| عنوان: | دو حرفی Triple ہی ناری کی بھلائی |
|---|---|
| تحریر: | مفتی غلام مصطفیٰ |
| پیش کش: | سعدیہ سلطانہ عطاریہ |
| منجانب: | مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مراد آباد |
جولائی ۲۰۱۹ء، اشرفیہ کا اداریہ پیشِ نظر ہے۔ صاحبِ اداریہ کے مذکورہ اداریہ کے بعض شرعی نقوش میں شرکتِ سفر کی خواہش کے ساتھ چند سطریں سپردِ قرطاس کرتا ہوں۔
لے کے آیا ہے جہاں میں عادتِ سیماب تو
تیری بیتابی کے صدقے ہے عجب بیتاب تو
اور بے شک مذہب اسلام نے پاور کے Miss Use کو بھی پسند نہیں کیا۔ لاثانی بانیِ اسلام علیہ السلام نے لِجَارِكَ عَلَيْكَ حَقٌّ فرما کر پڑوسیوں کے حقوق کی پامالی کو ہمیشہ کے لیے روک دیا۔ پھر وہ پڑوسی چاہے گلی کھلیان کا ہو یا ملک و صوبے کا، تبریز انصاری کا ہو یا پرمود مہاجن، شکنتلا ہو یا شائستہ۔
مذہب نہیں سکھاتا آپس میں بیر رکھنا
ہندی ہیں ہم، وطن ہے ہندوستاں ہمارا
لہذا ظلم و زیادتی انسانوں کا کام نہیں جانوروں کا ننگا ناچ ہے۔
وَسَيَعْلَمُ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَيَّ مُنْقَلَبٍ يَنْقَلِبُونَ
تبریز انصاری کی بیوی کو صرف تین مہینے میں بیوہ بنانے والو! برہمن کی بیٹی شکنتلا کو دیکھو، بنارس کی شکنتلا مسلم حکمراں کے دربار میں فریادی بن کر پہنچی۔ فریادیوں کی لائن میں مردانہ لباس میں کھڑی لڑکی کو مسلم بادشاہ نے پہلی نظر میں پہچان لیا اور سب سے پہلے دربار میں بلا لیا، اپنی چادر سے برہمن بیٹی کا سر ڈھانپا، اشک بار آنکھوں سے فریاد سنی۔ عزت و احترام کے ساتھ بیٹی کو واپس لوٹایا، خود ایک ماہ بعد بنارس پہنچے۔ بنارس کے مسلم گورنر کو رنگے ہاتھوں پکڑا اور دو ہاتھیوں کے بیچ میں بندھوا کر چیر ڈالا۔ اور مکمل ایک مہینے کے بعد اپنی منہ بولی بیٹی شکنتلا کے آنگن میں بیٹھ کر بھوجن کیا۔ اور شکنتلا کی ڈولی سجا کر شوہر کے گھر رخصت کیا۔ کہتے ہیں اورنگزیب نے شکنتلا کے آنگن میں جہاں بیٹھ کر کھانا کھایا تھا آج وہاں مسجد تعمیر ہے۔
اسے کہتے ہیں 'سب کا ساتھ، سب کا وکاس اور سب کا وشواس'۔ وسیع الالقاب مولانا مبارک حسین مصباحی صاحب دام کرمہ نے اپنے مذکورہ اداریہ کے اندر حکومتِ وقت سے کیے گئے مطالبات کے ضمن میں Triple طلاق شرعی کا بھی تذکرہ فرمایا ہے۔ فاقول: Triple طلاق پر لوک سبھا، راجیہ سبھا میں گرما گرم بحثیں چلیں، Channels پر آر پار کی ٹکر کے نظارے دیکھے گئے، ماتم کے بجائے لڈو بھی بٹے کیونکہ ”غلامی میں بدل جاتا ہے قوموں کا ضمیر“۔ اور سپریم کورٹ نے تین طلاق دینے والے کو تین سال کی جیل کا حکم سنا دیا۔
مگر میں اب تک یہ نہیں سمجھ پایا کہ Triple والے کو تین سال سزا But ون طلاق بے گناہ!? What Is This? یہ وشواس ہے یا وشواس گھات؟ ہم تو پوچھیں گے۔ ایک شخص نے کسی کے سینے پر ایک گولی چلائی اور کام تمام۔ دوسرے نے پہلے پیر پر گولی ماری، پھر دوسرے مہینے میں ہاتھ زخمی کیا، تیسرے ماہ گولی سے ختم کیا۔ پہلے کو بیل، دوسرے کو جیل۔ یہ کس Design کا انصاف ہے؟
