Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
لباب
مستند مضامین و مقالات
لباب کی مستند علمی و تحقیقی تحریریں اب موبائل ایپ میں دستیاب ہیں۔
پلے اسٹور سے انسٹال کریں

غیبت کی تباہ کاریاں (قسط دوم) محمد سعد جیلانی مرکزی

غیبت کی تباہ کاریاں (قسط: دوم)
عنوان: غیبت کی تباہ کاریاں (قسط: دوم)
تحریر: محمد سعد جیلانی مرکزی
پیش کش: عائشہ فاطمہ
منجانب: مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد

غیبت کرنے والا سب سے پہلے جہنم میں ڈالا جائے گا

نائبِ مصطفیٰ، حجۃ الاسلام، امام محمد غزالی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان فرماتے ہیں، منقول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرف وحی بھیجی کہ جو شخص غیبت سے توبہ کرتے ہوئے فوت ہو جائے تو وہ جنت میں سب سے آخر میں داخل کیا جائے گا۔ اور جو شخص غیبت کے گناہ کی حالت میں فوت ہو وہ جہنم میں سب سے پہلے ڈالا جائے گا۔ (احیاء العلوم، ج ۳، ص ۳۱۵)

حدیثِ پاک کی روشنی میں غیبت کرنے والا ہی سب سے پہلے دوزخ میں ڈالا جائے گا۔

قد چھوٹا کہنا یا کپڑوں میں کمی نکالنا بھی غیبت ہے

حدیثِ شریف: ہم مسلمانوں کی ماں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں، ہمارے پاس ایک عورت آئی۔ جب وہ واپس جانے لگی تو میں نے ہاتھ سے اشارہ کیا کہ اس کا قد چھوٹا ہے، تو محبوبِ خدا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اے عائشہ! تم نے اس کی غیبت کی ہے۔" (مسند امام احمد بن حنبل، ج ۶، ص ۲۰۶)

اسی طرح ایک روایت بیان کرتی ہیں کہ میں نے آقائے کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں ایک عورت کے بارے میں کہا کہ اس عورت کا دامن لمبا ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "قے کرو، قے کرو۔" تو میں نے گوشت کے ٹکڑے کی قے کی۔ (احیاء العلوم، ج ۳، ص ۳۲۰)

غیبت کو سمجھنے اور اس کے عظیم وبال سے بچنے کی فکر کیجیے اور یاد رکھیے صرف اتنا کہہ دینا کہ فلاں کا قد چھوٹا ہے یا اس کے کپڑے کا دامن لمبا ہے یہ بھی غیبت ہے۔ مگر ہم تو صرف قد کو ہی نہیں بلکہ پورے جسم کو ہی برا کہتے نظر آتے ہیں اور صرف کپڑے کے دامن کو ہی نہیں بلکہ مسلمان بھائی کے پورے لباس کو نوچ نوچ کر پھاڑتے نظر آتے ہیں۔ اب اگر ہم ایسا کرتے ہیں تو ہمارا حال کیا ہوگا؟

بزرگوں کی نظر میں غیبت سے بچنا عبادت ہے

عالمِ ربانی، حضرت امام محمد غزالی رضی اللہ عنہ تحریر فرماتے ہیں کہ اسلاف (بزرگوں) کو دیکھا کہ وہ عبادت صرف نماز و روزہ ہی کو نہیں سمجھتے تھے بلکہ لوگوں کی برائی اور غیبت سے بچنے کو عبادت سمجھتے تھے۔ (احیاء العلوم، ج ۳، ص ۳۱۷)

مشہور بزرگ حضرت ابواللیث بخاری رضی اللہ عنہ سے غیبت کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ "میں ایک بار کی غیبت کو سو مرتبہ کے زنا سے بدترین سمجھتا ہوں۔"

اور حضرت ابو حفص الکبیر رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ "میں کسی انسان کی غیبت کرنے کو رمضان کے روزے نہ رکھنے سے بدتر سمجھتا ہوں۔"

اور فرماتے ہیں کہ جس نے کسی عالم کی غیبت کی تو قیامت کے دن اس کے چہرے پر لکھا ہوگا: "یہ شخص اللہ تعالیٰ کی رحمت سے محروم ہے۔" (مکاشفۃ القلوب، ص: ۱۳۶)

بزرگوں کے اقوال و بیان سے صاف طور پر ظاہر اور ثابت ہو گیا کہ غیبت کرنے والا ایسا ہے جیسے اس نے سو مرتبہ زنا کیا اور عالمِ دین کی غیبت تو اور بھی بڑی مصیبت ہے کہ اس کی پیشانی پر لکھ دیا جاتا ہے کہ یہ شخص اللہ تعالیٰ کی رحمت سے محروم ہے اور نماز کا نور اور روزے کی برکت غیبت سے زائل ہو جاتی ہے، گویا غیبت کرنے والے کی نماز اور روزہ نامقبول ہو کر رہ جاتے ہیں۔

