Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

امام احمد رضا اور اکابر امت کا دفاع (قسط: اول) | مفتی فیضان المصطفیٰ قادری

امام احمد رضا اور اکابر امت کا دفاع (قسط اول) - رسالہ رادع التعسف کے حوالے سے
عنوان: امام احمد رضا اور اکابر امت کا دفاع (قسط اول) - رسالہ رادع التعسف کے حوالے سے
تحریر: فیضان المصطفیٰ قادری
پیش کش: ثمینہ پروین قادریہ رضویہ
منجانب: مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد

امام بخاری نے اپنی صحیح بخاری میں فقہی مسائل میں کسی ایک امام کی مکمل اتباع نہیں کی۔ بلکہ اپنے اجتہاد کو جولانی دی ہے، چنانچہ جس طرح انہوں نے حنفیہ سے اختلاف کا اظہار کیا ہے، یوں ہی شافعیہ اور دیگر ائمہ سے بھی جا بجا اختلاف کا اظہار کیا ہے، لیکن عام طور پر وہ صراحتاً کسی دوسرے موقف کا رد و ابطال نہیں کرتے۔ مگر بعض مقامات جن کی تعداد تقریباً دو درجن کے قریب ہے "قال بعض الناس" کہہ کر دوسرے ائمہ کے موقف کا صراحتاً رد کیا ہے۔ اس میں زیادہ تر کتاب الحیل میں ہیں۔

جن مقامات پر "قال بعض الناس" کہہ کر امام بخاری نے رد و ابطال کے لیے دوسرے کا قول پیش کیا ہے، اگرچہ انہوں نے نام کی صراحت نہیں کی ہے۔ لیکن اکثر شارحین "بعض الناس" سے امام بخاری کا اشارہ امام ابو حنیفہ یا دیگر حنفیہ کو قرار دیتے ہیں، اس کے پیچھے دلائل کم اور قیاس آرائیاں زیادہ ہیں، لیکن غیر مقلدینِ زمانہ نے ان تمام اقوال کو امام ابو حنیفہ اور حنفی ائمہ پر چسپاں کردیا ہے، بلکہ بعض نے یہ جرأت کی ہے کہ ایک مقام کو بنیاد بنا کر امام ابو یوسف پر زبانِ طعن دراز کی ہے۔ ذیل میں ہم وہ قول پیش کرتے ہیں، پھر امام ابو یوسف پر طعن سے متعلق ایک سوال پھر امام ابو یوسف کے دفاع میں امام احمد رضا کے تفصیلی جواب کا خلاصہ۔

امام بخاری نے کتاب الحیل میں ایک حدیث پاک پیش کی ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ زکوٰۃ سے بچنے کے لیے جمع شدہ مال کو الگ نہ کیا جائے، (لا یفرّق بین مجتمع خشیة الصدقة) اس کے بعد امام بخاری لکھتے ہیں: لیکن کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ایک سو بیس اونٹوں میں دو عدد تین سالہ اونٹ دینے ہوں گے، اور اگر زکوٰۃ سے بچنے کے لیے انہیں جان بوجھ کر ہلاک کردے یا ہبہ کردے یا ان میں حیلہ کرے تو اس پر کچھ نہیں۔

وقال بعض الناس فی عشرین ومائة بعیر حقتان فان اھلکھا متعمداً او وھبھا او احتال فیھا فرارا من الزکاۃ فلا شیء علیه۔ (صحیح بخاری المجلد الثانی کتاب الحیل، ص: ١٠٢٩)

کچھ لوگوں نے اس قول کو امام ابو یوسف کی طرف منسوب کیا ہے، جس کو بنیاد بنا کر بعض جری غیر مقلدین نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ امام ابو یوسف سال کے اختتام سے پہلے اپنا مال اپنی اہلیہ کو دے دیتے تھے اور ان کا مال خود ہبہ کر لیتے تھے، تاکہ زکوٰۃ دونوں پر واجب نہ ہو۔ یہ ایک مجتہد امام المذہب کی شان میں گستاخی کے مترادف ہے۔ چنانچہ اسی سے متعلق ایک سوال امام احمد رضا قدس سرہ العزیز کی بارگاہ میں پیش ہوا تو اس کے جواب میں آپ نے امام ابو یوسف رضی اللہ عنہ کے دفاع میں ایک مکمل رسالہ تصنیف فرمایا جس کا نام ہے، "رادع التعسف عن الامام ابی یوسف" جو فتاویٰ رضویہ قدیم کی چوتھی جلد میں موجود ہے۔ یہ رسالہ کیا ہے؟ معلومات کا ایک خزانہ ہے جس کا مطالعہ ہر شخص کو کرنا چاہیے جو علمائے اُمت کی حرمتوں کی پاسداری اور دفاع کرنے کا مزاج رکھتا ہو، کیونکہ سیکھنے کے لیے اس میں بہت کچھ ہے۔ ہم ذیل میں اس رسالے سے چند باتیں اخذ کرکے قارئین کی نذر کرتے ہیں، جن سے اندازہ ہو کہ امام احمد رضا قدس سرہ العزیز نے امام ابو یوسف رضی اللہ عنہ کا کس شان سے دفاع کیا ہے۔

