Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
لباب
مستند مضامین و مقالات
لباب کی مستند علمی و تحقیقی تحریریں اب موبائل ایپ میں دستیاب ہیں۔
پلے اسٹور سے انسٹال کریں

امام احمد رضا اور فن منطق (قسط: اول)|علامہ عبد الرحمن مصباحی، زینب ظفر

امام احمد رضا اور فن منطق (قسط: اول)
عنوان: امام احمد رضا اور فن منطق (قسط: اول)
تحریر: علامہ عبد الرحمن مصباحی جامعہ امجدیہ گھوسی
پیش کش: زینب ظفر
منجانب: لباب اکیڈمی

فن منطق ایک تعارف

فن منطق ایک ایسا فن ہے جس کے اصول و قواعد کی رعایت ذہن کو فکر و نظر میں خطا سے بچاتی ہے۔

اس کا موضوع مطلقاً معقولات ہیں، یعنی وہ امور جو ذہن میں پائے جاتے ہیں لیکن ایصال الی المطلوب کی حیثیت سے۔ اور اس کا مقصد عقل و ذہن کو فکری خطاؤں سے محفوظ رکھنا ہے۔

منطق چونکہ استدلال میں غلطی سے بچنے کا ایک پیمانہ ہے، اس لیے نفیا یا اثباتاً شرع سے براہ راست اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

شرع نے صرف تفکر و نظر کا حکم دیا ہے، خواہ اس کا بانی کوئی بھی ہو۔ البتہ عقلاء عالم نے بعد تدبر یہ قواعد ایجاد کیے ہیں تاکہ افکار فاسدہ و افکار صحیحہ میں فرق ہو سکے۔

قدیم حکمت جسے یونانی زبان میں فلسفہ کہا جاتا ہے اور اس کا معنی موجودات واقعیہ نفس الامری کے احوال کا انسان کی عقلی طاقت کے بقدر جاننے کا نام ہے، خواہ وہ موجودات خارجیہ ہوں، یا موجودات ذہنیہ ہوں۔ اس کی ایک قسم، حکمت الہی کی ایک شاخ “منطق” ہے۔

فن منطق کی تاریخ

لیکن عرصہ دراز بعد منطق کثرت ابحاث و مسائل کی بنا پر حکمت سے جدا ہو کر ایک مستقل فن کی حیثیت سے ممتاز و منفرد ہوگیا ہے۔

حکمت و دانائی خداوند برتر نے انسان کے اندر ودیعت رکھی ہے اور جب سے بنی نوع انسان موجود ہیں اسی وقت سے حکمت و فلسفہ بھی ہے۔ اولا علوم و معارف کے منبع و سرچشمہ انبیاء کرام علیہم السلام تھے، پھر انہیں کے تلامذہ و اصحاب، ان علوم کے وارث و امین ہوئے لیکن بعض حکماء شیطانی وساوس کے سبب جادہ حق سے منحرف ہو گئے اور بعض ثابت قدم رہے۔ اسی لیے اختلاف پیدا ہوا۔

چنانچہ شرح عقائد کی عربی شرح “النبراس” میں ہے:

“یہ جاننا ضروری ہے کہ قدماء فلاسفہ جنہوں نے حکمت کی بنیاد قائم کی، وہ انبیاء کرام کے تلامذہ و فیض یافتہ تھے اور خالص مومن تھے، جیسا کہ ان کی تواریخ سے ظاہر ہے۔ البتہ فلاسفہ کی کتب میں جو باتیں خلاف شرع پائی جاتی ہیں اس کی وجہ یا تو متأولین کی غلطی ہے یا ناقلین کی کوتاہی ہے، یا ان کے رموز و اشارات کو نہ سمجھ پانے کے باعث ہے، کیوں کہ اکابر فلاسفہ کی گفتگو صوفیہ کی طرح رموز و اشارات کی شکل میں ہوتی تھی۔ یا کمترین متفلسف کی جانب سے صادر ہے جو صرف حکمت کا لبادہ اوڑھے ہوئے ہیں، جب کہ وہ حکمت کی حقیقت سے ناواقف ہیں اور انبیاء سے بے نیازی کا دعویٰ کرتے ہیں اور قضایائے موہومہ اور قضایائے محققہ میں امتیاز کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ یا اس سبب سے ہے کہ انبیاء سابقین کی شریعتیں ان مسائل میں خاموش تھیں تو ان کے ماننے والوں نے اجتہاد سے کلام کیا اور خطا کر گئے۔”

