| عنوان: | تاج الفحول بدایونی اور اعلیٰ حضرت بریلوی کے ایک ممتاز خلیفہ حضرت مفتی محمد عمر الدین ہزاروی قدس سرہ القوی (قسط: اول) |
|---|---|
| تحریر: | ڈاکٹر غلام جابر شمس مصباحی |
| پیش کش: | مریم رضوی |
حیات و خدمات کی ایک جھلک
عالم ربانی وخطیب لاثانی، باطل شکن مناظر، مصنف، مجاہدِ سنیت اور مفتیِ بمبئی حضرت مولانا شاہ محمد عمر الدین قادری رضوی ہزاروی قدس سرہ القوی کا اسم گرامی بمبئی کے مذہبی افق پر بہت نمایاں اور روشن رہا ہے۔ آپ کا وطنِ اصلی کاٹھیاواڑ، گجرات تھا۔ آپ کے آباؤ اجداد نقل مکانی کر کے قصبہ کوٹ نجیب اللہ، ہری پور، ضلع ہزارہ جو اب تقسیمِ ہند کے بعد پاکستان میں ہے سکونت پذیر ہوگئے تھے۔ وہیں آپ کی ولادتِ باسعادت ہوئی۔ ہزارہ کے مشہور زمانہ عالم دین علامہ فیض عالم علیہ الرحمہ مصنف “وَجِيزُ الصِّرَاطِ” آپ کے چچا زاد بھائی تھے۔ والد و اجداد کے اسمائے گرامی یہ ہیں: محمد عمر الدین بن مولانا محمد قمر الدین بن علاء الدین بن مراد بخش بن گل محمد۔
ابتدائی تعلیم ہزارہ میں ہی پائی۔ اعلیٰ تعلیم کے لیے بمبئی وارد ہوئے اور مشہور و با فیض درسگاہ جامعہ محمدیہ ملحقہ جامع مسجد بمبئی میں داخلِ درس ہوئے۔ اساتذۂ عظام میں مشہورِ خلائق بافیض عالمِ دین بزرگ حضرت علامہ محمد عبید اللہ مکی صدر مدرس جامعہ محمدیہ بمبئی بطورِ خاص قابلِ ذکر ہیں۔ تکمیلِ تعلیم کے بعد آپ یہیں کے ہو کر رہ گئے، جامعہ محمدیہ بمبئی میں مدرس ہوئے اور پھر صدر مدرس بھی ہوئے۔ دار الافتاء کی ذمہ داری بھی انجام دیتے تھے۔ بے حد مقبول و ہردل عزیز خطیب و واعظ تھے۔ آپ کا خطاب ایمان افروز اور باطل سوز ہوا کرتا تھا۔ ٹھوس علمی مضامین بھی لکھتے تھے۔ تاریخ ساز ریکارڈ قائم کرنے والے ماہنامہ “تحفۂ حنفیہ” پٹنہ میں آپ کے کئی مضامین نظر سے گزرے ہیں۔ صاحبِ تصانیف بھی تھے۔ نصف درجن سے زائد علمی و تحقیقی و تردیدی کتب ومقالات آپ کے شاہکار قلم کی یادگار ہیں۔ میدانِ مناظرہ کے بھی آپ شہسوار تھے۔ بد مذہبوں کے ساتھ ساتھ آپ بے دینوں، آریوں وعیسائیوں سے بھی برسرِ پیکار رہے۔ سیکڑوں بدعقیدہ اور بے دین غیر مسلم آپ کے ہاتھوں مشرف بہ اسلام ہوئے۔
