| عنوان: | تاج الفحول بدایونی اور اعلیٰ حضرت بریلوی کے ایک ممتاز خلیفہ حضرت مفتی محمد عمر الدین ہزاروی قدس سرہ القوی (قسط: دوم) |
|---|---|
| تحریر: | ڈاکٹر غلام جابر شمس مصباحی |
| پیش کش: | مریم رضوی |
١٣١٤ھ میں ہی “فتاویٰ السنة لِالجام الفتنة” کے نام سے ایک کتاب چھپ کر منظرِ عام پر آئی۔ اس کتاب کے مصنف حضرت علامہ شاہ محمد عبد الرزاق مکی حیدر آبادی تھے۔ مطبع نادری بریلی سے شائع ہوئی ہے۔ اس کتاب میں ندوہ کے متعلق چھ سوالات اور ان کے جوابات ہیں۔ کتابِ مذکور کا منشا ہے کہ اہل ندوہ سے بچا جائے۔ حیدر آباد کے علاوہ بمبئی اور دیگر بلادِ ہند کے علما، فقہا، مشائخ اور ماہرینِ دین ودانش کی تائید وحمایت اس کتاب کو حاصل ہے۔ آج سے ایک سو پچیس سال پہلے جن علما، مشائخ، خطبا اور ائمہ نے اس کتاب کی تائید و حمایت اور دستخط ومہر ثبت کر کے ندوہ سے اپنی نفرت و بیزاری کا اظہار و اعلان کیا ہے، یہاں ان کے چند اسمائے گرامی درج کیے جاتے ہیں۔ اصل کتاب میں تفصیل دیکھیے یا میری کتاب “مطالعۂ ندویت” کا مطالعہ کیجیے۔ وہ اسمائے مبارکہ یہ ہیں۔
-
حضرت علامہ محمد عبید اللہ مکی، صدر مدرس مدرسہ اسلامیہ جامع مسجد بمبئی
-
حضرت علامہ قاضی محمد اسماعیل مہری استاذ مدرسہ اسلامیہ جامع مسجد بمبئی
-
حضرت علامہ قاضی محمد صالح بن قاضی شریف عبد اللطیف جامع مسجد بمبئی
-
خلیفۂ بغداد حضرت علامہ عبد اللہ بن محمد حموئی از سرکارِ بغداد اور حال بمبئی۔
-
حضرت علامہ قاضی شیخ محمد مرگھے، قاضی شہر دوم، بمبئی۔
-
حضرت علامہ قاضی محمد اسماعیل جلمائی شافعی خادمِ شرع، بمبئی
-
حضرت علامہ شاہ محمد امین اللہ عرف شاہ جہان حسینی رفاعی، بمبئی
-
حضرت علامہ مولانا محمد اسحاق صاحب واعظِ شہر بمبئی
-
حضرت علامہ سید شاہ غلام حسین جونا گڑھی، واردِ حال بمبئی
-
حضرت علامہ محمد عبد الغفور صاحب واعظ و مدرسِ شہر بمبئی
-
حضرت علامہ حسن بن نور محمد صاحب
-
حضرت علامہ مفتی محمد عمر الدین ہزاروی واعظ و مدرسِ شہر بمبئی
-
حضرت علامہ محمد طاہر صاحب۔
دو تین کو چھوڑ کر یہ سارے مقامی علما و خطبا و ائمہ تھے۔ جو ندوہ کی شناعتوں، سفاہتوں اور دینی قباحتوں کا کھلے عام اعلان کر رہے تھے اور اپنی نفرت و بیزاری کا اظہار کر رہے تھے۔ ان کے علاوہ عمائدین، تاجرین اور دانشورانِ شہر بھی اس تحریکِ اصلاح کے پر جوش کارکن اور سر گرمِ حصہ تھے۔ کچھ نام یہ ہیں۔ حضرت علامہ محمد اسماعیل نقشبندی شاذلی، گورے بابو، حاجی محمد قاسم، حاجی عیسیٰ خان محمد، حاجی نور محمد عثمان، حاجی محمد قاسم، حاجی محمد اسحاق آدم، حاجی ابو، حاجی حبیب، حاجی محمد ابراہیم، شیخ محمد ابراہیم بن شیخ چاند وغیرہ ہم اور شہر ناسک سے حضرت شاہ محمد عبد الفتاح کے فرزندِ ارجمند مولانا سید امام الدین اور جناب سید احمد صاحب بہت ہی فعال تھے۔
