Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
لباب
مستند مضامین و مقالات
لباب کی مستند علمی و تحقیقی تحریریں اب موبائل ایپ میں دستیاب ہیں۔
پلے اسٹور سے انسٹال کریں

امام احمد رضا اور علم عقائد وکلام (تیسری قسط)

امام احمد رضا اور علم عقائد وکلام (تیسری قسط)
عنوان: امام احمد رضا اور علم عقائد وکلام (تیسری قسط)
تحریر: فیضان المصطفیٰ قادری
پیش کش: مہر تاج
منجانب: اقراء القرآن اکیڈمی

ذات و صفاتِ باری تعالیٰ کے متعلق عقائد

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قدس سرہ نے ذات و صفاتِ باری تعالیٰ کے متعلق ضروری عقائد کو اپنے رسالہ ”اعتقاد الاحباب“ میں نہایت ہی مختصر، جامع اور نپے تلے کلمات میں رقم کر دیا ہے۔ فرماتے ہیں:

وہ حضرت حق سبحانہ و تبارک و تعالیٰ شانہ واحد ہے، نہ عدد سے۔ خالق ہے، نہ علت سے۔ فعال ہے نہ جوارح سے۔ قریب ہے نہ مسافت سے۔ ملک (بادشاہ) ہے مگر بے وزیر، والی بے مشیر۔ حیات و کلام و سمع و بصر و ارادہ و قدرت و علم و غیرہا تمام صفاتِ کمال سے ازلاً ابداً موصوف، تمام شیون و شین و عیب سے اولاً و آخراً بری۔ ذاتِ پاک اس کی ند و ضد، شبیہ و مثل، کیف و کم، شکل و جسم و جہت و مکان اور امدِ زمان سے منزہ۔ نہ والد ہے، نہ مولود۔ نہ کوئی شے اس کے جوڑ کی۔ اور جس طرح ذاتِ کریم اس کی مناسبتِ ذوات سے مبرا، اسی طرح صفاتِ کمالیہ اس کی مشابہتِ صفات سے معرا۔ اوروں کے علم و قدرت کو اس کے علم و قدرت سے فقط ع، ل، م، ق، د، ر، ت میں مشابہت ہے، اس سے آگے اس کی تعالی و تکبر کا سراپردہ کسی کو بار نہیں دیتا۔ تمام عزتیں اس کے حضور پست، اور سب ہستیاں اس کے آگے نیست، بقا اس کے وجہِ کریم کے لیے ہے، باقی سب کے لیے فنا، وجودِ واحد، موجودِ واحد، باقی سب اعتبارات ہیں، ذراتِ اکوان کو اُس کی ذات سے ایک نسبتِ مجہولۃ الکیف ہے جس کے لحاظ سے من و تو کو موجود و کائن کہا جاتا ہے، اور اس کے آفتابِ وجود کا ایک پرتو ہے کہ کائنات کا ہر ذرہ نگاہِ ظاہر میں جلوہ آرائیاں کر رہا ہے، اگر اس نسبت و پرتو سے قطع نظر کی جائے تو ہو کا میدان عدمِ بحت کی طرح سنسان، موجود واحد ہے۔ نہ وہ واحد جو چند سے مل کر مرکب ہوا، نہ وہ واحد جو چند کی طرف تحلیل پائے، نہ وہ واحد جو بہ تہمتِ حلول و عینیت اوجِ وحدت سے حضیضِ اثنینیت (دوئی کی پستی) میں اتر آئے۔ آیت کریمہ ﴿سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى عَمَّا يُشْرِكُونَ﴾ جس طرح شرک فی الالوہیت کو رد کرتی ہے، یونہی اشتراک فی الوجود کی بھی نفی فرماتی ہے۔ [ملخصاً رسالہ اعتقاد الاحباب، فتاویٰ رضویہ، جلد: 29، ص: 339 تا 344]

علم کلام کی کتب میں اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات سے متعلق تفصیل سے کلام کیا گیا ہے، مثلاً اس کے واجب الوجود ہونے، اور واحد ہونے پر دلائل، پھر صفاتِ ثبوتیہ اور صفاتِ سلبیہ کے متعلق تفصیلات درج ہیں۔ قرونِ اولیٰ کے بعد ہی سے اللہ تعالیٰ کے جسم و جہت و مکان کے متعلق مختلف نظریات اور توجیہات منظرِ عام پر آئیں، مجسمہ، مشبہ اور معطلہ جیسے فرقوں کی گمراہیوں کی گرم بازاری رہی، جس کا ردِ بلیغ ائمہ اعلام نے اسی دور میں کر دیا۔ مگر دورِ اخیر میں جب وہابیت کا آغاز ہوا، انھوں نے سابقہ گمراہ فرقوں کے باقیات کو نیا روپ دے کر پیش کیا، بلکہ ان کے گمراہ کن استدلال کی کچھ اور ہی اونچی اڑان رہی، پھر ان کی بھرپور خبر لینے کو مشیتِ ایزدی نے مجددِ دین و ملت امام احمد رضا قدس سرہ کو پیدا فرما دیا، جنھوں نے اُن کے گمراہ کن نظریات اور تمام تر شبہات و خرافات کو دلائل قاہرہ کے ذریعہ بیخ و بن سے اکھاڑ پھینکا۔

