| عنوان: | انسانی حقوق کا تصور: تصوف اور اہل تصوف کے حوالے سے (قسط: اول) |
|---|---|
| تحریر: | جہانگیر عالم |
| پیش کش: | ناظمین فاطمہ ردولی |
| منجانب: | مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد |
انسانی حقوق سے مراد وہ بنیادی حقوق ہیں جو تمام انسانوں کو پیدائشی اعتبار سے حاصل ہیں، خواہ ان کا تعلق کسی بھی نسل، مذہب، جنس، زبان، معاشرہ یا طبقے سے ہو۔ یہ حقوق آج کل کی پیداوار نہیں ہیں بلکہ جب سے اللہ رب العزت نے حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا کیا تب سے چلے آرہے ہیں، مگر یہ بھی انسانوں کی طرح بتدریج ارتقائی مراحل سے گزرتے ہوئے ہم تک پہنچے ہیں۔
آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک جتنے بھی نبی مبعوث ہوئے سب نے انسانی حقوق کو پابندی سے ادا کرنے کی تبلیغ کی مگر جب نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری ہوئی تو آپ نے بھی انسانی حقوق کو بتایا، اور اسے عملی جامہ پہنا کر دکھایا، اور انسانی حقوق کا ایسا سبق پڑھایا کہ حقوق کے بھی حق ادا ہو گئے۔ آپ کے بعد آپ کے صحابہ کرام، تابعین اور تبع تابعین پھر ان کے بعد ایک اور جماعت نکلی جن کو اہل تصوف کہا گیا، نے ان حقوق کے سبق کو دوسروں تک پہنچایا اور اس کے پیغام کو عام کیا۔ صوفیائے کرام کی اس جماعت نے حقوق کو محض قانونی فریم ورک تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے روحانی تربیت، باطنی پاکیزگی اور خدا سے تعلق کا لازمی جز بنا دیا۔
قرآن و حدیث کی روشنی میں حقوق دو طرح کے ہوتے ہیں ایک حقوق اللہ اور دوسرا حقوق العباد۔ پہلے کا تعلق خدا سے ہے، اس کا مطلب ہے اس کو ایک جان اور مان کر اس کی بندگی کرنا اور اس کے بتائے گئے احکام کو بجالانا۔ اور دوسرے کا تعلق بندوں کے ساتھ ہے۔ بندوں کے حقوق کا ذکر بھی قرآن و حدیث میں نہایت ہی تفصیل کے ساتھ موجود ہے۔ جیسے حقِ زندگی کے بارے میں سورۃ المائدہ کی آیت میں ہے کہ جس نے ناحق کسی انسان کا خون کیا گویا اس نے انسانیت کا خون کیا اور جس نے اسے بچایا گویا اس نے پورے انسانوں کو زندگی بخشی۔ [سورۃ المائدہ: 32]
اسی طرح حدیث میں ہے کہ ہر مسلمان کا دوسرے مسلمان پر اس کا خون، مال اور اس کی عزت حرام ہے۔ [سنن ابی داؤد، کتاب الادب، باب فی الغیبۃ]
اسی طرح تمام چھوٹے بڑے حقوق قرآن و حدیث کی روشنی میں ہمیں مل جائیں گے، ہم نے یہاں نہایت اختصار سے کام لیا ہے اس لیے کہ ذیل میں ہم انسانی حقوق کا تصور تصوف کے حوالے سے تفصیل سے بیان کریں گے۔
انسانی حقوق کے بارے میں تو ہم کچھ نہ کچھ جانتے ہی ہیں کہ ایک انسان کے دوسرے انسان پر کچھ حقوق ہوا کرتے ہیں جو ضرورتاً ادا کرنے پڑتے ہیں، جیسے ماں باپ کے حقوق، بیٹا بیٹی کے حقوق، بھائی بہن کے حقوق، رشتہ دار اور خاندان کے حقوق، پڑوسی اور محلہ دار کے حقوق وغیرہ اور اگر بنیادی حقوق کو دیکھا جائے تو اس میں برابری اور آزادی کے حقوق، زندگی اور تحفظ کے حقوق، قانون مساوات کے حقوق، نجی زندگی کے حقوق، آزادانہ نقل و حرکت کے حقوق، شادی اور خاندان کے حقوق، جائداد کے حقوق، اظہارِ رائے کے حقوق، سماجی تحفظ کے حقوق، ثقافتی زندگی میں حصہ لینے کے حقوق، تعلیم کے حقوق وغیرہ۔ مگر آئیے تصوف اور اہل تصوف کے بارے میں جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے، خاص بندگانِ الٰہی وہ ہیں جو زمین پر جھک کر چلتے ہیں اور جب جاہل انھیں چھیڑیں تو وہ بجائے جواب کے ان سے کہہ دیتے ہیں کہ اچھا خوش رہو۔ [سورۃ الفرقان: 63]
