| عنوان: | جہاد! مغربی پروپیگنڈے اور اسلامی تصور (قسط: دوم) |
|---|---|
| تحریر: | حافظ افتخار احمد قادری |
| پیش کش: | عرشیہ بانو |
| منجانب: | گلوبل اکیڈمی |
تہذیب ہی بے سمتی کو پہچانیں اور جہاد کے صحیح، معتدل اور قرآنی مفہوم کو اختیار کرے۔ یہی وہ جہاد ہے جس سے امت دوبارہ کھڑی ہو سکتی ہے۔ یہی وہ جہاد ہے جو نوجوان نسل کو فکری بیداری دے سکتا ہے۔ یہی وہ جہاد ہے جو اسلام کی اصل تصویر دنیا کے سامنے پیش کر سکتا ہے اور یہی وہ جہاد ہے جو ظلم و جبر اور پروپیگنڈے کی اس عالمی یلغار میں ایک روشن علمی چراغ بن سکتا ہے۔
دورِ حاضر کی دنیا اپنی رفتار، پیچیدگی اور اثر پذیری میں پچھلی صدیوں سے یکسر مختلف ہے۔ جہاں پہلے جنگیں سرحدوں پر لڑی جاتی تھیں اب جنگوں کی سرحدیں بدل چکی ہیں۔ اب دنیا کی بڑی طاقتیں گولی سے پہلے خبر چلاتی ہیں، بم سے پہلے بیانیہ بناتی ہیں اور فوج بھیجنے سے پہلے ذہنوں پر قبضہ کرتی ہیں، اس جنگ میں توپیں اور تلواریں نہیں ہوتیں۔ خبریں، تصورات، تصویریں، الفاظ، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور سوشل میڈیا کے ایجنڈے ہوتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ آج کے مسلمان کے سامنے جہاد کا سب سے اہم میدان میڈیا اور ٹیکنالوجی کا میدان ہے۔ اگر کوئی قوم اپنی خبر خود نہ لکھے تو دنیا اس کے لیے کہانی بنا دیتی ہے۔ اگر کوئی قوم اپنا بیانیہ خود نہ تراشے تو دوسروں کا بیانیہ اس کا مقدر بن جاتا ہے اور اگر کوئی امت اپنی نسلوں کی فکری رہنمائی خود نہ کرے تو انہیں گوگل، ٹک ٹاک، انسٹاگرام اور دیگر عالمی طاقتیں تربیت دینے لگتی ہیں۔
آج کے دور کا سب سے بڑا مغالطہ یہ ہے کہ لوگ سمجھتے ہیں دشمن صرف سرحدوں کے اس پار ہے حالانکہ سب سے خطرناک دشمن وہ ہے جو ہمارے اندر خاموشی سے داخل ہو چکا ہے خیالوں میں، سوچوں میں، خواہشوں میں، ترجیحات میں، ورچوئل دنیا میں، سکرین پر چلتی ویڈیوز میں اور ذہنوں کو رنگنے والے الفاظ میں۔ اسلام دشمن طاقتوں نے یہ حقیقت بہت پہلے پہچان لی تھی کہ اگر مسلمانوں کی نسلیں ان کے فکری نظام سے باہر نکل آئیں، اگر ان کی شناخت دھندلا جائے، اگر انہیں اپنے اصولوں پر شرمندگی ہونے لگے، اگر انہیں اپنی تاریخ پر اعتماد نہ رہے اگر انہیں اپنی تہذیب کے ستون کمزور دکھائی دیں تو پھر انہیں شکست دینے کے لیے کسی فوج کی ضرورت ہی نہیں رہے گی۔
اسی لیے آج مسلمانوں پر ہر طرف ایک نئی جنگ مسلط ہے۔ میڈیا کی جنگ، ٹیکنالوجی کی جنگ، علم کی جنگ، بیانیے کی جنگ، تہذیب کی جنگ، نفسیاتی جنگ اور ان سب کے مقابلے میں مسلم معاشرے کا حال یہ ہے کہ ہم نے یہ میدان مکمل طور پر دوسروں کے حوالے کر دیا ہے۔
ہماری جامعات تحقیق کے میدان سے دور ہیں، ہمارے میڈیا چینلز اپنا بیانیہ خود بنانے کے بجائے دوسرے ایجنڈوں کی بازگشت ہیں، ہمارے نوجوان اپنا وقت علم و ہنر کے بجائے ورچوئل دنیا کی بے مقصد تفریح میں صرف کر رہے ہیں اور ہمارے معاشرے میں فکری گفتگو تقریباً ختم ہو چکی ہے۔ یہ کمزوری محض علمی کمزوری نہیں بلکہ پوری امت کی شناخت اور بقا کے لیے خطرہ ہے۔ کیونکہ جو قوم اپنے بیانیے کی حفاظت نہ کر سکے وہ کسی بھی جنگ میں مضبوط نہیں رہ سکتی۔