ان گمراہیوں کا سبب یا تو صفاتِ باری تعالیٰ کے سمندر میں اپنی عقلِ نارسا کے گھوڑے دوڑانا ہے، یا آیاتِ متشابہات میں غور و خوض کرنا ہے، دونوں ممنوع تھا، لہٰذا امام احمد رضا قدس سرہ نے عقیدہ صفاتِ الہی کے متعلق جو تجدیدی کارنامے انجام دیے ان کا آغاز ہم یہیں سے کرتے ہیں کہ آیاتِ متشابہات کے متعلق آپ کے کیا افادات ہیں۔

آیاتِ متشابہات کے متعلق اہلِ سنت کا عقیدہ

امام احمد رضا قدس سرہ باری تعالیٰ کے لیے جسم و مکان و جہت کے رد میں اپنی بے نظیر تصنیف ”قوارع القہار“ میں فرماتے ہیں:
اللہ تعالیٰ نے قرآن ہدایت فرمانے اور آزمانے کو نازل کیا، اور فرمایا اس سے بہتوں کو ہدایت دیتا ہے بہتیروں کو گمراہ کرے، اس ہدایت و ضلالت کا منشا قرآنی آیات کا دو طرح کا ہونا ہے، یعنی محکمات جن کے معنی واضح ہیں، اور متشابہات جن کے معنی واضح نہیں، یا تو ظاہر لفظ سے کچھ سمجھ ہی نہیں آتا جیسے حروف مقطعات، یا جو سمجھ میں آتا ہے وہ اللہ تعالیٰ پر محال ہے جیسے ﴿الرَّحْمَنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوَى﴾. پھر گمراہ لوگ بے علم اور سادہ لوح افراد کو بہکانے کے لیے آیات متشابہات استعمال کرنے لگے کہ دیکھو قرآن میں آیا ہے اللہ عرش پر بیٹھا ہے، عرش پر ٹھہر گیا ہے، اور آیاتِ محکمات کو بھلا دیے۔ قرآن عظیم میں تو استوا وارد ہے جس کا معنی ”چڑھنا بیٹھنا“ ضروری نہیں، اہلِ حق اور راسخین فی العلم جانتے ہیں کہ آیاتِ محکمات سے قطعاً ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ جسم و اعراض، جہت و مکان سے پاک ہے، چڑھنا بیٹھنا مراد ہو تو عرش جو مخلوقِ الہی ہے اس کی طرف اللہ کی حاجت نکلے گی اور وہ ہر حاجت سے پاک ہے، اٹھنا بیٹھنا، چڑھنا، اترنا اجسام کے کام ہیں اور وہ ہر مشابہتِ خلق سے پاک ہے، تو یقیناً ان لفظوں کے جو ظاہری معنی سمجھ میں آتے ہیں وہ مراد نہیں۔ پھر آخر کیا معنی لیں؟

آیاتِ متشابہات میں اہلِ حق کے دو مذاہب کا بیان

  • مسلکِ تفویض: اس سلسلے میں اہلِ حق کے دو مذہب ہیں۔ اکثر حضرات کا مذہب یہ ہے کہ جب ظاہری معنی قطعاً مقصود نہیں اور تاویلی مفہوم متعین و محدود نہیں تو ہم اپنی طرف سے کیا کہیں، بہتر ہے کہ اس کا علم اللہ پر چھوڑ دیں، ہمیں ہمارے رب نے آیات متشابہات کے پیچھے پڑنے سے منع فرمایا، اور تعیینِ مراد میں غور و خوض سے منع فرمایا۔ ہم اُسی قدر پر قناعت کریں جو ہمارے رب نے فرمایا ﴿آمَنَّا بِهِ كُلٌّ مِنْ عِنْدِ رَبِّنَا﴾۔ یہ مذہب جمہور ائمہ سلف کا ہے، اور یہی اسلم و اولیٰ ہے، اسے مسلک تفویض و تسلیم کہتے ہیں۔ ان ائمہ نے فرمایا: استواء معلوم ہے کہ اللہ کی صفت ہے، اس کی کیفیت مجہول ہے، اس پر ایمان واجب ہے اور اس کے متعلق سوال بدعت ہے۔

