Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

عید میلاد النبی

عید میلاد النبی
عنوان: عید میلاد النبی
تحریر: تاج العلماء حضرت علامہ مولانا مفتی محمد عمر صاحب نعیمی، مراد آبادی
پیش کش: محمد رضا توصیفی (مہدیا مہوتری، جنکپور، نیپال)

لیل و نہار کے سیاہ و سفید ادوار، گرم و سرد اوقات کے پہلو میں عجیب رنگا رنگی و گوناگونی ہے یا یہ کہیے کہ مجموعۂ روز و شب کا ہر ایک ورق اور ہر ورق کی ایک ایک سطر اور ہر سطر کا حرف حرف مختلف قسم کے بے شمار مطالب و معانی، مقاصد و مضامین کا ذخیرہ ہے جس میں یہ بوالعجبی ہے کہ ہر مطالعہ کرنے والا ایک جداگانہ نتیجہ پر پہنچتا ہے۔ کتاب ایک، باب ایک، صفحہ ایک، سطر ایک مگر جنھوں نے دیکھا علیحدہ ہی نتیجہ اخذ کیا۔ ایک ہی دن، ایک ہی وقت ایک کے لیے کامرانی و مراد کا دن، وہی دوسرے کے لیے ناکامی و نامرادی کا، ایک رات کسی کے لیے عیش و طرب کی شب، کسی کے لیے کرب و بے چینی اور اندوہ و آلام کی ڈراؤنی بھیانک تاریکی۔ ایک صبح ایک خوش نصیب کے لیے فتح و ظفر، عزت و اقبال کی جاں فزا نوید لاتی ہے، وہی دوسرے بدبخت کو ذلت و رسوائی، فنا و ہلاک سے ڈراتی ہے، غرض اس مجموعہ کا ہر فرد ہر شخص کے لیے پنہاں اثر رکھتا ہے۔ اس وجہ سے کسی سال، کسی ماہ، کسی دن، کسی ساعت پر حکم نہیں کیا جا سکتا کہ خوشی و سرور کا زمانہ یا فرح و انبساط کا وقت ہے اور عام طور پر دنیا اس کا یہی اثر محسوس کر رہی ہے۔ ہر غریب و امیر، برنا و پیر یکساں مزا لے رہا ہے مگر صرف ربیع الاول شریف کی بارہویں تاریخ سلطانِ کونین سیدِ انبیا صلوات اللہ علیہ و سلامہ کی جلوہ افروزی کا دن عالمِ اسلام میں سرور کی ایسی زبردست لہریں پیدا کرتا ہے جو غم و اندوہ، رنج و ملال، فکر و تردد اور خوف و ہراس کے خس و خاشاک کو نیست و نابود کر دیتی ہیں۔ ہر دل سرور کی منزل بن جاتا ہے۔ فرح و شادمانی سے پژمردہ خاطر بھی شگفتہ و خوش حال ہو جاتے ہیں۔ مسلمانوں پر اپنے آقا کی تشریف آوری کی خوشی وہ مستی لاتی ہے کہ وہ سال بھر کے مصائب و آلام کی کوفت و تکان بھول جاتے ہیں۔ بچہ بچہ خوشی سے کھلا جاتا ہے، دنیا کا رنگ بدل جاتا ہے، گھر گھر ذکرِ حبیب ہوتا ہے، جا بجا مجلسیں ترتیب دی جاتی ہیں۔ افکار و ہموم کے پلندے لپیٹ کر رکھ دیے جاتے ہیں۔ رحمۃ للعالمین کی تشریف آوری کی دھوم ہوتی ہے۔ مرحبا مرحبا کا غلغلہ بلند ہوتا ہے۔ صلوۃ و سلام وردِ زبان رہتے ہیں۔ مسلمانوں کے جذباتِ نیاز مندی جوش مارتے ہیں۔ امت آقا کی تہنیت میں محوِ طرب ہوتی ہے۔

میں چاہتا تھا کہ اس موقع پر حضورِ اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ولادتِ مبارکہ کا ذکرِ پاک سناؤں۔

ذکر ولادت شریف

اللہ تعالیٰ نے حضور کے نورِ مبارک کو تمام جہان سے پہلے اپنے نور کی تجلی سے پیدا کیا جیسا کہ حدیث شریف میں ہے: يَا جَابِرُ، إِنَّ اللَّهَ خَلَقَ قَبْلَ الْأَشْيَاءِ نُورَ نَبِيِّكَ مِنْ نُورِهِ۔ یعنی اے جابر تحقیق کہ اللہ تعالیٰ نے تیرے نبی کا نور تمام مخلوقات سے پہلے پیدا کیا، اپنے نور سے۔ [المواہب اللدنیۃ، ج: ۱، ص: ۴۸، مطبوعہ مصر]

