Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

ہندوستانی مدارس اور جدید عصری تقاضے|محمد فیضان رضا رامپوری

ہندوستانی مدارس اور جدید عصری تقاضے
عنوان: ہندوستانی مدارس اور جدید عصری تقاضے
تحریر: محمد فیضان رضا رامپوری
پیش کش: فرحین فاطمہ نعمانی
منجانب: جامعۃ المدینہ، ٹھاکر دوارہ

مدارس اسلامی (Islamic Schools) تعلیمات اور دینی اقدار و روایات کی نشر و اشاعت کا پاکیزہ اور خوبصورت سرچشمہ (source) ہیں۔ جن کا نظامِ تعلیم (education system) کے اہم اور بنیادی عناصر قرآن و سنت کی تعلیمات ہیں۔ ان میں انسان کو اللہ تعالیٰ کا نیک و صالح بندہ بنایا جاتا ہے، اور ان مدارس کی فیض رسانی (impact) پورے عالم میں مسلم ہے۔

مدارس کا نقطہ آغاز "صفۂ نبوی" (Prophetic Platform) ہے۔ یہی وہ عظیم درسگاہ (institution) ہے جہاں صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کو براہِ راست مشکوٰۃِ نبوت (light of Prophethood) سے باریابی حاصل ہوئی۔ یہاں کے تعلیم و تربیت یافتہ عظیم مفسر (exegete)، محدث (Hadith scholar)، فقیہ (jurist)، مفکر (thinker)، مدبر (strategist)، سیاستدان (politician)، دانشور (intellectual) اور رہبرِ قوم و ملت (leader of the nation) بن کر چہار دانگِ عالم میں منتشر ہو گئے، اور عالم کو اسلامی تعلیمات کی روشنی سے روشن و منور کر دیا۔

جب اسلام کی عطر بیزیاں (fragrance) دنیا بھر میں پھیلنے لگیں تو ہندوستان بھی ان خوشبوؤں سے محروم نہ رہا۔ اولاً بر صغیر پاک و ہند میں اسلامی تعلیمات صوفیائے عظام (Sufi saints) رحمہم اللہ نے خوب جدوجہد (struggle) اور مسلسل کوشش (continuous efforts) سے پھیلائیں اور ایک زمانے کو قرآن و حدیث کی روشنیوں سے باریاب فرمایا۔ پھر جب ہندوستان میں اسلامی حکومت (Islamic rule) قائم ہو گئی تو باقاعدہ طور پر مدارس کا قیام عمل میں آیا اور جدید و منظم طور پر نظام تعلیم کے تحت اسلامی تعلیمات کی ترویج و اشاعت (propagation) ہونے لگی۔

مدارس اور جنگ آزادی (Islamic Schools and the Freedom Struggle)

ہندوستان کی تاریخ (History of India) کا ایک اہم باب جنگ آزادی (freedom struggle) ہے، جسے کبھی بھی فراموش (forgotten) نہیں کیا جا سکتا۔ اس میں بھی طلبۂ مدارس کا کردار (role of students) ناقابلِ فراموش (unforgettable) ہے۔ ہندوستان کی آزادی کا اعلان (declaration of independence) کرنے اور سب سے پہلے ظلم و استبداد (oppression and tyranny) کے خلاف جہاد (struggle) کا فتویٰ (religious decree) دینے والے بھی انہی مدارس کے ایک فارغ التحصیل (graduate) طالب علم ہی تھے، اور مراد آباد کی سرزمینِ ہند پر ہندوستان کی آزادی کا نعرہ (slogan of freedom) بلند کرتے ہوئے بخوشی پھانسی کے پھندے پر جھولنے والے بھی انہی مدارس کے ایک فارغ التحصیل طالب علم تھے۔

ان کے علاوہ اور بھی مدارس کے بہت سے ایسے طلبہ ہیں جن کے کردار (character) سنہری حروف (golden words) سے لکھے جانے کے لائق ہیں۔