  • مسلکِ تاویل: دوسرے گروہ کا مذہب یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے محکم متشابہ دو قسمیں فرما کر محکمات کو ام الکتاب کہا اور ظاہر ہے کہ ہر فرع اپنی اصل کی طرف پلٹتی ہے تو آیت کریمہ نے تاویلِ متشابہات کا طریقہ خود بتا دیا، کہ ان میں وہ احتمالات نکالو جس سے وہ اصل کے مطابق ہو جائیں، اور باطل و محال کو راہ نہ ملے، یہ ضرور ہے کہ اپنے نکالے ہوئے معنی پر یقین نہیں کر سکتے کہ اللہ تعالیٰ کی یہی مراد ہے، مگر جب یہ معنی، محکمات کے خلاف نہیں اور عربی استعمال کے اعتبار سے بھی یہ معنی بن سکتے ہیں تو بیان کرنے میں کیا حرج ہے۔ اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ بعض عوام الناس اتنی بات پر قناعت نہیں کر پاتے کہ ہم اس کے معنی میں کچھ نہیں کہہ سکتے، بلکہ جب روکا جائے گا تو خواہ مخواہ فکر کی حرص بڑھے گی پھر فتنے میں پڑنے کا اندیشہ ہوگا، اس لیے بہتر ہے کہ متشابہات کے معنی محکمات کے مطابق معنی کی طرف پھیر دیے جائیں کہ فتنہ و ضلال سے نجات پائیں، یہ مسلک علمائے متاخرین کا ہے، اسے مسلک تاویل کہتے ہیں۔

متشابہات میں چار تاویلات

آیاتِ متشابہات میں علمائے متاخرین چار تاویلات کرتے ہیں:

  1. استواء بمعنی قہر و غلبہ ہے، یعنی عرش سب مخلوقات سے اوپر ہے اس لیے اس پر اللہ تعالیٰ کے قہر و غلبہ کا ذکر فرمایا۔

  2. استواء بمعنی علو ملکیت و علو سلطان ہے، یہ دونوں معنی امام بیہقی نے کتاب الاسماء والصفات میں ذکر کیے ہیں۔

  3. استواء بمعنی قصد و ارادہ۔ یعنی عرش کو پیدا کرنے کا ارادہ فرمایا، یہ تاویل امام ابوالحسن اشعری نے کی ہے۔

  4. استواء بمعنی فراغ و تمامی کار، یعنی سلسلہ خلق کو عرش پر تمام فرمایا، یہ تاویل امام ابن حجر عسقلانی نے ابن بطال سے نقل کی، یہ کلام امام ابو طاہر قزوینی کا ہے۔

اللہ تعالیٰ کا جہت یا عرش پر ہونے میں امام احمد رضا کے ایرادات

ضرب 92: اس میں فرمایا کہ رب عرش پر ہے تو ایک جہت میں ہوا یا آسمان کی طرح ہر جہت سے محیط؟ پہلی شق کئی وجہوں سے باطل ہے:

  • اولاً: قرآن کا ارشاد کہ اللہ تعالیٰ ہر شے کو محیط ہے (القرآن 126/4)۔
  • ثانیاً: ارشاد ہے تم جدھر پھرو تو وہاں اللہ کی ذات ہے (سورۂ بقرہ 115)۔
  • ثالثاً: زمین گول ہے اور پوری دنیا میں مسلمان اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں اور حدیث شریف میں ہے کہ جب نماز پڑھے تو سامنے نہ تھوکے کہ اللہ تعالیٰ اس کے منھ کے سامنے ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ ایک ہی طرف ہے تو ہر حصہ زمین پر نماز پڑھنے والے کے سامنے کیوں کر ہو سکتا ہے؟
  • رابعاً: گمراہوں کے پیشوا ابن تیمیہ وغیرہ نے اللہ تعالیٰ کے جہتِ بالا میں ہونے پر دلیل پیش کی کہ دنیا بھر کے مسلمان دعا کے لیے اپنا ہاتھ سروں کی طرف اٹھاتے ہیں، یہ دلیل جس کو ائمہ کرام نے رد کر دیا اگر ثابت کرے گی تو اللہ عز وجل کا سب طرف سے محیط ہونا، کہ ایک طرف ہوتا تو وہیں کے مسلمان سر کی طرف ہاتھ اٹھاتے جہاں وہ سروں کے مقابل ہے، باقی اطراف کے مسلمان سروں کی طرف کیونکر اٹھاتے، بلکہ سمتِ مقابل کے رہنے والوں پر لازم ہوتا کہ اپنے پاؤں کی طرف ہاتھ بڑھائیں، کہ ان مجسمہ کا معبود ان کے پاؤں کی طرف ہے، حاصل یہ کہ یہ شق ہر طرح باطل ہے۔

دوسری شق کہ وہ ہر جہت سے محیط ہو، اس پر یہ احاطہ عرش کے اندر اندر ہرگز نہ ہوگا، ورنہ استوا باطل ہو جائے گا، ان کا معبود عرش کے اوپر نہ ہوگا، نیچے قرار پائے گا، لاجرم عرش کے باہر سے احاطہ کرے گا، اب عرش ان کے معبود کے پیٹ میں ہوگا، تو عرش اس کا مکان کیوں کر ہو سکتا ہے؟ بلکہ وہ عرش کا مکان ٹھہرا، اور اب عرش پر بیٹھنا بھی باطل ہو گیا، کہ جو چیز اپنے اندر ہو اس پر بیٹھنا نہیں کہہ سکتے، کیا تم یہ کہیں گے کہ تم اپنے دل یا جگر یا طحال پر بیٹھے ہوئے ہو؟ گمراہو! حجۃ اللہ یوں قائم ہوتی ہے۔

