Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
لباب
مستند مضامین و مقالات
لباب کی مستند علمی و تحقیقی تحریریں اب موبائل ایپ میں دستیاب ہیں۔
پلے اسٹور سے انسٹال کریں

مناسب مواقع پر ہنسنے کی اہمیت|محمد طارق القادری بنارسی

مناسب مواقع پر ہنسنے کی اہمیت
عنوان: مناسب مواقع پر ہنسنے کی اہمیت
تحریر: محمد طارق القادری بنارسی

اسلام ایک معتدل دین ہے، جس میں انسان کو زندگی گزارتے ہوئے نہ ہر وقت رونے اور نوحہ کرنے کی تعلیم دی گئی ہے اور نہ ہی ہمیشہ قہقہے لگانے کی اجازت دی گئی ہے۔ بلکہ یہ دینِ فطرت اپنے ماننے والوں کو اعتدال اور توازن کا درس دیتا ہے۔ اس کی تعلیم یہ ہے کہ انسان نہ ہمیشہ غم و اندوہ میں ڈوبا رہے اور نہ ہی ہر وقت ہنسی مذاق اور قہقہوں میں مشغول رہے، بلکہ موقع و محل کی مناسبت سے کبھی افسردہ، غمگین اور کبیدہ خاطر ہو اور کبھی ہنستے، مسکراتے اور خوش طبعی کا اظہار کرے۔

دینِ اسلام میں ہنسنا، مسکرانا اور جائز حدود کے اندر رہتے ہوئے مزاح کرنا نہ صرف جائز ہے بلکہ اس کی ترغیب بھی ملتی ہے۔ چنانچہ ہمارے پیارے آقا، مدنی مصطفیٰ، حبیبِ کبریا صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک سیرت سے بھی تبسم اور خوش طبعی ثابت ہے۔ اگرچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے خوف اور امت کی فکر کے سبب کثرت سے گریہ و زاری فرمایا کرتے تھے، لیکن موقع کی مناسبت سے ہنستے اور مسکراتے بھی تھے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اسلام انسان کو ایک متوازن اور فطری زندگی گزارنے کی تعلیم دیتا ہے، جس میں سنجیدگی اور خوش مزاجی دونوں اپنے اپنے مقام پر مطلوب اور پسندیدہ ہیں۔

ہنسنا اپنے مناسب مواقع پر ایک اچھا اور قابلِ تعریف عمل ہے، کیونکہ اس میں ایسی بھلائی پائی جاتی ہے جو انسانی طبیعتوں کو پسند آتی ہے اور موقع و محل کے مطابق ہوتی ہے۔ لہٰذا اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں کہ تمام انسانوں کے سردار اور سب سے عظیم انسان، نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ہنسا کرتے تھے۔

  1. حضرت سیدنا عبداللہ بن حارث بن جزء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: “میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ مسکرانے والا کوئی نہیں دیکھا۔” [شمائل محمدیہ، حدیث نمبر: 227، ص: 373]

  2. حضرت سیدنا عبداللہ بن حارث رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ: “رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہنسی صرف مسکراہٹ تھی، یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم قہقہہ نہیں لگاتے تھے۔” [شمائل محمدیہ، حدیث نمبر: 228، ص: 373]

اعلیٰ حضرت امام اہلِ سنت رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

جس کی تسکیں سے روتے ہوئے ہنس پڑے
اس تبسم کی عادت پہ لاکھوں سلام

ابو عمرو الجاحظ نے اپنی کتاب “البخلاء” کے صفحہ 5 کے آغاز میں، رونے کے ان فوائد اور منافع کا ذکر کرنے کے بعد، جو روح اور جسم دونوں کو حاصل ہوتے ہیں، لکھا ہے:

“تمہارا اس ہنسی کے بارے میں کیا خیال ہے جس کی وجہ سے انسان اس وقت تک انتہائی خوشی کی حالت میں رہتا ہے جب تک ہنسی کا سبب باقی رہتا ہے؟ اگر ہنسنا، ہنسنے والے کی طرف سے (یعنی اپنے موقع پر) برا ہوتا، اور ہنسانا، ہنسانے والے کی طرف سے برا ہوتا، تو کبھی کسی کھلے ہوئے پھول، خوبصورت لباس، زیور یا شاندار محل کے بارے میں یہ نہ کہا جاتا کہ: گویا وہ ہنس رہا ہے۔”

اور اللہ جَلَّ ذِكْرُهُ نے فرمایا:

وَأَنَّهُ هُوَ أَضْحَكَ وَأَبْكَى، وَأَنَّهُ هُوَ أَمَاتَ وَأَحْيَا

ترجمۂ کنز العرفان: “اور یہ کہ وہی ہے جس نے ہنسایا اور رلایا، اور یہ کہ وہی ہے جس نے موت اور زندگی دی۔”