انتہی۔ پھر اس نور کی جھلک سے انبیا، ملائکہ، عرش و فرش تمام جہان کو بنایا۔ زمین و آسمان بنانے کے بعد فرشتوں کو آسمان پر رکھا، جنات کو زمین پر۔ ایک مدتِ دراز کے بعد جنوں میں ظلم و فساد، بغض و حسد اور کینہ و عناد، عداوت و بغاوت پیدا اور ظاہر ہوئی۔ پروردگار جل شانہ نے ایک گروہ فرشتوں کا ان کی سرکوبی کے لیے بھیجا، ان کا سردار عزازیل تھا۔ جنوں پر جہاد ہوئے ہزارہا مقتول ہوئے، زمین چھوڑ کر پہاڑوں میں بھاگے، دریاؤں میں گھسے۔ حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ چوتھی زمین میں اس قدر جن ہیں کہ اگر ظاہر ہوں تو اپنی کثرت سے آفتاب کو ڈھانک لیں اور ہر کنارے پر اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی مہر ہے اور فرشتے محافظ و نگہبان ہیں۔ انتہی۔ عزازیل کو زمین کی اور پہلے آسمان کی بادشاہت ملی، کبھی زمین، کبھی آسمان، کبھی جنت میں عبادت کرتا۔ آہستہ آہستہ اسے تکبر و غرور پیدا ہوا کہ مجھ جیسا کوئی نہیں، میری برابری کون کر سکتا ہے؟ کسے اتنی بڑی سلطنت ملی، کس نے اتنی بڑی عزت و حرمت پائی؟ پس باری تعالیٰ نے فرشتوں سے خطاب کر کے فرمایا: وَإِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَائِكَةِ إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً ترجمہ: جب تیرے رب نے فرشتوں سے فرمایا کہ ہم زمین پر اپنا خلیفہ اور نائب بنائیں گے۔ [البقرۃ: ۳۰]

وہ تعجب سے بولے کیا تو ایسے شخص کو بنائے گا جو فساد و خونریزی کرے؟ ہم تو تیری تسبیح اور حمد اور تقدیس کرتے ہیں۔ ارشاد ہوا جو ہم جانتے ہیں وہ تم نہیں جانتے کہ اس میں ہماری کیا حکمت ہے۔ مفسرین کا اس پر اتفاق ہے کہ فرشتوں کا یہ قول حسد و اعتراض کی بنا پر نہ تھا بلکہ وہ حکمتِ الٰہی کو نہ سمجھ کر دریافت کرنے لگے۔ بے شک یہ عطیۂ کبریٰ، نعمتِ عظمیٰ کہ زمین و آسمان کا شہنشاہ ایک خاکی الاصل کو اپنے احکام جاری کرنے والا، اپنے کمالات کا آئینہ، محرمِ اسرار، مقرب و مخصوص بارگاہ بنا لے، کسی طرح وہم و خیال میں نہ آسکتا تھا۔

فرشتوں کو تعجب ہونا کوئی تعجب کی بات نہیں، ملائکہ نے حضرت آدم علیہ السلام کو نہیں کہا کہ مفسد و خونریز ہوں گے بلکہ یہ کہا کہ خاکی نژاد کی شان سے ہے کہ فساد و گناہ و خونریزی کرے۔ پھر جب مولیٰ تعالیٰ کو منظور ہوا کہ تاجِ خلافت خاکی الاصل کے سر پہ رکھے اور حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا فرمائے تو حضرت عزرائیل علیہ السلام کو حکم دیا کہ مشتِ خاک حاضر کرو۔ آپ نے ہر مقام سے مٹی لے کر پیش کی پھر وہ مٹی پانی سے خمیر کی گئی۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام سے فرمایا کہ بہت عمدہ صاف ستھری مٹی قلبِ زمین سے لاؤ! حضرت جبرائیل وہاں کی مٹی لے گئے جہاں شاہنشاہِ کونین، فخر دارين، محبوب رب المشرقين والمغربين عليه الصلاة والسلام کی قبر شریف ہے۔

