Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
لباب
مستند مضامین و مقالات
لباب کی مستند علمی و تحقیقی تحریریں اب موبائل ایپ میں دستیاب ہیں۔
پلے اسٹور سے انسٹال کریں

لقب صدیق اکبر کی نفیس علمی تحقیق|اسیر تاج فقیہاں راشد خان آتش علیمی

لقب صدیق اکبر کی نفیس علمی تحقیق
عنوان: لقب صدیق اکبر کی نفیس علمی تحقیق
تحریر: اسیر تاج فقیہاں راشد خان آتش علیمی
پیش کش: محمد رفیع مرکزی

ایک مشہور و مسلم ضابطہ یہ ہے کہ “صحت حکم، لفظ کے اطلاق کی صحت کو مستلزم نہیں ہوتی”۔

مثلاً حضور اکرم افضل العالمین، سید الاولین والآخرین، سرور کون و مکاں صلی اللہ علیہ وسلم بلاشبہ بہ اتفاق امت کل کائنات سے افضل و اعلیٰ ہیں۔

یہی قرآن و سنت اور ائمۂ اعلام و پوری امت کا سلفاً خلفاً عقیدہ و نظریہ ہے۔

چناں چہ شرح عقائد نسفی میں قرآن کریم کے حوالے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی افضلیت و علو شان و عظمت کو ان الفاظ میں بیان فرمایا گیا ہے:

أَفْضَلُ الْأَنْبِيَاءِ عَلَيْهِمُ السَّلَامُ مُحَمَّدٌ صلی اللہ علیہ وسلم لِقَوْلِهِ تَعَالَى: كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ، الْآيَةَ، وَلَا شَكَّ أَنَّ خَيْرِيَّةَ الْأُمَّةِ بِحَسَبِ كَمَالِهِمْ فِي الدِّينِ، وَذَلِكَ تَابِعٌ لِكَمَالِ نَبِيِّهِمُ الَّذِي يَتْبَعُونَهُ. [سورۃ آل عمران: 110، شرح العقائد النسفية مع شرحه “النبراس” للمحقق العلامة عبد العزيز الفرهاروي]

مفہوم: تمام انبیائے کرام میں افضل ہستی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے۔

اس پر دلیل اللہ تعالیٰ کا درج ذیل فرمان ہے کہ “تم بہترین امت ہو”۔ بلاشبہ امت محمدیہ کا بہترین امت ہونا ان کے دین میں کمال رکھنے کی وجہ سے ہے اور یہ فضل نبی مقتدا صلی اللہ علیہ وسلم کے کمال کی بنا پر حاصل ہے۔

لہٰذا ثابت ہوا کہ جس نبی کی امت سب سے افضل ہے وہ خود پوری کائنات سے افضل و اعلیٰ ہیں۔

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی افضلیت احادیث و اجماع امت سے ثابت ہے:

چناں چہ علامہ عبد العزیز پرہاروی قدس سرہ فرماتے ہیں کہ ہمارے نزدیک حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی افضلیت پر دو عظیم دلائل قائم ہیں:

أَحَدُهُمَا: الْإِجْمَاعُ: فَهُوَ قَوْلٌ لَمْ يُعْرَفْ لَهُ مُخَالِفٌ مِنْ أَهْلِ السُّنَّةِ، بَلْ مِنْ أَهْلِ الْقِبْلَةِ كُلِّهِمْ.

پہلی دلیل تو اجماع ہے اور اس اجماع کے خلاف اہل سنت بلکہ کل اہل قبلہ میں کسی کا قول نہیں ہے۔

ثَانِيهِمَا: الْأَحَادِيثُ الْمُتَظَاهِرَةُ كَقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ: إِنَّ اللّٰهَ فَضَّلَنِي عَلَى الْأَنْبِيَاءِ وَفَضَّلَ أُمَّتِي عَلَى الْأُمَمِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَقَوْلِهِ: أَنَا سَيِّدُ النَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ. وَقَوْلِهِ: أَنَا أَكْرَمُ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ عَلَى اللّٰهِ وَلَا فَخْرَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالدَّارِمِيُّ. [النبراس، ص: 610]

دوسری دلیل کثیر احادیث ہیں، مثلاً حضور علیہ السلام کا یہ فرمان:

  1. بے شک اللہ نے مجھے تمام انبیائے کرام پر فضیلت عطا فرمائی اور میری امت کو تمام امتوں پر فضیلت بخشی۔ [جامع الترمذي]

  2. قیامت کے دن میں تمام لوگوں کا سردار ہوں۔ [صحيح مسلم]

  3. میں تمام اولین و آخرین میں اللہ کے ہاں سب سے زیادہ افضل و معزز ہوں اور مجھے فخر نہیں۔ [جامع الترمذي و سنن الدارمي، النبراس، ص: 610]

اس مقصود پر علامہ عبد العزیز افغانی قدس سرہ نے سیر حاصل گفتگو فرمائی ہے اور اس پر وارد ہونے والے اعتراضات کا مدلل جواب بھی دیا ہے۔

بلاشبہ مصطفیٰ کی یہ وہ عظمتیں و رفعتیں ہیں جو قطعی و یقینی ہیں جن میں ذرا برابر شک کرنا ایمان کی بربادی کا سبب ہے۔

پھر دوسری طرف ذکر مصطفیٰ کی بلندی و بزرگی بھی نصوص قرآن و سنت سے ثابت ہے۔ چناں چہ آپ کے ذکر جمیل و رفیع پر قرآن عظیم مہر ثبت کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے:

وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ [سورۃ الشرح: 4]

ترجمہ: اور ہم نے آپ کے لیے آپ کا ذکر بلند کر دیا۔

ان سارے خصوصی انعامات و تکریمات کے باوجود جن میں آپ کے ساتھ آپ کا غیر سرے سے شریک و سہیم نہیں، علما فرماتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر “جل جلالہ” کا اطلاق درست نہیں۔

ہر چند کہ حضور کے لیے ذکر رفیع نصوص کتاب و سنت اور اجماع امت سے ثابت ہے، اور اس اطلاق کی عدم صحت کی وجہ یہ ہے کہ یہ کلمۂ تعظیم یعنی “جل جلالہ” اللہ کی ذات کے ساتھ عرفاً و شرعاً خاص ہو چکا ہے۔

لہٰذا اب اس کا اطلاق غیر اللہ پر جائز نہیں۔

اسی طرح حضور علیہ السلام کے اسم پاک کے ساتھ بطور تعظیم “تعالیٰ” کہنا جائز نہیں، کیوں کہ یہ بھی اللہ جل جلالہ کی ذات کے ساتھ خاص ہے۔ اس لیے اب اس کا اطلاق کسی بھی عظیم و بزرگ ہستی یہاں تک کہ خود اللہ کے محبوب اعظم صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی جائز نہیں۔

اس کی مزید ایک مثال یہ ہے کہ صحابی لغوی اعتبار سے مصاحب کو کہا جاتا ہے، مگر اب اس لغوی معنی کے اعتبار سے کسی کو یہ اجازت نہیں کہ ہر مصاحب کو صحابی بولا جائے۔

ثابت یہ ہوا کہ صحت حکم (مثلاً ذکر کا بلند ہونا، یا صحبت) اطلاق لفظ (مثلاً تعالیٰ یا صحابی) کی صحت کو مستلزم نہیں۔

یوں ہی جو لفظ بطور لقب عرف مسلمین و عرف شرع میں کسی ایک ذات کے ساتھ خاص ہو گیا اس کا اطلاق کسی غیر پر کرنا نری جہالت و حماقت ہے۔

اب چوں کہ لقب “صدیق اکبر” جب بطور لقب و تکریمی خطاب، عرفاً سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ساتھ خاص ہو چکا ہے تو اب اس کا اطلاق آپ کے غیر پر جائز نہیں ہے۔

ہاں لغت کی رو سے اس کا اطلاق دوسرے پر صادق ہے لیکن عمومی مجالس میں دوسرے کے لیے بولنے کی اجازت نہیں ہوگی، اور نہ اس کو عام رواج دیا جائے گا۔

نیز عرف شرع یا عرف عام میں جب کوئی لقب ایک ہستی کے ساتھ اس طرح خاص ہو جائے کہ جب وہ لفظ بولا جائے تو ذہن کا تبادر اسی ذات کی طرف ہو تو بہر صورت اس لقب کے تقدس کو مجروح نہیں کیا جائے گا جیسے “مصطفیٰ” مطلقاً بولیں تو ذہنی تبادر ذات اقدس رسول کائنات علیہ افضل الصلوات والتسلیمات کی طرف ہی ہوتا ہے، لہٰذا اب اس کا اطلاق غیر پر بطور لقب نہیں کیا جائے گا ورنہ یہ اس لقب خاص کے تقدس پر اثر انداز ہوگا۔ اور جو چاہے گا اپنے طور پر شرعی القابات و خطابات میں من پسند تصرف کرے گا اور جواب میں لغت کا سہارا لے کر دامن چھڑا لے گا۔

نیز اس سے ثابت ہوا کہ گویا اب وہی خاص ہستی اس لقب (یا، کلی) کا فرد کامل ہے اور یہ قاعدہ کلیہ ہے کہ:

إِذَا أُطْلِقَ اللَّفْظُ فَالْمُرَادُ بِهِ الْفَرْدُ الْكَامِلُ

اور یقیناً لقب “صدیق اکبر” کا مفہوم وسیع ہے لیکن اس کا فرد کامل صرف ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں جس پر بطور قرینہ و دلیل عرف مسلمین شاہد عدل ہے۔

اس کی ایک نظیر “مولائے کائنات” ہے، عرف مسلمین میں جس کا استعمال حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے ساتھ خاص ہو چکا ہے۔ بلاشبہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ بھی مولا ہیں، بلکہ آپ سے ادنیٰ درجے کے صحابہ کے لیے بھی یہ ثابت ہے، یہاں تک کہ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے حضور اکرم نے فرمایا:

أَنْتَ أَخُونَا وَمَوْلَانَا

تم ہمارے بھائی اور مولا ہو۔ تو عقلی طور پر جو مصطفیٰ کا مولا ہو وہ یقیناً پوری کائنات کا مولا بھی ہے، لہٰذا اب کوئی اس حدیث کو دلیل بنا کر حضرت زید کو “مولائے کائنات” بولنے لگے تو اس کی اجازت نہیں ہوگی۔ کیوں کہ عرف مسلمین میں جب بھی یہ لفظ بولا جاتا ہے تو ذہنی تبادر صرف سیدنا علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم کی طرف ہوتا ہے، حالاں کہ یہی مولا کا اطلاق حدیث میں غیر پر بھی ہوا ہے تو کیا یہ جائز ہوگا کہ کوئی “مولائے کائنات” حضرت زید کو بولے اور کیا اس کی تاویل قابل اعتناء اور مسموع ہوگی؟

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!