| عنوان: | حلالہ کی حقیقت اور جدید اعتراضات کا علمی جائزہ |
|---|---|
| تحریر: | سلمی شاھین امجدی کردار فاطمی |
| پیش کش: | ناصرین فاطمہ رضویہ |
| منجانب: | مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد |
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
صَلَّى اللّٰهُ عَلٰى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حلالہ کی حقیقت اور جدید اعتراضات کا علمی جائزہ
آج کا دور فتنوں کا دور ہے۔ ہر سمت سے اسلام پر فکری اور تہذیبی حملے ہو رہے ہیں۔ کبھی تحریروں کے ذریعے، کبھی میڈیا مباحثوں کے ذریعے اور کبھی سوشل میڈیا کی مہمات کے ذریعے۔ ان حملوں کا ایک بڑا ہدف اسلام کا عائلی نظام ہے۔ طلاق، خلع اور حلالہ جیسے احکام کو سیاق و سباق سے کاٹ کر پیش کیا جاتا ہے تاکہ مسلمانوں کے دلوں میں اپنے دین کے متعلق بدگمانی پیدا ہو۔ ایک طرف وہ طبقہ ہے جو ہر اسلامی حکم کو عورت پر ظلم کا عنوان دیتا ہے، اور دوسری طرف وہ لوگ ہیں جنہوں نے نکاح تحلیل (بناوٹی حلالہ) کو باقاعدہ ذریعہ معاش بنالیا ہے۔ ایسے نازک ماحول میں ضروری ہے کہ اس مسئلے کو جذبات کے بجائے قرآن و سنت اور مستند فقہی مصادر کی روشنی میں سمجھا جائے۔
لغت میں حلالہ عربی لفظ حل سے نکلا ہے، جس کے معنی ہیں کھول دینا یا حلال کر دینا۔ علامہ ابن منظور لکھتے ہیں کہ تحلیل اس عمل کو کہتے ہیں جس کے ذریعے عورت پہلے شوہر کے لیے حلال ہو جائے۔ [لسان العرب، دار صادر بیروت، ط: 3، 1414ھ، ج: 11، مادہ: ح ل ل، ص: 162]
اصطلاحِ فقہ میں حلالہ سے مراد وہ صورت ہے کہ جب شوہر اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دے اور عدت بھی گزر جائے تو وہ عورت اس پر حرام ہو جاتی ہے، یہاں تک کہ وہ کسی دوسرے مرد سے صحیح، باقاعدہ اور حقیقی نکاح کرے، ازدواجی تعلق قائم ہو، پھر وہ نکاح کسی وجہ سے ختم ہو جائے۔ اس مسئلے کی فقہی تفصیل کتب فقہ میں مذکور ہے۔ [ملاحظہ ہو: الہدایہ، کتاب النکاح، باب التحلیل]
قرآن کریم میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
اَلطَّلَاقُ مَرَّتٰنِ ۖ فَاِمْسَاكٌۢ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ تَسْرِيْحٌۢ بِاِحْسَانٍ
پھر فرمایا:
فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهٗ مِنْۢ بَعْدُ حَتّٰى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهٗ [سورۃ البقرة: 230]
اسلام سے پہلے عرب معاشرے میں عورت کی حیثیت انتہائی دگرگوں تھی۔ جاہلیت کے دور میں مرد اپنی بیوی کو جب چاہتا طلاق دیتا، جب چاہتا رجوع کر لیتا، اور اس سلسلے کی کوئی حد مقرر نہ تھی۔ عورت نہ گھر کی رہتی، نہ آزاد۔ بس ایک غیر یقینی تعلق کی زنجیر میں جکڑی رہتی۔ اسی ظلم کو ختم کرنے کے لیے قرآن کریم نے طلاق کی تعداد کو دو تک محدود کیا، تیسری طلاق کے بعد رجوع پر پابندی لگائی اور واپسی کے لیے ایک فطری اور قانونی شرط رکھی۔ اس نظام کا مقصد عورت کو معلق رکھنے کی جاہلی رسم کا خاتمہ تھا، نہ کہ اس پر کوئی نئی تکلیف۔ یوں اسلام نے طلاق کے نظام میں اصلاح کر کے عورت کو وہ تحفظ دیا جو اس سے پہلے کسی قانون نے نہیں دیا تھا۔