ضرب 93: اقول: شرعِ مطہر نے تمام جہان کے مسلمانوں کو نماز میں قبلہ کی طرف منھ کرنے کا حکم فرمایا، یہی حکم دلیل قطعی ہے کہ اللہ عز وجل جہت و مکان سے پاک ہے۔ اگر اس کے لیے طرف و جہت ہوتی تو محض باطل و مہمل ہوتا کہ اصل معبود کی طرف منھ کر کے اس کی خدمت میں کھڑا ہونا چھوڑ کر ایک اور مکان کی طرف سجدہ کرنے لگیں، حالانکہ معبود دوسرے مکان میں ہے۔ بادشاہ کا مجرائی اگر بادشاہ کو چھوڑ کر دیوان خانہ کی کسی دیوار کی طرف منھ کر کے آدابِ مجرا بجا لائے اور دیوار ہی کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑا رہے تو بے ادب مسخرہ کہلائے گا یا مجنون پاگل، ہاں اگر معبود سب طرف سے زمین کو گھیرے ہوتا تو البتہ جہتِ قبلہ مقرر کرنے کی وجہ ہوتی، کہ جب وہ ہر سمت سے محیط ہے تو اس کی طرف منھ تو ہر حال میں ہو گا ہی، ادب کے طور پر ایک سمتِ خاص بنا دی گئی، مگر معبود ایسے گھیرے سے پاک ایسے ہے۔

جسم و جہت و مکان کی حامل نصوص کی توجیہ

قوارع القہار کے پانچویں طمانچہ میں ان تمام نصوص و روایات کے متعلق جن میں جسم و مکان و جہت کے مثل وارد ہوا ان کا حل ذکر کیا جو اہلِ سنت کو یاد رکھنے کا ہے۔ فرماتے ہیں کہ:
جسم و جسمانیات و مکان و جہات و اعضا و آلات اور اس کے مثل جو کچھ وارد ہوا ان میں جو کچھ روایت ضعیف ہیں اور زیادہ وہی ہیں اور صریح تشبیہ انھیں میں ملے گی، انھیں خدا کے موفق بندے جو کے برابر بھی نہیں سمجھتے۔ اور جو روایات صحیح مگر خبر آحاد ہوں وہ بھی اگر متواترات سے موافق المعنی نہ ہوں تو قبول نہیں کرتے، ﴿فان الاحاد لا تفيد الاعتماد في باب الاعتقاد ولو فرضت في أصح الكتب بأصح الاسناد﴾۔ رہ گئے متواترات اور وہ چند ہی ہیں اور وہ بھی مشہور محاوراتِ عرب کے موافق قابلِ تاویل مثلاً: ید، و وجہ، و عین، و ساق، و استواء، و اتیان، و نزول وغیرہا، ان میں تاویل کیجیے تو راہ روشن اور تفویض کیجیے تو سب سے احسن۔ [ملخصاً فتاویٰ رضویہ: 29، صفحہ: 179]

امام احمد رضا کی عبارت کا مفہوم یہ ہے کہ وہ نصوص دو قسم کی ہیں، یا تو عقائد کے متعلق قابلِ قبول نہیں یعنی ظنی ہوں، تو اُن کو اس تعلق سے رد کر دیا جائے گا، یا وہ قابلِ رد نہیں، یعنی نصوص قطعیہ متواترات ہوں، تو اُن میں دو راستے ہیں: یا تو محاوراتِ عرب کے مطابق اس کی تاویل کریں، یا تفویض و تسلیم کی راہ اختیار کریں، یعنی: جو اُس کے ظاہر معنی سمجھ آتے ہیں وہ محال ہے ہرگز مراد نہیں، اور اصل معنی مراد کیا ہے؟ وہ ہمیں نہیں معلوم، وہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے۔ ان نصوص میں ان کے علاوہ کوئی اور صورت نہیں، چنانچہ فرماتے ہیں:

اب ہدایت کی راہ یہ ہے کہ جب آیات و احادیث عرش و کعبہ و آسمان و زمین و ہر موضع و مقام کے لیے وارد ہیں تو اب تین حال سے خالی نہیں، یا تو اُن تمام میں بعض کو ظاہر پر محمول کریں اور بعض میں تفویض و تاویل کریں، یا سب ظاہر پر ہوں، یا سب میں تفویض و تاویل۔ اول ترجیح بلا مرجح، اور اللہ عز وجل پر بلا وجہ حکم لگانا ہے، ثانی عقلاً و نقلاً باطل کہ مکینِ واحد وقتِ واحد میں متعدد مکانات میں نہیں ہو سکتا، تو ہر جگہ ہونا اسی صورت میں بنے گا کہ ہوا کی طرح ہر جگہ بھرا ہو، اور اس سے ناپاک اور باطل بات کیا ہوگی؟، لامحالہ تیسری شق ہی حق ہے، اور آیاتِ استوا سے لے کر یہاں تک کوئی آیت کوئی حدیث اس محال و بیہودہ معنی پر محمول نہیں جو ناقص افہام میں ظاہر الفاظ سے مفہوم ہوتے ہیں، بلکہ ان کے پاکیزہ معانی ہیں جو اللہ عزوجل کے جلال کے لائق ہیں، اور ان کی حقیقی مراد کا علم اللہ عزوجل کو سپرد ہے۔ [ملخصاً قوارع القہار، فتاویٰ رضویہ، جلد: 29، صفحہ: 189]