تحفہ حنفیہ
یہ سو، سوا سو سال پہلے کی بات ہے۔ یہ ایک ماہنامہ تھا، جو عظیم آباد پٹنہ سے شائع ہوتا تھا۔ اس رسالہ نے رسالہ ندوہ اور غیر مقلّدیت کے رد و تعاقب میں کلیدی کردار انجام دیا ہے۔ یہ اس دور کا نہایت مشہور اور مقبول رسالہ تھا۔ حضرت مفتی محمد عمر الدین قادری رضوی ہزاروی اس کے خاص قلم کاروں میں تھے۔ آپ اس کی اشاعت و ترقی کے خواہاں تھے۔ اس دور کے قلیل آبادی والے بمبئی شہر میں درج ذیل قارئین و معاونین تھے۔ حتیٰ کہ یہ سلسلہ گجرات تک انہوں نے دراز کر دیا تھا۔ رپورٹ میں لکھا گیا ہے۔
-
جناب سوداگر بکھر خان ولد عمر خان، قصبہ میاں نگر گجرات، بذریعہ حامی الاسلام والدین مولانا محمد عمر الدین صاحب مدرس دام مجدہ، جاہلی محلہ امر کھاڑی مکان حاجی صدیق جعفر، بمبئی۔
-
جناب مولانا محمد میاں صاحب، محلہ قصاب واڑہ، کوچہ چاند سیٹھی، بمبئی۔
-
جناب حاجی عبدالرحیم صاحب بن حاجی بلند مرحوم، محلہ قصاب واڑہ، کوچہ چاند سیٹھی، بمبئی۔
-
جناب میاں مومن صاحب، محلہ قصاب واڑہ، کوچہ چاند سیٹھی، بمبئی۔
-
جناب مولانا سید محمد شاہ صاحب عرف بابا میاں، مکان عیسیٰ صاحب، جاہلی محلہ، بمبئی۔
-
جناب مولانا احمد میاں صاحب مہتمم مدرسہ احمد یہ محلہ قصاب واڑہ، کوچہ چاند سیٹھی، بمبئی۔
-
جناب حاجی عیسیٰ جمعہ صاحب، مستری محلہ، بمبئی۔
-
جناب مولانا حافظ عبدالغفور صاحب امام مسجد محلہ متصل کرافٹ مارکیٹ، بمبئی۔
-
جناب شیخ احمد بھائی صاحب متصل مسجد قصاب واڑہ، بمبئی۔
-
جناب سیٹھ دادا میاں صاحب الیاس حاجی چینائی بر دکان حاجی محمد اسحاق الیاس، متصل زکریا مسجد، بمبئی۔
-
جناب مولانا عبد الرحیم احمد امین صاحب، بر دکان زکریا حاجی، متصل زکریا مسجد، بمبئی۔
-
جناب ابراہیم اسماعیل صاحب، زکریا مسجد، بمبئی۔
-
جناب مولانا مولوی حسن صاحب امام مسجد حکیم اسماعیل صاحب، چونا بھٹی، بمبئی۔
-
جناب شیخ عبداللطیف صاحب احمد کمپنی شیخ میمن اسٹریٹ، متصل جامع مسجد، بمبئی۔
-
جناب مولانا خدا بخش صاحب امام مسجد دھان باڑی، بمبئی۔
-
جناب احمد صاحب کا پڑیا متصل محلہ گندا تالاب، بمبئی۔
-
جناب عثمان رحیمتا صاحب، بر مکان عیسیٰ علی، جاہلی محلہ، بمبئی۔
-
جناب میاں جی حسین صالح محمد صاحب، ملا، مستری محلہ, بمبئی۔
-
جناب محمد علی صاحب حلوی محلہ دھان باڑی، بمبئی، بذریعہ موئد سنت خیر البشر مولانا حاجی و حافظ و قاری و واعظ سید شاہ محمد عمر صاحب دام مجدہ، حیدر آباد دکن۔ [ماہنامہ "تحفۂ حنفیہ" پٹنہ ، شماره جمادی الاخریٰ ١٣١٦ھ، ضمیمہ ص: ۲]
