| عنوان: | ڈاکٹر محمد عاصم اعظمی |
|---|---|
| تحریر: | علامہ محمد احمد مصباحی ناظمِ تعلیمات جامعہ اشرفیہ |
| پیش کش: | ناظمین فاطمہ ردولی |
| منجانب: | مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد |
بِاسْمِهِ وَحَمْدِهِ تَعَالَى وَتَقَدَّسَ.
مولانا محمد عاصم اعظمی اپنی عمر کی ستر (۷۰) بہاریں دیکھ چکے ہیں اور علمی دنیا میں اپنے رشحاتِ قلم سے پہچانے جاتے ہیں۔ اول جب انھوں نے مدرسے کی تعلیم سے فراغت حاصل کی تو دیکھا کہ لوگ بی۔اے، ایم۔اے، پی ایچ۔ڈی وغیرہ کی ڈگریوں سے اہل علم کا قد ناپتے ہیں۔ مولانا نے کوشش کی اور کسی کالج میں داخلہ لیے بغیر اپنی محنت اور مطالعہ سے امتحانات دیے، مقالہ لکھا اور یہ سب ڈگریاں حاصل کر لیں۔ ظاہر ہے کہ انھوں نے لکھ پڑھ کر ڈگریاں حاصل کیں، تو گائیڈوں کے ذریعہ پرانے پرچے حل کر کے امتحانات پاس کرنے والوں سے بدرجہا بلند اور فائق ثابت ہوئے۔ مطالعہ نے ان کا علمی افق بھی وسیع کیا اور محنت نے انھیں آفاق سر کرنے کا حوصلہ بھی بخشا۔
اہلِ نظر ہمیشہ کسی کے علمی و تحقیقی کام سے اس کا درجہ و مقام متعین کرتے ہیں۔ اس لحاظ سے بھی مولانا کا قد اونچا نظر آتا ہے۔ محنت و مطالعہ اور تحریر و نگارش کا انھوں نے فطری ذوق پایا تھا، اسے جلا بخشی اور ہمیشہ قرطاس و قلم کی آبیاری سے شغف رکھا۔ متعدد فارسی کتابوں کے اردو ترجمے لکھے، علمِ میراث میں ایک رسالہ لکھ کر اس فن میں اپنی جدید و قدیم آگاہی اور درسی مہارت کا ثبوت فراہم کیا۔ تذکرہ نگاری اور تاریخ نویسی سے خاص شغف رکھا اور اس میدان میں بھی کچھ نئے گوشوں کی تلاش اور بہت سے علمی فوائد و نکات کو ملحوظ رکھا جس کے باعث ان کی نگارشات نے اہل علم کی نظریں اپنی طرف مبذول کر لیں۔
جو باذوق طلبہ ان سے قریب ہوئے ان کے ذوقِ تحریر کو روشنی ملی اور موصوف کی توجہ اور رہنمائی سے وہ انشا پرداز بن گئے۔ دراصل انسان کا فطری ذوق اور اس کا عملی جذبہ ہی اصل محرک ہوتا ہے مگر کسی استاذ کی تربیت اس ذوق اور جذبے کو بہت جلد عمومی عیوب و نقائص سے پاک و صاف نگارش کے لائق بنا دیتی ہے ورنہ صرف ذاتی مشق و ممارست ہو تو عرصہ دراز تک زبان و انشا کی غلطیاں آدمی کا ساتھ نہیں چھوڑتیں، اس کا تجربہ شاعری کی دنیا میں بھی ہوتا ہے۔
مولانا اپنے معاصرین میں اپنی علمی و تحریری خدمات کے باعث ایک امتیازی مقام کے حامل ہیں، وہ محنت، مطالعہ، وسعتِ نظر، استحضار اور تربیتِ لوح و قلم کی وجہ سے طلبہ و علما سب کے لیے ایک عمدہ اور قابلِ تقلید نمونہ ہیں۔ ربِ کریم ان کے امثال زیادہ کرے۔
