Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

مادر علمی جامعہ اشرفیہ مبارک پور میں حاضری|عبد المجید خان قادری مصباحی

مادر علمی جامعہ اشرفیہ مبارک پور میں ۳۳ برس بعد حاضری کی سعادت
عنوان: مادر علمی جامعہ اشرفیہ مبارک پور میں ۳۳ برس بعد حاضری کی سعادت
تحریر: عبد المجید خان قادری مصباحی
پیش کش: سعدیہ سلطانہ عطاریہ
منجانب: مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مراد آباد

یکم نومبر ۲۰۱۶ء میں سیدی، استاذی الکریم محدث جلیل حضرت علامہ عبد الشکور صاحب قبلہ دامت برکاتہم العالیہ کی علالت کی خبر سن کر اللہ آباد گیا اس وقت حالت بہت نازک اور تشویش ناک تھی۔ حضرت اقدس کے حالات و دینی خدمات کے تعلق سے تاریخی حیثیت سے کچھ جاننا چاہا تو حضرت نے بڑی ہمت کی، اپنے مسافر غلام کی خواہش رد نہ فرمائی، اثبات میں جواب دیا۔ میں نے حضرت کی صحت کا خیال رکھتے ہوئے بہت احتیاط کے ساتھ کچھ ایسی باتیں دریافت کیں جن سے ذہن پر کوئی دباؤ اور طبیعت پر کوئی گرانی نہ ہو۔ انھیں باتوں کو اپنی کوتاہ قلمی کے احساس کے ساتھ غلامانہ جذبہ کے تحت رقم کیا ہے۔ اگر مزاج مبارک قبول فرمائے، زہے عز و شرف۔

برادرم! چند چیزوں سے مجھے بہت اکتاہٹ اور کوفت ہوتی ہے، سفر سے، بے جا القاب اور بے وقت چائے سے، اس کا نتیجہ ہے کہ ۳۳ برس بعد ۱۲ نومبر ۲۰۱۶ء کو استاذی حضرت مولانا اعجاز احمد صاحب مبارک پوری کی علالت کی خبر سن کر اللہ آباد سے مبارک پور حاضر ہوا۔ آپ یقین فرمائیں کہ مبارک پور حاضر ہونے سے پہلے میرے ذہن میں جو احساسات اور انحطاط پیدا ہو رہے تھے، وہ یہ کہ: میں اگرچہ الجامعۃ الاشرفیہ کا نمک خوار ہوں، مگر میں ایک گم نام آدمی، میری اپنی کوئی لیاقت و شہرت نہیں، مجھے وہاں کون جانے پہچانے گا، اگر جامعہ کے مہمان خانہ میں قیام کی آرزو کروں تو میری خام خیالی ہوگی کہ ”مان نہ مان میں تیرا مہمان“۔ اگر گولہ بازار اشرفیہ کی نئی بلڈنگ میں جاؤں، جہاں پرانی بلڈنگ میں سات سالہ شب و روز گزارے تو کوئی یہ نہ کہہ دے کہ جناب! آپ کے لیے کوئی گنجائش نہیں ہے، ہم آپ کو نہیں جانتے۔