حضرت مفتی محمد عمر الدین قادری رضوی ہزاروی تاج الفحول حضرت علامہ شاہ محمد عبدالقادر بدایونی کے فیض یافتہ اور مرید و خلیفہ تھے۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قادری سے والہانہ تعلق خاطر تھا۔ ان کے علم نافع، عملِ صالح اور جاں باز دینی وعلمی کارناموں اور دلی و روحانی تعلق جس کا محبت بھرا ذکر اعلیٰ حضرت کی متعدد تحریروں میں ہوا ہے کی بنیاد پر اعلیٰ حضرت نے بھی انہیں اجازت وخلافت سے مشرف کیا تھا۔ عمر کے آخری حصے میں اپنے وطن ہزارہ مراجعت فرمائی۔ ۱۴؍شعبان المعظم۱۳۴۹ھ / ۱۹۳۱ء کو عین شبِ برات کی رات مبارک و مسعود ساعت میں وفات پائی۔ تفصیل دیکھیں۔ [تذکرہ علما ومشایخ سرحد، از امیر شاہ قادری، طبع پشاور، بحوالہ ‘تذکرہ خلفائے اعلیٰ حضرت’، از محقق صادق قصوری و ڈاکٹر مجید اللہ قادری، طبع کراچی، ۱۹۹۲ء، ص: ۲۶۹، ۲۷۰] [تذکرہ علمائے اہل سنت، از مفتی محمود احمد رفاعی، طبع لائل پور، بار دوم ۱۹۹۲ء، ص: ۱۸۱]
تاسیسِ ندوہ
۱۳۱۰ھ میں مدرسہ فیضِ عام کان پور کے سالانہ اجلاس میں علما کی ایک میٹنگ ہوئی۔ جس میں مسلم معاشرہ میں پھیلی برائیوں، خصوصاً اصلاحِ نصابِ تعلیم پر گفتگو ہوئی۔ علمائے کرام کی متفقہ رائے سے پہلے پہل اس تنظیم کا نام “نَدْوَةُ الْعُلَمَاءِ” رکھا گیا۔ جو بعد میں ‘نَدْوَةُ الْعُلَمَاءِ’ سے مشہور ہوا۔ کان پور والی میٹنگ میں اعلیٰ حضرت قدس سرہ العزیز بھی شریک تھے اور اصلاحِ نصاب پر اپنا گراں قدر مقالہ بھی پیش کیا تھا۔ ۱۳۱۲ھ میں یہ اجلاس لکھنؤ، ۱۳۱۳ھ میں بریلی اور ۱۳۱۴ھ میں ندوہ کا اجلاس بمبئی میں منعقد ہوا۔
کان پور کی میٹنگ میں ہی کچھ ایسی باتیں سامنے آئیں، جن کی اصلاح و خلاصہ محتاط و متدین علما و مشائخ چاہتے تھے۔ لکھنؤ کے اجلاس میں وہ قابلِ اصلاح باتیں اور زیادہ روشن ہو کر اجاگر ہوئیں تو اصلاح کی کوششیں بھی تیز ہوگئیں۔ اس اصلاحی فکر کے سرگروہ یوں تو تمام محتاط علما تھے مگر نمائندگی و پیشوائی میں پیش پیش تاج الفحول حضرت شاہ محمد عبد القادر قادری برکاتی بدایونی، حافظ بخاری حضرت سید شاہ محمد عبد الصمد مودودی چشتی سہسوانی ثم پھپھوندوی اور اعلیٰ حضرت امام احمد رضا بریلوی تھے۔ بریلی کے اجلاسِ ندوہ میں وہ قابلِ اصلاح باتیں اور بھی شوخ رنگ میں سامنے آگئی تھیں۔
تصدیقاتِ جلیلہ
نتیجہ یہ ہوا کہ تمام اقطارِ ہند کے علما، مشائخ، عمائدین اور دانشورانِ قوم وملت جلسہ ندوہ سے کھنچے کھنچے رہنے لگے اور اصلاح ومخالفت کی رفتار بڑھی۔ ۱۳۱۴ھ میں اعلیٰ حضرت سے اس کے متعلق دس سوالات ہوئے۔ ان سوالات کے جوابات کا مجموعہ “فَتَاوَى الْقُدْوَةِ لِكَشْفِ دَفِينِ النَّدْوَةِ” کے نام سے ۱۳١٣ھ ہی میں مطبع نادری بریلی سے شائع ہوا۔ جس پر تمام ہندوستان کے قریب پچاس اجلہ علما ومشائخ نے ندوہ کی بے دینیوں اور مداہنتوں کا اظہار کرتے ہوئے تائید و تصدیق کی۔ جن کا مقامی تعلق بمبئی، الہ آباد، دہلی، مراد آباد، رام پور، بدایوں، بریلی، پھپھوند اور مارہرہ مقدسہ سے ہے۔ علمائے بمبئی کے مصدقین کے نام نامی کے اندراج سے پہلے نامی ومشہور عالم اور مفتی و مناظر حضرت مفتی محمد عمر الدین قادری ہزاروی کی تصدیق ملاحظہ کریں۔ شیخ العلماء حضرت مفتی محمد عمر الدین ہزاروی کی عبارت یہ ہے۔
“بعد حمد وصلوٰۃ کے واضح ہو کہ ہندوستان میں حکومتِ اسلام نہ ہونے کے باعث طرح طرح کے فتنے حادث ہوتے رہتے ہیں۔ اولاً نجدیہ کا فتنہ ظاہر ہوا، پھر اس میں سے نیچریوں کی شاخ پھوٹی۔ اب سب سے بڑا فتنہ بنام ‘نَدْوَةُ الْعُلَمَاءِ’ نیچریوں نے قائم کیا ہے اور اس میں چند کوتاہ اندیش سنیوں کو بھی شامل کر لیا ہے اور باعثِ زیادہ خرابی اور بد مذہبی کا یہ ہوا ہے کہ ان عیاروں نے تمام کارروائی ظاہراً ان کے سادہ لوحوں کو سونپ دی ہے۔ یہ ان مکاروں کے مکر سے بے خبر، ان کی چال بازی سے غافل، ان کے اقوال فاسدہ کو اپنی زبان و قلم سے شائع کر کے عوام کو دھوکا دے رہے ہیں۔ چنانچہ گواہ اس کی روداد مطبوعہ لکھنؤ و کان پور ہیں۔ جس کے اقوال فاسدہ کا مشت نمونہ از خروارے سائل نے سوال میں درج کیا ہے اور فقیر نے بھی ان خرافات مردودہ کے علاوہ اور بہت سے ہذیانات مطرودہ ان ہر دو روداد میں دیکھے ہیں۔ پس مجیب مصیب نے جو کچھ ان قائلین کے اقوال فاسدہ کی رو سے ان پر احکام شرع جاری کیے ہیں وہ سب ان پر قطعاً وارد ہوتے ہیں۔ ان پر لازم و واجب ہے کہ ان اقوالِ فاسدہ سے تائب ہو کر جلد اہل سنت میں شامل ہوں، ورنہ ان کی وہ جانیں۔ اللہ عزوجل تو اپنے دین کی خود حفاظت فرمائے گا۔ ان سے کچھ نہیں ہونے کا۔ اگلے مبتدعین سے کیا ہوا، جو ان سے ہوگا”۔
اسمائے مصدقین
بمبئی عظمیٰ کے دیگر تائید و تصدیق کرنے والے علمائے کرام اور ان کے اپنے الفاظ یہ ہیں۔
-
اجوبہ مرقومۃ الصدر صحیح ودرست است۔ کتبہ: خادم الشرع القاضی اسماعیل الجدلائی عَفَا اللهُ تَعَالٰی عَنْهُ وَعَنْ وَالِدَيْهِ وَعَنْ أُسْتَاذَيْهِ وَعَنْ جَمِيعِ الْمُؤْمِنِينَ، آمِينَ يَا رَبَّ الْعَالَمِينَ [مع مہر]
-
اَلْمُجِيبُ مُصِيبٌ وَلَهُ ثَوَابٌ عَظِيمٌ وَمَنْ أَنْكَرَ فَقَدْ غَوَىٰ وَضَلَّ عَنِ الطَّرِيقِ الْحَقِّ: کتبہ: احقر العباد حسن بن نور محمد عفی عنہما۔
-
مَا أَجَابَ الْمُجِيبُ فَهُوَ فِيهِ مُصِيبٌ وَلَهُ فِيهِ أَجْرٌ نَصِيبٌ۔ کتبہ: سید مرتضیٰ بن سید محمد سلطان امام مسجد بالائی محلہ۔
-
