ہمارے سماج کا تاریک پہلو: (بچیوں کا تحفظ اور انصاف کا فقدان)|سائرہ الطاف امجدی

ہمارے سماج کا تاریک پہلو: (بچیوں کا تحفظ اور انصاف کا فقدان)
عنوان: ہمارے سماج کا تاریک پہلو: (بچیوں کا تحفظ اور انصاف کا فقدان)
تحریر: سائرہ الطاف امجدی
پیش کش: لباب اکیڈمی

معاشرہ انسانی اقدار، اخلاقیات اور تحفظ کا دوسرا نام ہوتا ہے۔ لیکن آج جب ہم اپنے اردگرد نظر ڈالتے ہیں تو ایک ایسی بھیانک حقیقت سامنے آتی ہے جو روح کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتی ہے۔ آج کا سماج، جو خود کو جدید اور ترقی یافتہ کہلوانے کا دعویدار ہے، اپنی ہی معصوم بچیوں کے تحفظ میں ناکام دکھائی دیتا ہے۔ بچیوں پر ہونے والا تشدد، ظلم اور زیادتیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ ہم اخلاقی طور پر تنزلی کا شکار ہو چکے ہیں۔

ماضی اور حال کا کربناک موازنہ

اگر ہم تاریخ کے اوراق پلٹیں تو ہمیں ایک ایسا زمانہ بھی ملتا ہے جب انسانیت کی قدر و قیمت کا احساس زندہ تھا۔ اگرچہ وہ زمانہ بھی کامل نہیں تھا، لیکن ایک ایسا مضبوط سماجی نظام اور اخلاقی ڈھانچہ موجود تھا جو کمزوروں، خاص کر بچیوں کی حفاظت کو اپنی غیرت کا معاملہ سمجھتا تھا۔ گھر سے لے کر گلی محلے تک، ایک ایسا تحفظ کا احساس تھا جو آج کے دور میں مفقود ہو چکا ہے۔

اس کے برعکس، آج کا دور ٹیکنالوجی اور ترقی کا تو ہے، لیکن انسانیت کے فقدان کا دور ہے۔ آج بچیوں کے خلاف ہونے والے مظالم میں نہ صرف اضافہ ہوا ہے بلکہ ان کی نوعیت بھی انتہائی گھناؤنی ہو چکی ہے۔ گھر کی چار دیواری ہو یا تعلیمی ادارے، یہاں تک کہ وہ ادارے جو دین کی تعلیم و تربیت کے مراکز ہیں، وہاں بھی ناانصافی اور زیادتیوں کے واقعات سامنے آنا سماج کے ہر فرد کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ وہ جگہ جہاں بچی کو امن اور تقدس کا گہوارہ سمجھا جاتا تھا، آج وہاں بھی اس کا محفوظ نہ ہونا اس بات کی علامت ہے کہ ہماری اخلاقی بنیادیں کھوکھلی ہو چکی ہیں۔

انصاف اور قانون کی خاموشی

اس صورتحال کا سب سے افسوسناک پہلو انصاف کے نظام کی سستی اور قانون کی خاموشی ہے۔ جب کسی بچی کے ساتھ ظلم ہوتا ہے، تو معاشرہ چند دن شور مچاتا ہے، سوشل میڈیا پر بحث ہوتی ہے، لیکن جیسے جیسے وقت گزرتا ہے، انصاف کی دھند میں وہ آوازیں گم ہو جاتی ہیں۔

قانون کا نفاذ صرف کاغذوں تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ مجرموں کو قرار واقعی سزا نہ ملنا، تحقیقات میں تاخیر، اور اثر و رسوخ کا استعمال، یہ سب عوامل مل کر ظالموں کے حوصلے بڑھا رہے ہیں۔ جب قانون مظلوم کا ساتھ دینے کے بجائے خاموش تماشائی بن جائے یا طاقتور کے سامنے جھک جائے، تو سماج میں جنگل کا قانون قائم ہو جاتا ہے۔ انصاف کا نہ ہونا نہ صرف مظلوم کے ساتھ ظلم ہے، بلکہ یہ معاشرے کے دیگر درندہ صفت عناصر کے لیے ایک کھلا لائسنس ہے کہ وہ مزید ایسے واقعات کا ارتکاب کریں۔