یہ مٹی آبِ تسنیم سے گوندھی گئی (تسنیم جنت کی نہروں سے ایک نہر کا نام ہے) اور جنت کی نہروں میں غوطے دلوائے اور آسمانوں اور زمینوں میں پھرائی گئی۔ حضور سراپا نور، پیغمبرِ آخر الزماں علیہ الصلوۃ والسلام کو فرشتوں نے حضرت آدم علیہ الصلوۃ والسلام سے پہلے پہچان لیا۔ پھر یہ مٹی حضرت آدم علیہ الصلوۃ والسلام کی مٹی کے ساتھ ملا دی گئی اور جسم شریف حضرت آدم علیہ السلام کا تیار کیا گیا، پھر روح عطا کی گئی اور جنتی پوشاک پہنائی گئی۔ پھر ہمارے نبی علیہ الصلوۃ والسلام کا نور ان کی پیشانی پر چمکایا اور تخت پر بٹھا کر فرشتوں نے آسمان کے عجائبات دکھائے۔ یہ سیر ایک سو برس میں تمام ہوئی۔ پھر ایک گھوڑا مشک کا بنایا گیا جس کا نام ”الہموز“ تھا۔ اس کے بازو موتی مونگے کے، حضرت جبرائیل علیہ السلام نے لگام لی، داہنی طرف حضرت میکائیل علیہ السلام، بائیں طرف حضرت اسرافیل علیہ السلام۔ حضرت آدم علیہ السلام سوار آسمانوں کی سیر فرماتے رہے۔ فرشتے انھیں سلام کہتے اور یہ فرشتوں کو۔ جنت میں آپ کی کنیت ابو محمد اور دنیا میں ابوالبشر ہے۔

اب تمام ملائکہ کو حکمِ سجدۂ آدم علیہ السلام ہوا تاکہ جن و ملائک پہچان لیں کہ یہ اس ذاتِ بابرکت کا نورِ مبارک ہے جس کی تعظیم و تکریم تمام مخلوقات پر فرض ہے۔ تمام ملائک نے مولیٰ تبارک و تعالیٰ کے حکم کی تعمیل بسر و چشم کی مگر معلم الملکوت شیطان لعین نے عدول حکمی کی اور نشۂ غرور میں سرشار ہو کر کہہ اٹھا کہ اے رب! تو نے مجھے نار اور آدم علیہ السلام کو مٹی سے پیدا کیا۔ پس وہ مغرور درگاہِ الٰہی سے مردود ہو کر نکالا گیا اور طوقِ لعنت گلے میں ڈالا گیا تاکہ قیامت تک تمام مخلوقات جان لیں کہ محبوبِ کریم علیہ افضل الصلوۃ والتسلیم کی تکریم و تعظیم نہ کرنے والا یوں درگاہِ رب العزت سے نکالا جاتا ہے اور لَوْلَاكَ لَمَا خَلَقْتُ الدُّنْيَا جن کی شانِ اقدس میں وارد ہے ان کی عزت و عظمت کا ذکر نہ کرنے والے کو یوں طوقِ لعنت پہنایا جاتا ہے، اگر وہ معلم الملکوت ہی کیوں نہ ہو۔ ان کی شانِ اقدس میں بے ادبی کرنا عمر بھر کے زہد و تقویٰ، علم و فضل کو خاک میں ملا دیتا ہے۔

بعدہٗ آدم علیہ السلام کی بائیں پسلی سے حضرت حوا کو پیدا کیا اور ان کو گندم کھانے کی ممانعت کی گئی۔ بہشت میں دونوں نے قیام کیا۔ حضرت آدم علیہ السلام نے شیطان کے کہنے سے گندم کھا لیا پس مولیٰ تبارک و تعالیٰ نے ان کو زمین پر اتارا، ایک عرصہ تک گریہ و زاری کی، آخر کار ہمارے سرکارِ عالی وقار محبوبِ خدا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے وسیلے سے رحمتِ الٰہی نے ان کو ڈھانپ لیا اور ان دونوں سے نسلِ انسانی کا سلسلہ بڑھتا چلا گیا۔

حضرت آدم علیہ السلام کی وفات کے بعد حضور پرنور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا نور حضرت شیث علیہ السلام کو تفویض ہوا اور اس امانت کی تعظیم و تکریم کرنے کی وصیت کی گئی۔ غرضیکہ اسی طرح پر یہ نور بہترین خاندانوں، پاک ستھری کرم والی پشتوں اور طہارت والے شکموں میں بصد تعظیم و تکریم منتقل ہوتا ہوا آپ کے والدِ ماجد حضرت عبداللہ تک اس وقت پہنچا جبکہ تمام عالم میں ظلمت کی کالی کالی گھٹائیں چھائی ہوئی تھیں، کفر و الحاد کی ہوائیں جہان بھر کا چکر لگا رہی تھیں، جسے دیکھو فرعونِ بے سامان بلکہ مجسمِ شیطان نظر آتا تھا۔

