| عنوان: | اپنے کعبے کی حفاظت تمہیں خود کرنی ہے |
|---|---|
| تحریر: | محمد شاہد علی مصباحی |
| پیش کش: | محمد حسنین رضا برکاتی |
| منجانب: | جامعۃ المدینہ فیضان عطار نیپال گنج |
"فلاح و نجات نمبر" محض یہ نام سنتے ہی ذہن اس جانب متبادر ہو جاتا ہے کہ اس نمبر میں کن چیزوں پر توجہ دی گئی ہو گی۔ یقیناً اس نمبر کا پروگرام بناتے وقت تمام شرکاء کے ذہن و فکر اسی ادھیڑ بن میں تھے کہ کس طرح سے بھارتی مسلمانوں کے موجودہ مسائل کا مستقل حل نکالا جا سکے، کیونکہ آج بھارتی مسلمان ہر طرح سے پریشان ہے۔ خواہ معاملات سیاسی ہوں، سماجی ہوں، معاشی ہوں یا عائلی ہوں، کسی بھی محاذ پر مسلمان سکون میں نہیں ہے۔
اس کے علاوہ 2014 کے بعد سے مسلمانوں کو کچھ زیادہ ہی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، کیونکہ اب حکومت کھلم کھلا مسلم دشمنی کا کارڈ کھیل رہی ہے، جس کا جیتا جاگتا ثبوت گزشتہ چند سالوں میں قوانین میں ترمیم و نئے قوانین کا بننا ہے۔ معاملہ 370 اور 35A کا ہو، بابری مسجد کا ہو، تین طلاق کا ہو، CAA کا ہو، NRC کا ہو، NPR کا ہو یا Love Jihad جیسے قانون کا ہو؛ ہر طرف مسلم مخالفت صاف طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔ (یہ موٹے موٹے قوانین ہیں، اس کے علاوہ بھی بہت کچھ ہوا ہے)۔
ان قوانین کی آمد و رفت اور موجودہ حکومت کے سیاسی لیڈروں کے زہریلے بیانات نے ہر سنجیدہ اور فکر مند مسلمان کی راتوں کی نیند اور دنوں کا چین اجاڑ کر رکھ دیا ہے۔ ہر دن ہی نہیں، دن میں کئی مرتبہ مختلف علاقوں کے راج نیتاؤں کے ذریعے زہریلے اور مسلم کشی پر ابھارنے والے نعرے اور بیانات سننے کو ملتے رہتے ہیں۔
جب سے یہ حکومت آئی ہے، ہمارے مدارس، مقابر اور مساجد کو تختۂ مشق بنا لیا گیا ہے۔ کوئی بھی تہوار یا فنکشن ہو، ان کا ڈی جے (DJ) ہمارے مدارس یا مساجد کے دروازے پر ہی رکتا ہے اور گھنٹوں ناچ گانے کے ساتھ ایسی نعرے بازی کی جاتی ہے کہ خون کھول اٹھے، اور یہ سب اسی لیے کیا جاتا ہے کہ یہ بولیں اور قتل و غارت گری کا بازار گرم کر دیا جائے۔ یہ سلسلہ دراز سے دراز تر ہوتا جا رہا ہے، اور مستقبل قریب میں اس کے رکنے کے کوئی آثار نظر نہیں آتے۔ ساتھ ہی کہیں بھی ان معاملات سے ابھرنے کی کوئی خاص کوشش ہوتی نظر نہیں آ رہی ہے۔
ایسے وقت میں 'ماہنامہ پیغامِ شریعت دہلی' کے ذمہ داران نے ان مسائل پر غور و فکر کرتے ہوئے ان کے حل کی کوشش کی اور مفکرین کو دعوت دی کہ آج بھارت کے مسلمانوں کی جو حالت ہے، اس کی وجوہات کا درست تجزیہ کرتے ہوئے ان موجودہ مسائل کا مستقل حل نکالنے کی کوشش کی جائے۔ ان حالات تک پہنچنے کی بنیادی وجوہات جہاں ہماری سیاسی و حکومتی، معاشرتی و تجارتی زبوں حالی ہے، وہیں سماجی ضروریات کی عدم تکمیل اور روزِ اول سے ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات کو نظر انداز کرنا اور ان سے سبق نہ سیکھنے کے ساتھ ان کے سدِ باب کی کوشش نہ کرنا بھی ہے۔
ایک دنگے کے بعد دوسرا ہوتا گیا، ایک جگہ خونریزی کے دھبے سڑکوں سے مٹے بھی نہ تھے کہ دوسری زمین ہمارے خون سے سرخ کر دی گئی، مگر ہم ہاتھ پر ہاتھ دھرے یہی انتظار کرتے رہے کہ کوئی کرشمہ ہوگا اور ہم پر کیے گئے ایک ایک ظلم کا ظالموں سے حساب لے گا، مگر وہ دن نہ کل آیا اور نہ کل آئے گا۔ انتظار، انتظار ہی ہوتا رہا۔ مرحوم معراج فیض آبادی یہی سمجھاتے ہوئے دنیا سے رخصت ہو گئے کہ:
اپنے کعبے کی حفاظت تمہیں خود کرنی ہے
اب ابابیلوں کا لشکر نہیں آنے والا
مگر ہم نے تو سبق نہ سیکھنے کی قسم کھا رکھی ہے اور یہ قسم نہ توڑنے کی بھی قسم کھا رکھی ہے۔ قسم بالائے قسم مثلِ ستم بالائے ستم ہمیں نہ سدھرنے پر مجبور کیے ہوئے ہے۔ ان حالات کو دیکھ کر عام شخص بھی کہے گا کہ: "اب خدا ہی مری کشتی کو بچائے تو بچے"۔