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، “جس نے اہلِ تصوف کی آواز سن کر ان کی دعوت کو قبول نہ کیا وہ اللہ کے نزدیک غافلوں میں لکھا گیا۔” [کشف المحجوب، ص: 117]
تصوف کے لغوی و اصطلاحی معنی
تصوف عربی کا لفظ ہے جس کے لغوی معنیٰ یہ ہیں، صوفیوں کا عقیدہ، علم معرفت، دل سے خواہشوں کو دور کر کے خدا کی طرف دھیان لگانا، تزکیۂ نفس کا طریقہ، پشمینہ پہننا، وہ مسلک جس کے وسیلے سے صفائیِ قلب حاصل ہو، اشیائے عالم کو صفاتِ حق کا مظہر جاننا، صوف پوشی، خواہش نفسانی سے پاک ہونا، علمِ روحانی۔ [فیروز اللغات، آف لائن اردو لغت ایپ]
اصطلاحی معنی، صوفی کو صوفی اس لیے کہا جاتا ہے کہ وہ کمبل اوڑھتا ہے، صوفی کو صوفی اس لیے کہا جاتا ہے کہ وہ بروزِ قیامت صفِ اول میں کھڑے ہوں گے، صوفی وہ ہے جو اصحابِ صفہ سے محبت کا رابطہ رکھے، کسی نے کہا صوفی ایک اسم ہے جو صفا سے مشتق ہے یعنی جس کے اندر اور باہر صفائی ہے وہ صوفی کہلانے کا حق دار ہے۔ [کشف المحجوب، ص: 117]
حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: “تصوف ایک ایسی صفت ہے کہ بندہ اس صفت کے ساتھ بندہ ٹھہرتا ہے۔” [ایضاً، ص: 126]
حضرت ابو جعفر بن علی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں، “تصوف ایک نیک خصلت ہے، جو زیادہ نیک خصلت ہے وہ زیادہ صوفی ہے۔” [ایضاً، ص: 129]
انسانی حقوق اہلِ تصوف کے حوالے سے
صوفیائے کرام نے دینِ اسلام کے مختلف شعبوں میں اپنی نمایاں خدمات انجام دی ہیں مگر ان بزرگوں نے خدمتِ خلق اور اخلاقِ حسنہ کا جو درس دیا ہے وہ سب سے نمایاں ہے، انھی میں ایک انسانی حقوق کا تصور بھی ہے جو ان کے ملفوظات اور ان کے اقوال و ارشادات میں جا بجا ملتا ہے۔
مذکورہ بالا تعریفات سے اندازہ ہو گیا کہ صوفی وہ ہے جو نیک خصلت والا ہے، اور جو نیک خصلت والا ہو گا وہ کسی بھی شخص یا فرد کا حق نہیں مارتا بلکہ تمام حقوقِ انسانی کو بخوبی انداز میں ادا کرتا ہے۔ آئیں ذیل میں دیکھتے ہیں کہ انسانی حقوق کو اہل تصوف نے کس طرح ادا کیا ہے۔
ماں کے حقوق
داتا گنج بخش کشف المحجوب میں حضرت اویس قرنی رحمۃ اللہ علیہ کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ آپ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا دیدار دو وجہوں سے نہیں کر سکے، ایک مانعِ حضوری آپ کا غلبۂ حال رہا اور دوسرا اپنی والدہ ماجدہ کے حقِ خدمت میں مصروف رہے۔ اس واقعہ سے ثابت ہوا کہ آپ ماں کے حقوق ادا کرنے میں اتنے مصروف رہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت نہ کر سکے۔
بادشاہ پر رعایا کے حقوق
حضرت عمر بن عبد العزیز رحمۃ اللہ علیہ کو جب امیر المومنین بنایا گیا تو آپ نے صوفیائے کرام سے مشورہ طلب کیا کہ مجھے اس منصب کی ذمہ داری دی گئی ہے اور میں اسے مصیبت جانتا ہوں، آپ حضرات کوئی حل نکالیں۔ ان میں سے ایک بزرگ نے کہا کہ آپ معمر لوگوں کو اپنا باپ، نوجوانوں کو بھائی اور بچوں کو بیٹوں کی طرح سمجھیں اور ان کے ساتھ معاملہ بھی ویسا ہی کریں یعنی ان کے حقوق ادا کریں۔ [کشف المحجوب، ص: 225]
مساوات و برابری کے حقوق
حضرت ابو علی شقیق کا واقعہ بیان کیا ہے کہ آپ ایک غلام کی وجہ سے دنیا داری چھوڑ کر خدا کی عبادت و ریاضت میں لگ گئے، اور آپ اکثر فرمایا کرتے تھے کہ میں ایک غلام کا شاگرد ہوں، جو کچھ مجھے ملا اس کی بدولت ملا۔ [ایضاً، ص: 243]
