Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
لباب
مستند مضامین و مقالات
لباب کی مستند علمی و تحقیقی تحریریں اب موبائل ایپ میں دستیاب ہیں۔
پلے اسٹور سے انسٹال کریں

امام احمد رضا اور فن منطق (قسط: دوم)|علامہ عبد الرحمن مصباحی، زینب ظفر

امام احمد رضا اور فن منطق (قسط: دوم)
عنوان: امام احمد رضا اور فن منطق (قسط: دوم)
تحریر: علامہ عبد الرحمن مصباحی جامعہ امجدیہ گھوسی
پیش کش: زینب ظفر
منجانب: لباب اکیڈمی

امام احمد رضا اور فن منطق

بحر العلوم الفقہی، حبر الفنون العقلیہ، شیخ الاسلام و المسلمین، مجدد مائہ ماضیہ، امام الائمہ حضور سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان عالم اسلام کے ایک ایسے نابغۂ روزگار ہیں جن کی دینی و علمی خدمات صدیوں پر محیط ہیں۔ آپ ایک سوا پانچ علوم کے نہ صرف عارف و ماہر تھے بلکہ اکثر علوم میں تصنیفات و مؤلفات کا قیمتی ذخیرہ بھی چھوڑا ہے۔ علوم دینیہ کے علاوہ علوم عقلیہ میں تو ایسی انتہائی شان و مہارت و بصیرت رکھتے ہیں کہ بڑے سے بڑے مسلم علماء آپ کی بارگاہ کے سامنے طفلِ مکتب نظر آتے ہیں۔

عقلی علوم کی تحصیل کے بارے میں خود رقم طراز ہیں:

“کہ فقیر کا درسِ علومِ محمدیہ تعالیٰ تیرہ برس دس ماہ چار دن کی عمر میں ختم ہوا، اس کے بعد چند سال تک طلبہ کو پڑھایا، فلسفۂ جدیدہ سے تو کوئی تعلق ہی نہ تھا، علومِ ریاضیہ و ہندسہ میں فقیر کی تمام تحصیل جمع و تفریق، ضرب و تقسیم کے چار قاعدہ سے بہت کچھ میں اس غرض سے سیکھتے تھے کہ فرمائش میں کام آئیں گے اور صرف شکلِ اولِ تحریرِ اقلیدس کی بس۔”

“جس دن یہ شکل خاتم المحققین سیدنا والدِ ماجد قدس سرہ سے پڑھی اور اس کی تقریر حضور میں کی، ارشاد فرمایا: ‘تم اپنے علومِ دینیہ کی طرف متوجہ ہو، ان علوم کو خود حل کر لو گے۔’”

“اللہ تعالیٰ اپنے مقبول بندوں کے ارشاد میں برکتیں رکھتا ہے۔ بحمدہ تعالیٰ فقیر نے حساب، جبر و مقابلہ، لوگارتھم، علم المربعات، علم مثلثِ کروی، علم ہیئتِ قدیمہ و جدیدہ و جیبات و ارتشا وغیرہ میں تصنیفاتِ فائقہ، تدقیقاتِ سامیہ اور صدہا قواعد و ضوابط خود ایجاد کیے۔”

“فلسفۂ قدیمہ کی دو چار کتابیں میں مطابق درسِ نظامی اعلیٰ حضرت والد ماجد قدس سرہ سے پڑھیں اور چند ورق تک طلبہ کو پڑھائیں مگر بحمدہ تعالیٰ روزِ اول سے طبیعت اس کی خلاؤں سے دور اور اس کی ظلمتوں سے نفور تھی۔”

