| عنوان: | مزارات پر حاضری کا طریقہ اور آداب |
|---|---|
| تحریر: | توحید احمد خان رضوی |
| پیش کش: | جامعہ تحسینیہ ضیاء العلوم، بریلی شریف |
| منجانب: | تحسینی فاؤنڈیشن، بریلی شریف |
اللہ تعالیٰ کے مقرب بندوں کے مزارات پر حاضری دینا مستحسن اور دینی دنیوی فوائد حاصل ہونے کا ذریعہ ہے کیونکہ مزارات اولیاء منبع انوار و تجلیات ہوتے ہیں۔ لیکن آج کل عوام کی دین سے دوری اور علم شریعت سے ناواقف ہونے کی وجہ سے اولیاء اللہ کے مزارات پر حاضری میں غلو کرنے اور غیر شرعی طور طریقے اختیار کرنے کے معاملات بڑھتے جا رہے ہیں جس سے بچنا اور بچانا نہایت ضروری ہے۔ جاہل عوام کی ان حرکات کی وجہ سے بدمذہبوں کو موقع مل جاتا ہے مزارات اولیاء پر تنقید کرنے کا۔ لہٰذا ضروری ہے کہ مزارات کے ذمہ داران اور دیگر حضرات اس طرف توجہ فرماتے ہوئے عوام کو مزارات پر حاضری کے طور طریقے اور آداب سکھائیں تاکہ صاحب مزار کے فیوض و برکات سے مستفیض ہوں۔
اولیاء اللہ کے مزارات پر جانا اور وہاں پر ایصال ثواب کرنا جائز اور مستحسن عمل ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم شہدائے احد کے مزارات پر ہر سال تشریف لے جایا کرتے تھے چنانچہ مصنف عبد الرزاق میں ہے:
كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتِي قُبُورَ الشُّهَدَاءِ عِنْدَ رَأْسِ الْحَوْلِ فَيَقُولُ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَى الدَّارِ. قَالَ: وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ يَفْعَلُونَ ذٰلِكَ. [مصنف عبد الرزاق، کتاب الجنائز، باب زیارۃ القبور، ج: 3، ص: 381]
یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سال کے شروع میں شہداءِ احد کے مزارات پر تشریف لے جایا کرتے تھے اور فرماتے: “السَّلَامُ عَلَيْكُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَى الدَّارِ” راوی کہتے ہیں کہ حضرت ابو بکر، عمر، عثمان رضی اللہ عنہم بھی ایسا ہی کیا کرتے تھے۔
اور ہمارے اسلاف کا بھی یہ طریقہ رہا ہے کہ وہ اللہ کے مقرب بندوں کے مزارات پر حاضر ہوکر ایصال ثواب کرتے اور ان کے وسیلے سے دعائیں مانگتے تھے چنانچہ شیخ شہاب الدین احمد بن حجر ہیتمی مکی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:
لَمْ يَزَلِ الْعُلَمَاءُ وَذَوُو الْحَاجَاتِ يَزُورُونَ قَبْرَهُ وَيَتَوَسَّلُونَ عِنْدَهُ فِي قَضَاءِ حَوَائِجِهِمْ وَيَرَوْنَ نُجْحَ ذٰلِكَ، مِنْهُمُ الْإِمَامُ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللّٰهُ لَمَّا كَانَ بِبَغْدَادَ فَإِنَّهُ جَاءَ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: إِنِّي لَأَتَبَرَّكُ بِأَبِي حَنِيفَةَ وَأَجِيءُ إِلَى قَبْرِهِ، فَإِذَا عَرَضَتْ لِي حَاجَةٌ صَلَّيْتُ رَكْعَتَيْنِ وَجِئْتُ إِلَى قَبْرِهِ وَسَأَلْتُ اللّٰهَ عِنْدَهُ فَتُقْضَى سَرِيعًا. [الخیرات الحسان، ص: 72]
ترجمہ: ہمیشہ سے علماء اور حاجت مند لوگ امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ کے مزار کی زیارت کرتے اور اپنی حاجتیں پورا کرنے کے لیے آپ کا وسیلہ پیش کرتے رہے ہیں اور اسے اپنے لیے باعث شرف سمجھتے ہیں، انہی علما میں سے امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ بھی ہیں، جن کے متعلق یہ بات مروی ہے کہ آپ فرماتے ہیں: “جب میں بغداد میں قیام پذیر تھا، تو امامِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ سے برکت حاصل کیا کرتا تھا، جب مجھے کوئی حاجت پیش آتی تو میں امام اعظم کے مزار پر آتا اور دو رکعتیں پڑھتا، پھر ان کی قبر مبارک پر حاضری دیتا اور وہاں اللہ پاک سے دعا کرتا، تو فوراً میری حاجت پوری ہو جاتی۔”
مزارات پر حاضری کا طریقہ