یہ آیت اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ طلاق کا دروازہ کھلا ضرور ہے، مگر بے لگام نہیں۔ امام فخر الدین رازی اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ تیسری طلاق کے بعد رجوع کی ممانعت مرد کے لیے زبردست تنبیہ ہے تاکہ وہ طلاق کو کھیل اور جذباتی ہتھیار نہ بنائے۔ [تفسیر کبیر، دار احیاء التراث العربی بیروت، ج: 6، ص: 113]
اس حکم میں عورت کو معلق رکھنے کی جاہلی رسم کا خاتمہ اور خاندانی نظام کی حفاظت مضمر ہے۔
حدیث مبارکہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نہایت سخت الفاظ میں فرمایا:
لَعَنَ اللّٰهُ الْمُحِلَّ وَالْمُحَلَّلَ لَهٗ [سنن اَبِيْ دَاوُد، كِتَابُ النِّكَاح، بَابٌ فِي التَّحْلِيْل، رَقْمُ الْحَدِيْث: 2076]
یعنی اللہ تعالیٰ نے حلالہ کرنے والے اور جس کے لیے کیا جائے دونوں پر لعنت فرمائی ہے۔
اس حدیث سے صاف ظاہر ہے کہ وہ نکاح جو پہلے سے طے شدہ نیت کے ساتھ محض حلال کرنے کے لیے کیا جائے، شرعاً قابل مذمت ہے۔
ائمہ اہل سنت نے بھی اس مسئلے کو وضاحت سے بیان فرمایا ہے۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اگر نکاح اس نیت یا شرط کے ساتھ ہو کہ بعد میں طلاق دے کر پہلے شوہر کے لیے حلال کرے گا تو یہ نکاح تحلیل ہے، جو حرام اور موجبِ لعنت ہے۔ [فتاوی رضویہ، رضا فاؤنڈیشن لاہور، ج: 11، ص: 285-289]
اسی طرح صدر الشریعہ علامہ امجد علی اعظمی لکھتے ہیں کہ اگر نکاح کی بنیاد ہی اس نیت پر ہو کہ عورت کو طلاق دے کر پہلے شوہر کے لیے حلال کرنا ہے تو یہ گناہ اور ناجائز ہے۔ [بہار شریعت، مکتبۃ المدینہ کراچی، حصہ: 7، ص: 156]
اس تناظر میں یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ اسلامی فقہ میں نکاح کی بنیاد رضا، ارادے کی سلامتی اور نیت کی صداقت پر ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ [صَحِيْحُ الْبُخَارِيّ، كِتَابُ بَدْءِ الْوَحْيِ، رَقْمُ الْحَدِيْث: 1]
ترجمہ: اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔
یہ اصول اسلامی فقہ کی بنیادی اساس ہے اور نکاح و طلاق دونوں پر یکساں لاگو ہوتا ہے۔ جب نکاح کی اصل نیت ہی عارضی ہو، کسی قانونی رکاوٹ کو ہٹانا مقصود ہو اور زوجیت کا حقیقی ارادہ موجود نہ ہو، تو ایسا نکاح شریعت کی روح کے سراسر خلاف ہوتا ہے۔ ایسے نکاح میں نہ تو گھر بسانے کا ارادہ ہوتا ہے، نہ ذمہ داری اٹھانے کا، نہ ساتھ نبھانے کا عہد۔ بس ایک ظاہری خانہ پوری ہوتی ہے جو شریعت کو دھوکہ دینے کی کوشش ہے۔