بہر حال افکار و خیالات کی وسیع دنیا میں سیر کرتے کرتے علی نگر کی مسجد پہنچ گیا، جہاں ۱۹۸۳ء میں فضیلت کے آخری سال ۱۰ ماہ امامت کر چکا تھا، ذہنی طور سے وہیں ٹھہر گیا، وہاں میرے ایک دیرینہ ہمسائے، ہمراز، ہم مزاج صوفی یسین صاحب تھے۔ ان کے یہاں اقامت کے لیے طے کیا۔ اب تک یہ خیال اور ذہنی سفر تھا، مگر واقعی خارجی سفر کر کے صوفی یسین صاحب کے مہمان خانہ میں پہنچ گیا۔ مغرب کی نماز سے فارغ ہوا تو معلوم ہوا کہ کافی لوگ مہمان خانہ میں جمع ہو گئے ہیں، سلام و مصافحہ ہوتا رہا، دیکھا کہ ۳۳ سال کے جوان بوڑھے ہو گئے ہیں، بوڑھے دوسری دنیا سدھار لیے ہیں، نوجوانوں سے معلوم کیا کہ آپ لوگ مجھے پہچانتے ہیں؟ انھوں نے بتایا کہ آج صبح سے یہ خبر محلہ میں گشت کر رہی تھی کہ ممبئی کے ایک مولوی صاحب جو یونیورسٹی میں پڑھتے تھے، علی نگر مسجد کے پہلے امام تھے، وہ آج آرہے ہیں، لہذا ہم آپ سے ملاقات کے لیے آئے ہیں۔ عشاء کی جماعت ہوئی، کھانا کھایا گیا، پھر پورا مہمان خانہ بھر گیا، ان میں ہمارے احباب علما و حفاظ بھی تھے، رات میں ۱۲ بجے مجلس برخواست ہوئی۔

استاذی حضرت مولانا اعجاز احمد صاحب ہر سال عید کے دوسرے روز میرے غریب خانہ پر تشریف لاتے، اپنی اولاد کی طرح اس غلام اور غلام زادوں سے محبت فرماتے، عیدی کا لین دین ہوتا، مادرِ علمی کے لیے حسب حیثیت کچھ پیش کرتا، معاملات میں مشورے لیتا، نیک مشوروں کو حرف آخر سمجھتا۔ کبھی فرماتے: ”مولوی عبد المجید! ممبئی میں میرے سیکڑوں شاگرد ہیں، مگر آپ کی سعادت مندی مجھے عید کے دوسرے روز بھیونڈی سے یہاں لے آتی ہے، آپ اپنے یہاں ہر سال بلاتے ہیں، ہمارے یہاں نہیں آتے ہیں، اب اگر دیکھیں گے تو طبیعت خوش ہو جائے گی، علم و فن کا ایک شہر آباد ہو گیا ہے۔“

صبح نماز و ناشتہ کے بعد تیز سواری سے دائیں بائیں نگاہیں دوڑاتا ہوا اس راستہ سے گزر رہا تھا جس سے روزانہ چار مرتبہ گزرتا تھا، اس راستہ کے پیڑ پودوں اور پتھروں سے محبت ہو گئی تھی، اس وقت مجھے امرا القیس کے اشعار یاد آرہے تھے۔ الجامعۃ الاشرفیہ کے خوب صورت مرکزی دروازے پر جا پہنچا، شارع حافظ ملت سے سیدھا آستانہ حافظ ملت پر حاضر ہوا، بڑے اخلاص کے ساتھ ایصال و فیض کا سلسلہ کچھ دیر تک جاری رہا، دیکھا کہ طلبہ ششماہی امتحان کی تیاری میں مزار حافظ ملت کے اندر درسی کتابوں پر نظریں جمائے ہیں۔ میں یہ کہا کرتا ہوں کہ اشرفیہ کے طلبہ پر تعلیمی نگرانی کی ضرورت نہیں پڑتی، وہ اپنے والدین کی آرزوؤں، اساتذہ کی نیک خواہشات اور اپنے مستقبل کی نگرانی خود کرتے ہیں۔

عہد طالب علمی میں جس مجوزہ مسجد کا تصور ہمارے ذہن میں تھا آج وہ خارج میں الجامعۃ الاشرفیہ کی سطح زمین پر، بڑی وسیع و عریض جدید صناعی، حسن و جمال کی تمام تر خوبیوں کے ساتھ نظر آرہی ہے جو ہر عابد و زائر کو دعوت نظارہ پیش کر رہی ہے۔ اس کے بعد جامعہ کی سینٹرل بلڈنگ میں جہاں اساتذہ اشرفیہ علم و ادب اور فکر وفن کے موتی لٹاتے ہیں، داخل ہوا۔ مولانا احمد رضا مصباحی صاحب کے آفس میں استاذی حضرت مولانا نصیر الدین صاحب اور استاذی حضرت مولانا اعجاز احمد صاحب سے ملاقات ہوئی۔ سلام و دست بوسی کے بعد میں نے عرض کیا: حضرت! میں آپ کے مکان پر آپ کی عیادت کے لیے آنے والا تھا۔ فرمایا: ”میاں! قبر کے قریب پہنچ گیا تھا واپس آگیا۔ سفر کا مقصد یہیں حاصل ہو گیا۔“

