Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
لباب
مستند مضامین و مقالات
لباب کی مستند علمی و تحقیقی تحریریں اب موبائل ایپ میں دستیاب ہیں۔
پلے اسٹور سے انسٹال کریں

محبت اور فلسفہ محبت (قسط: سوم)|مولانا محمد علی رضوی

محبت اور فلسفہ محبت (قسط: سوم)
عنوان: محبت اور فلسفہ محبت (قسط: سوم)
تحریر: مولانا محمد علی رضوی
پیش کش: محمد احسان مصطفیٰ
منجانب: جامعۃ المدینہ فیضانِ عطار ناگ

دائرہ محبت

ابھی کافی اقوال باقی ہیں، مضمون کی طوالت کے سبب انہی پر اکتفا کرتا ہوں۔ ہاں اتنا ضرور ہے یہ تو اپنے اپنے خیالات ہیں، اپنے اپنے ذہنی تصورات ہیں، یہ اپنی اپنی ایجاد کردہ رائیں ہیں۔

سبو اپنا اپنا ہے جام اپنا اپنا
کئے جاؤ مے خواروں کام اپنا اپنا

لیکن یہ مسلم حقیقت ہے کہ چاہے محبت جنون اور پاگل پن کا نام ہو یا دیوانگی کا، چاہے محبت دردِ دل کا نام ہو یا اس کی دوا کا، چاہے محبت آگ اور شعلوں کا نام ہو یا چنگاریوں کا، چاہے محبت دل کی بے چینیوں اور سوزشوں کا نام ہو یا کرب و اضطراب کا، مگر اس میں ادنیٰ سے ادنیٰ اور ذرہ برابر بھی شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں کہ محبت کا میدان اس قدر کشادہ ہے، محبت کا دامن اتنا طویل و عریض ہے، محبت کا دائرہ اتنا وسیع ہے اور محبت کے مراحل و منازل اتنے لمبے ہیں کہ جس کی وسعت و کشادگی کا اندازہ لگانا، جس کی حدود کو جاننا، جس کی مسافتوں کی پیمائش کرنا یہ طاقتِ انسانی سے بالاتر ہے۔

بلکہ جب کسی بھی مقام پر یہ محبت اپنا شامیانہ تانتی ہے، جب کسی مقام پر یہ اترتی ہے تو اس مقام کا دامن اس کے لیے تنگ ہو کر رہ جاتا ہے۔ اگر یہ زمین پر اتر پڑے تو زمین کی وسعتیں اس کے لیے ناکافی ہو جائیں۔ اگر یہ آسمانوں پر اپنا شامیانہ تان لے تو آسمان کی بلندیاں اس کو اپنے دامن میں نہ سما سکیں۔ اگر یہ پہاڑوں پر جلوہ فگن ہو جائے تو پہاڑوں کی رفعتیں اس کی بار برداری نہ کر سکیں۔ عالمِ اسفل یا عالمِ بالا کے کسی بھی گوشے اور خطے میں اگر یہ پناہ لینا چاہے تو کوئی اس کو دامن میں پناہ دینے کے لیے تیار نہ ہو سکے۔ بلکہ جب ان سب سے خلاقِ ارض و سما نے کہا تھا کہ:

إِنَّا عَرَضْنَا الْأَمَانَةَ عَلَى السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَالْجِبَالِ فَأَبَيْنَ [سورۃ الاحزاب: 72]

“اے آسمانوں، اے زمینو، اے پہاڑو! ہم اپنی ایک امانت تمہارے سپرد کرنا چاہتے ہیں، کیا تم ہماری اس امانت کی بار برداری کر سکتے ہو؟ کیا تم ہماری اس امانت کی حفاظت کی ذمہ داری لینے کے لیے تیار ہو؟” تو سب نے مل کر کہا تھا کہ اپنی ان وسعت و طوالت کے باوجود، اس قوت و توانائی کے باوجود ہم تیری اس امانت کی بار برداری نہ کر سکیں گے۔

معلوم ہوا کہ محبت یہ وہ قدرتی عطیہ ہے، یہ وہ خداداد امانت ہے کہ اگر یہ اپنے بازوؤں کو پھیلا دے تو زمین کی وسعتوں میں نہ سما سکے، آسمانوں کی رفعتوں میں نہ سما سکے۔ پہاڑوں کی بلندیوں میں نہ سما سکے۔ غرض کہ ساری دنیا اس کے لیے ناکافی ہے۔ اور جب ساری کائنات میں نہیں سما پاتی تو کبھی بھی تمام مکانیات سے صرفِ نظر کر کے زمین کی وسعتوں کو پار کرتی ہوئی آسمانوں کی بلندیوں سے گزرتی ہوئی اپنا سفر لامکاں کی طرف شروع کر دیتی ہے۔ اور لامکاں کو اپنا مسکن بنا لیتی ہے اور ایک محب اپنے محبوب سے لامکاں میں پہنچ کر وصالِ محبوب اور لقائے یار کی لطافتوں سے لطف اندوز ہو جاتا ہے۔

قفس کی تیلیوں سے لے کر شاخِ آشیاں تک ہے
میری دنیا یہاں سے ہے، میری دنیا وہاں تک ہے

مگر جب یہ اپنے بازوؤں کو سمیٹتی ہے، جب اپنے پیروں کو موڑتی ہے تو انسان کے سینے میں دھڑکتے ہوئے دل کے اندر پناہ گزیں ہو جاتی ہے۔ ایک ادنیٰ سے گوشت کے ٹکڑے کے اندر سما جاتی ہے اور یہی ہماری زندگی کا وہ انمول صلہ ہے، یہی وہ انمول اور انوکھی دولت اور نایاب نعمت ہے جس کے اندر کائنات کی تمام نعمتیں اور دولتیں سمائی ہوتی ہیں۔ یوں سمجھئے کہ جس کے پاس یہ نعمتِ عظمیٰ اور یہ دولتِ بے بہا نہیں اس کے پاس کچھ نہیں۔ اور جس کے پاس اللہ اور اس کے محبوب کی محبت ہے دنیا کی تمام دولتیں اور کائنات کے تمام خزانے اس کے پاس موجود ہیں۔ اسی کی منظر کشی شاعر نے یوں کی ہے:

ان کا خیال ان کی محبت لیے ہوئے
بیٹھا ہوں کائنات کی دولت لیے ہوئے [مقالات نعیمی، ص: 159]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!