صدر الشریعہ علامہ امجد علی اعظمی اس ضمن میں لکھتے ہیں کہ نکاح میں نیت کا فساد خود نکاح کو مشکوک بنا دیتا ہے، اور جو نکاح محض حیلے کے طور پر کیا جائے وہ اللہ کی نظر میں مردود ہے۔ [بہار شریعت، حصہ: 7، ص: 156]
اللہ تعالیٰ ظاہر و باطن دونوں سے واقف ہے، اس لیے شریعت ظاہری خول کو نہیں بلکہ باطنی نیت کو دیکھتی ہے، اور اسی بنیاد پر بناوٹی حلالہ کو حرام اور موجبِ لعنت قرار دیا گیا ہے۔
یہاں یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ شریعت میں حلالہ نام کی کوئی مستقل عبادت یا ترغیب یافتہ رسم نہیں۔ یہ محض تین طلاق کے بعد پیدا ہونے والی ایک قانونی صورت کا بیان ہے۔ اگر دوسرا نکاح حقیقی ہو، بغیر کسی خفیہ شرط کے، اور فطری انداز میں قائم ہو، پھر کسی سبب سے ختم ہو جائے تو پہلی زوجیت کی طرف واپسی کی گنجائش بنتی ہے۔ لیکن پہلے سے طے شدہ یا وقتی نکاح شریعت کی روح کے خلاف ہے اور اسی کو حدیث میں موجبِ لعنت قرار دیا گیا ہے۔
مزید برآں، تین طلاق ایک ساتھ دینا اگرچہ بعض فقہی مذاہب میں واقع ہو جاتی ہے، مگر اسے سخت ناپسندیدہ اور خلافِ سنت طریقہ کہا گیا ہے۔ سنت یہ ہے کہ طلاق الگ الگ طہر میں دی جائے تاکہ اصلاح، رجوع اور غور و فکر کا موقع باقی رہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کا مقصد طلاق کو آسان بنانا نہیں بلکہ اسے آخری چارہ کار کے طور پر رکھنا ہے۔
آج کے دور میں جو لوگ حلالہ سروس کے نام سے پیسے لے کر یہ فعل انجام دیتے ہیں، وہ نہ صرف شریعت کی خلاف ورزی کرتے ہیں بلکہ اسلام کی بدنامی کا سبب بنتے ہیں۔ ایسے اعمال کی کھلی مذمت اور روک تھام ضروری ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی ضروری ہے کہ نکاح و طلاق کے احکام عام کیے جائیں، نوجوانوں کو دینی تعلیم دی جائے اور جذباتی فیصلوں سے بچنے کی تربیت دی جائے۔
اس پورے مباحثے میں ایک اہم پہلو جو اکثر نظر انداز ہو جاتا ہے وہ عورت کا حقِ خلع ہے۔ اسلام نے مرد کو طلاق کا اختیار دیا تو ساتھ ہی عورت کو بھی یہ حق دیا کہ اگر نکاح میں اس کے لیے نباہ ممکن نہ ہو تو وہ قاضی کے ذریعے نکاح ختم کرواسکتی ہے۔ یہ حکم قرآن کریم کی اس آیت سے ملتا ہے:
فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا يُقِيْمَا حُدُوْدَ اللّٰهِ ۙ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيْمَا افْتَدَتْ بِهٖ [سورۃ البقرة: 229]
ترجمہ: اگر تمہیں ڈر ہو کہ وہ دونوں اللہ کی حدود قائم نہ رکھ سکیں گے تو عورت کے فدیہ دے کر چھوٹ جانے میں کوئی گناہ نہیں۔
خلع کا یہ حق اسلام کی اس وسعت اور عدل کی دلیل ہے کہ وہ عورت کو کسی ظالمانہ اور ناگوار رشتے میں قید نہیں رکھتا۔
صدر الشریعہ علامہ امجد علی اعظمی لکھتے ہیں کہ خلع عورت کا شرعی حق ہے اور جب نباہ ممکن نہ رہے تو اسے استعمال کرنا جائز ہے۔ [بہار شریعت، حصہ: 7]