“ناظرین اہل انصاف و دین سے امید کہ حسبِ عادت متشددانہ علم و انسم و انکار و احتیاج و تکلیفِ بے ثبات و فارغ مجادلات کو کام میں نہ لائیں، ان کے اجلاءِ اکابرین ابن سینا سے لے کر طاء موجودہ پوری تک کون ایسا گزرا ہے جس پر ہمیشہ رد و طرد نہ ہوتے رہے، لغو و فضول ابحاث کی حاجت نہیں، بہ نگاہِ ایمانی اصل مقاصد کو دیکھیے، اگر حق پائیے تو ابن سینا اور اس کے احزاب کی بات مانیے، ورنہ کسی کی بات ماننے کی ضرورت نہیں۔ واللہ العصمۃ واللہ یقول الحق و یھدی السبیل۔” [ملخصاً: رسالہ الکلمۃ الملہمۃ]

اس تفصیل کے بعد جب ہم امام اہل سنت اعلیٰ حضرت رضی اللہ عنہ کی فنِ منطق میں مہارت کو دیکھتے ہیں تو عقل حیران رہ جاتی ہے کہ امام ممدوح کی عقل کی پرواز اتنی اونچی ہے کہ ظلماتِ نفسانیہ و کدوراتِ بدنیہ میں ملوث افراد اس کا اندازہ بھی نہیں کر سکتے، اور منطق میں آپ کا پایہ اتنا بلند ہے کہ ارسطو سے لے کر میر زاہد ہروی تک کے تمام مناطقہ آپ کے سامنے طفلِ مکتب نظر آتے ہیں۔

جن عقلی مباحث کی گتھیاں سلجھانے میں بڑے سے بڑے کابلِ زمانہ عاجز و درماندہ نظر آتے ہیں، آپ انہیں چند لفظوں میں ایسا مشبع اور مدلل فرما دیتے ہیں کہ منصف کے لیے مجالِ تردید نہیں رہتی۔

پروفیسر مسعود احمد پاکستانی، جو ماہرِ رضویات ہیں، وہ “اکرامِ امام احمد رضا” کے پیش لفظ میں لکھتے ہیں:

“امام احمد رضا علومِ عقلیہ میں مہارت کے لحاظ سے ابو نصر فارابی، ابو علی ابن سینا، ابو ریحان بیرونی، ابن رشد، عمر خیام و غیرہم کی فہرست میں آتے ہیں، بلکہ بعض خصوصیات میں ان مشاہیر سے بھی آگے نظر آتے ہیں۔”

علم کی تعریف پر امام احمد رضا کا ایراد اور حل

منطق کا سب سے پہلا مسئلہ “علم” کی تعریف اور اس کی حیثیت کا تعین ہے۔ علم بدیہی ہے یا نظری؟ اس بارے میں تین مشہور مذہب ہیں:

  1. امام رازی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ علم بدیہی ہے اور اس کی تحدید ممتنع ہے۔

  2. امام غزالی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ علم نظری ہے لیکن اس کی تحدید سخت جہد و دشوار ہے۔

  3. جمہور حکماء اور بعض متکلمین کہتے ہیں کہ علم نظری ہے اور اس کی تحدید ممکن و سہل ہے۔

ان سب کا اس بات پر اتفاق ہے کہ علم جو کہ حقیقتاً انکشاف و اکتشاف کا نام ہے، وہ تصور بھی ہوتا ہے اور تصدیق بھی، بدیہی بھی اور نظری بھی، سادہ بھی اور مرکب بھی۔ انہوں نے اس کی تعریف میں جو مذاہب بیان کیے، ان میں سے چند اور ان پر وارد ہونے والے اشکالات درج ذیل ہیں:

1. **“حصول صورة الشیء فی العقل”**: شے کی صورت کا عقل میں حاصل ہونا علم ہے۔

**اشکالات:**
الف: علم ایک حقیقتِ واقعیہ ہے، جبکہ “حصول” ایک نسبتی اعتباری امر ہے۔
ب: یہ تعریف “دور” (Circular reasoning) کو مستلزم ہے، کیونکہ علم کی تعریف میں “شے” ماخوذ ہے اور شے کی تعریف علم پر موقوف ہے۔
ج: اس سے جزئیاتِ مادیہ کا علم خارج ہو جاتا ہے کیونکہ ان کا ارتسام عقل میں نہیں حواس میں ہوتا ہے۔