اللہ تعالیٰ کی صفات کا بیان

علمائے دیوبند نے کذبِ الہی کو ممکن قرار دیا، اور اللہ تعالیٰ کو جھوٹ بولنے پر قادر مانا، جیسا کہ ”براہین قاطعہ“ میں صاف لکھا: ”امکانِ کذب کا مسئلہ اب جدید کسی نے نہیں نکالا، بلکہ قدماء میں اختلاف ہوا ہے کہ آیا خلف وعید جائز ہے...“ الی ان قال: اور امکانِ کذب خلف وعید کی فرع ہے، اور اسماعیل دہلوی نے اس پر رسالہ ”یکروزی“ میں تفصیل کی، اور کذبِ الہی کے ممکن ہونے پر استدلال کیا ہے۔ امام احمد رضا قدس سرہ نے اس کے جواب میں مفصل کتاب تصنیف فرمائی جس کا نام ہے: ”سبحان السبوح عن عیب کذب مقبوح“، اور قائلینِ امکانِ کذبِ الہی کے تمام دلائل کو بیخ و بن سے اکھاڑ پھینکا ہے، جس کے ضمن میں صفاتِ الہی کی بحث سے متعلق بہت اہم علمی مسائل کی نادر تحقیقات آگئی ہیں، یہ رسالہ فتاویٰ رضویہ مترجم کی پندرہویں جلد میں صفحہ 311 سے صفحہ 450 تک پھیلا ہوا ہے۔ ذیل میں ہم اس کتاب کے اہم مباحث کا خلاصہ درج کرتے ہیں:

”اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے“ کا مفہوم

اعلیٰ حضرت قدس سرہ فتاویٰ رضویہ 314/15 پر سبحان السبوح کے مقدمہ میں فرماتے ہیں:
اللہ تعالیٰ کی تمام صفات صفاتِ کمال ہیں، اور جس طرح اللہ تعالیٰ سے صفاتِ کمال کا سلب ممکن نہیں، اسی طرح اُس کے لیے صفاتِ نقص کا ثبوت بھی ممکن نہیں، اور صفت کا بروجہِ کمال ہونا یوں ہے کہ جس قدر چیزیں اس کے تعلق کے قابل ہیں اُن کا کوئی ذرہ اُس کے احاطہ دائرہ سے باہر نہ ہو، یہ مطلب نہیں کہ موجود و معدوم و موہوم کوئی بے تعلق نہ رہے اگرچہ صلاحیتِ تعلق نہ رکھتی ہو۔

  • اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ فَاعْبُدُوهُ﴾ (102/6) یہاں ہر چیز سے صرف حوادث مراد ہیں، قدیم یعنی ذات و صفاتِ الہی مخلوقیت سے پاک ہیں۔
  • دوسری جگہ ارشاد ہے: ﴿إِنَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ بَصِيرٌ﴾ (19/67) وہ ہر چیز دیکھتا ہے، یہ تمام موجوداتِ قدیمہ و حادثہ سب کو شامل ہے مگر معدومات خارج ہیں، دیکھے جانے کی صلاحیت موجود ہی میں ہے معدوم کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔
  • تیسری جگہ ارشاد ہے: ﴿وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ﴾ (120/5) وہ ہر چیز پر قدرت والا ہے۔ یہ موجود و معدوم سب کو شامل بشرطِ حدوث و امکان، کہ واجب و محال لائقِ مقدوریت نہیں۔
  • چوتھی جگہ ارشاد ہے: ﴿وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ﴾ (29/2) وہ ہر چیز کو جانتا ہے۔ یہ واجب و ممکن و قدیم و حادث و موجود و معدوم و موہوم سب کو شامل ہے، جس کے دائرے سے کچھ خارج نہیں۔

ان چاروں مقامات پر ”کل شئی“ ہے، مگر ہر صفت نے اپنے ہی دائرے کی چیزوں کا احاطہ کیا ہے، تو جس طرح اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات کے دائرہ خلق میں نہ آنے سے اللہ کی خالقیت میں نقص نہیں آتا، اسی طرح صفتِ قدرت میں وہ تمام چیزیں جو وجود کے قابل ہوں گی وہ داخل ہوں گی، اور واجبات و محالاتِ عقلیہ شامل نہ ہوں تو اس کی قدرت میں کوئی نقص نہیں آتا۔ اس سے ظاہر ہوا کہ عوام کو بہکانے کے لیے یہ جو کہتے ہیں کہ کذب یا فلاں عیب پر اللہ عز وجل کو قادر نہ مانا تو معاذ اللہ عاجز ٹھہرا اور ﴿إِنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ﴾ کا انکار ہوا، یہ سب عیاری اور بہکانے کی تدبیر ہے۔