مزید فرماتے ہیں کہ:

“آج جو علم حکمت موجود ہے اس میں حق و باطل دونوں ہے۔ اور ہم نے حق کو باطل سے الگ کرنے کے لیے جلیل القدر کتابیں لکھی ہیں۔ اور بعض اہل شرع جو تمام علوم حکمت کے ابطال اور اس میں مشغولیت کو حرام کہتے ہیں تو یہ ان کا تعصب ہے۔ اس کی پوری تفصیل ہماری کتاب الیاقوت کے مقدمہ میں موجود ہے۔” [النبراس، ص: 34]

پہلے یہ علوم مدون نہیں تھے اور نہ ہی ان کی اصطلاحات موضوع تھیں، اس میں اہل یونان نے سبقت کی، اسی لیے وہ موجد کہلائے۔

ساتویں صدی قبل مسیح میں ان میں فلسفہ سے دلچسپی زیادہ بڑھی اور انہوں نے اس کی تدوین کی، اس لیے اس فلسفہ کو یونانی فلسفہ کہا گیا اور یونان کو اس کا مرکز تسلیم کر لیا گیا۔

یونان کے حکماء میں ارسطو پہلا شخص ہے جس نے فن منطق کو سکندر رومی کے حکم سے فلسفہ سے الگ کر کے مستقل فن کی حیثیت سے مدون کیا، اسی لیے وہی فن منطق کا باوا آدم کہا گیا، ارسطو کے بعد ابو نصر فارابی نے منطق کے اصول و فروع کی تشریح کی اور وہ معلم ثانی مانا گیا، فارابی کی کتابوں کے جل جانے کے سبب شیخ الرئیس بوعلی سینا نے مقالات تحریر کیے جو آج منطق اور حکمت کا متن ہے۔

شیخ کی استوار کردہ اساس پر دیگر مناطقہ نے کام کیا یہاں تک کہ منطق ایک وسیع الجہات فن بن گیا اور تصفیۂ عقول و تشحیذ اذہان کے لیے منطق کی تعلیم ایک ضرورت بن گئی۔ مسلمانوں کے دور عروج میں مسلم علماء نے منطق کی طرف توجہ کی اور اسے بام عروج تک پہنچایا، مشہور اصول و قواعد کی اصلاح و تنقیح کی اور بہت سے قواعد خود ایجاد کیے۔

پاک و ہند کے سب سے بڑے منطقی علامہ الدہر، معلم رابع، مصحح اغلاط افلاطون، حضرت علامہ فضل حق خیر آبادی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں کہ:

مَنْ أَرَادَ أَنْ يَتَعَلَّمَ الْحِكْمَةَ فَلْيُحْدِثْ لِنَفْسِهِ فِطْرَةً أُخْرَى

جو حکمت سیکھنے کا ارادہ کرے وہ اپنی ذات کے لیے دوسری فطرت پیدا کرے۔

فن منطق کے موجدین اور ماہرین

حضرت علامہ مشتاق احمد نظامی اپنی کتاب “خون کے آنسو” صفحہ 62-63 پر تحریر فرماتے ہیں:

“علم منطق کا اظہار سب سے پہلے حضرت ادریس علیہ السلام سے ہوا، جنہیں مخالفین توحید و رسالت کو عاجز و ساکت کرنے کے لیے انہوں نے بطور حجت استعمال کیا، پھر ان علوم کو یونانیوں نے اپنایا اور فروغ دیا۔ چنانچہ یونان میں بڑے رتبے کے درج ذیل یہ پانچ فلسفی گزرے ہیں: [خون کے آنسو، ص: 62-63]

