Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

دور حاضر میں مساجد کی اہمیت و ضرورت|محمد مقصود عالم قادری دیناج پوری

دور حاضر میں مساجد کی اہمیت و ضرورت
عنوان: دور حاضر میں مساجد کی اہمیت و ضرورت
تحریر: محمد مقصود عالم قادری دیناج پوری
پیش کش: فرحین فاطمہ نعمانی
منجانب: جامعۃ المدینہ فیضانِ کنز الایمان بمبئی

مساجد کو ہمیشہ سے ایک مرکزی حیثیت حاصل رہی ہے، ہر زمانے میں ان کا مقام و مرتبہ مسلمانوں نے سرِ خم تسلیم کیا ہے، اور کیوں نہ کریں کہ قرآن و حدیث میں جن کے ان گنت فضائل وارد ہوئے ہیں۔

مساجد محض اللہ تعالیٰ کا گھر نہیں ہیں، کہ جہاں اس کی صرف عبادت اور ریاضت کی جاتی ہے، بلکہ یہ تو اسلام کے وہ قلعے ہیں، جہاں تبلیغِ اسلام کا عظیم کارنامہ سر انجام دیا جاتا ہے، جہاں مسلمانوں کے دینی، سماجی، تعلیمی اور معاشرتی جیسے زندگی کے اہم گوشوں کے حوالے سے ان کی رہنمائی کی جاتی ہے۔ علاوہ ازیں یہی مساجد دینِ اسلام اور دیگر ادیان کے درمیان ایک امتیازی دائرہ کھینچ دیتی ہیں، کہ دوسرے مذاہب کی عبادت گاہوں میں ذات پات اور امیر غریب کے درمیان بھید بھاؤ کیا جاتا ہے حالانکہ مساجد میں جہاں بادشاہِ وقت کھڑا ہوتا ہے تو اسی کے بغل میں ایک عام مزدور ہوتا ہے۔

ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایاز
نہ کوئی بندہ رہا نہ کوئی بندہ نواز

اور یہ بھی کہ آج لوگوں میں آپسی محبت ناپید ہوچکی ہے، اور نفرت ترقی پاچکی ہے، تو اس صورت حال میں لوگوں میں باہم محبت اور بھائی چارگی کو فروغ دینے کے لیے یہی مسجدیں اہم ترین ذرائع ہیں، لہذا ہر نماز کے وقت مسجد میں جایا کریں، اور نماز وغیرہ سے فراغت کے بعد آپس میں سلام، مصافحہ اور خیریت پوچھیں، ان شاء اللہ ایک خوشگوار معاشرہ وجود میں آئے گا۔

لیکن آج دشمنانِ اسلام اور کچھ شر پسند لوگ انھیں مساجد کو ڈھانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں، اس کے پیچھے ان کا مقصد صرف مساجد کا مٹانا نہیں ہے بلکہ مسلمانوں کو مساجد سے دور کرکے اسلام کو مٹانا بھی ان کے مقاصد میں شامل ہے، لیکن ان کو کیا معلوم کہ:

فانوس بن کے جس کی حفاظت ہوا کرے
وہ شمع کیا بجھے جسے روشن خدا کرے

یہ تو اسلام کے دشمنوں کا حال تھا، لیکن صد افسوس آج بہت سے مسلمان بھی مساجد کی قدر و قیمت کو فراموش کر بیٹھے ہیں، مسجد بنانی ہو تو جلدی بن جاتی ہے لیکن اس کے بعد مسجد کے حقوق کا چنداں خیال نہیں رکھتے، ہفتوں مہینوں گزر جاتے ہیں مسجد کا منہ دیکھنا نصیب نہیں ہوتا۔

لہذا مسلمانوں کو چاہیے کہ مساجد کے مقام و مرتبہ کو پہچانیں، اور ان کے حقوق کی مکمل پاسداری کریں، اور ان کے حقوق میں سے یہ بھی ہے کہ ان کو آباد کیا جائے، اور ان کی مکمل حفاظت کی جائے، اور اس دور میں تو ان کی حفاظت کی ذمے داری اور بڑھ جاتی ہے کہ جہاں دشمنانِ اسلام شب و روز ان کے خلاف سازشیں کر رہے ہیں۔

محمد مقصود عالم قادری دیناج پوری
جامعۃ المدینہ فیضانِ کنز الایمان، بمبئی
سہ ماہی القلم، شمارہ (۱۱) رمضان المبارک تا ذوالقعدہ ۱۴۴۴ھ

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!