غیبت سننا بھی غیبت ہے

نائبِ مصطفیٰ، حضرت امام محمد غزالی رضی اللہ تعالیٰ عنہ تحریر فرماتے ہیں کہ غیبت سننے پر خوش ہونا اور اس کی طرف کان لگانا بھی غیبت ہے۔ اور وہ اس لیے کہ جب (غیبت سننے والا) خوشی اور تعجب کا اظہار کرتا ہے تو غیبت کرنے والا خوش ہوتا ہے اور غیبت کرنے کے لیے تیار ہوتا ہے، گویا وہ اس طریقے سے اس سے غیبت کرواتا ہے۔ مثلاً وہ کہتا ہے (یعنی غیبت سننے والا): "تعجب ہے! ہم تو اس شخص کو ایسا نہیں جانتے تھے، میں تو اسے اب تک اچھا آدمی سمجھتا رہا ہوں، میں تو اسے کچھ اور ہی سمجھتا رہا، اللہ تعالیٰ ہمیں آزمائش سے بچائے۔" یہ سب کچھ غیبت کرنے والے کی تصدیق ہے اور غیبت کی تصدیق بھی غیبت ہوتی ہے بلکہ غیبت کے وقت خاموش رہنے والا بھی غیبت میں شریک ہوتا ہے۔ (احیاء العلوم، ج ۳، ص: ۳۲۳)

غور فرمائیں کہ غیبت سننا اور خاموش رہنا، نہ روکنا یہ بھی غیبت ہے۔

ولی نے غیبت سنی تو مجلس سے چلے گئے

مشہور بزرگ، اللہ تعالیٰ کے ولی حضرت ابراہیم بن ادہم رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک دعوت میں تشریف لے گئے۔ لوگوں نے آپس میں کہا کہ فلاں شخص ابھی تک نہیں آیا، تو ایک شخص بولا کہ وہ موٹا تو بڑا سست ہے۔ اس پر حضرت ابراہیم بن ادہم رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے آپ کو ملامت کرتے ہوئے فرمانے لگے: "افسوس! میرے پیٹ کی وجہ سے مجھ پر یہ آفت آئی ہے کہ میں ایک ایسی مجلس میں پہنچ گیا جہاں ایک مسلمان کی غیبت ہو رہی ہے۔" یہ کہہ کر وہاں سے واپس تشریف لے گئے اور تین دن تک کھانا نہ کھایا اور صدمے سے بے حال رہے۔ (تنبیہ الغافلین)

نیک لوگوں کی ہر بات نیک ہوتی ہے۔ یہ نیک تھے تو غیبت کی بات سن کر مجلس سے چلے گئے اور تین دن تک صدمے میں رہے کہ ایسی مجلس میں کیوں گیا اور کھانا تک نہ کھایا۔ اور ایک ہم ہیں کہ غیبت ہی کی مجلس کو تلاش کر کے جاتے ہیں اور خوب غیبت کرتے ہیں اور غیبت کو سنتے بھی ہیں۔

غیبت سے نیکیاں غیبت ہونے والے کے حصے میں چلی جاتی ہیں

عالمِ ربانی، حضرت امام محمد غزالی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت حسن بصری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ایک شخص نے کہا کہ فلاں شخص نے آپ کی غیبت کی ہے، تو حضرت حسن بصری رضی اللہ عنہ نے اس کے پاس کھجور کا ایک تھال بھیجا اور فرمایا کہ "مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم نے مجھے نیکیوں کا تحفہ دیا ہے تو میں اس کا بدلہ دینا چاہتا ہوں۔ مجھے معذور سمجھو! میں پوری طرح بدلہ نہیں دے سکتا۔" (احیاء العلوم، ج ۳، ص: ۳۴۲)

ہمارے اسلاف غیبت کا جواب غیبت سے نہیں، برائی کا جواب برائی سے نہیں، بلکہ نیکی اور بھلائی سے دیا کرتے تھے۔ اس روایت سے صاف طور سے معلوم ہوتا ہے کہ غیبت سے ہماری نیکیاں اس کے حصے میں پہنچ جاتی ہیں جس کی ہم غیبت کرتے ہیں۔

محترم قارئین! غیبت بڑا گناہ ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیں اس گناہِ عظیم سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم۔
(حوالہ: ماہنامہ افکار، حصہ 3، صفحہ نمبر 56/60)

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!