ایک صاحب سے میں نے پوچھا کہ میں حضرت علامہ محمد احمد مصباحی سے بھی کچھ استفادہ کرنا چاہتا ہوں، کہاں ملاقات ہو سکتی ہے؟ انھوں نے کہا کہ وہ دیکھیے (یونیورسٹی کے پورب) مجمع الاسلامی کی عمارت ہے، وہاں ملیں گے۔ ان کی خدمت میں حاضر ہوا، بڑی محبت و شفقت اور اپنائیت کے ساتھ انواع و اقسام کے میوے جات پیش کیے، یہ ایک عالم با عمل کی طرف سے میرے لیے ”خوان نعمت“ تھا۔ جی بھر کر کھایا، دینی مسائل پر گفتگو ہوئی، غایت محبت و شفقت سے رخصت کیا۔ ظہر کی اذان ہوئی، نماز ادا کی گئی، ہمارے ہم وطن فاضل نوجواں حضرت مولانا صدر الوریٰ صاحب استاذ جامعہ اشرفیہ ملے، جو ۱۲ بجے دن میں دعوت طعام دے چکے تھے، اپنے مکان کی طرف لے چلے، مچھلی یوں بھی مجھے مرغوب ہے، راستہ میں جس مچھلی کے کھلانے کا نام لیا اس سے مزید بھوک بڑھ گئی، جتنی رغبت سے کھاتے رہے اتنے ہی چاؤ سے علاقہ کے دینی ومذہبی مسائل پر گفتگو کرتے رہے۔ کھانے کے بعد اپنی ذاتی لائبریری دکھائی، اندازہ یہ ہوا کہ فاضل مؤقر ایک علمی شخصیت کے مالک ہیں، الجامعۃ الاشرفیہ ایسے ہیروں اور ہاروں کو اپنے گلے کی زینت بنالیتا ہے۔

ایک مسافر کو جائے قیام و طعام حاصل ہو جائے تو مطمئن ہو جاتا ہے۔ فاضل معزز نے فرمایا: قیلولہ کر لیجیے۔ میں نے سوچا یہاں آٹھ برس قیلولہ و لیلولہ سب کچھ ہو چکا ہے، اب وہ کیوں نہ دیکھیں جس کا وجود ۳۳ برس قبل نہیں تھا۔ اب ہم دار القضا والافتا کی طرف چل دیے، دیکھا کہ ہماری جماعت کے ۶۲ طلبہ میں سب سے ذہین و فطین اور قابل ترین عالم دین حضرت مولانا مفتی بدر عالم صاحب کتاب میں اتنے منہمک تھے کہ یہ اندازہ نہیں ہو پا رہا تھا کہ وہ کتاب پڑھ رہے ہیں یا کتاب انھیں پڑھ رہی ہے، بہر حال کسی کے آنے کی آہٹ پاکر نظر اوپر اٹھائی تو یہ فقیر سراپا تقصیر کھڑا تھا، سلام کیا، بڑے پر تپاک انداز میں سینہ سے لگایا، آج ایک زمانہ کے بچھڑے دو دوست ایک دوسرے سے گلے مل رہے ہیں، اس وقت ان کی دلی کیفیات کی کیا حالت ہوگی، یہ وہی دونوں سمجھ سکتے ہیں۔ تھوڑی دیر تک مسند پر اپنی بغل میں بٹھائے رہے، اس کے بعد ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کشف کے ذریعہ معلوم کر لیا کہ میرا منشا کیا ہے۔ اٹھے، دار الافتا و القضا اور لائبریری کی عمارت کا گوشہ گوشہ دکھایا۔ بیرونی طلبہ کا دار الاقامہ (ہاسٹل)، اشرفیہ ہاسپیٹل اور پھر جنوب سے سیدھے شمال کی طرف لے چلے، جدید طرز کا خوب صورت مطبخ، جس میں لذیذ پکوان کی دیگیں قطار سے رکھی ہوئی تھیں، ڈائننگ حال اور اس کے لوازمات بڑے سلیقے و قرینے سے نظر آرہے تھے۔ صفائی ستھرائی اور نظافت کا خاص خیال رکھا گیا ہے۔