اعلیٰ حضرت قدس سرہ سے مدرس نے سوال کیا کہ ایک غیر مقلد کی کتاب ظفر المبین میں لکھا ہے کہ امام ابو یوسف آخرِ سال پر اپنا مال اپنی بی بی کے نام ہبہ کر دیتے تھے اور اس کا مال اپنے نام ہبہ کر لیا کرتے تھے، تاکہ زکوٰۃ ساقط ہو جائے، یہ بات کسی نے امام ابو حنیفہ سے بیان کی انہوں نے فرمایا کہ یہ ان کے فقہ کی جہت سے ہے اور درست فرمایا، چنانچہ اس بات کی تصدیق ایک مقلد صاحب نے بھی کی، بلکہ کہا کہ اس معاملے کو امام بخاری نے بھی اپنی کتاب میں درج کیا ہے اور بہت نفرت کے ساتھ لکھا ہے، اس کی توضیح مدلل ارشاد فرمائی جائے۔ (ملخصاً فتاویٰ رضویہ چہارم ٤٤١)

اس سوال سے محسوس ہوتا ہے کہ امام ابو یوسف رضی اللہ عنہ پر یہ الزام سیکڑوں سال پرانا ہے، مگر ہمیں نہیں معلوم کہ کسی نے اس مسئلے پر امام ابو یوسف کی حمایت میں اس قدر تفصیلی کلام کیا ہو، لیکن جب یہ سوال ائمہ اعلام کی حرمتوں کے امین امام احمد رضا قدس سرہ کی بارگاہ میں آتا ہے تو آپ کی مذہبی غیرت اسے گوارا نہیں کرتی اور آپ کو آمادہ کرتی ہے کہ پوری تفصیل سے کلام کریں، چنانچہ آپ نے اس الزام کے ساتھ جوابات دیے ہیں:

امام احمد رضا کے جواب کا خلاصہ:

(١) امام بخاری نے کہیں ذکر نہیں کیا کہ امام ابو یوسف ایسا عمل کرتے تھے اور امام ابو حنیفہ نے ان کی تصدیق کی، انہوں نے صرف اس قدر لکھا ہے کہ بعض علما کے نزدیک: اگر کوئی شخص سال پورا ہونے سے پہلے مال ہلاک کردے یا ہبہ کردے یا بیچ کر بدل لے کہ زکوٰۃ واجب نہ ہونے پائے تو اس پر کچھ واجب نہیں۔

(٢) کتبِ حنفیہ میں اس مسئلے میں امام ابو یوسف اور امام محمد کا اختلاف منقول ہے اور یہ کہ فتویٰ امام محمد کے قول پر ہے کہ ایسا کرنا جائز نہیں، اور یہی مذہب امام ابو حنیفہ کا بھی ہے، تو امام صاحب کی طرف یہ نسبت کہ انہوں نے اس فعل کی تصدیق کی، مذہب کے خلاف ہے۔

(٣) خزانۃ المفتین میں ہے کہ شفعہ ثابت ہونے کے بعد اس کے ابطال کے لیے حیلہ مکروہ ہے اور قبل ثبوت کوئی حرج نہیں، اور وجوبِ زکوٰۃ سے بچنے کے لیے حیلہ اجماعاً مکروہ ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ایسا امام ابو یوسف بھی مکروہ قرار دیتے ہیں، اس کا مفہوم یہ ہوگا کہ امام ابو یوسف کے نزدیک مکروہ تنزیہی ہوگا اور طرفین کے نزدیک مکروہ تحریمی۔ خود امام ابو یوسف نے اپنی کتاب الخراج میں ایسا حیلہ کرنے سے منع فرمایا: "لا یحتال فی ابطال الصدقة بوجه ولا سبب" اور کتاب الخراج امام ابو یوسف نے خلیفہ ہارون الرشید کے لیے لکھی تھی جو امام ابو حنیفہ کا آخری یا بعد کا زمانہ ہے، لہٰذا اس کا مطلب یہ ہوا کہ امام ابو یوسف نے اپنے پہلے قول سے رجوع فرمالیا، اور قولِ مرجوع سے طعن بالکل غلط ہے، ورنہ سیّدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ایک زمانے تک جوازِ متعہ کے قائل رہے، بالآخر رجوع فرمالیا۔

