Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

موت کافی ہے نصیحت کے لیے (قسط: اول)|مہتاب پیامی

موت کافی ہے نصیحت کے لیے (قسط: اول)
عنوان: موت کافی ہے نصیحت کے لیے (قسط: اول)
تحریر: مہتاب پیامی
پیش کش: ام حبیبہ واسطی
منجانب: مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد

انسانی بستیوں کے ہنگاموں اور زندگی کی رنگینیوں کے پسِ پردہ ایک ایسی خاموش حقیقت ہماری نگاہوں سے اوجھل رہتی ہے، جس سے کسی بھی طرح فرار ممکن نہیں اور وہ حقیقت ہے ”موت“۔ موت اس حقیقی کیفیت کا نام ہے جس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں، مگر عجیب المیہ ہے کہ انسان جس قدر اس سے یقینی طور پر واقف ہے، اسی قدر اس سے غافل بھی ہے۔ کائنات کا ہر ذرہ اپنی فنا کی داستان سنا رہا ہے، ہر نئی چیز بوسیدگی کی طرف مائل ہے اور ہر طلوع ہونے والا سورج اپنے غروب کا پیغام ساتھ لاتا ہے۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ”اور موت کی سختی حق کے ساتھ آ پہنچی، یہی وہ چیز ہے جس سے تو بھاگا کرتا تھا۔“ [سورۂ ق: 19]

ہم اکثر دنیاوی مصروفیات کے سحر میں اس قدر گرفتار ہوتے ہیں کہ ہمیں آپ اپنے وجود کا ادراک نہیں ہوتا۔ کبھی اچانک کسی فون کی گھنٹی بجتی ہے یا کوئی پیغام اسکرین پر نمودار ہوتا ہے کہ ”فلاں شخص رخصت ہو گیا“۔ تعجب ہوتا ہے کہ وہ شخص جو کل تک ہمارے ساتھ قہقہے لگا رہا تھا، جو صحت مند بھی تھا اور جوان بھی، اچانک مٹی کی چادر اوڑھ لیتا ہے۔ یہ ناگہانی موت دراصل اس نبوی پیشین گوئی کی صداقت ہے کہ: ”قیامت کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ ناگہانی موت عام ہو جائے گی۔“ [رواہ الطبرانی]

اللہ رب العزت نے زندگی اور موت کا یہ تانا بانا یوں نہیں بنایا، بلکہ یہ تو ایک عظیم امتحان کا تسلسل ہے۔ موت وہ جام ہے جو ہر ذی روح کو پینا ہے، چاہے وہ تختِ شاہی پر متمکن ہو یا خاک نشین۔ قرآنِ حکیم اس مقصد کو یوں واضح کرتا ہے: ”جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے عمل کے لحاظ سے کون زیادہ اچھا ہے۔“ [سورۂ الملک: 2]

جب موت کا وقتِ مقرر آ پہنچتا ہے تو تمام رشتے، ناطے اور عمر بھر کی کمائیاں پیچھے رہ جاتی ہیں اور انسان اپنے اعمال کی گٹھری اٹھائے تن تنہا اپنے رب کی طرف لوٹ جاتا ہے۔

اگر انسان کے پاس سننے والے کان اور سمجھنے والا دل ہو، تو اسے کسی طویل وعظ و نصیحت کی ضرورت نہیں۔ موت خود ایک ایسی خطیب ہے جو خاموشی سے زندگی کا فلسفہ سمجھا دیتی ہے۔ جیسا کہ ہمارے آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانِ عالی شان ہے: ”نصیحت کے لیے موت ہی کافی ہے۔“

حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”سعادت مند وہ ہے جو دوسروں کے حال سے نصیحت حاصل کرے۔“

موت دلوں کے زنگ کو دور کرتی ہے اور انسان کو گناہوں کی دلدل سے نکال کر توبہ کی راہ دکھاتی ہے۔ موت کا لمحہ کوئی معمولی لمحہ نہیں ہوتا۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ نے موت کو مصیبت کے لفظ سے متصل کیا ہے۔ یہ وہ وقت ہے جب روح اور بدن کا قدیم رشتہ ٹوٹتا ہے۔ خود اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے نزع کے وقت کے بارے میں ارشاد فرمایا: ”بے شک موت کی سختیاں ہوتی ہیں۔“

حضرت کعب رضی اللہ عنہ نے اس کیفیت کی تصویر کشی یوں فرمائی کہ گویا ایک خاردار شاخ جسم کے اندر پیوست کر کے زور سے کھینچ لی جائے، جو ہر رگ و پے کو تڑپا دے۔

ایک صاحبِ حال سے جب نزع کی کیفیت پوچھی گئی تو اس نے کہا: ”ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے آسمان زمین پر گر پڑا ہے اور میں سوئی کے ناکے سے سانس لے رہا ہوں۔“ یہ منظر انسان کی اس بے بسی کو ظاہر کرتا ہے جہاں زمین کے تمام ڈاکٹر اور تمام تر ٹیکنالوجی مل کر بھی ایک روح کو واپس نہیں لا سکتے۔