2. **“الصورة الحاصلة من الشیء عند العقل”**: عقل کے نزدیک پہنچی ہوئی صورت کو علم کہتے ہیں۔

**اعتراض:** علم اس تعریف کی رو سے معلوم کے ساتھ متحد ہوتا ہے، تو علم “مقولہ کیف” نہ رہے گا، کیونکہ اگر معلوم جوہر ہے تو علم بھی جوہر ہو جائے گا، جو کہ باطل ہے۔

3. **“الاضافة الحاصلة بین العالم و المعلوم”**: عالم اور معلوم کے درمیان حاصل ہونے والی اضافت۔

**اعتراض:** معلوم اگر معدوم ہو تو اس کے ساتھ اضافت متصور نہیں ہوتی۔

4. **“الحاضر عند المدرک”**: مدرک کے پاس جو حاضر ہو وہ علم ہے۔

**اعتراض:** یہ تعریف بھی “دور” پر مشتمل ہے، کیونکہ “مدرک” ادراک سے مشتق ہے اور ادراک علم کا مرادف ہے۔

مگر امامِ علم و فن شیخ الکل فی الکل امام احمد رضا محقق اعظم نے علم کی جو تعریف کی ہے وہ اتنی جامع ہے کہ اس پر کوئی اعتراض واقع نہیں ہوتا، وہ ارشاد فرماتے ہیں:

“علم ایک نور ہے، جو شے اس کے دائرہ میں آگئی منکشف ہو گئی اور جس سے اس کا تعلق ہو گیا اس کی صورت ہمارے ذہن میں مرتسم ہو گئی۔”

امام احمد رضا نے فلاسفہ کی بیان کردہ تعریف پر ایسی تنقید کی ہے کہ ہر انصاف پسند قاری دادِ تحسین دینے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ آپ فرماتے ہیں:

“اور فلاسفہ نے جو کہا کہ علم ‘صورتِ حاصلہ عند العقل’ کا نام ہے، غلط ہے۔ ان سفہا نے اصل و فروع میں فرق نہیں کیا، علم سے ہمارے ذہن میں معلوم کی صورت حاصل ہوتی ہے، نہ کہ حصولِ صورت سے علم۔ جب فلاسفہ اپنے علم کو نہیں پہچان سکے تو علمِ الٰہی کو کیا جانیں گے؟ حق سبحانہ و تعالیٰ ذہن و صورت و ارتسام و نور و عرضی سب سے منزہ ہے۔ ہم نہ اس کی ذات سے بحث کر سکتے ہیں، نہ اس کی صفت سے۔” [المسفور الصفی، ص: 235]

انسان کی ماہیت اور اس کی تعریف

تمام فلاسفہ نے انسان کی تعریف ان الفاظ میں کی ہے: “الإنسان ہو حیوان ناطق”۔ اور ناطق کی تعریف یوں کی: “الناطق ہو مدرک الکلیات و الجزئیات”۔ اس تعریف پر متکلمین نے بہت اعتراض کیے ہیں، مگر امام احمد رضا نے ان اعتراضات سے صرفِ نظر کرتے ہوئے ایسے اعتراضات کیے ہیں کہ آج تک کسی نے ایسی نادر تحقیقات پیش نہیں کی ہیں۔

آپ فرماتے ہیں: “شدتِ اختلاط و عدمِ تمیز بحدِ اتحاد نے سفہائے فلاسفہ کو وہ دکھا دیا جو ہمیشہ تدقیق کے نام پر جان دیتے ہیں اور فضول تعمق کو تحقیق جانتے ہیں، وہ بھی کہاں خاص مقامِ تحدید میں انسان کی تعریف کرتے ہوئے ‘حیوان ناطق’، حالانکہ حیوانیت بدن کے لیے ہے کہ وہ جسمِ نامی ہے، اور ناطق و مدرک روح ہے۔”