اب ہمیں کیا کرنا چاہیے؟

یہ صورتحال کسی ایک فرد یا ادارے کی نہیں بلکہ پوری قوم کی ناکامی ہے۔ اگر ہم ایک مہذب معاشرے کے طور پر زندہ رہنا چاہتے ہیں تو ہمیں درج ذیل اقدامات پر غور کرنا ہوگا:

  1. ہمیں اپنی سوچ بدلنا ہوگی۔ گھر کی تربیت سے لے کر تعلیمی اداروں کے ماحول تک، بچیوں کو احترام اور تحفظ دینے کے کلچر کو فروغ دینا ہوگا۔

  2. ہمیں ایسے سخت قوانین کی ضرورت ہے جن پر بلا تفریق عمل ہو۔ انصاف میں تاخیر درحقیقت انصاف سے انکار ہے۔ عدالتی نظام کو بچیوں کے خلاف جرائم میں فوری اور مثالی سزاؤں کو یقینی بنانا ہوگا۔

  3. جب تک معاشرہ ان واقعات پر خاموش رہے گا، تب تک ظلم بڑھتا رہے گا۔ ہر فرد کو، ہر فورم پر، ان زیادتیوں کے خلاف آواز اٹھانی ہوگی۔ ہمیں اپنی دینی اور اخلاقی ذمہ داریوں کو سمجھنا ہوگا کہ ایک بچی کا تحفظ کرنا پوری انسانیت کی بقا کے مترادف ہے۔

ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ جس معاشرے میں بچیاں محفوظ نہیں، اس معاشرے کا مستقبل تاریک ہے۔ اگر آج ہم نے قانون اور اخلاق کی بنیاد پر اس ظلم کو نہ روکا، تو کل ہم اپنی آنے والی نسلوں کو کیا جواب دیں گے؟ یہ وقت بحث و مباحثے سے نکل کر عملی اقدامات کا ہے۔ ہمیں ایک ایسا سماج تشکیل دینا ہوگا جہاں قانون طاقتور کا نوکر نہیں بلکہ مظلوم کی ڈھال بنے، اور جہاں ہر بچی بلا خوف و خطر اپنی زندگی گزار سکے۔

لیکن معاذ اللہ آج ہماری مسلم بہنیں غیروں کے ساتھ گھومتی پھرتی نظر آرہی ہیں، اس کا کارن صرف یہی ہے کہ ہماری بچیوں کو دینی تعلیم سے آراستہ نہیں کیا جا رہا، ان کی تربیت درست نہیں ہے، ان کو نہیں سکھایا گیا ہے کہ آپ کا اسلام آپ کو کیا سکھاتا ہے۔ برعکس اس کے کہ دنیاوی تعلیم میں کسی بھی قسم کی کمی نہیں چھوڑی جاتی ہے جب کہ وہ دنیا اور آخرت میں صرف خسارے کا سبب ہے۔

خدارا ہوش کے ناخن لیں، اپنی بچیوں، بہنوں اور ماؤں کو پردے میں رہنے کی تعلیم و تربیت دیں اور خصوصاً ہمارے ادارے جن میں ہمیں ہر طریقے سے بچی کے تحفظ کے اسباب رکھنے چاہئیں۔

اللہ رب العزت ہم تمام بچیوں کو اور بہنوں اور ماؤں کو اپنے حفظ و امان میں رکھے۔ اللہ رب العزت ہم سب کو حضرت فاطمۃ الزہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اللہ رب العزت ہم سب کو پردہ کرنے کی، اپنی نگاہوں کی حفاظت کرنے کی، اور غیر محرموں کے تعلق سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے (آمین ثم آمین)۔

جدید تر اس سے پرانی
Advertisement
Advertisement
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!