انسان خلا میں چلا جائے یا تحت الثریٰ کی گہرائیوں میں پوشیدہ ہو، موت کا فرشتہ بہر حال اپنا راستہ جانتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشادِ جلالت ہے: ”تم جہاں کہیں بھی ہو گے، موت تمھیں آ لے گی، اگرچہ تم مضبوط قلعوں میں ہی کیوں نہ ہو۔“ [النساء: 78]

یہ پوری انسانیت کو ایک ایسا چیلنج ہے جس کا جواب آج تک سائنس اور فلسفہ دینے سے قاصر ہیں۔ موت سے بھاگنا دراصل موت کی طرف بھاگنے کے برابر ہے۔

انسان کو آخرت سے غافل کرنے والی سب سے بڑی رکاوٹ اس کی ”طویل امیدیں“ ہیں۔ وہ سمجھتا ہے کہ ابھی بہت وقت باقی ہے، جب کہ موت کی دستک بالکل قریب ہو سکتی ہے۔ قرآن نے خبردار کیا ہے کہ دنیا کی زندگی محض دھوکے کا سامان ہے اور لمبی امیدیں انسان کو حقیقت سے دور کر دیتی ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کی تربیت ہی اس بنیاد پر کی کہ وہ دنیا میں خود کو ایک ”مسافر“ یا ”اجنبی“ سمجھیں۔

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کی نصیحت ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے کہ: ”جب شام ہو جائے تو صبح کا انتظار نہ کرو، اور جب صبح ہو جائے تو شام کا انتظار نہ کرو۔“

یہ جو ہم موت کا ذکر کر رہے ہیں، اس اٹل حقیقت کو یاد کر رہے ہیں، اس کا مقصد قارئین کے دلوں میں مایوسی پیدا کرنا نہیں، بلکہ زندگی کو بامقصد بنانا ہے۔ موت کو یاد رکھنے کے بہت سے فوائد ہیں، جن میں سے چند کی نشان دہی ذیل کی سطور میں کی جا رہی ہے:

  1. موت کو یاد رکھنے سے انسان کے اندر قناعت کا جذبہ پیدا ہوتا ہے جس سے دلوں کے اندر بےجا حرص و ہوس کا ظہور نہیں ہوتا۔

  2. دلوں میں اللہ تعالیٰ کا خوف جاگزین ہوتا ہے، اس خوف و خشیت کے سبب توبہ میں عجلت پیدا ہوتی ہے اور انسان گناہوں سے دوری اختیار کرتا ہے۔

  3. موت کی یاد سے عبادت میں لذتِ خشوع و خضوع پیدا ہو جاتا ہے۔

مومن کے لیے موت فنا نہیں بلکہ بقا کا دروازہ ہے۔ جو شخص موت کو اپنا ہم سفر سمجھتا ہے، اسے توبہ کی توفیق، دل کی قناعت اور عبادت کی چستی نصیب ہوتی ہے۔ کیونکہ ”جس نے موت کو یاد رکھا، اس نے اپنی زندگی کو سنوار لیا، اور جو غافل رہا، اس نے اپنا انجام خراب کر لیا۔“ خوش نصیب ہے وہ انسان جو اس ”خاموش واعظ“ کی پکار کو سنے اور اس سے پہلے کہ وقت ختم ہو جائے، اپنے مالکِ حقیقی سے صلح کرلے۔

موضوع کی مناسبت سے ابوالعتاہیہ کا ایک شاندار قصیدہ ہے، ابوالعتاہیہ اس نظم میں انسان کو غفلت کی نیند سے بیدار کر رہے ہیں۔ وہ یاد دلاتے ہیں کہ موت ایک اٹل حقیقت ہے جس سے نہ بادشاہ بچ سکتے ہیں نہ سپاہی۔ وہ دنیا کی عارضی خوشیوں میں مگن لوگوں پر حیرت کا اظہار کرتے ہیں جو آخرت کی فکر سے بالکل آزاد ہو چکے ہیں۔

مَا يَدْفَعُ الْمَوْتَ أَرْصَادٌ وَلَا حَرَسُ
مَا يَغْلِبُ الْمَوْتَ لَا جِنٌّ وَلَا إِنْسُ

مَا إِنْ دَعَا الْمَوْتُ أَمْلَاكًا وَلَا سُوَقًا
إِلَّا ثَنَاهُمْ إِلَيْهِ الصَّرْعُ وَالْخُلَسُ

لِلْمَوْتِ مَا تَلِدُ الْأَقْوَامُ كُلُّهُمُ
وَلِلْبِلَى كُلُّ مَا بَنَوْا وَمَا غَرَسُوا

هَلَّا أُبَادِرُ هَذَا الْمَوْتَ فِي مَهَلٍ
هَلَّا أُبَادِرُهُ مَا دَامَ بِي نَفَسُ