محب محترم مفتی بدر عالم صاحب ازہرِ ہند کی درس گاہ کی مرکزی عمارت میں ساتھ لیے داخل ہوئے، دیکھا کہ سراج الفقہا، حضرت مفتی نظام الدین صاحب مدظلہ اپنی تحقیق میں مصروف ہیں، سلام و دست بوسی کے بعد اپنا قیمتی وقت قدرے تفصیلی ملاقات کے لیے دیا، کئی بار شام کو کھانے کی دعوت دی اور فرمایا کہ: جامعہ اشرفیہ کے مہمان خانہ میں قیام کرنا چاہیے تھا، آپ دوسری جگہ کیوں ٹھہرے؟

عصر کی اذان ہوئی، نماز کے بعد مسجد میں اساتذہ کرام کی مقدس جماعت مل گئی، یکے بعد دیگرے مصافحہ و معانقہ اور تعارف ہوتا رہا۔ اتنے میں برادر گرامی حضرت مولانا مبارک حسین صاحب مصباحی استاذ و مدیر اشرفیہ مسکراتے ہوئے نظر آئے، ان کی ایک مسکان، جس پر ہزاروں جانیں قربان، بڑے خوشگوار موڈ میں مسجد سے باہر نکلے، چند لمحوں میں دو کتابیں ”افتراق بین المسلمین کے اسباب“ اور ”شہر خموشاں کے چراغ“ لے کر جلوہ بار ہوئے، ہدیہ دیا۔ شہر خموشاں کے چراغ کا وہ حصہ جو حضرت علامہ ارشد القادری صاحب علیہ الرحمہ کی جمشید پور میں مسلک کے لیے جاں سوزی اور قربانیوں سے متعلق ہے، اسے کئی بار پڑھا اور ہر عالم کو فراغت کے بعد پڑھ لینا چاہیے۔ آپ کے قلم سے ایک تاریخی تذکرہ جمع ہوا۔ اس کا فائدہ یہ ہو گا کہ کل جب کوئی مورخ لکھنا چاہے گا تو اس دور کے علم کی مختصر تاریخ مل جائے گی۔ اللهم زد فزد۔

بعد نماز عصر علماے اشرفیہ کی نورانی جماعت دار الحدیث کے سامنے ”حدیقۃ الجامعہ“ میں جلوہ افروز ہوتی ہے، جہاں بہت مہذب، شائستہ اور علمی گفتگو ہوتی ہے، مجلس پر بہجت و سرور کی کیفیت اور مصباحی رنگ طرز غالب رہتا ہے۔ ڈھائی دہائیاں ہو گئیں، اب محسوس ہوتا ہے کہ میں مجلس حضیرۃ العلما سے کل ہی اٹھ کر آیا ہوں۔ کاش یہ مجلس پھر نصیب ہوتی۔