یہ وہ زمانہ تھا کہ بادۂ خودی کے متوالے دنیاوی لذت میں مخمور خوابِ غفلت میں ایسی لمبی تانے پڑے تھے گویا حشر تک جاگنا قسم تھا۔ توحیدِ باری تعالیٰ کے جاننے والے قلیل تعداد میں رہ گئے تھے۔ ہر ایک قبیلہ کے مختلف معبود تھے، کوئی کواکب پرستی پر فدا تھا، کوئی بت پرستی پر شیدا تھا، کہیں آگ کی پوجا ہوتی تھی، کہیں بہائم پرستی کی وحشیانہ رسم جاری تھی۔ خود خانہ کعبہ میں بتوں کا جمگھٹ تھا۔ ان کے نزدیک انسان کا خون بہانا ایک کھیل تھا۔ ذرا ذرا سی بات میں دنگا فساد، آئے دن بغض و عناد نے ناک میں دم کر رکھا تھا۔ ظلم و تعدی، دختر کشی عام طور پر رائج تھی۔ لوٹ مار، غارت گری کی گرم بازاری تھی۔ قصہ کوتاہ، انسان تمام عیوب کا مخزن بن گیا تھا۔ مذہبِ عیسوی مٹ چکا تھا۔ ایک خدا کے بجائے تین خدا (باپ، بیٹا، روح القدس) جگہ پا چکے تھے۔ صلیب پرستی جزوِ عیسائیت بن چکی تھی۔ انبیائے کرام پر طرح طرح کے الزام لگائے جاتے تھے۔ آخر مولیٰ تبارک و تعالیٰ نے اس پُر آشوب زمانے کی حالت درست کرنے کے واسطے رہبرِ رہبران، ہادئ گمراہان، سید الاخیار، معدن الجود والعطاء، رحمۃ للعالمین، شفیع المذنبین، خاتم النبیین کو اس عالم میں بھیجا۔ اب وہ زمانہ خیر و برکت سے بدلنے والا، توحیدِ باری تعالیٰ سے معمور ہونے والا آ رہا ہے۔

حضرت عبداللہ کا جن کی پیشانی میں وہ نور جلوہ گر تھا، بی بی آمنہ سے عقد ہوا اور وہ نور شبِ جمعہ میں صلبِ پدر سے نکل کر رحمِ مادر میں جاگزیں ہوا۔ تمام عالم میں غلغلۂ شادمانی بلند ہوا۔ عسرت عشرت سے بدل گئی، ہر طرف دھوم دھام ہونے لگی۔ اشجار کے پتے خوشی کے شادیانے بجانے لگے، وحوش و طیور خوشی کے نعرے لگانے لگے۔ جدھر دیکھو خوشی و خرمی کا اژدہام تھا۔ حضور پرنور خیر البشر صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ولادت شریف کا انتظار تھا اور یہ وردِ زبان کہ کفر و شرک کو مٹانے والا، بت پرستی کا استیصال کرنے والا، تمام عالم میں وحدانیت کا ڈنکا بجانے والا، عرفانِ الٰہی کا سیدھا راستہ بتانے والا، تمام علومِ اولین و آخرین کا جاننے والا، ہر صفت میں فردِ اکمل، ہر خوبی میں سب سے اعلیٰ و افضل، نورِ مجسم، سرورِ آدم و بنی آدم، پادشاہِ کل عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وعلیٰ آلہ وصحبہ وسلم عنقریب جہان کو رونق و زینت بخشنے والا ہے۔

