Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

پیشہ ورانہ تعلیمات (قسط: دوم)|طارق انور مصباحی

پیشہ ورانہ تعلیمات (قسط: دوم)
عنوان: پیشہ ورانہ تعلیمات (قسط: دوم)
تحریر: طارق انور مصباحی
پیش کش: مدحت فاطمہ ضیائی
منجانب: مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد

گزشتہ سے پیوستہ۔۔۔

پیشہ ورانہ علوم کی تفاصیل

ان مضامین میں پیشہ ورانہ علوم سے متعلق محض اشارات فراہم کیے جائیں گے، یعنی پیشہ ورانہ ڈگریوں میں داخلہ کی شرائط، مدت، فیس، تعلیمی میڈیم اور متعلقہ تعلیمی ادارے کا ذکر ہوگا۔ تفصیلات اور ان ڈگریوں کے فوائد اور شعبۂ ملازمت اپنے آس پاس موجود تعلیم یافتگان، پراسپیکٹس، پروگرام کوآرڈی نیٹر، انٹرنیٹ و دیگر وسائل و ذرائع سے حاصل فرما لیں۔ یہاں صرف بیچلر ڈگری (Bachelor Degree) سے متعلق معلومات مرقوم ہوں گی، کیونکہ ماسٹر ڈگری (Master Degree) بیچلر ڈگری کے بعد آتی ہے۔ جو بیچلر ہو جائے گا، وہ خود ہی مابعد کے مراحل سے متعارف ہو جائے گا۔

1۔ کمپیوٹر سائنس

بی سی اے (Bachelor of Computer Application BCA)

شرائطِ داخلہ:

میٹرک اور انٹرمیڈیٹ (10+2) کے سرٹیفکیٹ ہوں، یا اس کے مماثل کوئی سرٹیفکیٹ ہو۔

میڈیم: انگلش۔ مدت: تین سال۔

فیس: تیس ہزار (30,000)۔ کل چھ سمسٹر (Semester) ہیں۔ ہر سمسٹر میں پانچ ہزار ادا کرنا ہے۔

تعلیمی ادارہ: اگنو (IGNOU)

2۔ لائبریری اینڈ انفارمیشن سائنس

بی ایل آئی ایس (Bachelor of Library and Information Science BLIS)

شرائطِ داخلہ:

پچاس فیصد (50%) مارکس کے ساتھ بیچلر ڈگری پاس کی ہو۔

یا بیچلر ڈگری کے ساتھ لائبریری سائنس (Library Science) میں ایک سالہ ڈپلوما کیا ہو۔

یا بیچلر ڈگری کے ساتھ لائبریری اور انفارمیشن سنٹر (Library and Information Center) کا دو سالہ عملی تجربہ (Working Experience) ہو۔

میڈیم: انگلش۔ مدت: ایک سال۔ فیس: پانچ ہزار (5,000)۔ تعلیمی ادارہ: اگنو۔

3۔ ٹورزم اینڈ ٹریولز

بی ٹی ایس (Bachelor of Arts in Tourism Studies BTS)

شرائطِ داخلہ:

میٹرک اور انٹرمیڈیٹ (10+2) کے سرٹیفکیٹ ہوں، یا اس کے مماثل کوئی سرٹیفکیٹ ہو، یا اگنو سے بی پی پی (BPP) پاس کیا ہو۔

مدت: تین سال۔ میڈیم: انگلش و ہندی۔ فیس: سات ہزار پانچ سو (7,500)۔ ہر سال ڈھائی ہزار ادا کرنا ہے۔ تعلیمی ادارہ: اگنو۔

4۔ سوشل ورک

بی ایس ڈبلیو (Bachelor of Social Work BSW)

شرائطِ داخلہ:

میٹرک اور انٹرمیڈیٹ (10+2) کے سرٹیفکیٹ ہوں، یا اس کے مماثل کوئی سرٹیفکیٹ ہو، یا اگنو سے بی پی پی (BPP) پاس کیا ہو۔

مدت: تین سال۔ میڈیم: انگلش و ہندی۔ فیس: بارہ ہزار روپے (12,000)۔ ہر سال چار ہزار ادا کرنا ہے۔ تعلیمی ادارہ: اگنو۔

5۔ انجینئرنگ

بی ای (کمپیوٹر) (B.E. Computer Engineering)

مدت: چار سال۔ کل فیس: اڑتیس ہزار نوے روپے (38,090)