معاشرے میں یہ غلط فہمی عام ہے کہ طلاق کے بعد عورت کے پاس کوئی راستہ نہیں اور وہ بالکل بے بس ہو جاتی ہے۔ حالاں کہ شریعت میں عورت کے حقوق کا ایک مکمل اور متوازن نظام موجود ہے جس میں مہر کا تحفظ، عدت کے دوران نفقہ، بچوں کی پرورش کا حق اور دوبارہ نکاح کی مکمل آزادی شامل ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِاَهْلِهٖ [سُنَنُ التِّرْمِذِيّ، رَقْمُ الْحَدِيْث: 3895]
ترجمہ: تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے ساتھ بہتر ہو۔
یہ حدیث اس بات کی واضح دلیل ہے کہ اسلام مرد کو گھر کا ذمہ دار بناتا ہے، ظالم نہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ علماء اور دینی ادارے ان حقوق کو عوام تک پہنچانے میں اپنا کردار ادا کریں، خواتین کو ان کے شرعی حقوق سے آگاہ کریں تاکہ نہ عورت ظلم کا شکار ہو، نہ جہالت کی وجہ سے غلط راستہ اختیار کرے اور نہ شریعت کا نام بدنام ہو۔
خلاصہ یہ ہے کہ اسلام کا عائلی نظام حکمت، عدل اور توازن پر قائم ہے۔ اصل شرعی حکم خاندان کو سنجیدگی کے ساتھ قائم رکھنے کے لیے ہے، جب کہ بناوٹی حلالہ صریح حرام اور مستند مصادر کی رو سے موجبِ لعنت ہے۔ ہمیں چاہیے کہ دین کو اس کے مستند مآخذ سے سمجھیں، افراط و تفریط سے بچیں اور معاشرے میں صحیح تعلیم کو فروغ دیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح فہمِ دین عطا فرمائے، ہمارے گھروں میں محبت و سکون قائم فرمائے اور ہمیں ہر طرح کے فتنوں سے محفوظ رکھے۔ آمین۔
آخر میں یہ حقیقت پیش نظر رہنی چاہیے کہ اسلام کا عائلی نظام وقتی جذبات یا سماجی دباؤ پر نہیں بلکہ حکمتِ ربانی پر قائم ہے۔ طلاق، خلع اور دیگر احکام دراصل خاندان کو ٹوٹنے سے بچانے اور اگر ٹوٹ جائے تو عدل و وقار کے ساتھ الگ ہونے کا راستہ فراہم کرتے ہیں۔ شریعت نے نہ مرد کو بے لگام اختیار دیا ہے اور نہ عورت کو بے سہارا چھوڑا ہے، بلکہ دونوں کے حقوق و فرائض کو متوازن انداز میں مرتب کیا ہے۔ بناوٹی حلالہ جیسی قبیح صورتیں دراصل دینی احکام سے ناواقفیت اور تقویٰ کی کمی کا نتیجہ ہیں، جن کا اسلام کی اصل تعلیمات سے کوئی تعلق نہیں۔
لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم جذباتی نعروں یا میڈیا کے شور کے بجائے قرآن و سنت اور مستند فقہی مصادر کی روشنی میں مسائل کو سمجھیں۔ علما، خطبا اور اہلِ قلم پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ صحیح رہنمائی فراہم کریں، نکاح و طلاق کے آداب کو عام کریں اور نوجوان نسل کو سنجیدگی، برداشت اور ذمہ داری کا شعور دیں۔ جب معاشرہ علم اور تقویٰ کی بنیاد پر اپنے خاندانی نظام کو مضبوط کرے گا تو نہ فتنوں کو جگہ ملے گی اور نہ دین کے خلاف پھیلائی جانے والی بدگمانیاں اثر انداز ہو سکیں گی۔ اللہ تعالیٰ ہمیں عدل، حکمت اور اعتدال کے ساتھ اپنے گھروں کو آباد رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