کذبِ الہی کے محال ہونے پر اجماع

امتناع کذبِ الہی پر تمام اشعریہ و ماتریدیہ کا اجماع ہے، بلکہ معتزلہ وغیرہ فرقِ باطلہ بھی اس میں اہلِ حق کے ساتھ ہیں۔ اس مقام پر اعلیٰ حضرت نے ”سبحان السبوح“ میں کتبِ کلامیہ سے تیس عبارتیں پیش کر کے ثابت کیا ہے کہ اس مسئلہ میں کسی کا اختلاف نہیں رہا ہے، مثلاً: شرح مقاصد، شرح عقائد نسفیہ، طوالع الانوار، مواقف و شرح مواقف، مسامرہ، تفسیر کبیر للرازی، تفسیر بیضاوی، تفسیر مدارک، تفسیر علامہ ابوالسعود عمادی، تفسیر روح البیان، شرح السنوسیۃ، شرح مواقف للابہری، شرح عقائد جلالی، کنز الفوائد، شرح فقہ اکبر لعلی القاری، مسلم الثبوت، شرح مسلم الثبوت للسہالی، فواتح الرحموت، تفسیر عزیزی۔ چند عبارتیں درج ذیل ہیں:

  • شرح مقاصد میں ہے: الكذب محال باجماع العلماء لان الكذب نقص باتفاق العقلاء وهو على الله تعالى محال. (104/2)
  • شرح عقائد نسفی میں ہے: كذب كلام الله تعالیٰ محال. (صفحہ 71، مطبوعہ دارالاشاعت قندھار)
  • مواقف میں ہے: انه تعالى يمتنع عليه الكذب اتفاقاً اما عند المعتزلة فلان الكذب قبيح وهو سبحانه لا يفعل القبيح واما عندنا فلانه نقص والنقص على الله محال.
  • مسایرہ میں ہے: يستحيل عليه تعالى سمات النقص كالجهل والكذب. (صفحہ 393)
  • فواتح الرحموت میں ہے: اللہ تعالیٰ صادق قطعاً لاستحالة الكذب هناك. (62/1)

اللہ تعالیٰ پر کذب محال ہونے کے دلائل

اس میں اعلیٰ حضرت قدس سرہ نے کذبِ باری کے محال ہونے اور امکانِ کذب کے باطل ہونے پر تیس دلیلیں دی ہیں، جن میں پانچ کتبِ علما سے اخذ کی ہیں اور پچیس دلیلوں کا خود اضافہ فرمایا۔ کتب سے ماخوذ پانچ دلائل یہ ہیں:

  1. دلیل اول: کذب عیب ہے اور ہر عیب باری تعالیٰ کے حق میں محال ہے۔ یہ دلیل اکثر کتب کلامیہ میں مذکور فرمائی گئی۔
  2. دلیل دوم: کذب الہی ممکن ہو تو اسلام پر وہ طعن لازم آئیں گے کہ اٹھائیں نہ اٹھیں، قرآن کریم و وحی حکیم، حشر و نشر و حساب و کتاب و جنت و نار و ثواب و عذاب کسی پر یقین کی کوئی راہ نہ پائیں۔ ممکن وہی ہے جسے وجود و عدم سے یکساں نسبت ہو... خلاصہ یہ کہ جب کذب عقلاً ممکن تو استحالہ عقلی تو تم نے خود نہ مانا، رہا استحالہ شرعی وہ تو دلیل شرع سے مستفاد ہوگا، اور دلائل شرع سب کلامِ الہی کی طرف منتہی، تو جس کلامِ الہی سے کذبِ الہی کا استحالہ ثابت کیجیے پہلے اس کلامِ الہی کے صدق کا وجوبِ شرعی ثابت کیجیے، لاجرم دور یا تسلسل سے چارہ نہیں۔ اب عقلی و شرعی دونوں استحالے اٹھ گئے اور اللہ تعالیٰ کی بات معاذ اللہ زید و عمرو کی سی بات ہو کر رہ گئی۔ ﴿تَعَالَى اللَّهُ عَمَّا يَقُولُونَ عُلُوًّا كَبِيراً﴾۔ یہ دلیل شرح مقاصد سے اخذ کی گئی ہے۔
  3. دلیل سوم: اگر کذبِ باری ممکن ہو تو بندے کا جزوی طور پر اللہ سے اکمل ہونا لازم آئے گا، کیونکہ کسی امرِ واقع کے متعلق ممکن ہے کہ کوئی سچی خبر دے، کوئی جھوٹی خبر دے، تو جو سچی خبر دے گا وہ خاص اس خبر کے متعلق جھوٹی خبر دینے والے سے افضل ہوگا، اگرچہ دیگر ہزاروں وجوہ سے مفضول ہو۔ تو اللہ کے لیے معاذ اللہ کذب ماننے سے کسی خاص امرِ واقع میں یہ صورتِ حال ہو سکتی ہے کہ بندہ افضل ہو اور وہ مفضول، معاذ اللہ رب العالمین، یہ دلیل مواقف و شرح مواقف سے ماخوذ ہے۔
  4. دلیل چہارم: جب اہلِ سنت کے نزدیک اللہ عز وجل کا صدق ازلی تو کذب محال، کہ ہر ازلی ممتنع الزوال، کہ مخالفین بھی اللہ عزوجل کو صادق بالفعل مانتے ہیں... جب وہ صادق ہے اور صدق مشتق قیامِ مبدء کو مستلزم، تو واجب کہ صدق اس کی ذاتِ پاک سے قائم، اور ذاتِ الہی سے قیامِ حوادث محال، تو ثابت کہ صدقِ الہی ازلی ہے۔ اس کا افادہ امام رازی نے فرمایا۔
  5. دلیل پنجم: اگر باری تعالیٰ کذب سے متصف ہو سکے تو اس کا کذب اگر ہوگا تو قدیم ہی ہوگا، کہ اس کی کوئی صفت حادث نہیں۔ اور جو قدیم ہے معدوم نہیں ہو سکتا تو لازم کہ صدقِ الہی محال ہو جائے حالانکہ یہ بالبداہتہ باطل، تو کذب سے اتصاف ناممکن۔ یہ دلیل تفسیر کبیر و مواقف و شرح مقاصد میں ہے۔