لیل و نہار کے سیاہ و سفید ادوار، گرم و سرد اوقات کے پہلو میں عجیب رنگا رنگی گوناگونی ہے یا یہ کہیے کہ مجموعۂ روز و شب کا ہر ایک ورق اور ہر ورق کی ایک ایک سطر اور ہر سطر کا حرف حرف مختلف قسم کے بے شمار مطالب و معانی، مقاصد و مضامین کا ذخیرہ ہے جس میں یہ بوالعجبی ہے کہ ہر مطالعہ کرنے والا ایک جداگانہ نتیجہ پر پہنچتا ہے۔ کتاب ایک، باب ایک، صفحہ ایک، سطر ایک مگر جنھوں نے دیکھا علیحدہ ہی نتیجہ اخذ کیا۔ ایک ہی دن، ایک ہی وقت ایک کے لیے کامرانی و مراد کا دن، وہی دوسرے کے لیے ناکامی و نامرادی کا، ایک رات کسی کے لیے عیش و طرب کی شب، کسی کے لیے کرب و بے چینی اور اندوہ و آلام کی ڈراؤنی بھیانک تاریکی۔ ایک صبح ایک خوش نصیب کے لیے فتح و ظفر، عزت و اقبال کی جاں فزا نوید لاتی ہے، وہی دوسرے بدبخت کو ذلت و رسوائی، فنا و ہلاک سے ڈراتی ہے، غرض اس مجموعہ کا ہر فرد ہر شخص کے لیے پنہاں اثر رکھتا ہے۔ اس وجہ سے کسی سال، کسی ماہ، کسی دن، کسی ساعت پر حکم نہیں کیا جا سکتا کہ خوشی و سرور کا زمانہ یا فرح و انبساط کا وقت ہے اور عام طور پر دنیا اس کا یہی اثر محسوس کر رہی ہے۔ ہر غریب و امیر، برنا و پیر یکساں مزا لے رہا ہے مگر صرف ربیع الاول شریف کی بارہویں تاریخ سلطانِ کونین سیدِ انبیا صلوات اللہ علیہ و سلامہ کی جلوہ افروزی کا دن عالمِ اسلام میں سرور کی ایسی زبردست لہریں پیدا کرتا ہے جو غم و اندوہ، رنج و ملال، فکر و تردد اور خوف و ہراس کے خس و خاشاک کو نیست و نابود کر دیتی ہیں۔ ہر دل سرور کی منزل بن جاتا ہے۔ فرح و شادمانی سے پژمردہ خاطر بھی شگفتہ و خوش حال ہو جاتے ہیں۔ مسلمانوں پر اپنے آقا کی تشریف آوری کی خوشی وہ مستی لاتی ہے کہ وہ سال بھر کے مصائب و آلام کی کوفت و تکان بھول جاتے ہیں۔ بچہ بچہ خوشی سے کھلا جاتا ہے، دنیا کا رنگ بدل جاتا ہے، گھر گھر ذکرِ حبیب ہوتا ہے، جا بجا مجلسیں ترتیب دی جاتی ہیں۔ افکار و ہموم کے پلندے لپیٹ کر رکھ دیے جاتے ہیں۔ رحمۃ للعالمین کی تشریف آوری کی دھوم ہوتی ہے۔ مرحبا مرحبا کا غلغلہ بلند ہوتا ہے۔ صلوۃ و سلام وردِ زبان رہتے ہیں۔ مسلمانوں کے جذباتِ نیاز مندی جوش مارتے ہیں۔ امت آقا کی تہنیت میں محوِ طرب ہوتی ہے۔

میں چاہتا تھا کہ اس موقع پر حضورِ اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ولادتِ مبارکہ کا ذکرِ پاک سناؤں۔

ذکر ولادت شریف

اللہ تعالیٰ نے حضور کے نورِ مبارک کو تمام جہان سے پہلے اپنے نور کی تجلی سے پیدا کیا جیسا کہ حدیث شریف میں ہے: يَا جَابِرُ، إِنَّ اللَّهَ خَلَقَ قَبْلَ الْأَشْيَاءِ نُورَ نَبِيِّكَ مِنْ نُورِهِ۔ یعنی اے جابر تحقیق کہ اللہ تعالیٰ نے تیرے نبی کا نور تمام مخلوقات سے پہلے پیدا کیا، اپنے نور سے۔ [المواہب اللدنیۃ، ج: ۱، ص: ۴۸، مطبوعہ مصر]