فَقَدْ أَصَابَ مَنْ أَجَابَ وَمَنْ أَنْكَرَ فَقَدْ خَسِرَ وَخَابَ، لَا رَيْبَ فِي تَحْقِيقِ الْمُحَقِّقِ وَتَدْقِيقِ الْمُدَقِّقِ: حررہ: فقیر قادری مرید احمد حنفی عفی عنہ۔
-
اَلْأَجْوِبَةُ كُلُّهَا صِحَاحٌ، وَالْعِلْمُ الْأَتَمُّ عِنْدَ خَالِقِ الْمَسَاءِ وَالصَّبَاحِ: العبد الفقیر محمد یٰسین عفا اللہ تعالیٰ عنہ۔
-
هٰذِهِ الْجَوَابَاتُ كُلُّهَا حَقٌّ لَا رَيْبَ فِيهَا: حررہ الراجی الی رحمۃ المنان میر عبد الرحمن عفی عنہ۔
-
جواباتِ سوالاتِ عشرہ مذکورہ سب صحیح اور مطابقِ اہلِ سنت و جماعت ہیں۔ حررہ العبد المفتقر الی مولاہ محمد عبید اللہ جَعَلَ اللهُ أُخْرَاهُ خَيْرًا مِنْ أُولَاهُ۔
-
اَلْجَوَابُ صَحِيحٌ مُوَافِقٌ لِأَهْلِ السُّنَّةِ وَالْجَمَاعَةِ: کتبہ: خادم الشرع قاضی شیخ محمد مرغی عفی عنہ وعن جمیع المسلمین آمین قاضی شہر بمبئی۔
-
صَحَّ الْجَوَابُ بِنَقَدِ الْفَقِيرِ عَبْدِ الْغَفُورِ عفی عنہ۔
-
اَلْجَوَابُ صَحِيحٌ: حررہ المتوکل علی اللہ القوی محب النبی حَفِظَهُ اللهُ عَنْ شَرِّ كُلِّ غَوِيٍّ وَغَبِيٍّ۔
-
اَلْجَوَابُ ظَاهِرٌ لِلصَّوَابِ، وَاللهُ أَعْلَمُ بِالصَّوَابِ: رقمہ: احقر الآفاق محمد اسحاق عفی عنہ۔
-
قَدْ حَقَّقَ الْمُحَقِّقُ فِيمَا أَجَابَ، وَهُوَ فِيهِ مُصِيبٌ وَمُثَابٌ، وَاجِبُ الِاعْتِقَادِ مَا أَثْبَتَ وَقَالَ، وَمَاذَا بَعْدَ الْحَقِّ إِلَّا الضَّلَالُ: کتبہ: فقیر حقیر سراپا تقصیر گوشہ نشین کلبۂ نامرادی ادنیٰ الادانی عبد الہادی عفی عنہ۔
اب جو بمبئی کی باری آئی، یہ ۱۳۱۴ھ کا سال تھا۔ اس کی روداد سنیے۔ مدرسہ محمدیہ جامع مسجد بمبئی کے صدر مدرس حضرت مفتی محمد عمر الدین ہزاروی لکھتے ہیں۔
“ندوہ والوں نے بمبئی میں بھی اس بد مذہبی کا جال پھیلانا چاہا، مگر بحمد اللہ ناکام رہے۔ چنانچہ اس کا قدرے نمونہ ایک اخبار روانہ کرتا ہوں، جس کے ص: ۷ پر میں ذکر ہے”۔ [مکتوباتِ علما وکلامِ اہل صفا، طبع بریلی، ۱۳۱۴ھ، ص: ۸۲]
یہی حضرت مفتی محمد عمر الدین ہزاروی آگے تحریر کرتے ہیں۔
“شبلی نعمانی کو ندویوں نے جلسہ تائید ندوہ کے لیے بلایا تھا۔ اخبار ‘سفیر’ میں اطلاع کی تھی کہ شبلی اور مہدی صاحبان ندوہ کے مقاصد پر لیکچر دیں گے۔ مگر قبل اس کے دونوں لکھنؤ سے بمبئی تشریف لاتے اور جمعہ کی نماز کے بعد وعظ میں خوب ندوہ کے پرخچے اڑائے اور شبلی و عبد الحق صاحبان اراکینِ ندوہ کی بھی خوب خبر لی، شبلی صاحب بمبئی سے چلے گئے اور اراکین کے حوصلے پست ہو گئے”۔ [مکتوباتِ علما وکلامِ اہل صفا، طبع بریلی، ۱۳۱۴ھ، ص: ۸۳]

