| عنوان: | امام احمد رضا اور علم عقائد و کلام |
|---|---|
| تحریر: | فیضان المصطفیٰ قادری |
| پیش کش: | مہر تاج |
| منجانب: | اقراء القرآن اکیڈمی |
خلفِ وعید کا مسئلہ اور کذبِ الہیٰ کے شبہات کا رد
اللہ تعالیٰ کفر و شرک نہیں بخشے گا مگر اس کے علاوہ گناہوں سے متعلق قرآن کریم کا ارشاد ہے: ﴿إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ﴾۔ اس آیت میں معتزلہ نے صغائر کو خاص کیا اور کبائر کے لیے توبہ کی قید لگائی، جبکہ اہلِ سنت کے نزدیک نص مطلق ہے، لہٰذا حکم بھی مطلق ہے۔ معتزلہ نے اپنی دلیل میں وعید (سزا) پر وارد نصوص پیش کیں، جس کے جواب میں اہلِ سنت نے عفو (معافی) سے متعلق نصوص پیش کیں۔ اس بحث کے دوران بعض حضرات نے کہہ دیا کہ ”خلفِ وعید کرم ہے“۔ شرح عقائد میں اس پر تبصرہ موجود ہے، لیکن اس سے یہ ہرگز مراد نہیں کہ اللہ تعالیٰ معاذ اللہ اپنی بات بدلنے پر قادر ہے، بلکہ یہ اہل سنت کے ہاں ایک علمی بحث ہے۔
مگر وہابیہ نے جب کذبِ الہیٰ کے امکان کی بدعت ایجاد کی، تو انھوں نے اپنی حمایت میں اس ”خلفِ وعید“ کے مسئلے کو سہارا بنایا۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قدس سرہ نے اپنی شہرہ آفاق کتاب ”سبحان السبوح عن عیب کذب مقبوح“ میں اس استدلال کو بیخ و بن سے اکھاڑ پھینکا اور ایسی تحقیقات پیش کیں جو علمِ کلام میں اپنی مثال آپ ہیں۔
خلفِ وعید کی حقیقت اور امکانِ کذب سے دوری
خلفِ وعید کے جواز میں ائمہ کے اختلاف کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ باری تعالیٰ بات کہہ کر پلٹ جائے یا خبر دے کر اسے غلط کر دے۔ جوازِ خلف میں جو اختلاف ہے وہ ”امکانِ عقلی“ کا نہیں، بلکہ ”جوازِ شرعی“ اور ”امکانِ وقوعی“ کا اختلاف ہے۔ اعلیٰ حضرت نے واضح کیا کہ:
- محققین کا مؤقف: جو علما خلفِ وعید کے جواز کے قائل نہیں، وہ آیت ﴿لَا يُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَيَّ﴾ سے استدلال کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک وعید کی خلاف ورزی، قولِ الہیٰ میں تبدل ہے جو محال ہے۔
- مجوزین کا مفہوم: جو علما جوازِ خلف کے قائل ہیں، وہ اسے ”عفو و کرم“ کے معنی میں لیتے ہیں۔ ان کے نزدیک وعید سے مقصود محض تخویف (ڈرانا) ہے، نہ کہ خبرِ صدق، لہٰذا اس میں کذب کا احتمال ہی نہیں رہتا۔
اسمعیل دہلوی اور اس کے ہم نواؤں نے اسے امکانِ کذب کی فرع بنا دیا، حالانکہ کوئی بھی عالمِ دین خلفِ وعید کے جواز سے کذبِ الہیٰ کے جواز کی طرف نہیں گیا، بلکہ سب اس سے بیزار ہیں۔ اعلیٰ حضرت نے اس پر دس قاہر حجتیں قائم کیں، جن میں سے چند کا خلاصہ یہ ہے:
- تمام کتبِ کلامیہ میں کذبِ باری کے محال ہونے پر اجماع ہے۔
- جو علما خلفِ وعید کو جائز مانتے ہیں، وہی کتابوں میں کذبِ الہیٰ کو محال اور کفر قرار دیتے ہیں۔
- خلفِ وعید، عفو و مغفرت کے مساوی ہے، نہ کہ تکذیبِ خبر کے۔
- صاحبِ حلیہ اور دیگر اکابر نے صراحت کی ہے کہ خلفِ وعید سے مراد یہ ہرگز نہیں کہ اللہ جس کے عذاب کی خبر دے اس کا عذاب واقع نہ ہو، یہ اللہ پر قطعاً محال ہے۔
ایمان کا مخلوق ہونا: ایک نزاعِ لفظی
ایمان کے مخلوق یا غیر مخلوق ہونے پر ائمہ کے درمیان جو اختلاف ملتا ہے، وہ حقیقت میں ایک نزاعِ لفظی ہے۔ ایمان اگر ”تصدیقِ قلبی“ (جو بندے کا فعل ہے) کے اعتبار سے ہو تو وہ مخلوق ہے، اور اگر ”اللہ کے کلام اور اُس کی صفتِ کلام“ کے اعتبار سے ہو تو وہ غیر مخلوق ہے۔ ائمہ سلف نے اپنی اپنی مراد پر بات کی، لہٰذا اسے اہل سنت کا اختلاف کہنا جہالت ہے۔
”بندے کی قدرت“ کا احمقانہ استدلال اور اس کا رد
وہابیہ کا یہ کہنا کہ ”اگر اللہ جھوٹ پر قادر نہ ہو تو بندے کی قدرت اس سے بڑھ جائے گی“، ایک انتہاء درجہ کی حماقت ہے۔ اعلیٰ حضرت نے اس کا جواب دیتے ہوئے فرمایا:
”ساری بات یہ ہے کہ احمق نے افعالِ انسانی کو خدا کی قدرت سے الگ سمجھا ہے... اہلِ سنت کے نزدیک انسانی، حیوانی تمام جہاں کے افعال و اقوال اللہ ہی کی قدرت سے واقع ہوتے ہیں۔ تو کذب و صدق، کفر و ایمان، طاعت و عصیان، انسان سے جو کچھ ہوگا وہ اللہ ہی کا مخلوق و مقدور ہوگا۔ پھر کیونکر ممکن ہے کہ انسان کوئی فعل قدرتِ الہیٰ سے جدا کرسکے؟“
اعلیٰ حضرت نے وضاحت کی کہ بندے کی قدرت ”عطائی“ اور ”ظاہری“ ہے، جبکہ اللہ کی قدرت ”ذاتی“ اور ”ایجاد“ کرنے والی ہے۔ بندہ جس چیز کے کسب پر قادر ہے، اللہ اُس کے خلق و ایجاد پر قادر ہے، لیکن اس سے یہ کہاں ثابت ہوا کہ اللہ اپنے لیے کذب پر قادر ہے؟ یہ استدلال صرف اللہ کی ذات پر بہتان اور کلامِ الہیٰ کی توہین ہے۔
(جاری ہے...)
