| عنوان: | زہر میں گھلتی حیات (قسط: سوم) |
|---|---|
| تحریر: | مفتی ڈاکٹر محمد سبطین رضا مرتضوی |
| پیش کش: | بنت اسلم برکاتی |
یہ حکم عام ہے اور اس میں ہر وہ چیز شامل ہے جو معاشرے میں بے سکونی، اضطراب یا الجھن کا باعث بنے خواہ وہ زبان سے نکلی ہوئی بات ہو یا کسی قسم کا شور۔ اسی طرح روشنی کی آلودگی بھی اس ضمن میں آتی ہے۔ رات کے وقت ضرورت سے زیادہ اور بے جا روشنی کا استعمال نہ صرف قدرتی تاریکی کو ختم کرتا ہے بلکہ انسانوں اور جانوروں کے قدرتی طرز زندگی کو بھی متاثر کرتا ہے۔ یہ نیند میں خلل ڈالتا ہے اور پرندوں و حشرات کی ہجرت اور رہن سہن میں رکاوٹ کا سبب بنتا ہے۔ اگرچہ یہ مسئلہ جدید دور کی پیداوار ہے، تاہم اسلامی تعلیمات کا بنیادی مقصد ہر اس عمل سے بچنا ہے جو مخلوقِ خدا کے لیے نقصان دہ ہو یا ان کی فطری حالت کو بگاڑے۔ ان تمام پہلوؤں سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اسلام صرف انفرادی پاکیزگی اور تزکیہ نفس پر ہی زور نہیں دیتا، بلکہ ایک صحت مند، پرامن اور متوازن معاشرے کے قیام کی بھی ترغیب دیتا ہے۔ دوسروں کو تکلیف نہ دینا صرف اخلاقی ذمہ داری نہیں بلکہ حقوق العباد کا اہم حصہ ہے، جس کا تعلق ماحولیاتی سکون اور پائیداری سے بھی جڑا ہوا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اپنی روزمرہ کی زندگی میں ایسے تمام افعال سے گریز کریں جو ہمارے ارد گرد کے ماحول اور دیگر مخلوقات کے لیے بے سکونی کا باعث بنیں۔
عملی اقدامات: آج اور کل کے لیے
اب وقت آ گیا ہے کہ ہم ان اسلامی تعلیمات کو عملی جامہ پہنائیں۔ ہمیں درخت لگانے چاہئیں، ہر سال لاکھوں کی تعداد میں پودے لگائے جائیں تاکہ دھرتی کے پھیپھڑے دوبارہ سانس لے سکیں۔ پانی کی ہر بوند کو قیمتی سمجھیں، اسے بچائیں اور اس کے استعمال میں احتیاط برتیں۔ بجلی کا کم استعمال کریں اور قابل تجدید توانائی (جیسے شمسی توانائی اور ہوا کی توانائی) کی طرف رخ کریں تاکہ فوسل فیولز پر انحصار کم ہو۔ پلاسٹک سے پرہیز کریں، متبادل اشیا جیسے کپڑے کے تھیلے اور دوبارہ استعمال ہونے والے برتنوں کو اپنائیں۔ کچرے کو ٹھکانے لگانے کے صحیح طریقے اپنائیں اور ری سائیکلنگ کو فروغ دیں۔ حکومتوں کو چاہیے کہ وہ سخت ماحولیاتی قوانین بنائیں، ان پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنائیں اور ماحول دوست منصوبوں کی بھرپور حوصلہ افزائی کریں۔ صنعتوں کو چاہیے کہ وہ منافع کی دوڑ میں ماحول کو قربان نہ کریں بلکہ ماحول دوست ٹیکنالوجیز اور طریقوں کو اپنائیں اور آلودگی پر قابو پائیں۔ تعلیم کے ذریعے لوگوں میں شعور بیدار کیا جائے، بچوں کو ماحولیاتی تحفظ کی اہمیت سکھائی جائے تاکہ وہ مستقبل میں اس دھرتی کے سچے محافظ بن سکیں اور ایک بہتر کل کی بنیاد رکھیں۔ میڈیا کو چاہیے کہ وہ ان مسائل کو اجاگر کرے اور عوام میں بیداری پیدا کرے۔
یہ دھرتی ہمارا گھر ہے، ہماری پناہ گاہ اور ہماری آنے والی نسلوں کا مستقبل۔ اس کا تحفظ ہمارا اولین فرض ہے، اگر ہم نے آج اپنی آنکھیں بند کر لیں، اگر ہم آج بھی بے حس رہے، اگر ہم نے آج بھی عملی اقدامات نہ اٹھائے، تو آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔ ان کا مستقبل تاریک ہو جائے گا، اور ہم اس کے ذمہ دار ہوں گے۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم قدرت کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کریں، اس کے اشاروں کو سمجھیں اور اس کے ساتھ مل کر چلیں، کیونکہ اس کے بغیر نہ تو ہماری بقا ہے اور نہ ہی ہماری آنے والی نسلوں کا کوئی روشن اور محفوظ مستقبل۔ آئیے زہر میں گھلتی اس حیات کو ایک بار پھر سانس لینے کا موقع دیں، اس دھرتی کے نوحے کو ایک خوشگوار نغمے میں بدلنے کا عزم کریں، ایک ایسا نغمہ جو زندگی، حسن اور پائیداری کا لافانی ترانہ ہو۔