مکتوبِ بمبئی
۱۳۱۸ھ میں سر زمینِ عظیم آباد پٹنہ میں ملک گیر سطح پر ردِ ندوہ کا تاریخ ساز اجلاس منعقد ہوا۔ یہ اجلاس مسلسل سات دنوں تک چلتا رہا۔ تمام متحدہ ہندوستان کے سو، سو علما و مشائخ نے شرکت کی۔ بمبئی سے حضرت مفتی محمد عمر الدین قادری رضوی ہزاروی بھی مدعو تھے۔ ناگزیر حالات کے پیشِ نظر پٹنہ نہ جا سکے، تو داعی و میزبانِ حضرت قاضی عبد الوحید فردوسی کو مبارک باد دیتے ہوئے اپنی معذرت کا بھی اظہار کرتے اور لکھتے ہیں۔
"برادرم مولانا الفرید الوحید سلمکم اللہ تعالی، السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ فقیر بمعیت مولانا قاضی مہری صاحب رئیس اعظم بمبئی ضرور حاضر جلسہ ہوتا، مگر نائب مدرس کی علالت سے مجبور اور مولائے موصوف بھی قصد کرتے کرتے رہ گئے۔ بہر حال مبارک باد دیتا ہوں۔ خدا اہلِ سنت کو فتح یاب اور مبتدعین کو پشیماں اور مغلوب کرے۔ سائر علمائے اہل سنت، بالخصوص اعلیٰ حضرت امام علمائے ظاہر و باطن تاج الفحول محب الرسول بدایونی مدظلہ اور محب دمأت حاضرۂ والا حضرت فاضل بریلوی سامت برکاتہم کی خدمات میں تسلیم پہنچائیے۔ والسلام، خادم محمد عمر الدین عفی عنہ، مدرس اول مدرسہ فتحیہ واقع بمبئی"۔ [رودادِ اجلاسِ اہلِ سنت، تحفۂ حنفیہ، پٹنہ ۱۳۱۸ھ ص: ۱۵۰]
ہدیہ تشکر
مفتی بمبئی حضرت مفتی محمد عمر الدین قادری رضوی ہزاروی ماہنامہ "تحفۂ حنفیہ" پٹنہ کے مستقل مقالہ نگاروں میں تو تھے ہی، مخلصانہ تعاون کرتے اور کرواتے بھی تھے۔ چنانچہ مہتمم مطبع حنفیہ حضرت مولانا محمد ضیاء الدین پیلی بھیتی مفتی بمبئی اور معاونِ خاص جناب میاں مومن صاحب مرحوم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔
"خاص کر ناصرِ دین وملت قاتلِ کفر وبدعت عالمِ نبیل فاضلِ جلیل جناب مولانا مولوی محمد عمر الدین صاحب سنی حنفی قادری ہزاروی مقیم بمبئی مربی "تحفۂ حنفیہ" صانہ اللہ تعالیٰ عن مصائب الدنیویۃ والاخرویۃ کا شکریہ ادا ہو ہی نہیں سکتا اور حامیِ سنت ماحیِ بدعت جناب میاں مومن صاحب سیٹھ کا دفتر تحفہ تہہ دل سے شکر گزار، جنہوں نے ایسی حالت میں اعانتِ تحفہ و حمایتِ سنتِ مطہرہ فرمائی اور ایک مشت ساٹھ روپے بغرضِ مددِ تحفہ حضرت مولانا ممدوح کے ذریعہ سے دفتر تحفہ میں بھیجوائے، جزاہم اللہ تعالیٰ"۔ [ماہنامہ "تحفۂ حنفیہ" پٹنہ، شمارہ محرم الحرام ۱۳۲۱ھ، ص: ۳۸]
بمبئی کے مستفتین
