَا فِي الْمَجْمَعِ - فَهَذَا الْحَدِيثُ مِعْيَارٌ عَظِيمٌ لِأَهْلِ السُّنَّةِ وَالْجَمَاعَةِ شَكَرَ اللَّهُ سَعْيَهُمْ فَإِنَّهُمْ هُمُ السَّوَادُ الْأَعْظَمُ وَذَلِكَ لَا يَحْتَاجُ إِلَى بُرْهَانٍ فَإِنَّكَ لَوْ نَظَرْتَ إِلَى أَهْلِ الْأَهْوَاءِ بِأَجْمَعِهِمْ مَعَ أَنَّهُمُ اثْنَانِ وَسَبْعُونَ فِرْقَةً، لَا يَبْلُغُ عَدَدُهُمْ عُشْرَ أَهْلِ السُّنَّةِ [شرح ابن ماجۃ، ص: 283، قدیمی کتب خانہ کراچی]
ترجمہ: پس تم پر سواد اعظم کی پیروی لازم ہے، یعنی مسلمانوں کے مجموعی حصہ اور ان کے بڑے طبقہ کی پیروی لازم ہے جو بادشاہ کی طاعت اور صراط مستقیم پر چلنے پر متفق ہوں۔ اسی طرح “مجمع بحار الانوار” میں ہے، پس یہ حدیث اہل سنت و جماعت کے لیے ایک عظیم معیار ہے۔ اللہ تعالی ان کی کوششوں کا بدلہ عطا فرمائے، اس لیے کہ اہل سنت و جماعت ہی سواد اعظم ہیں اور اس کے لیے کسی دلیل کی ضرورت نہیں، اس لیے کہ اگر تم تمام اہل بدعت کی طرف دیکھو گے تو باوجودیکہ وہ بہتر فرقے ہیں، ان کی تعداد اہل سنت و جماعت کی دہائی (دس فیصد) کو نہ پہنچ پائے گی۔
-
امام اہل سنت امام احمد رضا قادری (1272ھ - 1340ھ) رقمطراز ہیں: “اس دلیل یعنی سواد اعظم کی طرف ہدایت اللہ و رسول جل وعلا وصلی اللہ علیہ وسلم کی کمال رحمت ہے۔ ہر شخص کہاں قادر تھا کہ عقیدہ کتاب و سنت سے ثابت کرے۔ عقل تو خود ہی سمعیات میں کافی نہیں، ناچار عوام کو عقائد میں تقلید کرنی ہوتی، لہذا یہ واضح روشن دلیل عطا فرمائی کہ سواد اعظم مسلمین جس عقیدہ پر ہو، وہ حق ہے، اس کی پہچان کچھ دشوار نہیں۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے وقت میں تو کوئی بد مذہب تھا ہی نہیں اور بعد کو اگرچہ پیدا ہوئے، مگر دنیا بھر کے سب بد مذہب ملا کر کبھی اہل سنت کی گنتی کو نہیں پہنچ سکے۔” [فتاوی رضویہ، ج: 1، ص: 576، رضا اکیڈمی ممبئی]