جب ہندوستان سے انگریزوں کے تسلط (British rule) کا خاتمہ ہو گیا تو دیگر تعلیمی ادارے (educational institutions) بھی کھلنے لگے، جن کی تعلیم کا بنیادی عنصر دنیا اور اس کے جلد حاصل ہونے والے فائدے (worldly benefits) ہوتے ہیں۔ اور یہ ادارے ہمیشہ اپنے آپ کو جدید عصری تقاضوں (modern requirements) سے ہم آہنگ رکھنے لگے، اور جدید عصری تقاضوں کے سامنے پیش پیش رہنے لگے۔ مگر مدارس کے اندر یہ تبدیلیاں بہت زیادہ سست روی (slow adaptation) کا شکار رہیں۔ جس طرح قدیم زمانہ میں مدارس نے اپنے آپ کو دورِ حاضر (current era) کے مطابق ڈھالا کہ جب اسلام اور مسلمانوں پر معاندین (opponents) منطق و فلسفہ (logic and philosophy) کے ذریعے حملہ آور (attacked) ہوئے تو اس وقت کے علمائے کرام رحمہم اللہ السلام نے انہی کے فن (skills) کو سیکھ کر انہی کی زبان (language) میں دشمنانِ خدا و رسول کو منہ توڑ جواب دیا اور اسلام و مسلمین کا ان سے دفاع (defense) کیا۔

مگر دورِ حاضر میں جب اسلام و مسلمانوں پر پیہم طرح طرح سے حملے کیے جارہے ہیں اور مدارس دشمنانِ اسلام (enemies of Islam) کا مطمحِ نظر (target) بنے ہوئے ہیں، ایسے پرخطر دور میں ضرورت ہے کہ معاندین کا ڈٹ کر مقابلہ (firm resistance) کرنے اور ان کا منہ توڑ جواب (strong response) دینے کے لیے ان کی زبان، ان کا انداز (style) اور انہی کے لب و لہجہ (tone) کو اختیار کیا جائے، اور ہر طریقے سے ان سے ہم آہنگ (aligned) ہو کر ان کے مابین رہا جائے، اور اپنے اسلاف کے طریقہ کار (methodology) کے مطابق اسلام کی دعوت و تبلیغ (preaching) اور اسلامی تعلیمات کی نشر و اشاعت کی جائے، اور اپنے تبلیغی سفر کو جاری رکھا جائے۔

اگر ہم نے ایسا نہ کیا تو ہم دورِ حاضر کے نت نئے چیلنجز (new challenges) کا سامنا کرنے میں مکمل طور پر کامیابی حاصل کرنا تو دور کی بات، کامیابی کے سمندر کے ہم کنار (shore of success) بھی نہیں ہو سکتے۔

آج مدارس کے فارغ التحصیل طلبہ (graduates) نوع بنوع مشکلات (various difficulties) سے دوچار ہوتے ہوئے نظر آتے ہیں، جس کی بنیادی وجہ ان کا جدید عصری تقاضوں (modern needs) سے ہم آہنگ نہ ہونا ہے، اور ان کا زمانہ کی رعایت کو ملحوظِ خاطر نہ رکھنا ہے۔ اگر اب بھی ہم اسے خاطر میں نہ لائے تو مزید مشکلات (difficulties) کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہیں۔ مگر ایسا نہیں، اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے آج ہمارے بہت سے مدارس جدید عصری تقاضوں کے عین مطابق (modern standards) اور جدید ٹیکنالوجی (technology) کے ذریعے اپنے طلبہ کو بہترین تعلیم و تربیت کے زیورات سے مزین کر رہے ہیں، اور طلبہ کے اندر گوناگوں میدان میں جانے کی صلاحیت (capability) پیدا کرنے میں کوشاں ہیں۔

اور معاشرے (society) کو بہترین اور ملی، سماجی، دینی و دعوتی و تبلیغی (religious and social) خدمات انجام دینے کے لیے متحرک و فعال (active and motivated) افراد مہیا کر رہے ہیں۔ ربِ ذوالجلال والاکرام سے عاجزانہ دعا ہے کہ مدارس اور ان میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ، مدارس کے نظامِ تعلیم (education system) اور اس کا نظم و نسق برقرار رکھنے کے لیے جو افراد بھی معاون (supportive) ہیں، ان سب کو اپنے پاس سے جزائے خیر (reward) عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین۔

محمد فیضان رضا رامپوری
جامعۃ المدینہ، ٹھاکر دوارہ
رمضان المبارک تا ذوالقعدہ ۱۴۴۶ھ

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!