وہیں اس خونریزی سے چھٹکارا نہ مل پانے کی ایک وجہ ہمارا سیاست سے دور ہونا بھی ہے اور ہم ہیں کہ ہم نے سیاست کو شجرِ ممنوعہ سمجھ کر چھوڑ دیا اور اغیار نے اسی سیاست کو ہتھیار کی طرح استعمال کر کے حکومتی اعتبار سے ہمیں دھیما زہر دینا شروع کر دیا اور اب جبکہ ہم سیاسی طور پر بالکل پیدل ہو گئے تو دشمن کھل کر سرِ عام ظلم و بربریت کا ننگا ناچ کر رہا ہے اور ہم بے بس تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ وہ سیاست جو مسلمان کے در کی لونڈی ہے، اسی سیاست کو ایسا چھوڑا کہ اس کے قریب بھی بھٹکنے کو معیوب گرداننے لگے، نتیجہ سب کے سامنے ہے۔
یہیں ایک اور بڑی غلطی ہم نے تعلیم کو چھوڑ کر کی۔ سب سے پہلے تو ہم نے تعلیم کو دینی اور دنیاوی میں تقسیم کر دیا اور پھر دونوں کو ایک دوسرے سے الگ کر دیا اور ادارے بھی الگ کر لیے، نتیجتاً دونوں اداروں کے لوگ ایک دوسرے کے علم و فن سے ناواقف رہے اور اسی ناواقفیت نے ہماری سماجی ترقی کی راہ میں ایک گہری خلیج پیدا کر دی۔ اہلِ مدارس نے تب بھی اپنے حصے کا کام بخوبی نبھایا کہ آزادی کے بعد مدارس کی دنیا اجڑ چکی تھی مگر اس طبقے نے پوری لگن اور محنت کے ساتھ اپنے مشن کو حرزِ جاں بنائے رکھا اور گاؤں گاؤں، محلے محلے مکتب یا مدرسہ تعمیر کر کے آپ کی دینی ضروریات تو پوری کر دیں، لیکن اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کے فارغین نے اسکول، کالج اور یونیورسٹیوں کا قیام نہیں کیا جس کا نقصان صاف دیکھا جا سکتا ہے۔
کل ملا کر ہم نے تعلیمی میدان میں خاطر خواہ کام نہیں کیا، جس کے نتیجے میں آج نہ صرف تعلیمی اداروں، بلکہ تمام سرکاری محکموں میں ایسے لوگ قابض ہیں جو ہمیں پھوٹی آنکھ دیکھنا نہیں چاہتے، اور جو ہمارے لوگ ہیں، انہیں نہ دین سے مطلب ہے، نہ دین کی سمجھ ہے تو ان کے اندر مسلمانوں کی ہمدردی کیوں ہو: الا ماشاء اللہ تعالیٰ۔ وہ تو بھلا ہو رشوت جیسی بلا کا کہ اس کی وجہ سے مسلمانوں کے کام ہو جاتے ہیں، ورنہ کوئی ہمارا کسی طرح کا کام کرنے کو راضی نہیں ہے۔ رشوت خود ایک جرم ہے، ہماری مجبوریوں نے ہمیں اس جرم تک پہنچا دیا۔
تعلیم اور سیاسی قوت کے فقدان کی بنا پر ہم تجارتی میدان میں اوروں کا مقابلہ کرنے سے قاصر رہے، جبکہ ہمارا تجارتی نظام سب سے ایڈوانس اور سب سے صاف و شفاف ہے، پھر بھی ہم عدمِ علم کی بنیاد پر ناکام و نامراد ہیں۔ اغیار نے تعلیم اور سیاسی قوت کا استعمال کرتے ہوئے ہمارے بڑے بڑے کاروباروں کو ایک جھٹکے میں ختم کر دیا۔ عدمِ تعلیم ہی کی بنا پر ڈیفنس میں ہماری شمولیت نہ کے برابر ہے، جبکہ کسی بھی سیکولر کہے جانے والے ملک میں اگر آپ کو اپنے حقوق حاصل کرنے ہیں اور اپنی قوم کو ظلم سے بچائے رکھنا ہے تو کم از کم آبادی کے تناسب سے ڈیفنس میں شمولیت نہایت ضروری ہے، مگر ہم تعلیمی میدان میں پیچھے ہونے کی بنا پر ڈیفنس میں بھی کچھ نہ کر سکے جس کا خمیازہ ہماری پوری قوم کبھی ماب لنچنگ اور کبھی فرقہ وارانہ فسادات میں یک طرفہ کارروائیوں کی شکل میں بھگت رہی ہے۔
بھارتی مسلمانوں کے انہیں پیچیدہ مسائل کے حل کی ایک ادنیٰ کوشش کا نام ہے: "فلاح و نجات نمبر"۔ اس کے مشمولات ہی سے آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ یہ نمبر کتنا اہم ہے۔ اس رسالے کو چار ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے۔
باب اول: مسلمانانِ ہند اور سیاست و حکومت
اس باب کے ڈائریکٹر ہیں حضرت مولانا محمد زاہد علی مرکزی (کالپی شریف، ضلع جالون، اتر پردیش)۔ حضرت قوم کا درد رکھنے والے صاحبِ بصیرت عالمِ دین ہیں۔ آپ ہی کی نگرانی میں اس باب کے مضامین ترتیب پائے ہیں۔ اس باب کے تحت کل تین مضامین ہیں:
اول: بھارتی سیاست میں مسلمانوں کا کردار
مضمون نگار: حضرت مولانا بلال احمد نظامی (رتلام، ایم پی)