ان پانچ دلیلوں کے بعد پچیس دلیلیں اپنی طرف سے اضافہ فرمائیں، جن میں زیادہ تر منطقی اور عقلی استدلالات پر مبنی ہیں۔ تیسویں دلیل کا خلاصہ درجِ ذیل ہے:

﴿وَتَمَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ صِدقاً﴾ سے انوکھا استدلال

تیسویں دلیل میں فرماتے ہیں: ارشادِ الہی ہے: ﴿وَتَمَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ صِدْقاً وَعَدْلاً لَّا مُبَدِّلَ لِكَلِمَاتِهِ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ﴾۔ اس کا مطلب مفسرین نے یہ بتایا کہ کلامِ الہی صدق کے آخری درجے تک پہنچا ہوا ہے۔ صدق کے درجات یہ ہیں:

  • پہلا درجہ: روایات و شہادات میں جھوٹ سے بچے، مگر ہنسی مزاح یا عبث کے طور پر استعمال کرتا ہو۔
  • دوسرا درجہ: لغو و عبث جھوٹوں سے بچے، مگر نظم و نثر میں شاعرانہ خیالات ظاہر کرے جن کا واقعہ سے تعلق نہ ہو۔
  • تیسرا درجہ: ان سے بھی پرہیز کرے، مگر وعظ و تمثیل میں ایسے امور بیان کرے جو حقیقت پر مبنی نہیں، جیسے کلیلہ و دمنہ کی روایتیں۔
  • چوتھا درجہ: ہر قسم کی حکایات سے بچے، مگر سہو و خطا کے طور پر خلافِ واقع حکایت ہو سکتی ہو، یہ درجہ خاص اولیاء اللہ کا ہے۔
  • پانچواں درجہ: اللہ عز وجل سہواً و خطاء بھی صدورِ کذب سے محفوظ رکھے مگر امکانِ وقوعی باقی ہو، یہ درجہ صدیقین کا ہے۔
  • چھٹا درجہ: معصوم من اللہ و مؤید بالمعجزات ہو کہ کذب کا امکانِ وقوعی بھی نہ رہے، مگر نظر بہ نفسِ ذات امکانِ ذاتی ہو، یہ رتبہ حضرات انبیا و مرسلین علیہم الصلاۃ والسلام اجمعین کا ہے۔
  • ساتواں درجہ: کذب کا امکانِ ذاتی بھی نہ ہو، بلکہ محالِ عقلی ہو، یہ انتہائی درجہ صدق ہے، جس کے آگے کوئی درجہ متصور نہیں۔ تو جب قرآن مجید نے رب عز وجل کے صدق کو انتہائی درجے پر قرار دیا تو لازم کہ جس طرح اس سے صدورِ ظلم محال عقلی ہے اسی طرح صدورِ کذب بھی محال عقلی ہو، ورنہ صدقِ الہی غایت تک نہ پہنچا ہوگا، اور اس کے اوپر ایک اور درجہ بھی ہوگا۔

امکان کذب الہی کے دلائل کا رد (تنزیہ سوم: وہابیہ کے دلائل کا رد)

اسماعیل دہلوی نے رسالہ یکروزی میں امکان کذب کے دلائل بیان کیے:

اسماعیل دہلوی کی پہلی دلیل: اگر کذبِ الہی محال ہو اور محال پر قدرت نہیں تو اللہ تعالیٰ جھوٹ بولنے پر قادر نہ ہوگا، حالانکہ اکثر آدمی اس پر قادر ہیں تو آدمی کی قدرت اللہ کی قدرت سے بڑھ گئی، یہ محال ہے، تو واجب کہ اس کا جھوٹ بولنا ممکن ہو۔