ایک دوسری جگہ فرماتے ہیں:

“انسان کی حقیقت اس وقت تک فلاسفہ کو معلوم نہیں، انسان کی تعریف کرتے ہیں ‘حیوان ناطق’... انسان نام بدن کا ہے یا نفسِ ناطقہ کا؟ یا دونوں کے مجموعہ کا؟ اول ناطق نہیں کہ ادراکِ کلیات شانِ نفس ہے نہ کارِ بدن۔ دوم حیوان نہیں کہ نفسِ ناطقہ جسم ہے نہ نامی۔ سوم حیوان ہے نہ ناطق، کہ حیوان والا حیوان کا مجموعہ ‘لا حیوان’ ہوگا اور ناطق والا ناطق کا مجموعہ ‘لا ناطق’ ہوگا۔ غرضیکہ واقع میں کوئی شے ایسی نہیں کہ جس پر حیوان و ناطق کے معنی مذکورہ دونوں صادق ہوں، یہ ہے خود ان کا اپنی حقیقت کے ادراک سے عجز۔”

محققِ اعظم امام احمد رضا نے فلاسفہ کی بیان کردہ تعریف پر تنقیدِ شدید اور اعتراضات وارد فرمائے، اور اسی پر بس نہیں کیا بلکہ انسان کی صحیح تعریف بھی بیان کر دی۔

فرماتے ہیں: “حق یہ ہے کہ انسان روحِ متعلق بالبدن کا نام ہے اور روح امرِ رب ہے، اس کی معرفت بے معرفتِ رب نہیں ہو سکتی۔ اس لیے اولیاء کرام فرماتے ہیں: ‘من عرف نفسہ فقد عرف ربہ’، جس نے اپنے نفس کو پہچانا اس نے ضرور اپنے رب کو پہچانا۔”

مزید بطور تنبیہ فرماتے ہیں: “جو ناطقہ کو اس پر حمل کرتے ہیں کہ نفس ہی رب ہے، یہ کفرِ خالص ہے۔ نفس امرِ رب ہے نہ کہ رب۔”

مزید فرماتے ہیں: “عاقل ہونے میں انسان کی کوئی خصوصیت نہیں، ہر شے ناطق ہے، شجر و حجر و دیوار وغیرہ سب ناطق ہیں۔ قرآن شاہد ہے: ‘قَالُوْا أَنْطَقَنَا اللّٰہُ الَّذِیْ أَنْطَقَ کُلَّ شَیْءٍ’۔” [المسفور الصفی، ص: 246]

قارئینِ محترم! ملاحظہ کیجیے امام احمد رضا کی ذہانت اور خداداد علمی صلاحیت کو۔ امام اہل سنت نے اپنے پیش رو علماء کی اتباع میں اگرچہ منطقی متنِ استدلال کو اثباتِ مطلوب اور تنقیحِ مقاصد کے لیے اختیار فرمایا ہے مگر ان قواعد و مسائل کی کورانہ تقلید نہیں کی ہے، بلکہ نفوذ و جرح و اجتہادی شان کے ساتھ اسے جانچا اور پرکھا ہے۔

آپ کی چند تحقیقات فنِ منطق میں بھی ہیں لیکن وہ مطبوع نہ ہو سکیں، ورنہ امام ممدوح کی وسعتِ نظری کے مزید جلوے نکھر کے سامنے آتے۔ امام احمد رضا علومِ عقلیہ میں ماہرانہ نگاہ رکھتے تھے، جدید سائنس اور قدیم فلسفہ کے جو نظریات اور افکار اسلام سے متصادم ہیں یا واقعیت سے دور ہیں، آپ نے ایک حاذق طبیب کی طرح اس کا کامل پوسٹ مارٹم کیا ہے۔ (جاری ہے)

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!