بی ای (الیکٹریکل) (B.E. Electrical Engineering)

مدت: چار سال۔ کل فیس: اڑتیس ہزار نوے روپے (38,090)

بی ای (الیکٹرانکس اینڈ کمیونیکیشن) (B.E. Electronics & Communication Engineering)

مدت: چار سال۔ کل فیس: اڑتیس ہزار نوے روپے (38,090)

بی ای (میکانیکل) (B.E. Mechanical Engineering)

مدت: چار سال۔ کل فیس: اڑتیس ہزار نوے روپے (38,090)

توضیح: انجینئرنگ کی مذکورہ بالا چاروں ڈگریاں جامعہ ملیہ اسلامیہ (دہلی) کی ہیں۔

چاروں ڈگریوں میں داخلہ کی شرائط درج ذیل ہیں:

  1. کسی تسلیم شدہ (Recognized) پالی ٹیکنک ادارہ (Polytechnic Institute) یا ٹیکنیکل ادارہ (Technical Institute) سے متعلقہ شعبہ میں تین، چار سالہ ڈپلوما کورس (Diploma Course) کیا ہو۔ یعنی انجینئرنگ کے جس شعبہ میں ایڈمیشن لینا چاہتا ہو، اسی شعبہ میں تین، چار سالہ ڈپلوما کورس کیا ہو۔

  2. ڈپلوما کورس پاس کرنے کے بعد متعلقہ شعبہ میں کم از کم دو سالہ عملی تجربہ (Professional Experience) رکھتا ہو۔

  3. بی ای (کمپیوٹر انجینئرنگ) میں ایڈمیشن کے لیے کمپیوٹر انجینئرنگ میں تین، چار سالہ ڈپلوما کورس کیا ہو، یا الیکٹرانکس اینڈ کمیونیکیشن انجینئرنگ میں تین، چار سالہ ڈپلوما کورس کیا ہو، یا کمپیوٹر انجینئرنگ اور الیکٹرانکس اینڈ کمیونیکیشن انجینئرنگ کا مشترکہ تین، چار سالہ ڈپلوما کورس کیا ہو۔ پھر ڈپلوما کورس پاس کرنے کے بعد دو سالہ پیشہ ورانہ تجربہ (Professional Experience) حاصل کیا ہو۔

  4. جس نے جامعہ ملیہ اسلامیہ (دہلی) کے پالی ٹیکنک ادارہ سے ڈپلوما کورس کیا ہو، اور ستر فیصد مارکس (70% Marks) یا اس سے زائد مارکس حاصل کیے ہوں، وہ دو سالہ عملی تجربہ کے بغیر مذکورہ بالا انجینئرنگ ڈگریوں کے انٹرنس ٹیسٹ (Entrance Test) میں شریک ہونے کا اہل ہے۔

نوٹ: مذکورہ بالا تمام ڈگریاں آپ کے کسی علاقائی ڈگری کالج یا کسی قریبی یونیورسٹی میں بھی دستیاب ہوں گی، معلوم کر لیں۔

مذکورہ فیس و مدت وغیرہ سال 2016ء و 2017ء کے اعتبار سے ہے۔ آئندہ سالوں میں تبدیلی ہو سکتی ہے۔

اسی طرح دیگر تعلیم گاہوں میں فیس و مدت کی کمی و بیشی ہو سکتی ہے۔

یونین پبلک سروس کمیشن (UPSC)

ملکِ ہند کی مرکزی حکومت اور ریاستی حکومتوں کے بہت سے محکمہ جات ہیں۔ ملازمت کی عمر کی تکمیل پر ملازمین کا ریٹائرمنٹ (Retirement) جاری رہتا ہے۔ اسی طرح بعض ملازمین حادثات کے بھی شکار ہو جاتے ہیں۔ حکومتی محکمہ جات میں پیدا شدہ خلا کو پر کرنے کے لیے مختلف قسم کے امتحانات کا انعقاد ہوتا رہتا ہے، تاکہ ملازمین کا انتخاب کیا جا سکے۔

یونین پبلک سروس کمیشن (Union Public Service Commission) مرکزی حکومت کے زیرِ انتظام ہے۔

