| عنوان: | قاضی اسلام اور حدود قضا |
|---|---|
| تحریر: | علامہ ضیاء المصطفیٰ قادری امجدی المعروف حضور محدثِ کبیر |
| پیش کش: | قافیہ نوری بنت محمد ظہیر رضوی |
| منجانب: | امجدی گلوبل اکیڈمی |
ریڈیو، فیکس اور دیگر ذرائع سے خبر پہنچانے میں کذب و اغلاط سے بچنے کے جتنے بھی احتیاطی طریقوں کو استعمال کرنے کا ذکر کیا جاتا ہے، ان کا حاصل صرف یہ ہوا کہ خبر بھیجنے والے کو اپنے اعلان کی صحت پر اطمینان ہوا، نہ کہ جس کو خبر پہنچی اسے طمانیت حاصل ہوئی اور بالفرض وہ بھی مطمئن ہوا تو اس کا یہ اطمینان صرف ظنِ عرفی ہوا نہ کہ وہ ظنِ شرعی جو شہادتات و استفاضہ وغیرہ سے حاصل ہوتا ہے اور اس باب میں ظنِ شرعی ہی معتبر ہے، ظنِ عرفی کی کوئی حیثیت ہی نہیں۔ علاوہ ازیں ٹیلی فون، ریڈیو اور فیکس وغیرہ میں جس قدر بھی اہتمامِ احتیاط اختیار کیا جائے، وہ یا تو كتاب القاضي ہے یا تو قاضی کا بیانِ لسانی ہے اور اس باب میں شرعاً دونوں غیر معتبر ہیں۔ مکتوب اس لیے غیر معتبر ہے کہ بلدِ آخر میں مکتوبِ قاضی، شرائطِ كتاب القاضي کے بغیر قبول ہی نہ کیا جائے گا، نافذ العمل ہونا دور رہا اور بیانِ لسانی اس لیے بلدِ آخر میں غیر معتبر ہے کہ خود قاضی وہاں جا کر کہے تو نامعتبر تو یہ کیوں کر معتبر ہو۔ ہاں جس شہر میں اس نے فیصلہ کیا وہاں اس کا قول اور مکتوب ضرور قابلِ قبول و لائقِ عمل ہیں، اصل تو یہی ہے کہ ”الخط يشبه الخط والنغمة تشبه النغمة“ مگر توضیحِ حکم کے لیے ہم نے لکھا۔ ”قاضی القضاۃ“ چونکہ منتظم بھی ہوتا ہے اور قاضی جمیع امصار بھی، اس لیے وہ قاضی کے عزل و نصب اور ہر شہر میں جا کر شہادتیں سننے کے بعد فصلِ مقدمات کا اختیار رکھتا ہے۔ قاضی القضاۃ کا معنی ہرگز یہ نہیں ہے کہ وہ ایک شہر میں رہ کر پورے ملک میں مقدمات کے فیصلے بلا واسطہ طریقِ موجب نافذ کرے۔ اگر کوئی اس معنی کا مدعی ہے تو فقہائے کرام سے اس پر استشہاد لائے。
۱۴۰۶ھ میں اشرفیہ مبارک پور کے شرعی بورڈ کی میٹنگ میں یہ فقیر بحیثیتِ رکن از اول تا آخر حاضر رہا۔ اس مسئلہ پر کچھ بحثیں ہوئیں۔ اور حضرت مفتی محمد شریف الحق صاحب علیہ الرحمہ نے ہرگز یہ موقف اختیار نہ فرمایا کہ قاضیِ ملک کا اعلان پورے ملک میں نافذ ہوگا اور اس نفاذ کے لیے کسی دوسرے طریقِ موجب کی حاجت نہ ہوگی۔ ہاں انھوں نے ابتداًءً ضرور مجلس میں یہ شق پیش کی تھی کہ بادی النظر میں ایسا ہونا چاہیے کہ قاضی کا اعلان اس کے حدودِ قضا کے مطابق ہو، قاضیِ بلد کا اعلان بلد و جوارِ بلد تک اور قاضی القضاۃ کا پورے ملک تک۔ ہم لوگوں نے اس کے خلاف عالمگیری کا مذکورہ بالا جزئیہ پیش کیا اور میں نے یہ کہا کہ اس جزئیہ سے یہ مسئلہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ”قاضی القضاۃ اگرچہ ہر شہر میں مقدمات و شہادتات کی سماعت کر سکتا ہے، لیکن بالفعل وہ جہاں ہے وہیں کا قاضی ہے اور دوسرے شہر کے لیے وہ فی الحال بالکل اجنبی ہے۔ اس لیے قاضی القضاۃ اور قاضی بلدِ خاص کے حکم میں عملاً کوئی فرق نہیں۔“ اتنی گفتگو کے بعد آپ نے جواب دیا کہ ”جب تک عالمگیری کے اس جزئیہ کی کوئی واضح تاویل و توجیہ نہ ہو سکے یا اس کے خلاف صریح جزئیہ نہ ملے قاضیِ بلادِ ملک کا اعلان شہر و مضافاتِ شہر سے آگے متجاوز ہونے کی صورت نظر نہیں آتی۔“ بلکہ مفتی صاحبِ موصوف سے میں نے ان کی وفات سے چند ماہ پہلے سنا کہ ”عالمگیری“ کی اس عبارت کی توجیہ سمجھ میں نہیں آتی، ورنہ قاضی کے اعلان میں توسیع کی گنجائش نکل سکتی تھی۔ اس کا صاف معنی یہ ہے کہ اس مسئلہ میں ان کا رجحانِ طبعی جو بھی رہا ہو، لیکن موقفِ شرعی ان کی نظر میں وہ نہیں تھا جو بیان کیا جا رہا ہے۔