انتہی۔ پھر اس نور کی جھلک سے انبیا، ملائکہ، عرش و فرش تمام جہان کو بنایا۔ زمین و آسمان بنانے کے بعد فرشتوں کو آسمان پر رکھا، جنات کو زمین پر۔ ایک مدتِ دراز کے بعد جنوں میں ظلم و فساد، بغض و حسد اور کینہ و عناد، عداوت و بغاوت پیدا اور ظاہر ہوئی۔ پروردگار جل شانہ نے ایک گروہ فرشتوں کا ان کی سرکوبی کے لیے بھیجا، ان کا سردار عزازیل تھا۔ جنوں پر جہاد ہوئے ہزارہا مقتول ہوئے، زمین چھوڑ کر پہاڑوں میں بھاگے، دریاؤں میں گھسے۔ حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ چوتھی زمین میں اس قدر جن ہیں کہ اگر ظاہر ہوں تو اپنی کثرت سے آفتاب کو ڈھانک لیں اور ہر کنارے پر اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی مہر ہے اور فرشتے محافظ و نگہبان ہیں۔ انتہی۔ عزازیل کو زمین کی اور پہلے آسمان کی بادشاہت ملی، کبھی زمین، کبھی آسمان، کبھی جنت میں عبادت کرتا۔ آہستہ آہستہ اسے تکبر و غرور پیدا ہوا کہ مجھ جیسا کوئی نہیں، میری برابری کون کر سکتا ہے؟ کسے اتنی بڑی سلطنت ملی، کس نے اتنی بڑی عزت و حرمت پائی؟ پس باری تعالیٰ نے فرشتوں سے خطاب کر کے فرمایا: وَإِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَائِكَةِ إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً ترجمہ: جب تیرے رب نے فرشتوں سے فرمایا کہ ہم زمین پر اپنا خلیفہ اور نائب بنائیں گے۔ [البقرۃ: ۳۰]

وہ تعجب سے بولے کیا تو ایسے شخص کو بنائے گا جو فساد و خونریزی کرے؟ ہم تو تیری تسبیح اور حمد اور تقدیس کرتے ہیں۔ ارشاد ہوا جو ہم جانتے ہیں وہ تم نہیں جانتے کہ اس میں ہماری کیا حکمت ہے۔ مفسرین کا اس پر اتفاق ہے کہ فرشتوں کا یہ قول حسد و اعتراض کی بنا پر نہ تھا بلکہ وہ حکمتِ الٰہی کو نہ سمجھ کر دریافت کرنے لگے۔ بے شک یہ عطیۂ کبریٰ، نعمتِ عظمیٰ کہ زمین و آسمان کا شہنشاہ ایک خاکی الاصل کو اپنے احکام جاری کرنے والا، اپنے کمالات کا آئینہ، محرمِ اسرار، مقرب و مخصوص بارگاہ بنا لے، کسی طرح وہم و خیال میں نہ آسکتا تھا۔

فرشتوں کو تعجب ہونا کوئی تعجب کی بات نہیں، ملائکہ نے حضرت آدم علیہ السلام کو نہیں کہا کہ مفسد و خونریز ہوں گے بلکہ یہ کہا کہ خاکی نژاد کی شان سے ہے کہ فساد و گناہ و خونریزی کرے۔ پھر جب مولیٰ تعالیٰ کو منظور ہوا کہ تاجِ خلافت خاکی الاصل کے سر پہ رکھے اور حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا فرمائے تو حضرت عزرائیل علیہ السلام کو حکم دیا کہ مشتِ خاک حاضر کرو۔ آپ نے ہر مقام سے مٹی لے کر پیش کی پھر وہ مٹی پانی سے خمیر کی گئی۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام سے فرمایا کہ بہت عمدہ صاف ستھری مٹی قلبِ زمین سے لاؤ! حضرت جبرائیل وہاں کی مٹی لے گئے جہاں شاہنشاہِ کونین، فخر دارين، محبوب رب المشرقين والمغربين عليه الصلاة والسلام کی قبر شریف ہے۔

یہ مٹی آبِ تسنیم سے گوندھی گئی (تسنیم جنت کی نہروں سے ایک نہر کا نام ہے) اور جنت کی نہروں میں غوطے دلوائے اور آسمانوں اور زمینوں میں پھرائی گئی۔ حضور سراپا نور، پیغمبرِ آخر الزماں علیہ الصلوۃ والسلام کو فرشتوں نے حضرت آدم علیہ الصلوۃ والسلام سے پہلے پہچان لیا۔ پھر یہ مٹی حضرت آدم علیہ الصلوۃ والسلام کی مٹی کے ساتھ ملا دی گئی اور جسم شریف حضرت آدم علیہ السلام کا تیار کیا گیا، پھر روح عطا کی گئی اور جنتی پوشاک پہنائی گئی۔ پھر ہمارے نبی علیہ الصلوۃ والسلام کا نور ان کی پیشانی پر چمکایا اور تخت پر بٹھا کر فرشتوں نے آسمان کے عجائبات دکھائے۔ یہ سیر ایک سو برس میں تمام ہوئی۔ پھر ایک گھوڑا مشک کا بنایا گیا جس کا نام ”الہموز“ تھا۔ اس کے بازو موتی مونگے کے، حضرت جبرائیل علیہ السلام نے لگام لی، داہنی طرف حضرت میکائیل علیہ السلام، بائیں طرف حضرت اسرافیل علیہ السلام۔ حضرت آدم علیہ السلام سوار آسمانوں کی سیر فرماتے رہے۔ فرشتے انھیں سلام کہتے اور یہ فرشتوں کو۔ جنت میں آپ کی کنیت ابو محمد اور دنیا میں ابوالبشر ہے۔