  1. بندقلیس 400 قبل مسیح تلمیذ حضرت لقمان حکیم۔

  2. انباغورث تلمیذ اصحاب حضرت سلیمان علیہ السلام۔

  3. سقراط تلمیذ فیثاغورث۔

  4. افلاطون یہ بھی فیثاغورث کا شاگرد تھا۔

  5. ارسطاطالیس۔

ارسطو کی کتابوں کے شارح ہونے کی حیثیت سے حسب ذیل فلسفی مشہور ہیں: (1) ثامسطس (2) اسطفن (3) بطریق اسکندریہ (4) فرفوریوس وغیرہ۔

مسلم بادشاہوں میں سب سے پہلے خلیفہ ابو جعفر منصور نے علم فقہ کے ساتھ فلسفہ، منطق، ہیئت کو بھی حاصل کیا۔

اس کے کاتب عبداللہ بن المقفع الخطیب الفارسی نے ارسطو کی حسب ذیل تین کتابیں عربی میں ترجمہ کر کے منطقی کے لقب سے شہرت حاصل کی: قاطیغوریاس، باری ارمینیاس، انالوطیقا۔

پانچویں صدی ہجری اور اس کے بعد امام ابو حامد محمد غزالی، علامہ ابن رشد قرطبی، امام فخر الدین رازی، ابن تیمیہ حرانی، ابن سہلان، فضل الدین خونجی و غیرہم نے اس میں نئی نئی باریکیاں پیدا کی ہیں، پھر عہد بہ عہد اس میں ترقیاں ہوتی رہیں۔ ملا نصیر الدین طوسی، قطب الدین رازی، میر شریف شیرازی، صدر الدین شیرازی، ملا جلال الدین دوانی، میر اسلم ہروی، میر زاہد ہروی، ملا قطب الدین شہید سہالوی، ملا نظام الدین فرنگی محلی، میر سید شریف جرجانی، شیخ سعد الدین تفتازانی، میر باقر داماد، ملا محب اللہ صاحب مسلم الثبوت، بحر العلوم ملا عبد العلی فرنگی محلی، مرزا جان و امان اللہ بنارسی، قاضی مبارک گوپاموی، ملا محمد حسن فرنگی محلی، حمد اللہ سندیلوی، علامہ فضل امام و علامہ فضل حق خیر آبادی و غیرہم نے اس فن کو چار چاند لگائے۔

خصوصاً میر زاہد ہروی نے تدقیق و تفتیش کی ایسی راہ اپنائی کہ ایک زمانے میں کمال اعظم ہونے کی شناخت یہ تھی کہ کتب “میر زاہد” پر کچھ حواشی لکھے جائیں۔

فن منطق کی اہمیت

منطق انسان کی فطری ضرورت ہے، کیوں کہ انسان ہمیشہ اپنی صلاحیت و استعداد کے مطابق اثبات مدعا میں استدلال و استشہاد سے کام لیتا رہتا ہے تاکہ اپنے مقابل پر غالب آ سکے اور اسے اپنی بات ماننے پر مجبور کر سکے، یہ تمام علوم کے حصول میں ممد و معاون ہے اور عقل و فکر کو جلا بخشنے میں بے نظیر ہے۔ محقق حقائق عقلیہ، ماہر منطق و فلسفہ حضور سیدنا امام غزالی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: “جو فن منطق کا ماہر نہ ہو اس کے علم پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا”۔

منطق خاص عقلی فن ہے۔ یعنی موجودات عقلیہ سے بحث کا نام منطق ہے اور موجود عقلی دو طرح کے ہوتے ہیں:

  1. ایک وہ جو موجودات خارجیہ کا عکس و پرتو ہیں۔

  2. دوسرے وہ جو محض اوہام و تخیلات ہیں، خارج میں ان کا وجود نہیں ہے۔ اس لحاظ سے جس شخص کی عقل جتنی ارفع و اعلیٰ ہوگی، اس کے تصورات و قیاسات بھی اتنے اعلیٰ و وسیع ہوں گے۔

فن منطق کی مشہور کتابیں

الافق المبین، رسالہ میر زاہد، شرح سلّم از قاضی مبارک، حاشیہ قاضی مبارک از علامہ فضل حق خیرآبادی، شرح سلّم از بحر العلوم عبدالعلی فرنگی محلی وغیرہ۔