مغرب کی اذان ہوئی، قال اللہ و قال الرسول کا درس دینے والے علماء طلبہ کی نورانی صفوں میں نہایت خشوع و خضوع اور طمانیت کے ساتھ نماز ادا کی، بعدہ سراج الفقہا مد ظلہ کے صاحب زادے اپنی سواری پر لیے گھر کی طرف روانہ ہوئے۔ سیدی استاذی بحر العلوم مفتی عبد المنان صاحب اعظمی علیہ الرحمہ سابق شیخ الحدیث و صدر مدرس جامعہ اشرفیہ کے مزار پر حاضری کی دیرینہ خواہش تھی، آج وہ بھی پوری ہوئی۔ کچھ دیر تک متوجہ الی شیخ الجامعہ رہا، رقت قلب کے ساتھ واپس ہوا۔

اب سیکڑوں ارمان لیے جاگیر پر اپنی اس ماں سے ملاقات کے لیے پورہ رانی کی طرف بڑھا، جنھوں نے آٹھ برس میں سیکڑوں بار یہ کہا: ”مولوی صاحب! ہمرے تین لڑکے ناہیں ہیں، چار ہیں، چوتھے توں ہو۔“ حقیقی ماں جیسا پیار دیا تھا، صرف دودھ نہیں پلایا تھا بقیہ شفقت و پیار کے ساغر میں مجھے نہلا دیا تھا۔ پہنچتے ہی سلام کے بعد میں نے پوچھا: اماں کہاں ہیں؟ بتایا کہ ۲۸ برس ہو گئے ان کا انتقال ہو گیا۔ اماں نے بہت خوب صورت سوئیٹر آپ کے لیے بنوا کر رکھا تھا کہ مولوی صاحب جب حافظ صاحب کے عرس میں آئیں گے تو میں دوں گی۔ پانچ برس تک رکھے انتظار کرتی رہیں پھر انتقال کر گئیں، جب تک وہ زندہ رہیں آپ کے خط کا جواب لکھواتی رہیں، اس کے بعد وہ سلسلہ بھی منقطع ہو گیا، اب معلوم ہوا کہ میرے اوپر بجلی گر گئی ہے، مجھے بڑا صدمہ ہوا، دن بھر جو خوشیاں ملی تھیں وہ رات کو غم میں بدل گئیں، اللہ تعالیٰ مرحومہ کو ”باغ فردوس“ کے فرزندوں کی خدمت کے صلے میں جنت الفردوس عطا فرمائے۔

خیال رہے کہ یہ پیار و محبت اہلِ مبارک پور نے کسی شخص واحد کو نہیں بلکہ ہزاروں مصباحیوں کے دامن میں انڈیل کر وہاں سے رخصت کیا ہے۔ سخاوت و فیاضی، علما و طلبہ نوازی کوئی اہلِ مبارک پور سے سیکھے۔

وقت کافی ہو چکا تھا، اب موجودہ دور کے ایک عظیم محقق، فقیہ اعظم کے دانش کدہ میں داخل ہوا۔ آپ منتظر تھے۔ آپ کے صاحب زادہ میرے ساتھ تھے اس لیے آپ مطمئن تھے۔ دستر خوان چنا گیا، میری عادت ہے کہ رات کا کھاناہلکا اور کم کھاتا ہوں، مگر آج خوب شکم سیر ہو کر کھایا۔ دعوتیں تو ڈالروں اور پونڈ کے بڑے بڑے ملیونروں کے یہاں کھائیں مگر وہ بات نہ پائی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے ایک فقیہ کے یہاں ملی، جو اکل حلال کھاتا ہے اور شب و روز اسی کی دعوت دیتا ہے، ایسوں کا خوان نعمت اگر میسر آجایا کرے تو دل نور سے معمور ہو جائے، کچھ دیر تک جامعہ کے حالات و معاملات پر گفتگو ہوتی رہی، رخصت ہوتے وقت نعمت علی النعمت اپنی تصنیفات عطا فرمائیں اور صاحب زادہ سے فرمایا، ان کو علی نگر قیام گاہ پر چھوڑ آؤ، یقینا ان کی عنایتیں اور نوازشیں مجھے ہمیشہ یادر ہیں گی۔