  • رد: اولاً: انسان کے اعمال و اقوال اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہیں... یہ بڑا فریب ہے کہ آدمی کا فعل قدرتِ الہی سے جدا مانے، یہ تو معتزلہ کا مذہب ہے۔
  • ثانیاً: انسان خود جھوٹ بولنے پر قادر ہے، اللہ تعالیٰ سے بلوانے پر نہیں... اللہ اپنے کذب پر قادر نہ ہو تو انسان کو اس رب جلیل کے کذب پر کب قدرت تھی؟
  • ثالثاً: محال پر قدرت ماننا اللہ عز وجل کو سخت عیب لگانا ہے... عجز تب لازم آتا ہے جب ایسی چیز پر قدرت نہ ہو جو احاطہ قدرت میں آتی ہو، محال عقلی کے اندر قدرت سے تعلق کی صلاحیت نہیں۔
  • رابعاً: اگر یہ دلیل مان لیں کہ آدمی جو کچھ کر سکے خدا بھی اپنی ذات کے لیے کر سکتا ہے... تو واجب ہوگا کہ خدا بھی یہ کام کر سکے، معاذ اللہ! اگر یہ ممکن ہو تو خدا کے لیے بچہ ہونا ممکن، اور خدا کا بچہ خدا ہی ہوگا تو دو خدا کا امکان ہوا۔
  • خامساً: آدمی کھانا کھاتا ہے، پانی پیتا ہے... خود کو آگ میں یا دریا میں ڈال دے، رافضی وہابی ہو جائے، تمہارے مطابق خدا بھی یہ سب باتیں کر سکتا ہے ورنہ عاجز ہوگا اور عاجز خدا نہیں۔

اسماعیل دہلوی کی دوسری دلیل: عدمِ کذب اللہ تعالیٰ کی صفتِ مدح ہے، بخلاف گونگے اور پتھر کے... کمال یہی ہے کہ ایک شخص جھوٹے کلام پر قادر تو ہو لیکن مصلحت اور حکمت کے تقاضے کے طور پر ایسا نہ کرے۔
رد: اس استدلال کے رد میں ماہرِ علمِ کلام امام احمد رضا قدس سرہ نے تازیانہ کے نام سے رد کے 35 تازیانے لگائے، چند کا خلاصہ درج ذیل ہے:

  • تازیانہ 1: اس دلیل نے تو تمام عقائد تنزیہ و تقدیس کی جڑ کاٹ دی۔ اصولِ اسلام کے ہزاروں عقیدے باطل و بے دلیل ہو گئے... اب باری تعالیٰ کا عاجز، جاہل، احمق ہونا ممکن ہوا۔
  • تازیانہ 2: اس نے باری عز وجل کا نقائص سے ملوث ہونا صرف ممکن نہیں، بلکہ ناقص بالفعل جانا ہے۔
  • تازیانہ 3: صدق کو اللہ عز وجل کے صفاتِ کمالیہ سے کہتا ہے پھر اسے امرِ اختیاری جانتا ہے... اہلِ سنت کے نزدیک صفاتِ باری تعالیٰ واجب لذات ہیں، اختیاری نہیں۔
  • تازیانہ 4: صدقِ الہی اختیاری ہو، اور قرآن عظیم قطعاً اس کا کلامِ صادق تو واجب ہوا کہ قرآن مجید اللہ تعالیٰ کا مقتضائے ذات نہ ہو... تو اُس (اسماعیل دہلوی) کے مطابق قرآن مجید کو مخلوق ماننا لازم آتا ہے۔
  • تازیانہ 5 سے 9 (نقوض): رب عز وجل کا ارشاد ہے: ﴿وَمَا أَنَا بِظَلَّامٍ لِلْعَبِيدِ﴾... تمہاری دلیل کے مطابق باری تعالیٰ کو ظلم پر قادر کہنا ہوگا۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے بیٹا نہ بنانے، بھولنے اور بہکنے سے پاک ہونے پر اپنی مدح فرمائی ہے، تو کیا ان سب نقائص پر قدرت ماننا کمال ہوگا؟
  • تازیانہ 10: صفاتِ مدائح کے درجات مختلف ہیں، بعض اوّلی ہوتے ہیں اور بعض تنزلی۔ باری جل شانہ پر ترکِ نقائص بالقصد واجب الکمال ہونے کی بنا پر ہے نہ کہ امکانِ کذب کی بنا پر۔
  • تازیانہ 11: کسی شئی کا سلب بذاتِ خود ہرگز صفتِ کمال نہیں، بلکہ عیوب و نقائص کا سلب اُس وقت مقام مدح میں آتا ہے جب کسی صفت کمال کے ثبوت پر مبنی ہو۔
  • تازیانہ 14 تا 20: اسماعیل دہلوی کی پیش کردہ مثالیں (گونگا اور پتھر) امتناع بالغیر بھی ثابت نہیں کرتیں، بلکہ وہ عیوب و نقائص پر مبنی ہیں۔
  • تازیانہ 28، 29: ممتنع بالغیر کہنا بھی صریح تناقض ہے، کہ شے ممتنع بالغیر جب ہو سکتی ہے کہ کسی محال بالذات کی طرف منجر ہو۔
  • تازیانہ 30 سے 35: آں جناب کی تحریر سے کذبِ الہی کو واقع ماننا لازم آتا ہے، حالانکہ کلامِ الہی صفت قدیمہ ممتنع الزوال ہے، ورنہ کلامِ الہی کا مخلوق و مقدور ہونا لازم آئے گا۔

(جاری ہے...)

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!