اب تمام ملائکہ کو حکمِ سجدۂ آدم علیہ السلام ہوا تاکہ جن و ملائک پہچان لیں کہ یہ اس ذاتِ بابرکت کا نورِ مبارک ہے جس کی تعظیم و تکریم تمام مخلوقات پر فرض ہے۔ تمام ملائک نے مولیٰ تبارک و تعالیٰ کے حکم کی تعمیل بسر و چشم کی مگر معلم الملکوت شیطان لعین نے عدول حکمی کی اور نشۂ غرور میں سرشار ہو کر کہہ اٹھا کہ اے رب! تو نے مجھے نار اور آدم علیہ السلام کو مٹی سے پیدا کیا۔ پس وہ مغرور درگاہِ الٰہی سے مردود ہو کر نکالا گیا اور طوقِ لعنت گلے میں ڈالا گیا تاکہ قیامت تک تمام مخلوقات جان لیں کہ محبوبِ کریم علیہ افضل الصلوۃ والتسلیم کی تکریم و تعظیم نہ کرنے والا یوں درگاہِ رب العزت سے نکالا جاتا ہے اور لَوْلَاكَ لَمَا خَلَقْتُ الدُّنْيَا جن کی شانِ اقدس میں وارد ہے ان کی عزت و عظمت کا ذکر نہ کرنے والے کو یوں طوقِ لعنت پہنایا جاتا ہے، اگر وہ معلم الملکوت ہی کیوں نہ ہو۔ ان کی شانِ اقدس میں بے ادبی کرنا عمر بھر کے زہد و تقویٰ، علم و فضل کو خاک میں ملا دیتا ہے۔

بعدہٗ آدم علیہ السلام کی بائیں پسلی سے حضرت حوا کو پیدا کیا اور ان کو گندم کھانے کی ممانعت کی گئی۔ بہشت میں دونوں نے قیام کیا۔ حضرت آدم علیہ السلام نے شیطان کے کہنے سے گندم کھا لیا پس مولیٰ تبارک و تعالیٰ نے ان کو زمین پر اتارا، ایک عرصہ تک گریہ و زاری کی، آخر کار ہمارے سرکارِ عالی وقار محبوبِ خدا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے وسیلے سے رحمتِ الٰہی نے ان کو ڈھانپ لیا اور ان دونوں سے نسلِ انسانی کا سلسلہ بڑھتا چلا گیا۔

حضرت آدم علیہ السلام کی وفات کے بعد حضور پرنور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا نور حضرت شیث علیہ السلام کو تفویض ہوا اور اس امانت کی تعظیم و تکریم کرنے کی وصیت کی گئی۔ غرضیکہ اسی طرح پر یہ نور بہترین خاندانوں، پاک ستھری کرم والی پشتوں اور طہارت والے شکموں میں بصد تعظیم و تکریم منتقل ہوتا ہوا آپ کے والدِ ماجد حضرت عبداللہ تک اس وقت پہنچا جبکہ تمام عالم میں ظلمت کی کالی کالی گھٹائیں چھائی ہوئی تھیں، کفر و الحاد کی ہوائیں جہان بھر کا چکر لگا رہی تھیں، جسے دیکھو فرعونِ بے سامان بلکہ مجسمِ شیطان نظر آتا تھا۔