(٤) یہ حکایت کسی سند سے ثابت نہیں، اور بے سند حکایت سے کیا طعن ہو سکتا ہے۔ اکابر علما بارہا عوام کے لیے رخصت بتاتے ہیں اور خود عزیمت پر عمل کرتے ہیں، امام ابو حنیفہ نبیذ کو حرام قرار دینے سے منع کرتے اور کبھی منہ نہ لگاتے۔

(٥) امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ نے احیاء العلوم شریف میں فرمایا کہ یزید پر لعن کرنا اس وجہ سے کہ اس نے امام حسین کا قتل کیا یا قتل کا حکم دیا درست نہیں اس لیے کہ یہ ثابت نہیں، اور بلاثبوت کسی کی طرف کبیرہ کی نسبت جائز نہیں۔ اب امام ابو یوسف کے مسئلے میں دیکھنا یہ ہے کہ ایسا خطائے اجتہادی ہے یا کسی فریضہ الٰہیہ کی مخالفت ہے، خطائے اجتہادی پر طعن کیا معنیٰ؟ اس پر تو مجتہد کو ایک ثواب ملتا ہے، اور اگر معاذاللہ دوسری صورت ہو تو گناہِ کبیرہ ہوگا پھر کیسے جائز ہوگا کہ ایسے سخت کبیرہ کی نسبت ایک مسلمان نہیں بلکہ امام المسلمین کی طرف کی جائے وہ بھی تواتر کجا محض بلاسند حکایت پر۔

سبحان اللہ! یزید پلید کی طرف تو یہ نسبت ناجائز و حرام ہو کہ اس نے امام مظلوم سیدنا حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو شہید کرایا اس لیے کہ اس کا حکم دینا اس خبیث کے متواتر نہیں، اور سیدنا امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ کی طرف ایسی شدید عظیم بات نسبت کرنا حلال ٹھہرے حالانکہ تواتر تو چھوڑیں اصلاً کوئی ٹوٹی پھوٹی سند بھی نہیں۔

(٦) محض برا لگنا بے دلیل شرعی حجت نہیں، نہ زہد کے احکام شرعی احکام پر حاکم، نماز میں قلتِ خشوع کو اہل سلوک مذموم کہتے ہیں، اور ایسی نماز کو فاسد و باطل گردانتے ہیں، مگر فقہا کا اجماع ہے کہ "خشوع" نہ رکن ہے نہ فرض ہے نہ شرط ہے۔ اجتہادِ مجتہد طعن کا مقام نہیں اور فعل بفرض غلط اگر کبھی ہوا اور بسند معتمد ثابت ہوجائے تو بس اس قدر ہوگا کہ ان کا اجتہاد ہے، جس طرح حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے حضرت عکرمہ کو کہا جب انہوں نے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں کہا وتر انہوں نے ایک رکعت پڑھی جواب دیا "دعه فانه فقیه" انہیں کچھ نہ کہہ کہ وہ مجتہد ہیں۔‌ رواہ البخاری۔

ہاں تصدیق کے بارے میں یہ حکایت کتب میں منقول ہے کہ امام زین الملۃ والدین ابو بکر خواب میں زیارت اقدس حضور سید عالم ﷺ سے مشرف ہوئے، کسی شافعی المذہب نے امام ابو یوسف کا یہ قول حضور کے سامنے عرض کیا، حضور اقدس ﷺ نے فرمایا ابو یوسف کی تجویز حق ہے یا فرمایا راست۔ شرح نقایہ میں ہے۔

شرح نقایہ میں ہے: وقد ایده ما صح عندنا ان افضل العلما فی زمانه واکمل العرفا فی اوانه زین الملة والدین ابو بکر التائبادی قد رأی فی المنام أن شافعی المذہب قال فی مجلس النبی صلی اللہ علیہ وسلم أن ابا یوسف یجوز حیلة فی اسقاط الزکاۃ فقال صلی اللہ علیہ وسلم ان ما جوزہ ابو یوسف حق أو صدق۔ (فتاویٰ رضویہ ٤/ ٤٤٥)

اس جواب کا حاصل تو یہ ہوا کہ حضرت امام ابو یوسف رضی اللہ عنہ نے زکوٰۃ کے معاملے میں حیلہ شرعی کو جائز قرار دیا تو امام ابو حنیفہ کی تصدیق و تصویب کجا؟ خواب میں تو حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم تصدیق و تصویب فرما رہے ہیں۔ (جاری ہے۔۔۔)

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!