يَا خَائِفَ الْمَوْتِ لَوْ أَمْسَيْتَ خَائِفَهُ
كَانَتْ دُمُوعُكَ طُولَ الدَّهْرِ تَنْبَجِسُ

أَمَا يَهُولُكَ يَوْمٌ لَا دِفَاعَ لَهُ
إِذْ أَنْتَ فِي غَمَرَاتِ الْمَوْتِ مُنْغَمِسُ

أَمَا تَهُولُكَ كَأْسٌ أَنْتَ شَارِبُهَا
وَالْعَقْلُ مِنْكَ لِكُوبِ الْمَوْتِ مُلْتَبِسُ

إِيَّاكَ إِيَّاكَ وَالدُّنْيَا وَلَذَّتَهَا
فَالْمَوْتُ فِيهَا لِخَلْقِ اللَّهِ مُفْتَرِسُ

إِنَّ الْخَلَائِقَ فِي الدُّنْيَا لَوِ اجْتَهَدُوا
أَنْ يَحْبِسُوا عَنْكَ هَذَا الْمَوْتَ مَا حَبَسُوا

إِنَّ الْمَنِيَّةَ حَوْضٌ أَنْتَ تَكْرَهُهُ
وَأَنْتَ عَمَّا قَلِيلٍ فِيهِ تَنْغَمِسُ

إِذَا وَصَفْتُ لَهُمْ دُنْيَاهُمُ ضَحِكُوا
وَإِنْ وَصَفْتُ لَهُمْ أُخْرَاهُمُ عَبَسُوا

مَا لِي رَأَيْتُ بَنِي الدُّنْيَا قَدِ افْتَتَنُوا
كَأَنَّمَا هَذِهِ الدُّنْيَا لَهُمْ عُرُسُ

مَا لِي رَأَيْتُ بَنِي الدُّنْيَا وَإِخْوَتَهَا
كَأَنَّهُمْ لِكِتَابِ اللَّهِ مَا دَرَسُوا

  1. نہ پہرے دار موت کو روک سکتے ہیں اور نہ ہی محافظ، نہ جن موت پر غالب آسکتے ہیں اور نہ انسان۔

  2. موت نے جب بھی بادشاہوں یا عام لوگوں کو پکارا، تو سوائے اس کے کچھ نہ ہوا کہ بےبسی نے انھیں موت کی طرف موڑ دیا۔

  3. قومیں جو کچھ بھی جنتی ہیں (اولاد)، وہ موت ہی کے لیے ہے، اور جو کچھ وہ بناتی ہیں یا اگاتی ہیں، وہ سب مٹ جانے کے لیے ہے۔

  4. میں کیوں نہ اس موت کے لیے مہلت کے دنوں میں جلدی کروں؟ میں کیوں نہ اس کی تیاری کروں جب تک مجھ میں سانس باقی ہے؟

  5. اے موت سے ڈرنے والے! اگر تو واقعی اس سے ڈرتا، تو تیری آنکھوں سے زندگی بھر آنسوؤں کے چشمے جاری رہتے۔

  6. کیا تجھے اس دن کا خوف نہیں آتا جس کا کوئی دفاع نہیں؟ جب تو موت کی سختیوں میں غرق ہو چکا ہوگا۔

  7. کیا تجھے اس پیالے سے ڈر نہیں لگتا جسے تو پینے والا ہے؟ جب کہ تیری عقل موت کے جام کی ہولناکی سے پریشان ہوگی۔

  8. بچو، دنیا اور اس کی لذتوں سے بچو! کیونکہ موت اس دنیا میں اللہ کی مخلوق کا شکار کرنے والا درندہ ہے۔

  9. اگر دنیا کی تمام مخلوقات مل کر تجھ سے موت کو روکنے کی کوشش کریں، تب بھی وہ اسے نہیں روک سکتیں۔

  10. بے شک موت ایک ایسا حوض ہے جسے تو ناپسند کرتا ہے، مگر تو تھوڑی ہی دیر میں اس میں غوطہ لگانے والا ہے۔

  11. مجھے کیا ہوا ہے کہ میں اہل دنیا کو دیکھتا ہوں کہ وہ اس (دنیا) کے فتنے میں مبتلا ہیں، جیسے یہ دنیا ان کے لیے شادی کا جشن ہو۔

  12. جب میں ان کے سامنے ان کی دنیا کی تعریف کرتا ہوں تو وہ ہنستے ہیں، اور جب ان کے سامنے ان کی آخرت کا حال بیان کرتا ہوں تو ان کے چہرے لٹک جاتے ہیں۔

  13. مجھے کیا ہوا ہے کہ میں دنیا والوں اور ان کے بھائیوں کو دیکھتا ہوں کہ (ان کا رویہ ایسا ہے) گویا انھوں نے اللہ کی کتاب پڑھی ہی نہیں۔ [ماہنامہ اشرفیہ، مئی 2026ء، ص: 5 تا 8]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!