کمیشن گیارہ ممبران یعنی ایک چیئرمین اور 10 ارکان پر مشتمل ہوتا ہے۔

یہ تمام ارکان، صدرِ جمہوریہ (President of India) کے منتخب کردہ ہوتے ہیں۔

کمیشن کا ہیڈ آفس دہلی میں ہے۔ برطانوی عہد میں یکم اکتوبر 1926ء کو اس کا قیام عمل میں آیا۔ مرکزی پبلک سروس کمیشن کی طرح ہر ریاست (State) کے زیرِ انتظام ریاستی پبلک سروس کمیشن ہے۔ ریاستی پبلک سروس کمیشن ریاستی سول سروس و دیگر محکمہ جات کے لیے امتحانات کا انعقاد اور ملازمین کا انتخاب کرتا ہے۔ ہر ریاست کے پبلک سروس کمیشن اور اس کے امتحانات وغیرہ سے متعلق معلومات انٹرنیٹ سے حاصل کر لیں۔ یو پی ایس سی (UPSC) کی جانب سے درج ذیل امتحانات منعقد ہوتے ہیں:

  1. Civil Services Examination

  2. Engineering Services Examination

  3. Combined Medical Services Examination

  4. Combined Defence Services Examination

  5. National Defence Academy Examination

  6. Naval Academy Examination

  7. Special Class Railway Apprentice

  8. Indian Forest Service Examination

  9. Indian Economic Service Examination

  10. Indian Statistical Service Examination

  11. Combined Geoscientist and Geologist Examination

  12. Central Armed Police Forces (Assistant Commandant) Examination [UPSC Wikipedia]

سول سروس امتحان (CSE)

یونین پبلک سروس کمیشن کی جانب سے قریباً ہر سال سی ایس ای (Civil Services Examination - CSE) منعقد ہوتا ہے۔ یہ مقابلہ جاتی امتحان (Competitive Exam) ہے۔

بہت سے فارغینِ مدارس و مسلم نوجوان انڈر گریجویشن (Under Graduation) اور پوسٹ گریجویشن (Post Graduation) کر چکے ہیں، انہیں اس امتحان میں شرکت کر کے قسمت آزمائی کرنی چاہیے۔

امتحان کی تیاری کے لیے مختلف شہروں میں کوچنگ سنٹر قائم ہیں۔

سول سروس کے شعبہ جات

سی ایس ای (CSE) کے امتحان میں کامیابی کے بعد جن محکمہ جات میں سروس ہوتی ہے، وہ دو حصوں میں منقسم ہیں:

  1. آل انڈیا سروسز (All India Services - AIS)

  2. سنٹرل سول سروسز (Central Civil Services - CCS)

سنٹرل سول سروسز (CCS) دو گروپ میں منقسم ہیں۔ گروپ اے و گروپ بی (Group A & Group B)

All India Services (AIS)

  1. IAS (Indian Administrative Service)

  2. IPS (Indian Police Service)

CCS (Group A)

  1. Indian Audit and Account Service

  2. Indian Civil Accounts Service

  3. Indian Corporate Law Service

  4. Indian Defence Accounts Service

  5. Indian Defence Estates Service

  6. IFS (Indian Foreign Service)

  7. Indian Information Service

  8. Indian Ordnance Factories Service

  9. Indian Post & Telecommunication Accounts and Finance Service

  10. Indian Postal Service

  11. Indian Railway Accounts Service

  12. Indian Railway Personnel Service

  13. Indian Railway Traffic Service

  14. Indian Revenue Service (Income Tax)

  15. Indian Revenue Service (CBES)

  16. Indian Trade Service

  17. Railway Protection Force

CCS (Group B)

  1. Armed Forces Headquarters Civil Service

  2. Delhi, Andaman and Nicobar Islands Civil Service

  3. Delhi, Andaman and Nicobar Islands Police Service

  4. Pondicherry Civil Service

  5. Pondicherry Police Service

نوٹ: انٹرنیٹ سے سی ایس ای (CSE) کا قریبی کوچنگ سنٹر معلوم کر لیں اور وہاں سے تفصیلی معلومات حاصل کر کے دوسروں کو بھی ان امور کی ترغیب دیں۔ یہ ایک مقابلہ جاتی امتحان (Competitive Exam) ہے۔ جتنے افراد کا انتخاب کرنا ہوتا ہے، اسی تعداد میں عمدہ نمبر والوں کا سلیکشن ہو جاتا ہے۔ قسمت آزمائی کرنی بہتر ہے۔

امتحان کے مراحل

سی ایس ای (CSE) کے تین مراحل ہیں:

  1. پہلا مرحلہ (Stage I): اول مرحلہ میں ابتدائی امتحان (Preliminary Examination) ہوتا ہے۔ اس امتحان کو “سی ایس اے ٹی” (Civil Services Aptitude Test - CSAT) کہا جاتا ہے۔ اس کے ذریعے امیدوار کی قابلیت و استعداد (Qualification) کی جانچ (Test) کی جاتی ہے۔ ہر سال مئی و اگست میں یہ امتحان منعقد ہوتا ہے، اور اکتوبر میں نتائج کا اعلان کر دیا جاتا ہے۔ امتحان کے دو پیپر ہوتے ہیں۔ ہر پیپر 200 نمبر کا ہوتا ہے، یعنی کل چار سو نمبر (400 Total Marks) ہوتے ہیں۔ کامیابی کے لیے تینتیس فیصد (33%) نمبر لازم ہے۔ اول پیپر میں 100 سوالات ہوتے ہیں۔ ہر سوال 2 نمبر کا ہوتا ہے۔ پیپر دوم میں 80 سوالات ہوتے ہیں۔ ہر سوال ڈھائی نمبر (2.5) کا ہوتا ہے۔

  2. دوسرا مرحلہ (Stage II): اس مرحلہ میں اصل امتحان ہوتا ہے۔ اس امتحان کو مین امتحان (Main Examination) کہا جاتا ہے۔ یہ امتحان ہر سال دسمبر میں ہوتا ہے۔ مارچ میں نتائج کا اعلان کر دیا جاتا ہے۔ مین امتحان (Main Examination) میں 9 پیپر ہوتے ہیں۔ پیپر اے و پیپر بی (Paper A & Paper B) چھ سو نمبر (300+300=600 Marks) کے ہوتے ہیں۔ باقی ہر ایک پیپر 250 نمبر کا ہوتا ہے۔ اس طرح 9 پیپر کے 1750 نمبر ہوئے۔ انٹرویو 275 نمبر کا ہوتا ہے۔ کل 2025 نمبرات (Marks) ہوئے۔ ابتدائی امتحان (Preliminary Examination) کے نمبرات اس میں شمار نہیں کیے جاتے ہیں۔

  3. تیسرا مرحلہ (Stage III): اس مرحلہ میں امیدوار کی شخصیت کی جانچ (Personality Test) ہوتی ہے۔ اس کو انٹرویو (Interview) کہا جاتا ہے۔ انٹرویو ہر سال مارچ یا اپریل میں ہوتا ہے۔ مئی میں فائنل رزلٹ کا اعلان کر دیا جاتا ہے، اور منتخب امیدواروں (Selected Candidates) کے لیے ٹریننگ پروگرام (Training Programme) عام طور پر ماہِ ستمبر میں شروع ہوتا ہے۔

امتحان میں شرکت کی شرائط

1۔ قومیت (Nationality):

  1. IAS, IFS & IPS کے لیے امیدوار کا انڈین ہونا لازم ہے۔ بصورتِ دیگر درجِ فہرست ممالک میں سے کسی ملک کا ہو، اور وہاں سے ہجرت کر کے دائمی اقامت پذیری کی نیت سے ہندوستان میں رہائش پذیر ہو گیا ہو۔

  2. دیگر سروسز کے لیے انڈیا، نیپال یا بھوٹان کا شہری ہو۔

2۔ تعلیم (Education):

امتحان میں شرکت کے لیے کسی یونیورسٹی سے ڈگری یافتہ (بیچلر) ہونا یا اس کے مماثل ہونا لازم ہے۔ تفصیل یہ ہے:

  1. کسی سنٹرل یونیورسٹی، اسٹیٹ یونیورسٹی یا ڈیمڈ یونیورسٹی (Central, State or Deemed University) سے ڈگری پاس ہو۔

  2. فاصلاتی تعلیم (Distance Education) یا مراسلاتی تعلیم (Correspondence Education) کے ذریعے ڈگری حاصل کی ہو۔

  3. کسی اوپن یونیورسٹی (Open University) سے ڈگری حاصل کی ہو۔

  4. کوئی ایسا سرٹیفکیٹ رکھتا ہو، جو حکومتِ ہند کے یہاں مذکورہ بالا کسی ڈگری کے مماثل ہو۔