گھڑی کی سوئی ۱۲ سے کافی آگے بڑھ چکی تھی، قیام گاہ پر پہنچا تو مہمان خانہ مکمل بھرا ہوا تھا۔ کل رات سے آج زیادہ اثر دہام تھا، میں سوچ میں پڑ گیا کہ میں وہی عبد المجید ہوں جو ۳۳ سال قبل یہاں کا طالب علم رہ چکا ہوں۔ یہ پزیرائی، جلیل القدر علما و مشائخ کو ملتی ہے، محبین و متعلقین سے بڑے خوشگوار انداز میں باتیں ہوتی رہیں۔ رات ڈھل چکی تھی، لوگ مصافحہ و معانقہ کر کے رخصت ہو رہے تھے اور زبان پر یہ جملے تھے ”اب جلدی آئیے گا، حافظ ملت کے عرس میں ضرور آئیے گا اور علی نگر میں ٹھہریے گا“۔

علماے اشرفیہ اور اہل مبارک پور نے اپنی اپنی محبتوں کی اتنی سوغات میرے دامن میں بھر دی تھی کہ مجھے انتہائی خوشی کی بنا پر رات بھر نیند نہیں آئی، میں سوچتا رہا کہ کن نا امیدیوں کے اندھیرے میں گھر سے چلا تھا اور یہاں تو ہر طرف امیدوں اور محبتوں کے چراغ ہی چراغ نظر آرہے ہیں۔ فجر کی جماعت میں رفیق صمیم حضرت مولانا محمد محبوب عزیزی صاحب مبارک پوری نظر آئے، بڑی محبتوں سے گلے لگایا، علی نگر کی مسجد جو تعمیر نو کے ساتھ سنگ مرمر کا اجلا لباس پہن کر کھڑی تھی، جو نہایت حسین و جمیل نظر آرہی تھی، اسے نیچے سے اوپر تک دکھایا، پیکر اخلاص حضرت علامہ محمد شفیع صاحب نور اللہ مرقدہ سابق شیخ الادب و ناظم تعلیمات الجامعة الاشرفيه کے مزار پر حاضر ہوئے، فاتحہ پڑھ رہے تھے، آنکھیں بند تھیں، ان کی شفقتیں اور عنایتیں ذہن میں نمودار ہو رہی تھیں، ان کا بند اور نمناک آنکھوں سے مشاہدہ ہو رہا تھا، واپسی پر رفیق محترم نے مبارک پور کے خاص حلوہ سے ضیافت فرمائی۔ در حقیقت اہلِ عرب کی مہمان نوازی اور اہلِ مبارک پور کی فیاضی اور علما نوازی ان کا خاص وصف ہے۔

اہل محبت کی محبتوں کا تسلسل ابھی بھی ختم نہ ہوا، مراجعت کے وقت حضرت مولانا مسعود احمد صاحب استاذ الجامعۃ الاشرفیہ نے اپنی گاڑی مع ڈرائیور بھیج دی، انھوں نے میرے سفر کی مشکلات کو آسان کر دیا۔ علی نگر کے جوانوں نے جین پور تک آکر حسین تصورات اور تاثرات کے ساتھ رخصت کیا۔

برادرم! یہ جو کچھ صفحات پر نقش نظر آرہے ہیں یہ میری دلی کیفیات اور باطنی احساسات کا عکس ہے۔ حضرت مولانا اعجاز احمد صاحب کے صاحب زادہ کے بدست آپ کے لیے دو کتابیں ”مخدوم مہائمی اور صوفیہ کا مسلک وجودی“ بھیجی تھیں، امید ہے کہ دستیاب ہوئی ہوں گی۔ بندہ طالب خیر مع الخیر ہے، علماے کرام کی خدمت میں سلام عرض کریں، سعادت دارین، خاتمہ بالخیر اور علم نافع کے لیے دعافرمائیں۔

(حوالہ: مکتوبات - (قسط دوم) ماہ نامہ اشرفیہ اکتوبر ۲۰۱۹ء / ص ۵۰ تا ۵۳)

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!