ہندی مسلمان تجارت کا پیشہ اختیار کریں (قسط: دوم)|مولانا محمد فیضان رضا رضوی علیمی

ہندی مسلمان تجارت کا پیشہ اختیار کریں (قسط: دوم)
عنوان: ہندی مسلمان تجارت کا پیشہ اختیار کریں (قسط: دوم)
تحریر: مولانا محمد فیضان رضا رضوی علیمی
پیش کش: ام حبیبہ واسطی
منجانب: مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی ،مراد آباد

نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ

تجارت کرنے والوں کے لیے چند اہم ہدایات

تجارت میں برکت اور خیر ہی خیر ہے۔ رزق کے دس حصوں میں سے نو حصے اس میں ہیں، لہذا مسلمانوں کو اس میں خوب خوب ترقی کرنی چاہیے۔ اس سلسلے میں چند بنیادی ہدایات مندرجہ ذیل ہیں۔

قرض لے کر کاروبار ہرگز شروع نہ کریں، بلکہ پہلے کچھ بچت کریں اور اس سے کام شروع کریں۔ ساری جمع پونجی نہ لگائیں؛ بلکہ کچھ رقم گھریلو اخراجات کے لیے علیحدہ کر لیں۔ جو بھی کاروبار شروع کریں، پہلے تجربہ حاصل کرنے کے لیے کہیں کچھ ماہ ملازمت کر لیں۔ ابتدائی طور پر چھوٹے پیمانے پر کاروبار شروع کریں، پھر آہستہ آہستہ اس میں اضافہ کریں۔ اپنے کاروبار کے کام خود اپنے ہاتھوں سے بھی ضرور کریں۔ ملازمین کی قدر کریں اور ان کے دکھ سکھ میں بذات خود شریک ہوں۔

چھوٹے بڑے، امیر غریب تمام گاہکوں کے ساتھ بے حد خوش اخلاقی سے پیش آئیں۔ اگر کوئی گاہک سامان نہ بھی خریدے تو بھی اس کو پوری محبت دیں، اپنے گاہکوں کے لیے پینے کے پانی کا بھی مناسب انتظام رکھیں۔ گاہکوں کے چھوٹے بچوں کو تحفے میں چاکلیٹ، ٹافی کبھی کبھی دے دیں۔ سامان میں واقعتاً کوئی خرابی ہو تو واپس لینے یا تبدیل کرنے میں کوئی جھجھک محسوس نہ کریں۔ اپنے کام میں باقی لوگوں کی بہ نسبت کچھ انفرادیت لائیں، مثلاً درزی ہے تو اچھے اور فینسی بٹن لگائیں۔ چائے کا اسٹال ہے تو اس میں الائچی وغیرہ ڈال کر دیں۔ ہوٹل ہے تو کوئی اچھی سی چٹنی کھانے کے ساتھ کھانا پیش کریں۔ پیکنگ سے زیادہ کوالٹی پر توجہ دیں۔

اپنے ہم پیشہ اور ہمسایہ دکانداروں سے ہرگز ہرگز حسد جلن نہ کریں، بلکہ دوستانہ تعلقات بنا کر رکھیں۔ کاروباری اتار چڑھاؤ پر گہری نظر رکھیں۔ ایسا کوئی دعویٰ یا وعدہ نہ کریں جو آپ کی استطاعت سے باہر ہو۔ گاہک کے ساتھ جو بھی وقت طے ہو، اس سے پہلے ہی چیز تیار کر لیں۔ کاروبار خالص اور اسلامی اصولوں پر کریں اور اس کو اپنی آخرت کی کامیابی کا ذریعہ بنائیں۔ زکوۃ بالکل صحیح حساب لگا کر بروقت ادا کریں، نیز اس کے علاوہ بھی حسب توفیق غریبوں کی مدد کرتے رہیں۔

ہمیشہ سچ بولیں۔ جھوٹ بولنے سے اگر وقتی نفع ہو بھی گیا تو اس میں برکت بالکل نہ ہوگی۔ مال کا عیب چھپانے اور گاہک کو دھوکہ دینے سے بالکل پرہیز کریں۔ یہ سمجھداری نہیں، بلکہ گھاٹے کا سودا ہے۔ دیانت داری اور امانت داری کا پورا خیال رکھیں۔ مارکیٹ ریٹ سے کم پر سودا بیچیں، لیکن زیادہ ریٹ پر ہرگز نہ بیچیں۔ ناپ تول میں کمی ہلاکت اور خسارے کا باعث ہے، کم تولنے کی بجائے تھوڑا بڑھا کر تولیں۔

کاروبار کے دوران نماز، روزہ اور دوسرے فرائضِ شرعیہ کی ادائیگی کا پورا پورا خیال رکھیں۔ اوقاتِ نماز میں کاروبار بند کر دیں۔ وقت کی پابندی کے ساتھ دکان کھولیں اور بند کریں۔ کاروبار میں برکت کے لیے خود بھی کثرت کے ساتھ سورہ یٰسین شریف اور سورہ واقعہ پڑھیں۔ قرض لینے سے حتی المقدور بچنے کی کوشش کریں، اور اگر مجبوراً لینا بھی پڑے تو جلد ادا کرنے کے لیے ساری توجہ مرکوز کر دیں۔

حرام اشیا کا کاروبار بالکل نہ کریں، مثلاً شراب، نشہ، قحبہ گری، فلمیں، گانے باجے، فحش کتابیں وغیرہ۔ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمتوں کی قدر کریں اور انہیں ہلکا نہ جانیں۔ دو نمبر کا کاروبار بالکل نہ کریں۔ اصل اور خالص مال ہی فراہم کریں اور کاروبار کو دوام بخشنے کے لیے فضول خرچی کی لعنت سے اپنے آپ کو ہمہ وقت محفوظ رکھیں۔ [ماہنامہ پیغام شریعت، دہلی: اکتوبر، نومبر، دسمبر 2020ء، ص: 153 تا 154]

جدید تر اس سے پرانی
Advertisement
Advertisement
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!