مذکورہ بالا افراد کے علاوہ مزید چند تعلیم یافتگان (Educateds) کو بعض شرائط کے ساتھ امتحان میں شرکت کی اجازت ہے:

  1. جو کسی پرائیویٹ یونیورسٹی (Private University) سے ڈگری حاصل کر چکا ہو۔

  2. جو ایم بی بی ایس (MBBS) کا فائنل امتحان پاس کر چکا ہو، لیکن ابھی میڈیکل کے عملی شعبہ میں داخل ہونے کی پوزیشن (Internship) حاصل نہ کی ہو۔

  3. جو بیرونِ ملک کی ایسی یونیورسٹی (Foreign University) سے ڈگری حاصل کر چکا ہو، جو یونیورسٹی ایسوسی ایشن آف انڈین یونیورسٹیز (Association of Indian Universities) کے ذریعے تسلیم شدہ (Recognized) ہو۔

جو انڈیا کے درج ذیل اداروں میں سے کسی ادارہ کا فائنل امتحان (Final Exam) پاس کر چکا ہو:

  1. انسٹی ٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس آف انڈیا (Institute of Chartered Accountants of India - ICAI)

  2. انسٹی ٹیوٹ آف کمپنی سیکرٹریز آف انڈیا (Institute of Company Secretaries of India - ICSI)

  3. انسٹی ٹیوٹ آف کاسٹ اینڈ ورکس اکاؤنٹنٹس آف انڈیا (Institute of Cost and Works Accountants of India - ICWAI)

3۔ عمر (Age):

  1. امتحان میں شرکت کے لیے امیدوار کی عمر 21 سال ہونی چاہیے۔ جس کی عمر 32 سال ہو چکی ہے، وہ امتحان میں شریک نہیں ہو سکتا۔

  2. او بی سی (Other Backward Castes - OBC) کے لیے آخری عمر 35 سال ہے۔ ایس سی (Scheduled Castes - SC) اور ایس ٹی (Scheduled Tribes - ST) کے لیے آخری عمر 37 سال ہے، یعنی او بی سی 35 سال اور ایس سی و ایس ٹی 37 سال کی عمر تک امتحان میں شریک ہونے کا مجاز ہے۔

  3. عام افراد کو 6 بار، او بی سی کو 9 بار اور ایس سی و ایس ٹی کو 37 سال کی عمر تک حسبِ مرضی، امتحان میں شرکت کی اجازت ہے۔

حکومتی محکمہ جات کا دروازہ

حکومتی محکمہ جات میں داخل ہونے کا دروازہ اہلیتی امتحان ہے، جو یونین پبلک سروس کمیشن، اسٹیٹ پبلک سروس کمیشن، و دیگر محکمہ جات کی جانب سے مختلف ناموں سے منعقد ہوتا رہتا ہے۔ سیاسی شعبہ جات یعنی پنچایت، میونسپلٹی، کارپوریشن، اسمبلی و پارلیامنٹ تک رسائی کا ذریعہ الیکشن ہے۔ الیکشن بھی ایک قسم کا امتحان ہی ہے۔ بعض شعبوں میں قابلیت کی بنیاد پر سلیکشن بھی ہوتا ہے، مثلاً ملک کی راجیہ سبھا (Upper House) اور ریاستوں کی لیجسلیٹیو کونسل (Legislative Council) کے بہت سے ممبران کو نامزد کیا جاتا ہے۔

معاشی ترقیات کے لیے پروفیشنل ایجوکیشن بھی ایک مفید راستہ ہے۔ فاصلاتی تعلیمات کے لیے انٹرنیٹ سے اپنا علاقائی اسٹڈی سنٹر اور سول سروس کمیشن کے لیے انٹرنیٹ سے اپنا قریبی کوچنگ سنٹر دریافت کر لیں اور وہاں سے ضروری معلومات حاصل کریں۔ پروفیشنل ایجوکیشن کے لیے متعلقہ ادارہ میں اس شعبہ کے کوآرڈی نیٹر یا اس شعبہ میں زیرِ تعلیم طلبہ سے رابطہ کریں، وما توفیقی الا باللہ العظیم والصلوۃ و السلام علی حبیبہ الکریم وآلہ واصحابہ النعیم۔ [ماہنامہ پیغام شریعت دہلی، نومبر 2016ء، تعلیمی مسائل، قسط ہشتم، ص: 58 تا 65]

قسطیں تمام ہوئیں (بحمد اللہ)

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!