پس اللہ تعالیٰ نے ہنسنے کو زندگی کے مقابل اور رونے کو موت کے مقابل ذکر فرمایا ہے۔ یقیناً اللہ تعالیٰ اپنی طرف کسی بری چیز کی نسبت نہیں فرماتا اور نہ ہی اپنی مخلوق پر کسی عیب یا نقص کے ذریعے احسان جتاتا ہے۔

“اور نفس کی خوشی میں ہنسی کا مقام عظیم کیوں نہ ہو، اور انسانی طبیعت کی درستی میں اس کا کردار بڑا کیوں نہ ہو، جبکہ یہ انسانی فطرت کی بنیاد اور اس کی ساخت کی اساس میں شامل ہے۔ کیونکہ ہنسی وہ پہلی بھلائی ہے جو بچے سے ظاہر ہوتی ہے، اسی سے اس کا نفس خوشگوار ہوتا ہے، اسی کی وجہ سے اس کا جسم نشوونما پاتا ہے، اور اس کا خون بڑھتا ہے، جو اس کی خوشی کا سبب اور اس کی قوت کا مادہ ہے۔”

“اہلِ عرب ہنسنے اور مسکرانے والی خصلتوں کی فضیلت کے باعث اپنے بچوں کے نام ضحاک، بسام، بطلق اور بطلیق رکھتے تھے۔ یہ سب خوش طبعی، کشادہ روئی اور بشاشت کے معانی پر دلالت کرتے ہیں۔”

“نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ہنسے اور آپ نے مزاح فرمایا، اور نیک لوگوں نے بھی ہنسی اور مزاح سے کام لیا۔ اہلِ عرب جب کسی کی تعریف کرتے تو کہتے: وہ ہنستے مسکراتے دانتوں والا ہے، شام کی محفلوں میں خوش رو ہے، مہمان کے لیے بشاش ہے، اور کشادہ دلی و خوش مزاجی کا حامل ہے۔”

“اور جب کسی کی مذمت کرتے تو کہتے: وہ ترش رو ہے، ماتھے پر بل ڈالنے والا ہے، بدچہرہ ہے، چہرہ بگاڑے رکھنے والا ہے، ناپسندیدہ ہے، منہ سکیڑے رہتا ہے، کھٹے چہرے والا ہے، اور یوں معلوم ہوتا ہے جیسے اس کے چہرے پر سرکہ چھڑک دیا گیا ہو۔”

شیخ عبدالفتاح فرماتے ہیں:

“اس وصف کو بیان کرنے والے جدت طراز شاعر کا یہ شعر کس قدر خوبصورت ہے:”

ضَحُوكُ السِّنِّ إِنْ نَطَقُوا بِخَيْرٍ
وَعِنْدَ الشَّرِّ مِطْرَاقٌ عَبُوسُ

شعر کا ترجمہ:

“جب لوگ بھلائی کی بات کریں تو آپ کے مسکراتے دانت نمایاں ہو جائیں، اور برائی کے وقت آپ سر جھکائے، خاموش اور سنجیدہ رہیں۔”

پھر فرماتے ہیں:

“ہنسی کا بھی ایک موقع اور ایک مقدار ہے، اور مزاح کا بھی ایک موقع اور ایک حد ہے۔ جب کوئی شخص ان کی مقررہ حدود سے تجاوز کرے یا ان میں کمی کرے تو زیادتی بے وقوفی بن جاتی ہے اور کمی نقص شمار ہوتی ہے۔”

“لوگوں نے ہنسی کو کبھی عیب نہیں سمجھا، مگر اس وقت جب وہ حد سے بڑھ جائے، اور مزاح کو بھی عیب نہیں جانا، مگر اس وقت جب وہ اپنی حد سے تجاوز کر جائے۔”

“اور جب مزاح سے دل جوئی اور نفع رسانی مقصود ہو، اور ہنسی سے وہ مقصد حاصل کیا جائے جس کے لیے ہنسی کو پیدا کیا گیا ہے، تو یہی مزاح سنجیدگی بن جاتا ہے اور یہی ہنسی وقار کا روپ دھار لیتی ہے۔” [الرسول المعلم، حاشیہ، ص: 28]

قارئینِ کرام!

ہمیں چاہیے کہ موقع و محل کا خیال رکھتے ہوئے خوش طبعی کرنے اور مسکرانے کی عادت اپنائیں، کیونکہ ممکن ہے کہ ہماری ایک مسکراہٹ کسی کی زندگی بدل دے۔ انسان کی زندگی میں خوش طبعی اور مسکراہٹ کو ایک خاص مقام حاصل ہے، کیونکہ ان کے ذریعے غمگین دلوں کو راحت ملتی ہے اور پریشان انسان سکون و اطمینان سے آراستہ ہو جاتا ہے۔

لہٰذا ہم مسکرانے کی عادت کو اپنائیں اور اس پر ثواب بھی حاصل کریں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں خوش رہنے، دوسروں کو خوش رکھنے اور ہمیشہ مسکرا کر لوگوں کے دل جیتنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین بجاہِ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم)

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!