یہ وہ زمانہ تھا کہ بادۂ خودی کے متوالے دنیاوی لذت میں مخمور خوابِ غفلت میں ایسی لمبی تانے پڑے تھے گویا حشر تک جاگنا قسم تھا۔ توحیدِ باری تعالیٰ کے جاننے والے قلیل تعداد میں رہ گئے تھے۔ ہر ایک قبیلہ کے مختلف معبود تھے، کوئی کواکب پرستی پر فدا تھا، کوئی بت پرستی پر شیدا تھا، کہیں آگ کی پوجا ہوتی تھی، کہیں بہائم پرستی کی وحشیانہ رسم جاری تھی۔ خود خانہ کعبہ میں بتوں کا جمگھٹ تھا۔ ان کے نزدیک انسان کا خون بہانا ایک کھیل تھا۔ ذرا ذرا سی بات میں دنگا فساد، آئے دن بغض و عناد نے ناک میں دم کر رکھا تھا۔ ظلم و تعدی، دختر کشی عام طور پر رائج تھی۔ لوٹ مار، غارت گری کی گرم بازاری تھی۔ قصہ کوتاہ، انسان تمام عیوب کا مخزن بن گیا تھا۔ مذہبِ عیسوی مٹ چکا تھا۔ ایک خدا کے بجائے تین خدا (باپ، بیٹا، روح القدس) جگہ پا چکے تھے۔ صلیب پرستی جزوِ عیسائیت بن چکی تھی۔ انبیائے کرام پر طرح طرح کے الزام لگائے جاتے تھے۔ آخر مولیٰ تبارک و تعالیٰ نے اس پُر آشوب زمانے کی حالت درست کرنے کے واسطے رہبرِ رہبران، ہادئ گمراہان، سید الاخیار، معدن الجود والعطاء، رحمۃ للعالمین، شفیع المذنبین، خاتم النبیین کو اس عالم میں بھیجا۔ اب وہ زمانہ خیر و برکت سے بدلنے والا، توحیدِ باری تعالیٰ سے معمور ہونے والا آ رہا ہے۔

حضرت عبداللہ کا جن کی پیشانی میں وہ نور جلوہ گر تھا، بی بی آمنہ سے عقد ہوا اور وہ نور شبِ جمعہ میں صلبِ پدر سے نکل کر رحمِ مادر میں جاگزیں ہوا۔ تمام عالم میں غلغلۂ شادمانی بلند ہوا۔ عسرت عشرت سے بدل گئی، ہر طرف دھوم دھام ہونے لگی۔ اشجار کے پتے خوشی کے شادیانے بجانے لگے، وحوش و طیور خوشی کے نعرے لگانے لگے۔ جدھر دیکھو خوشی و خرمی کا اژدہام تھا۔ حضور پرنور خیر البشر صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ولادت شریف کا انتظار تھا اور یہ وردِ زبان کہ کفر و شرک کو مٹانے والا، بت پرستی کا استیصال کرنے والا، تمام عالم میں وحدانیت کا ڈنکا بجانے والا، عرفانِ الٰہی کا سیدھا راستہ بتانے والا، تمام علومِ اولین و آخرین کا جاننے والا، ہر صفت میں فردِ اکمل، ہر خوبی میں سب سے اعلیٰ و افضل، نورِ مجسم، سرورِ آدم و بنی آدم، پادشاہِ کل عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وعلیٰ آلہ وصحبہ وسلم عنقریب جہان کو رونق و زینت بخشنے والا ہے۔

آفتابِ دین و دنیا جلوہ گر ہونے کو ہے
نور سے پُر آمنہ بی بی کا گھر ہونے کو ہے

نورِ ایماں پھیلے گا، ظلمت مٹے گی کفر کی
آسمانِ فیض کا طالع قمر ہونے کو ہے

غل مچا ہے چار سو، آتے ہیں محبوبِ خدا
عاصیو! نخلِ تمنا بار آور ہونے کو ہے

آمنہ پاک فرماتی ہیں کہ پہلے مہینہ میں حضرت آدم، دوسرے مہینہ میں جناب ادریس، تیسرے میں حضرت نوح، چوتھے میں جناب خلیل، پانچویں میں حضرت اسماعیل، چھٹے میں حضرت موسیٰ، ساتویں میں حضرت داؤد، آٹھویں میں حضرت سلیمان، نویں میں حضرت عیسیٰ علیہم الصلوۃ والسلام مژدۂ ولادت سنانے تشریف لائے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ جب یہ مملکتِ الٰہی کا مالک، مختارِ انبیا و رسل کا سردار پیدا ہو تو ان کا اسمِ مبارک محمد رکھنا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم۔

الغرض بارہویں ربیع الاول شریف بروز دوشنبہ بوقتِ صبحِ صادق حضور پرنور سیدِ عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنے قدومِ میمنت لزوم سے گلشنِ عالم کو شرف بخشا۔ تمام عالم نور سے منور ہو گیا ہے۔

جس سہانی گھڑی چمکا طیبہ کا چاند
اس دل افروز ساعت پہ لاکھوں سلام

درو دیوار سے الصلاة والسلام عليك يا رسول الله، الصلاة والسلام عليك يا حبيب الله، الصلاة والسلام عليك يا رحمة للعالمين، الصلاة والسلام عليك يا شفيع المذنبين کی صدائیں بلند ہوئیں، ظلمتِ کفر کافور، نجاستِ شرک دُور ہوئی۔ [مقالات نعیمی، ص: ۱۱۰-۱۱۶]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!