شہر بمبئی کے استفتا کرنے والوں اور سوال کرنے والوں میں علما و مشائخ، تجار و دانشور اور عوام الناس بھی ہیں۔ فتاویٰ رضویہ کی مختلف جلدوں میں ایسے اسما کثرت سے موجود ہیں۔ ہم چند اہم علما و مشائخ کے اسمائے گرامی کے ذکر پر اکتفا کرتے ہیں۔ حضرت علامہ سید شاہ حامد حسین صاحب خطیب و امام قصائی محلہ مسجد بمبئی، حضرت مفتی محمد عمر الدین ہزاروی صاحب خطیب و واعظ و مفتی و مدرس مدرسہ محمد یہ بمبئی، حضرت علامہ عبد الواحد خان صاحب خطیب و واعظ شہر بمبئی، حضرت مولانا محمد جہانگیر صاحب خطیب و امام جامع مسجد باندرہ بمبئی وغیرہم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم۔ ۱۳۱۳ھ میں اعلیٰ حضرت قدس سرہ نے رسالہ "منير العينين في تقبيل الابهامين" تصنیف فرمایا۔ اس کے خاتمے میں، جو بمبئی سے چھپ رہا تھا، رقم فرماتے ہیں۔
یہ چند جملے لوحِ دل پر نقش کر لینے ہیں کہ بعونہ تعالیٰ اس تحریر نفیس کے ساتھ شاید اور جگہ نہ ملیں۔
وَبِاللَّهِ التَّوْفِيقُ وَلَهُ الْحَمْدُ، اَلْحَمْدُ لِلَّهِ الْقَادِرِ الْقَوِيِّ عَلَّمَ مَا لَمْ يَعْلَمْ وَصَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَى نَاصِرِ الضَّعِيفِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ۔
قبولِ ضعیف فی فضائل الاعمال کا مسئلہ جلیلدا بتداءً مسودۂ فقیر میں صرف دو افادۂ مختصر ہیں۔ بارگاہِ مفیضِ علوم و نِعم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے بحمد اللہ تعالیٰ نفائسِ جلیلہ کا اضافہ ہوا۔ افادۂ شاز دہم [١٦] سے یہاں تک آٹھ افاداتِ نافعہ اسی مسئلہ کی تحقیق میں القا ہوئے۔ قلم روکتے روکتے اتنے اوراق املا ہوئے۔ امید کی جاتی ہے کہ اس مسئلہ کی ایسی تسجیلِ جلیل و تفصیلِ جزیل اس تحریر کے سوا کہیں نہ ملے۔ مناسب ہے کہ یہ افادے اس مسئلہ خاص میں جدا رسالہ قرار دیے جائیں اور بلحاظِ تاریخ 'الهادي الكاف في حكم الضعاف' لقب پائیں۔" [فتاویٰ رضویہ طبع بمبئی، ۲/ ٤٨١]
١٣١٦ہ میں اعلیٰ حضرت قدس سرہ نے رسالہ "الوفاق المتين" تصنیف فرمائی۔ اس رسالہ کے ترقیمہ میں مفتیِ بمبئی کا تذکرہ و شکریہ ادا کرتے ہوئے اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں۔
"اس فقیرِ حقیر اور مولانا مولوی عمر الدین صاحب کو کہ اس نفیسہ جلیلہ کے محرکِ تالیف اور 'الدال كفاعلہ' کے مصداقِ منیف ہوئے اور عالی ہمتانِ زمن محبانِ دین وسنن حاجی اسحاق آدم صاحب صباغ پلندری و حاجی ابو، حاجی حبیب صاحب میمن ایمن حفظہما اللہ تعالیٰ عن الفتن والمحن کو جن کی ہمتِ بلند سے اصل کتاب اور جامع فضائل قاطعِ رذائل مولانا مولوی محمد اسماعیل صاحب قادری نقشبندی شاذلی سلمہ العلی والولی کو، جن کی سعیِ جمیل سے یہا جزاتذئیل جلیل منطبع اور اہلِ سنت ان جواہرِ دینیہ سے منتفع ہوئے۔ دعائے عفو و عافیت و خیر و برکاتِ دنیا و آخرت سے یاد فرمائیں"۔ [فتاویٰ رضویہ طبع بمبئی، ۴/ ٣٧٦]