علامہ ارشد القادری صاحب علیہ الرحمہ نے اس بورڈ میں اپنا سوالنامہ پیش کیا تھا کہ کیا ٹیلی فون میں کوڈ وغیرہ کی شرطیں لگا کر دربارۂ ہلال اس کی خبر معتبر نہ ہو سکے گی؟ اور عوامِ مسلمین کو بے راہ روی سے بچانے کے لیے ملکی سطح پر کسی عام اعلان کی صورت نہیں نکالی جا سکتی؟ انھوں نے ایسے اعلان کی حاجت کو واضح کر کے حاضرین مفتیانِ کرام سے استفتا کیا تھا، خود اپنا فیصلہ کن موقف انھوں نے پیش نہیں کیا تھا۔ رہ گئے مولانا محمد احمد مصباحی تو وہ اس مسئلہ میں خاموش تھے، کچھ بولے ہی نہیں کہ ان کا موقف متعین کیا جائے۔ یہ تو اس شرعی بورڈ کی مجلسی رو داد رہی اور اب اگر بعد میں کسی نے ان حضرات کے نام پر کوئی فٹ نوٹ تیار کر لیا ہو تو اسے موقف نہیں کہا جائے گا اور نہ شرعی بورڈ کا فیصلہ۔ ہاں اسے دیانت کا خون ضرور کہہ سکتے ہیں اور اس سلسلہ میں مولانا مصباحی صاحب کا ذکر شاید مردم شماری و تعدادِ تائید بڑھانے ہی کے مقصد سے ہوا ہوگا۔ رویتِ ہلال کے مسئلہ میں طرقِ موجبہ سے ہٹ کر جو غیر شرعی راستے اختیار کیے جا رہے ہیں، اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ملک اور اس کے تمام بلاد کے علمائے اہل سنت غیر شرعی طریقوں کے بائیکاٹ پر متحد نہیں ہیں، خواہ اس کا سبب خوفِ عوام ہو یا خوفِ منتظمینِ مساجد یا یہ سبب ہو کہ بے جا شہرت کا نشہ سوار ہے اور ایک وجہ کم علمی یا بے مائیگی ہو کہ بعض لوگ ظنِ عرفی و ظنِ شرعی کا فرق نہ کر سکے یا دونوں کے مواقع و اثرات سے ناواقف رہ گئے اور بعض تو قبولِ شہادت کے معاملات میں اس قدر غیر محتاط و غلط کار واقع ہوئے ہیں کہ تعدیلِ شہود بھی غیر ضروری سمجھتے ہیں، بلکہ کچھ کو تو یہ کہتے سنا کہ بنامِ مسلم ہم سے جو بھی بیان دے ہم اسے قبول کریں گے۔ ولا حول ولا قوة إلا بالله العلي العظيم۔ اگر یہ علما تصریحاتِ فقہائے کرام پر متحد ہو کر صرف رعایتِ شرع ملحوظ رکھتے تو عوام اور منتظمینِ مساجد کو بھی ان کی اتباع کے سوا چارہ نہ ہوتا۔ وما أمروا إلا ليعبدوا الله مخلصين له الدين۔
”صوموا لرؤيته وأفطروا لرؤيته“ کا حکم کس قدر آسان تھا کہ جس شہر میں رویتِ ہلال طریقِ موجب سے ثابت ہو جائے وہاں کے لوگ صیام یا عید پر عمل پیرا ہوں اور جہاں ثبوت نہ ہو وہ لوگ باز رہیں۔ عوام نے پورے ملک یا پوری دنیا میں ایک ہی روز سے آغازِ رمضان یا یومِ عید کی سختی کس دلیل سے مسلط کر لی ہے۔ کیا عہدِ صحابہ میں ایک ہی ملک کے مختلف شہروں میں مختلف دنوں میں رمضان و عید کی آمد نہیں ہوئی ہے؟ ایسا ضرور ہوا ہے مگر کسی شہر کے صحابی نے دوسرے شہر کے لوگوں پر نہ طعنہ کیا نہ تشنیع کی۔ اب عہدِ حاضر کے بعض عوام نے شرع کے آسان حکم کو بالائے طاق رکھ کر شریعت کی جگہ نفس و طبیعت کی پیروی ضروری سمجھی۔
أستغفر الله ربي ونعوذ بالله من شرورهم وبالله نسأل الهداية والتوفيق، والله تعالى أعلم
کتبہ
فقیر ضیاء المصطفیٰ قادری غفر لہ
مورخہ ۲۲ رمضان المبارک ۱۴۲۴ھ
واردِ حال ہرارے، زمبابوے (افریقہ)
- ماہنامہ: سہ ماہی امجدیہ، جنوری تا مارچ ۲۰۲۴ء
- صفحہ نمبر: ۲۵
- قسط: ثانی