مزار پر حاضری کا طریقہ بیان فرماتے ہوئے امام اہل سنت اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: مزاراتِ شریفہ پر حاضر ہونے میں پائنتی کی طرف سے جائے اور کم از کم چار ہاتھ کے فاصلے پر مواجہہ میں کھڑا ہو اور متوسط آواز با ادب عرض کرے: “السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا سَيِّدِي وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَبَرَكَاتُهُ” پھر درود غوثیہ تین بار، الحمد شریف ایک، آیۃ الکرسی ایک بار، سورہ اخلاص سات بار، پھر درود غوثیہ سات بار اور وقت فرصت دے، تو سورہ یٰسں اور سورہ ملک بھی پڑھ کر اللہ عزوجل سے دعا کرے کہ الہی! اس قراءت پر مجھے اتنا ثواب دے جو تیرے کرم کے قابل ہے، نہ اتنا جو میرے عمل کے قابل ہے اور اسے میری طرف سے اس بندۂ مقبول کو نذر پہنچا، پھر اپنا جو مطلب جائز شرعی ہو اس کے لیے دعا کرے اور صاحب مزار کی روح کو اللہ عزوجل کی بارگاہ میں اپنا وسیلہ قرار دے، پھر اُسی طرح سلام کر کے واپس آئے، مزار کو نہ ہاتھ لگائے، نہ بوسہ دے اور طواف بالاتفاق ناجائز ہے اور سجدہ حرام۔ [فتاویٰ رضویہ، ج: 9، ص: 522]
مزار کو بوسہ دینے کے تعلق سے حضرت شاہ عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: “ہاتھ سے قبر کو نہ چھوئے اور نہ اُسے بوسہ دے اور نہ جھکے اور چہرے پر قبر کی مٹی نہ ملے کہ یہ نصاریٰ کی عادت ہے۔” [اشعۃ اللمعات، ج: 2، ص: 924]
اور اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنّت رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: “جمہور علماء (قبر کو بوسہ دینا) مکروہ جانتے ہیں، تو اس سے احتراز ہی چاہیے۔” [فتاویٰ رضویہ، ج: 9، ص: 526]
مزارات پر عورتوں کی حاضری
آج کل مزارات پر عورتوں کی بھیڑ بھی ایک فتنے کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ جبکہ فقہاء کرام نے مزارات پر عورتوں کی حاضری کو منع فرمایا ہے۔ امام اہل سنت اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ نے تو اس پر پورا ایک رسالہ “جُمَلُ النُّورِ فِي نَهْيِ النِّسَاءِ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ” تحریر فرمایا جس میں آپ نے دلائل و شواہد کے ذریعہ مزارات پر عورتوں کی حاضری سے منع فرمایا۔
عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری میں ہے:
لَقَدْ كَرِهَ أَكْثَرُ الْعُلَمَاءِ خُرُوجَهُنَّ إِلَى الصَّلَوَاتِ فَكَيْفَ إِلَى الْمَقَابِرِ؟ وَمَا أَظُنُّ سُقُوطَ فَرْضِ الْجُمُعَةِ عَلَيْهِنَّ إِلَّا دَلِيلًا عَلَى إِمْسَاكِهِنَّ عَنِ الْخُرُوجِ فِيمَا عَدَاهَا. [عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری، ج: 8، ص: 69]
ترجمہ: اکثر علماء نے عورتوں کا نماز کے لیے نکلنے کو مکروہ قرار دیا ہے، تو قبرستان میں جانے کی کیسے اجازت ہو گی؟ میرا یہ گمان ہے کہ عورتوں سے جمعہ کا ساقط ہو جانا جو فرض ہے اس بات کی دلیل ہے کہ عورتوں کو جمعہ کے علاوہ نکلنے سے بھی منع کیا جائے گا۔
امام اہلسنت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ عورتوں کی جماعت اور قبرستان کی حاضری کے متعلق ارشاد فرماتے ہیں:
إِنَّ الْفَتْوَى عَلَى الْمَنْعِ مُطْلَقًا وَلَوْ عَجُوزًا وَلَوْ لَيْلًا فَكَذٰلِكَ فِي زِيَارَةِ الْقُبُورِ بَلْ أَوْلَى. [جد الممتار علی رد المحتار، ج: 3، ص: 686]
ترجمہ: فتویٰ اس بات پر ہے کہ عورتوں کو جماعت کی حاضری مطلقاً منع ہے، اگرچہ بوڑھی ہوں اگرچہ رات کو جائیں، ایسے ہی زیاراتِ قبور کے بارے میں حکم ہے بلکہ اس میں بدرجہ اولیٰ منع کی جائیں گی۔
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ ایک دوسری جگہ فرماتے ہیں: “یہ نہ پوچھو کہ عورتوں کا مزاروں پر جانا جائز ہے یا نہیں؟ بلکہ یہ پوچھو کہ اس پر کس قدر لعنت ہوتی ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے اور کس قدر صاحب قبر کی جانب سے۔ جس وقت وہ گھر سے ارادہ کرتی ہے لعنت شروع ہو جاتی ہے اور جب تک واپس آتی ہے ملائکہ لعنت کرتے رہتے ہیں۔ سوائے روضہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی مزار پر جانے کی اجازت نہیں۔ وہاں کی حاضری البتہ سنت جلیلہ عظیمہ قریب بواجبات ہے اور قرآن کریم نے اسے مغفرت کا ذریعہ بتایا۔” [ملفوظات شریف، ص: 240]