منطق کی علمی و شرعی حیثیت

یہ حقیقت اظہر من الشمس ہے کہ انسان پر پہلا فرض اللہ تعالیٰ اور اس کی صفات و توحید کو جاننا ہے، بلکہ یہ اہم الفرائض ہے۔ اور یہ معرفت ارباب عقول متوسط کے لیے نظر و استدلال ہی سے ممکن ہے اور قرآن میں نظر و اعتبار کا حکم بھی ہے اور نظر و فکر کی صحت و فساد کے لیے فن منطق موضوع ہے اور عاصم عن الخطا بحسب الظاہر منطق ہی ہے، اسی لیے متاخرین علماء نے منطق کو علم کلام کا جزو قرار دیا ہے۔

علامہ شامی نے احیاء العلوم کے حوالہ سے نقل کیا ہے کہ:

“منطق میں وجہ دلیل اس کی شروط اور وجہ حد اور اس کی شروط سے بحث ہوتی ہے اور یہ دونوں امور علم کلام میں داخل ہیں”۔

اور ابن سینا کا قول ہے:

اَلْمَنْطِقُ نِعْمَ الْعَوْنُ عَلَى إِدْرَاكِ الْعُلُومِ كُلِّهَا

یعنی منطق تمام علوم کے ادراک کے لیے عمدہ معاون ہے۔ اس وجہ سے متقدمین علماء کی کتابیں اصطلاحات منطقیہ اور تدقیقات میزانیہ سے بھری پڑی ہیں۔ جیسے عمدۃ القاری شرح بخاری، اشعۃ اللمعات، شرح عقائد، شرح مقاصد، شرح مواقف، تحریر الاصول، فواتح الرحموت وغیرہ۔

البتہ پوری عمر تحصیل منطق میں صرف کرنا غیر مناسب ہے، کیوں کہ مقصود اصلی علم تفسیر و حدیث، فقہ و عقائد اور تصوف ہے، منطق تو محض آلہ و وسیلہ ہے۔ صاحب درمختار کا قول ہے کہ بعض علماء کے نزدیک فلسفہ سیکھنا یکسر حرام ہے۔ اور منطق فلسفہ میں داخل ہے، اس پر اعتراض کرتے ہوئے علامہ شامی نے لکھا ہے کہ:

وَالْمُرَادُ بِهِ الْمَذْكُورُ فِي كُتُبِهِمْ لِلِاسْتِدْلَالِ عَلَى مَذَاهِبِهِمُ الْبَاطِلَةِ، أَمَّا مَنْطِقُ الْإِسْلَامِيِّينَ الَّذِي مُقَدِّمَاتُهُ قَوَاعِدُ إِسْلَامِيَّةٌ فَلَا وَجْهَ لِلْقَوْلِ بِحُرْمَتِهِ، بَلْ سَمَّاهُ الْغَزَالِيُّ مِعْيَارَ الْعِلْمِ وَقَدْ أَلَّفَ فِيهِ عُلَمَاءُ الْإِسْلَامِ وَمِنْهُمُ الْمُحَقِّقُ ابْنُ الْهُمَامِ. [رد المحتار على الدر المختار، ج: 5، ص: 135]

یعنی حرام منطق فلاسفہ ہے جو ان کے باطل مذاہب پر استدلال کے لیے ان کی کتابوں میں مذکور ہے، لیکن منطق اسلامیاں جس کے مقدمات قواعد اسلامیہ ہیں اس کے حرام کہنے کی کوئی وجہ نہیں ہے بلکہ امام غزالی نے اسے علوم کے لیے معیار مانا ہے۔ اور علمائے اسلام نے اس میں تصانیف کی ہیں، ان ہی میں محقق ابن ہمام بھی ہیں۔

مطلب یہ ہے کہ ممنوع منطق فلاسفہ ہے جو ان کے اقوال فاسدہ کی جامع ہے اور منطق اسلامیاں جو مقصود بالذات نہیں بلکہ آلۂ اکتساب سے عبارت ہے اس میں کوئی قباحت نہیں ہے بلکہ وہ مباح ہے۔

اور شاہ عبد العزیز محدث دہلوی نے لکھا ہے:

“در تحصیل علم منطق باکے نیست زیرا کہ علم منطق علم مقصود بالذات نیست بلکہ از علوم آلیہ است مانند علم صرف، و آلہ ہر چیز در حلت و حرمت حکم آں چیز است کہ ذی آلہ است”۔

یعنی علم منطق کی تحصیل میں کوئی حرج نہیں ہے، کیوں کہ منطق مقصود اصلی نہیں ہے، بلکہ علم صرف کی طرح محض اکتساب مقصود کا ایک آلہ ہے۔ اور آلہ، حلت و حرمت میں ذو آلہ کے تابع ہے، ذو آلہ اگر محمود ہو تو اس کا آلہ بھی محمود ہے اور اگر ذو آلہ مذموم ہو تو اس کا آلہ بھی مذموم ہے۔

مصنف بہار شریعت، خلیفہ اعلیٰ حضرت حضور صدر الشریعہ کہتے ہیں:

“منطق کی تعلیم جائز ہے کہ فی نفسہ فن منطق میں دین کے خلاف کوئی چیز نہیں، اس وجہ سے متاخرین علمائے کرام نے منطق کو علم کلام کا ایک جز قرار دیا ہے اور اصول فقہ میں بھی منطق کے مسائل کو بطور مبادی ذکر کرتے ہیں”۔ [بہار شریعت، ج: 13، ص: 131]

مذکورہ تفصیل سے منطق کی شرعی حیثیت متعین ہو جاتی ہے کہ منطق حقیقت مقاصد اور تعین مراد کی محض ایک شکل ہے۔

فن منطق کے متعلق امام احمد رضا کا نظریہ

امام اہل سنت اعلیٰ حضرت رضی اللہ عنہ بھی منطق کے جواز اس کی اباحت کے قائل ہیں، چنانچہ المقاصد الحمیدہ کے آخر میں تحریر فرماتے ہیں:

“عزیز! میں نہیں کہتا کہ منطق اسلامیاں، ریاضی، ہندسہ وغیرہ اجزائے جائزہ فی نفسہ نہ پڑھو، پڑھو مگر بقدر ضرورت، پھر ان میں غوطہ زنی ہر گز نہ کرو، بلکہ اصل مدار علوم دینیہ پر رکھو، راہ یہ ہے اور آئندہ کی خبر نہیں جسے چاہے ہدایت دے۔”

وَاللَّهُ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ [المقاصد الحمیدہ، ص: 230]

منطق اگر چہ علوم دینیہ کے سمجھنے میں ممد و نافع ہے لیکن ان متنوع فنون میں حد سے زیادہ غوطہ دل کو تاریک کرتا ہے اور ایمان کو ضعیف بناتا ہے۔ اور علوم شریعت و طریقت سے قلب کو روشنی اور ظلمات جسمانیہ اور کدورات نفسانیہ سے صفائی حاصل ہوتی ہے، یہی وجہ ہے کہ علماء دین، فلسفہ و تمام عقلی علوم کو ادنیٰ التفات و توجہ سے سمجھ لیتے ہیں، مگر کوئی بڑا سے بڑا فلسفی آج تک فلسفہ کے زور پر علوم دینیہ میں کمال پیدا نہ کر سکا، شیخ الرئیس بانی فلسفہ نے امام محمد کی چند کتابیں دیکھ کر انصافاً کہا: اگر عمر نوح مجھے عطا ہو، میں اس فاضل اجل کے مرتبہ کو نہ پہنچوں۔

عبد الکریم شہرستانی سے منقول ہے: “میں نے فلسفہ سے سوا حیرت و ندامت کے کچھ نہ پایا”۔

امام حجۃ الاسلام محمد غزالی متون فلسفہ و کلام میں مشغول رہے، آخر عمر میں حدیث کی طرف رجوع فرمایا اور وقت انتقال بخاری شریف سینے پر تھی، بہر حال ان علوم میں حاجت سے زیادہ اشتغال بے کار ہے، جو شخص مقصود بالذات سمجھ کر یہ متاع بڑھاتا ہے ذرا سا کچھ فائدہ دنیا کا حاصل ہو، نہ اس کی تعلیم و تعلم پر ثوابِ آخرت مرتب ہو۔ (جاری ہے) [ملتقط از ہدایۃ البریہ]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!