یہاں قرآن کے عظیم اصول کو یاد رکھنا ضروری ہے:
وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ[سورۃ الانفال: 60]
ترجمہ: طاقت کے ہر ممکن ذریعہ سے تیاری کرو۔
آج کی طاقت صرف عسکری نہیں بلکہ علم، میڈیا، ٹیکنالوجی، تحقیق، ابلاغ، ذہنی تربیت اور تہذیب یہ سب قوتیں بھی اسی قرآنی حکم میں شامل ہیں۔ یہی جہادِ وقت ہے۔ یہی دورِ حاضر کی سب سے ضروری جدوجہد ہے۔
اگر آج ہم جہاد کی ان جدید شکلوں کو نظر انداز کریں گے تو نہ صرف دنیا ہمیں فکری غلام بنائے رکھے گی بلکہ ہمارے نوجوان اپنی پہچان کھونے لگیں گے۔ انہیں اسلام عقیدے کی طرح نہیں مسئلے کی طرح محسوس ہوگا۔ انہیں اسلامی تاریخ فخر کی بجائے بوجھ لگے گی۔ انہیں اسلامی تعلیمات رہنمائی نہیں بلکہ قدامت محسوس ہوں گی۔
یہی وہ لمحہ ہے جس سے پہلے ہمیں اپنے بیانیے کو مضبوط کرنا ہوگا، اپنے گھروں سے، اپنے بچوں سے، اپنی جماعتوں سے، اپنی تحریروں سے، اپنی تقریروں سے، اپنی کلاس رومز سے، اپنے موبائل فون کے استعمال سے، اپنے سوشل میڈیا کے رویے سے۔
آج کا مومن اگر سوشل میڈیا پر حق کی آواز بلند کرتا ہے، باطل بیانیے کے مقابلے میں دلیل دیتا ہے، نوجوانوں کو صحیح سمت دکھاتا ہے، امت کے مسائل پر بیداری لاتا ہے تو یہ بھی جہاد ہے۔ اگر کوئی استاد اس دور کے فکری حملوں کو سمجھ کر نسلِ نو کی علمی تربیت کرے تو یہ بھی جہاد ہے۔ اگر کوئی لکھاری غلط فہمیوں کو دور کر کے اسلام کی اصل تصویر پیش کرے تو یہ بھی جہاد ہے۔ اگر کوئی باپ اپنی اولاد کو فتنوں کے ماحول میں دین سے جوڑے رکھے تو یہ بھی جہاد ہے۔
جہاد کا یہ پہلو اصل میں سب جہادوں کی بنیاد ہے۔ کیونکہ اگر ذہن آزاد ہوں گے، فکر مضبوط ہوگی، ایمان بالغ نظر ہوگا، علم وسیع ہوگا تو قوم ہر میدان میں سرخرو ہو سکتی ہے۔ اسلام دشمن طاقتیں آج اپنے تصورات کو اتنی بار پیش کرتی ہیں کہ جھوٹ بھی حقیقت محسوس ہونے لگتا ہے، اس لیے مسلمانوں کے لیے لازم ہے کہ وہ اپنی زبان، قلم، علم اور کردار کو اس جہاد میں استعمال کریں۔
اس جنگ میں کون سا ہتھیار سب سے مضبوط ہے؟ صرف سچائی۔ وہ سچائی جو قرآن نے دی، وہ حکمت جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سکھائی، وہ دلیل جو اسلامی تہذیب کی تاریخ نے فراہم کی۔ اگر امت اس ذمہ داری کو ادا کرے گی تو نہ صرف وہ جہاد کے مفہوم کو دوبارہ زندہ کرے گی بلکہ دنیا کے سامنے اسلام کو اس کی اصل صورت میں پیش کر سکے گی؛ عدل، امن، رحمت، انسانیت، علم اور اخلاق کے دین کے طور پر۔
وقت کا آخری اور بنیادی تقاضا یہی ہے کہ امت جہاد کے اس وسیع مفہوم کو قبول کرے، اسے اپنی اجتماعی فکر کا حصہ بنائے اور عالمی سطح پر اسلام کی روشن اور متوازن تصویر کو پیش کرے۔ جہاد کا یہ پیغام کسی گروہ، کسی ملک، کسی جماعت، یا کسی دور تک محدود نہیں یہ پوری انسانیت کے لیے خیر کا پیغام ہے۔ یہ عدل کے قیام کا نام ہے۔ یہ ظلم کے مقابلے میں کھڑے ہونے کا نام ہے۔ یہ انسانیت کی حفاظت کی جدوجہد ہے اور یہی وہ جہاد ہے جو ایک مسلمان کی پوری زندگی کو مقصد، وقار اور ذمہ داری عطا کرتا ہے۔ [ماہنامہ سنی دنیا بریلی شریف، اپریل 2026ء، ص: 29 تا 33]