خیر فی الوقت ہم سپریم کورٹ کے فیصلے کا سلام سے سواگت کرتے ہوئے قرآن کے Follower کو Triple کی حکمت قرآن ہی سے بتائیں گے۔ وبالله التوفيق۔
نکاح انسان کی ضرورت ہے اور طلاق مجبوری:
اس لیے بانیِ اسلام علیہ السلام نے نکاح کو پسند کیا اور Divorce کو ناپسند و مکروہ بتایا۔
نوٹ: جس طرح مذہب اسلام میں طلاق کا Option ہے دیگر مذاہب میں بھی طلاق کا قانون داخل ہے۔ لہذا کوئی دھرم طلاق کے قانون سے خالی نہیں۔ مذہب اسلام نے شادی کو خانہ آبادی کہہ کر لوگوں کو نکاح کا حکم فرمایا اور ساتھ ہی ساتھ اللہ سے ڈرتے رہنے کی بار بار تاکید فرمائی۔ اور خاص کر یتیم لڑکیوں کے نکاح کا ذکر فرمایا (سورہ نساء کی ابتدائی آیات کا مکمل خلاصہ)۔ پھر اگر نکاح کے بعد بیوی کی طرف سے زیادتی نظر آئے تو Step by Step تاکید و تنبیہ کا حکم دیا۔ اور سدھار آنے کے بعد مردوں کو زیادتی کرنے سے منع فرمایا (النساء: ۳۴)۔
اور مرد کی طرف سے زیادتی ہونے لگے تو میاں بیوی آپس میں حکمت کے ساتھ صلح کریں کہ صلح ہی بہتر ہے۔
وَإِنِ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِنْ بَعْلِهَا نُشُوزًا أَوْ إِعْرَاضًا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَنْ يُصْلِحَا بَيْنَهُمَا صُلْحًا وَالصُّلْحُ خَيْرٌ وَأُحْضِرَتِ الْأَنْفُسُ الشُّحَّ وَإِنْ تُحْسِنُوا وَتَتَّقُوا فَإِنَّ اللَّهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرًا
ترجمہ (کنز الایمان): اور اگر کوئی عورت اپنے شوہر کی زیادتی یا بے رغبتی کا اندیشہ کرے، تو ان پر گناہ نہیں کہ آپس میں صلح کر لیں اور صلح خوب ہے اور دل لالچ کے پھندے میں ہیں اور اگر تم نیکی اور پرہیز گاری کرو تو اللہ کو تمھارے کاموں کی خبر ہے۔
اور اے لوگو! (اس کے باوجود اگر تم کو میاں بیوی کے جھگڑوں کا خوف ہو تو Compromise کے لیے دونوں طرف کے رشتہ داروں میں سے وکیل مقرر کرو تاکہ صلح ہو جائے (النساء: ۳۵)۔
پوائنٹ نوٹ کیا جائے: پنچوں کو میل ملاپ کا اختیار ہے گا، Divorce کا کوئی Right نہیں (خزائن العرفان)۔
اس کے باوجود جو میل ملاپ کی کوئی صورت نہ بن سکے تو پھر آخری مجبوری طلاق ہے تاکہ Tension میں قتل یا خودکشی کی نوبت نہ آئے ورنہ شادی خانہ آبادی بربادی بن جائے گی۔ یہ ہے طلاق کے Matter میں مذہبِ اسلام کی حکمت۔
اسلام اور Triple طلاق:
الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ وَلَا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئًا إِلَّا أَنْ يَخَافَا أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ تِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ فَلَا تَعْتَدُوهَا وَمَنْ يَتَعَدَّ حُدُودَ اللَّهِ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ
ترجمہ (کنز الایمان): یہ طلاق دو بار تک ہے پھر بھلائی کے ساتھ روک لینا ہے یا نکوئی کے ساتھ چھوڑ دینا ہے اور تمہیں روا نہیں کہ جو کچھ عورتوں کو دیا اس میں سے کچھ واپس لو مگر جب دونوں کو اندیشہ ہو کہ اللہ کی حدیں قائم نہ کریں گے، پھر اگر تمہیں خوف ہو کہ وہ دونوں ٹھیک انہیں حدوں پر نہ رہیں گے تو ان پر کچھ گناہ نہیں اس میں جو بدلہ دے کر عورت چھٹی لے۔ یہ اللہ کی حدیں ہیں ان سے آگے نہ بڑھو اور جو اللہ کی حدوں سے آگے بڑھے تو وہی لوگ ظالم ہیں۔
فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَنْ يَتَرَاجَعَا إِنْ ظَنَّا أَنْ يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ يُبَيِّنُهَا لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ
ترجمہ (کنز الایمان): پھر اگر تیسری طلاق اسے دی تو اب وہ عورت اسے حلال نہ ہوگی جب تک دوسرے خاوند کے پاس نہ رہے، پھر وہ دوسرا اگر اسے طلاق دے دے تو ان دونوں پر گناہ نہیں کہ پھر آپس میں مل جائیں اگر سمجھتے ہوں کہ اللہ کی حدیں نباہیں گے اور یہ اللہ کی حدیں ہیں جنہیں بیان کرتا ہے دانش مندوں کے لیے۔
طلاق دو بار تک ہے پھر اگر اس کے بعد طلاق دیا تو وہ عورت اس کے لیے جائز نہ ہوگی۔ (Please Excuse me) دیکھیے Triple طلاق کا Background۔
اور میں کہتا ہوں کسی بھی معاملے کی جانچ میں جب تک پس منظر نہ دیکھا جائے قیامت تک کوئی صحیح فیصلہ ہو ہی نہیں سکتا۔ اس نہایت ہی ضروری تمہید کے بعد سورہ بقرہ کی Triple طلاق والی دونوں آیتوں کو دیکھیے تاکہ Triple طلاق کے اندر اسلام کے ناری سمان (عورت کی عزت) کی شان نظر آئے۔ طلاق دو بار ہے۔ پھر ان دو کے بعد طلاق دے تو واپسی کا کوئی Chance نہیں۔
شانِ نزول: ایک عورت نے سیدِ عالم ﷺ کے پاس Complain کی کہ اس کے شوہر نے کہا ہے وہ مجھے طلاق دیتا رہے گا اور واپس لیتا رہے گا۔ اسی طرح عمر بھر عورت کو سڑاتا رہے گا۔ اس پر اللہ نے Order فرمایا کہ طلاق کے بعد واپس بلانے کا دو بار Right ہے۔ تیسری طلاق کے بعد یہ Chance ختم ہو جائے گا (خزائن العرفان)۔
بتاؤ بتاؤ! تمہیں تمھارے دھرم کے مان سمان کی قسم! Triple طلاق میں ناری کے سمان کی کیا شان ہے۔ لہذا Triple طلاق کے قانون میں جو خوبی ہے وہ ایک طلاق کے قانون میں نہیں۔
اور معانی کے سمندر پر الفاظ کا لباس تنگ ہے۔ ہاں عقل نہ ہو تو بندہ مجبور ہے۔ اور انصاف نہ ملے تو انکھیارا بھی کور ہے۔
پوائنٹ نوٹ کیا جائے:
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے تین طلاق دینے والے کو سزائیں دیں مگر اس لیے نہیں کہ تین طلاق کوئی چیز نہیں بلکہ اس لیے سزا دی ہے کہ جب تمھارا کام دو میں چل رہا تھا تو تین تک کیوں پہنچے؟ بشرطیکہ روایت صحیح ہو۔ ورنہ تین طلاق کا ذکر خود قرآن میں ہے۔ جیسا کہ اوپر کی تحریر سے معلوم ہوا۔
(حوالہ: مکتوبات - (قسط اول) ماہ نامہ اشرفیہ اکتوبر ۲۰۱۹ء / ص ۴۹)
